آئی ایم ایف کا دباؤ اور سی پیک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر احمد اعوان

0
  • 76
    Shares

چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) پر آئی ایم ایف کی قرضوں سے متعلق فکر مندی سے پیدا ہونے والا دباؤ اور چیلنج سی پیک کے لیے پاکستان کا عہد متزلزل نہیں کر پائے گا۔

پاکستان سخت اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور قوم 95 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی کمائی پاکستان میں اپنے افرادِ خانہ کو بھیجتے آئے ہیں، جو طویل عرصے حکومتِ پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کے حصول کا عمدہ سرچشمہ رہا لیکن بد انتظامی، ناقص منصوبہ سازی اور بد عنوانی کی وجہ سے ان ترسیلاتِ زر میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی آتی گئی۔ اس کے علاوہ طاقت ور ہوتے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کم زور ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہت زیادہ کمی آ گئی۔ اس کے ساتھ پاکستان کو اپنے قرض ادا کرنے میں بھی مشکل کا سامنا تھا، جس سے ملک کے اقتصادی مسائل نے بد ترین صورت اختیار کر لی۔ اس کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج یعنی اپنے قرض ادا کرنے اور دوسرے اقتصادی مسائل سے نمٹنےکے لیے قرض مانگنا پڑا۔

آئی ایم ایف کی ٹیم چند دن پہلے پاکستان میں موجود تھی اور بیل آؤٹ پیکج پر مذاکرات کا اغاز ہوا تھا، جس میں سی پیک معاہدوں کی تفصیلات سمیت بہت سی شرائط شامل تھیں۔ اگرچہ پاکستان کو مالی مدد کی سخت ضرورت تھی اور وہ آئی ایم ایف کی مالیات سے متعلق شرائط تو مان سکتا تھا لیکن سی پیک کے معاملے میں سرِ تسلیم خم نہیں کر سکتا تھا۔

سی پیک میں پاکستان کی شمولیت پوری قوم کی تائید سے عمل میں آئی ہے اور نئی حکومت قائم ہونے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ سی پیک پاکستان کی قومی حکمتِ عملی کا نہایت اہم جزو ہے اور ہمارا ایقان ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کا واحد راستا ہے۔ چناں چہ آئی ایم ایف کا دباؤ صرف اس امر کا محرک بن سکتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنا لے۔ ہم پہلے ہی اچھے اور قابلِ اعتبار دوست ہیں۔

ماضی میں امریکا اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو استعمال کر چکا ہے اور آج بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔ قبلِ ازیں امریکا کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دیے جانے کے خلاف متنبہ کر چُکے ہیں، جسے پاکستان چین سے لیے گئے قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرے۔ انھوں نے سی پیک میں شامل یا چین کی اعانت سے جاری کسی بھی پروجیکٹ کے لیے رقوم مہیا کرنے سے قطعی لہجے میں منع کیا۔ وہ ہم سے اس امر کی ضمانت چاہتے تھے کہ چین کو رقوم بالکل بھی منتقل نہ کی جائیں۔

یہ امر واضح ہے کہ امریکا چین کے عروج کو قبول نہیں کر رہا اور اسے محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا چین اور اس کے ساتھ رفاقتِ کار قائم کرنے والے ہر ملک پر دباؤ ڈالنے کے لیے سارے ضروری اقدامات کرے گا۔ امریکا کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈال کر چین کو مزید اقتصادی ترقی سےروکنا ہے لیکن چین کے ساتھ پاکستان کا خصوصی تعلق ہے اور وہ اس دوستی کو نئی رفعتوں پر لے جانا چاہتا ہے۔

چین ایشین انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) قائم کر چکا ہے جو ترقی پذیر ملکوں کو اپنا انفراسٹرکچر بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ یہ بینک میرٹ کی بنیاد پر اور کسی بھی سیاسی تعصب کے بغیر کام کر رہا ہے۔ بھارت اس کی ایک مثال ہے۔ بھارت بیلٹ اینڈ روڈ اِنِشی ایٹِو (بی آر ائی) کے بارے میں شکوک کا شکار رہا ہے جب کہ چین کے ساتھ اس کا تعلق بعض اوقات دشوار رہا ہے لیکن بھارت پہلے ہی اے آئی آئی بی کے قرضوں سے فیض یاب ہونے والوں میں شامل ہے۔ بہت سے دوسرے ترقی پذیر ملک بھی اے آئی آئی بی سے قرض لے چکے ہیں اور اس کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کو کسی بھی سیاسی مقصد و محرک کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر مدد دینے کے لیے ایک ایشائی مانیٹیری فنڈ قائم کیا جائے۔ آئی ایم ایف امریکا کے زیرِ اثر ہے اور امریکا کی خارجہ پالیسی کے اقتصادی بازو کے طور سے کام کر رہا ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ملک آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا نشانہ بن چکے ہیں اور آئی ایم ایف کی گرفت سے نکلنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں چین نئی پیش قدمیوں کے لیے تجربہ اور وسائل رکھتا ہے اور ترقی پذیر دنیا اسے سراہے گی اور اس کی حمایت کرے گی۔

دنیا میں عالم گیریت کے حامیوں اور پروٹیکشن ازم یعنی درآمدات پر ٹیکس لگا کر ملکی صنعت کا تحفظ کرنے کے نظام کے حامیوں میں واضح تقسیم موجود ہے۔ رقوم مہیا کرنے والے نئے ادارے کا قیام چین کو عالمی اخلاقی قیادت کے رتبے پر پہنچا دے گا۔ ترقی پذیر ملک بیرونی مالیاتی جبر سے آزاد ہو کر عالم گیریت اور بی آر ائی جیسے چینی اِنِشی ایٹِوز کی تائید و حمایت کریں گے۔ پاکستان ہر سرد و گرم میں ساتھ نبھانے والے اور آزمودہ دوست کی حیثیت سے ہمہ وقت چین کے دوش بہ دوش کھڑا ہو گا۔

انگریزی میں مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: