جونؔ ایلیا کا خط انور مقصود کے نام ۔ عالم بالا سے

0
  • 44
    Shares

آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والی گیارھویں عالمی اردو کانفرنس میں پڑھا گیا یہ خط دانش کے لئے ڈاکٹر رئیس صمدانی صاحب نے مکمل متن کے ساتھ فراہم کیا ہے۔


انور مقصود کاخط بنام جون ایلیا

بھائی جونؔ !

میں محترم جونؔ ایلیا کو بھائی جون کہا کرتا تھا، وہ ناراض ہوجاتے، صرف جون کہا، کرو یہ بھائی کہاں سے آگیا؟ ناراض ہوکر بولے یاری دوستی اور ہم سفری ہوجائے تو بھائی کہاں سے آگیا ؟ میں اپنے بھائیوں کو بھائی جان کہتا تھا ان سے یاری تھی نہ دوستی تھی، نہ وہ میرے یار تھے ان میں سے کوئی میرا ہم سفر ہوتا تو میں دوریاں بانٹ لیتا، بھائی کے ساتھ بیٹھ کر لہکا اور چہکا نہیں جاتا۔ تمہارے گھر بیٹھا ہوں اگراپنے گھر میں ہوتا تو فوراً رکشا میں بیٹھ کر کہیں چلا جاتا۔ کچھ دیر خاموش رہے۔ میں نے کہا، ایک شرط پر کہ آپ مجھے انور صاحب کہہ کر بلائیں گے۔ جون ؔرکشا منگواؤں؟ وہ جب تم نے جونؔ کہہ دیا تو بس اب رکشہ پر لعنت بھیجوں۔ بس پھر ایک دم کھڑے ہوگئے اپنی دونوں جیبوں سے دو گلا س نکالے اور میز پر زور سے رکھ دیے، کہنے لگے گلاس میں لے آیا ہوں اب تم بوتل لے آو، تمہارے گھر کے گلاس بہت بھاری ہیں لڑکیوں کی طرح ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ جون کی چار کتابیں ہیں شاید، یعنی، لیکن، گمان۔

بھائی جونؔ آجکل خوب مشہور ہو رہے ہیں یہاں بھی ہندوستان میں بھی، جس محفل میں جاتا ہوں فرمائش ہوتی ہے جونؔایلیا پر بات کریں۔ ان کی شاعری سنائیں، بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے جون کو دیکھا بھی نہیں ہوگا، صرف ان کے لیے میں بھائی جون ؔکا حلیہ بتانا چاہتا ہوں۔ بال وبال، سر آشفتہ، آنکھیں منتظر، دماغ سیرِ جمال، صحت خواب و خیال، قدآور، ہاتھ قلم، صورت آشنا، غصہ لبریز، دل پیمانہ، دور سے دیکھو تو مسئلہ، مردوں کی محفل میں پر سکون اور عورتوں کی محفل میں پھدکتا افلاطون لگتے تھے۔ جون ؔکا مطلب ہے جو شخص کوئی بھی، ایلیا حضرت علی ؑ کا لقب۔

انور مقصود جون ایلیا سے اپنے خط و کتابت کے احوال کی جانب بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری بھائی جون سے خط و کتابت آج بھی ہے میں انہیں یہاں کے حالات لکھتا رہتا ہوں وہ مجھے وہاں کے حالات لکھتے رہتے ہیں۔

جون ایلیا کا جوابی خط بنام انور مقصود

حیرت کی بات ہے ۷۱ برسوں سے پاکستان کے حالات امیدوں سے بے نیاز گزر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے مرنا بیداری بن گیا لیکن تمہیں بیدار رہنے کی ضرورت نہیں لکھتے رہو اور دوسروں کو خوش کرتے رہو۔ یہاں دو دن پہلے پاکستان کے سارے شاعروں اور ادیبوں نے نماز شکرانہ ادا کی کہ صرف اس لیے کہ میٹو کا وجود ان کے بعد آیا۔ امامت علامہ اقبال نے کی، پہلی صف میں فیضؔ، قاسمی، یوسفی، فرازؔ، صوفی تبسم، منیر ؔنیازی، بھائی رئیسؔ، مصطفی زیدی ان کے علاوہ ہزاروں تھے میں بیٹھا رہا، دور سے دیکھتا رہا، سوچا قضا پڑھ لوں گا۔ جانی! یہ میٹو مرگ نہ گہانی سے بھی بری بلا ہے، یہ جو غالب ؔنے کہا تھا میں غالبؔ نہیں پھر بھی یوں لگا تمہارا خط نہیں تم آگئے۔ حال پوچھا ہے، سنتے رہیو، غالبؔ کے مصائب کی داستان اس وقت شروع ہوئی تھیجب وہ ۱۲برس کے تھے۔ جس طرح شاعری میں شاعر کو اپنی پہلی شاعری کی کتاب چھپوانے میں جلدی ہوتی ہے اسی طرح غالب کو اپنی شادی کی جلدی تھی۔ ۱۳ کے ہوئے تو شادی کر لی۔ ، مضمحل ہوگئے، عناصر سے اعتدال رخصت ہوگئے، اردو ادب میں اچھی شاعری ’ نکاح‘ کے بعد شروع ہوئی۔ میرے مصائب کی داستان یہاں آنے کے بعد شروع ہوئی۔

جانی! مجھ سے مردہ شاعری نہیں سنی جاتی، سارے شاعر یہاں بری شاعری کر رہے ہیں اور مشاعروں میں زمین پر مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کی طرح جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں، میں نے کئی مرتبہ کہا بھائی جھومنا بند کردو، نہیں مانتے، اقبالؔ کے لیے تو ٹھیک ہے ان کی شاعری جھوم کر پڑھنے والی تھی مگر فیضؔاور فرازؔ کو جھومنا نہیں چاہیے۔ یہاں بجلی نہیں ہے صرف ایمان کی روشنی ہے اور اس کے بلب لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود میرے منطقی شعور کو دن میں دس بارہ جھٹکے لگتے ہیں، جن سے میرے چودہ طبق بجھ جاتے ہیں۔ یوسفی آگئے ہیں، اپنے گوشے میں ٹہرنے کے بجائے کسی شاعرہ کے گھرٹہرے ہوئے ہیں، اس شاعرہ نے مجھے بتا یا کہ یوسفی صاحب بھول جاتے ہیں کہ وہ یہاں آگئے ہیں ہر اتوار کو مجھ سے کہتے ہیں آج ہاکس بے چلیں گے، بھنڈیاں پکا لو۔

یوسفی کے آنے کی خوشی میں یہاں ایک شام شعرِ یاراں منائی گئی۔ میزبان مشفق خواجہ تھے مہمان خصوصی غالبؔ تھے، یوسفی صاحب اسٹیج پر آب گم بیٹھے رہے، مسکرابھی نہیں رہے تھے کیونکہ حوریں ان کو دیکھ کر مسکرارہی تھیں۔ مشفق خواجہ نے یوسفی صاحب سے فرمائش کی کہ آپ خاکم بدہن میںسے کچھ سنا دیں تو کہنے لگے کہ آپ ضیاء محی الدین کا کام مجھے کیوں سونپ رہے ہیں؟ پھرمشفق خواجہ صاحب نے کہا آخر کتاب شامِ شعر یاراں کی کیا ضرورت تھی؟ کہنے لگے مجھے اولاد کی ضرورت تھی اور اولاد کو شامِ شعر ِیاراں کی اور اس شام میں شرکت بھی شام شعرِ یاراں ہے۔ غالبؔ مسکرائے یوسفی کی فرمائش پر خواجہ صاحب نے غالبؔ سے کہا آپ اپنی پسند کے چند اپنے شعر سنادیں، غالبؔ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یوسفی کونسی خوشبو لگا کر آئے ہیں، ماحول حور پیراہن سے بھر گیا، کہنے لگے بادشاہ کی فرمائش کئی مرتبہ منع کی مگر مشفق کی فرمائش کو پوری کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوںجس کی وجہ یہ ہے میرے آٹھ دس اشعار کا مطلب مجھے مشفق نے بتا یا ہے۔ دوستو! ایک عرصہ کے بعد مجھے معلوم ہوا تھا۔ ’کھُلا، کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں‘۔ غالب ؔ کا یہ شعر کچھ اس طرح ہے ؎

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
کھُلا، کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

اب خاک میں سے اپنے چند اشعار نکالوں، خواجہ صاحب نے کس امتحان میں ڈال دیا۔ ۔ ۔ خواجہ صاحب بولے مرزا امتحان نہیں، میرؔ اٹھ کر جانے لگے میں نے دبوچ لیا، آپ کو بھی بلائیں گے بڑے شاعر اسٹیج پر بعد میں جاتے ہیں۔ جانی ! اب تم مرزا کے شعر سنو ؎

اُنہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اُٹھے تھے سیرِ گُل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی

میرؔ نے آہستہ سے واہ کہا تو میں نے میرؔ سے کہا کہ آپ نے واہ کہا، تو کہنے لگے میری کمر میں درد ہے میں آہ کہنا چاہ رہا تھا مگر منہ سے واہ نکل گیا۔

وعدہ آنے کا وفا کیجئے یہ کیا انداز ہے
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے

میر ؔکچھ کہنا چارہے تھے میں نے دیکھا تو چپ ہوگئے۔ پھر میں نے پوچھا بہت درد ہورہا ہے ؟

کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے
مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی

میرؔ نے اپنی پیشانی پر تین چار مرتبہ اپنا ہاتھ ماراکہا جانی! یہ بھی تعریف کا ایک طریقہ ہے۔

میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر میرے مرنے پر بھی راضی نہ ہوا

میرؔ نے کچھ نہیں کہا بس مجھ سے لپٹ گئے ؎

ساقی بہا ر موسم گل ہے سرور بخش
پیماں سے ہم گزرگئے پیمانہ چاہیے

جانی! میرے گال پر نوچ رہا، میری تعریف نہیں کرسکتا، میں نے کہا خاموشی سے سننا بھی تعاریف ہے۔ غالبؔ نے آخری شعر سنا یا

سیاہی جیسے گر جائے دمِ تحریر کاغذ پر
میری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہجراں کی

ہر طرف سے واہ سبحان اللہ کی آوازیں آ رہی تھیں، خواجہ صاحب نے کہا

ورق تمام ہوا، مدح باقی ہے

میرؔ کو اسٹیج پر بلا یا، اسٹیج پر غالبؔ سمیت سب کھڑے ہوگئے میں میرؔ کوگو د میں اٹھا کر لے گیا اور میز پر بیٹھا دیا۔ اس واقع سے میرؔ کے وزن کا اندازہ ہوا۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ جونؔ تم میرؔ صاحب کاکندہ پکڑ لو اور یہی کھڑے رہوکیونکہ ہوا چلنا شروع ہوگئی ہے۔ تین چار منٹ میر ؔخاموش رہے’’ انہیں اپنا کوئی شعر بھی یاد نہیں تھا سوداؔ کھڑے ہوئے اور زور سے بولے ‘‘اگر تم کو اپنے شعر یاد نہیں ہیں تو میرے سنادو، میرؔ نے مجھ سے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے کہا ہندوستان کا ایک فلمی پلے بیک سنگر ہے محمد رفیع۔ جانی!میں نے سوداؔ نہیں کہا ورنہ محفل میدان جنگ بن جاتی۔ میر ؔنے کہا مجھ میں اور غالبؔ میں بہت فرق ہے، غالبؔ کے سر پر ہاتھ رکھنے والے بہت تھے مجھے اپنے سر پر خود ہاتھ رکھناپڑا۔

اپنا ہی ہاتھ سر پہ رہا اپنے یاں سدا
مشفق کوئی نہیں ہے کوئی مہر باں نہیں

خواجہ صاحب بولے میرؔ جی میں مشفق تھا، ہوں اور رہونگا۔

پھر میں میرؔ صاحب کو شعریاد کرواتا گیا اور وہ پڑھتے گئے

کم فرصتی گل جو کہیں کوئی نہ مانے
ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے

میر فقیر ہوئے تو ایک دن کہتے ہیں بیٹے سے
عمر بچی ہے تھوڑی سی کیونکر کاٹیں بابا ہم
دن رات میری آنکھوں سے آنسوں چلے گئے
برسات اب کے شہر میں برس رہی

غالب ؔ اپنی کرسی چھوڑ کر آئے اور میرؔ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

وضو کا پانی مانگ کر خجل نہ کر اے میرؔ
وہ مفلسی ہے کہ تیمم کو گھر میں خاک نہیں

ہوگا کسی دیوار کے سائے میںپڑا میرؔ
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

غالبؔ نے کہا ایک شعر میرؔ صاحب کا میں سنانا چاہتا ہوں ؎

دیکھ لیتا ہے وہ پہلے چار سو اچھی طرح
چپکے سے پھر پوچھتا ہے تومیرؔ اچھی ہے

میں میرؔ کو اٹھاکر لے گیا اور ان کی کرسی پر بیٹھا دیا۔ غالبؔنے کہا میں نے پہلے کہہ دیا تھا میرؔ صاحب کی شاعری گلشن کشمیر ہے۔ سوداؔ پھر بولے نہیں مقبوضہ کشمیر اوررونے پیٹنے کے علاوہ اس گلشن میں اور ہے کیا۔ دردؔ اور مصحفیؔ نے سوداؔ کو خاموش رہنے کو کہا۔ جانی! پھر کمال ہوگیا۔ خواجہ صاحب نے مجھے اسٹیج پر بلایا، انہوں نے کہا مرزا پوچھ رہے ہیں تم کون ہو اور کیا کرتے ہو۔ میں نے مرزا سے کہا وہ کرتے تھے جو آپ کرتے تھے آپ کو چوتھی بیگم نے پریشان کیا ہم کو پہلی نے پریشان کیا۔ امروہہ کے ہیں، شاعری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

مرزا نے فرمائش کی کہ کچھ سناؤ، میں نے کہا کہ’’ آپ کے بعد ؟’’ مرزا کہنے لگے ‘‘تم پیدا بھی تو ہم دونوں کے بعد ہوئے ہو۔

جانی ! میں نے مولا علی سے مددمانگی، ایلیا کا واسطہ دیا اور کہا عزت رکھ لیں۔ خواجہ صاحب نے کہا پہلے اپنے بارے میں بتا تو دو۔ میں نے بتا یا کہ امروہہ کے ہیں، شاعری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ نام جون ایلیا ہے۔ ادب گھر سے ملا اور بے ادبی زمانے سے 1935میں زمین پر آیا اور 2002میں آسماں پر، ولادت امروہہ یوپی، وفات کراچی بہت پی۔ کئی وقت مجھ پر ایسے آئے سوچا کہیں نکل لوں، تنہا بہت زندگی گزاری، ملی اور قوم پرستانہ شاعری کبھی نہیں کی، فارسی اور عربی میری بغل میں اور اردو میری جیب میں تھی۔ کاش میرے چاہنے والے میری شاعری کے بجائے میری نثر پر دیہان دیتے، شاعری تو ہر کوئی سمجھ لیتا ہے لیکن نثر سمجھ نے کے لیے پڑھالکھا ہونا ضروری ہے، جو ملک میں چھوڑ آیا ہوں وہاں بہادر بہت ہیں مگر بہادروں کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں، میں نے مرزا کی فرمائش پر چند اشعار سناتاہوں۔ 18 برس کی عمر میں غزل لکھی تھی اس کا ایک شعر ؎

ہم کو مٹانہ دیں یہ زمانے کی مشکلیں
لیکن مشکلیں تو ہزاروں کے ساتھ ہیں

اسی زمانے کی ایک اور غزل ؎

مرااِک مشورہ ہے اِلتجا نئیں
تُو میرے پاس سے اس وقت جا نئین

بچھڑ کر جان تیرے آستاں سے
لگا یا جی بہت جی لگا نئین

محبت کچھ نہ تھی جُزبد حواسی
کہ بندہِ قبا، ہم سے کُھلا نئیں

اب زرا بعد کی شاعری ؎

خاموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

جانی! نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھڑے ہوکر تالیاں اور سیٹیاں بجانے لگے، مرزا گھبرا گئے، خواجہ صاحب سے پوچھنے لگے کیا قیامت آگئی؟ جون ؔ بہت مقبول ہوگئے ہیں ان کے لیے زمین پر بھی اسی قسم کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ مرے ہوئے نوجوان چیخنے لگے التجا نہیں التجا نہیں ایک نہیں چار شعر، اچانک بھائی تقی اٹھ کر آئے اور میرے کان میں کہنے لگے تمہارے سارے بھائی یہاں بیٹھے ہیں ان کا بھی تعارف کرادو، خواجہ صاحب نے مجھ سے پوچھا تقی صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے کہا وہی جو لمبے بالوں والی لڑکیوں نے دھمال شروع کردیا۔ اس کے بعد جانی! میں اسٹیج سے کود کر بھاگ گیا۔ یہ سانحہ صرف تم کو بتا یا ہے بس اپنے تک رکھیو۔ دوسرے دن میں اپنی مقبولیت کی مافی مانگے میرؔکے گھر گیا وہ لیٹے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے، یہاںٹیلی ویژن بھی بغیر بجلی کے چلتا ہے، عمران کالا کوٹ، سفید شلوار، سفید قمیض، لال مفلر ڈالے تقریر کر رہے تھے۔ مجھ سے کہنے لگے خوش شکل ہے اس سے پہلے ہمارے وزیر اعظم کے لیے کسی اور خواہش کا اظہار کریں میں نے ٹیلی ویژن بند کر دیا۔ کہنے لگے عمران ہے کیسا ہے، میں نے کہا

نیازی ہے مگر نیاز مند نہیں۔ ۔ ۔
عقل مند ہے مگر عقل مند نہیں۔ ۔ ۔
فکر ہے مگر فکر مند نہیں۔ ۔ ۔
دولت ہے مگر دولت مند نہیں۔ ۔ ۔

ہر بڑے سیاستدان کے لیے اچھا بے ایمان ہونا ضروری ہے مگر عمران چونکہ ایماندار ہے اسی لیے مشکل میں ہے۔

میر ؔکی کلیات جو میں ترتیب دے رہاہوں تقریباً مکمل ہوچکی ہے میرؔ صاحب چاہ رہے ہیں تم اس کتاب کا نام بتاؤ۔ میں نے کہا قبلہ آپ انور مقصود کے گھر ایک مرتبہ چلے جائیں۔ میں ہزار بار جا چکا ہوں وہ ایسا نام بتائے گا جس کے کئی مطلب نکل آئیں گے، کہنے لگے وہ مجھے تم سے زیادہ جانتا ہے میری عزت کرتا ہے اور مجھے شاعروں کا خدا مانتا ہے۔ پھر میں نے ہمت کر کے جو نام تم نے پچھلے خط میں لکھا تھا وہ بتادیا، میں نے کہا کہ انور مقصود چاہتا ہے آپ کی کلیات کا نام ’’خواتین و حضرات‘‘ ہو نا چاہیے اچک کر بیٹھ گئے، میں نے پکڑ لیا وگر نہ پلنگ سے گرجاتے۔ کلیات کا نام خواتین و حضرات؟؟؟ میں نے بتایا انور نے لکھا تھا دو ہزار اشعار خواتین کے بارے میں دو ہزار مردوں کے بارے میں کہنے لگے اب نام سمجھ میں آیا، رکھ دو۔ ٹیلی ویژن لگایا عمران کی تقریر ختم نہیں ہوی تھی زور سے اپنا ایک مصرعہ پڑھا ’’اللہ رے کیا نمک ہے آدم کے حسن میں بھی‘‘، میر ؔ کا یہ شعر کچھ اس طرح ہے ؎

اللہ رے کیا نمک ہے آدم کے حسن میں بھی
اچھی لگی نہ ہم کو خوب صورتی پری کی

میں خدا حافظ کر کہہ کر چلا آیا۔ اپنے کواٹر پہنچا نیند قریب آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ جانی! یہاں نہ سونے کی گولی ملتی ہے نا جاگنے کی۔ سوچنے لگا یہاں کیوں آگیا، ساقی فاروقی کی طرح دوسری طرف جانا پسند کر لیتا تو آگ کی وجہ سے کم از کم چائے تو گرم مل جاتی۔ کچھ دن پہلے مغرب کے بعد فیض ؔصاحب سے ملاقات ہوئی کہنے لگے پاکستان میں تبدیلی آگئی، میں نے کہا مجھے معلوم ہے اب لاہور میں جشن چراغا کی جگہ فیض میلہ ہوتا ہے، کہنے لگے ادبی تبدیلی کی نہیں ہم سیاسی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ نئے پاکستان کی، میں نے پوچھا کیا مطلب ؟نیا پاکستان ؟، کیا مہاجر ہندوستان چلے گئے ہیں؟ پنجابی جالندر چلے گئے؟ پٹھان افغانستان چلے گئے ؟ بلوچی ایران چلے گئے؟ خالی فوج رہ گئی پاکستان میں وہ تو شروع سے تھی۔ ۔ ۔ پھر نیا پاکستان کہاں سے آگیا؟؟؟ نیا پاکستان صرف اسی طرح بن سکتا ہے کہ تم اپنے وزیر اعظم کو کہو کہ پرانے پاکستان کو ملک ریاض کو بیچ دے اور نئے ناظم آباد کے پیچھے نئے پاکستان کی بنیاد رکھے، نئے پاکستان کو کراچی سے شروع ہونا چاہیے کیونکہ پرانا پاکستان بھی کراچی سے شروع ہوا تھا۔ ناراض ہوگئے اور چلے گئے۔ جانی! یہ خود فوج میں کرنل رہ چکے ہیں۔

جون ؔ نے لکھا۔ بجیا جنت کی نہر کے کنارے بیٹھیں کیاریوں میں پھول لگا رہی تھیں، دس پندرہ حوریں ان کے ساتھ تھیں۔ مجھے دیکھ کر کھڑی ہوگئیں اور دونوں ہاتھ پھیلا کرکہا ادھر آؤ بیٹے کیسے ہو، کدھر ہو، کہاں ہو، بھئی تم اپنی صحت کا خیال رکھو۔ میں نے بجیا کو بتا یا نہیں کہ ہم مر گئے ہیں جانی! اب بتاؤ ہم اور بجیا کیا کریں، آسمانوں پر گرپڑیں یا ہم زمین کی طرف اڑان بھریں۔

تمہارا جونؔ!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: