دل پسند کیفیات اور روحانی امراض کا توڑ: چترا پریتم —– حمزہ حیدر

0
  • 13
    Shares

ایک ایسا نام ہے جو اپنے ہنر اور صداقت سے فائن آرٹس کے شعبے کو زنگ آلودگی سے بچا رہا ہے۔ مصوّر جو آج کے دور میں رنگوں کی طرف سے جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، چترا پریتم کا شمارا ن ہی مصوّروں میں ہے، جو ہاتھوں کی انگلیوں کے پانچوں چھٹے پور پر ہی زبان پر رقصاں ہیں۔ ان کے اس کردار کی وجہ سے۲۰۱۲؁ء تمغٔہ اَمتیاز برائے مصوری کے لیے چنے ہوئے لوگوں میں اِن کا نام بھی شامل کیا گیا۔

اِن کی پینٹنگز جس میں آبا یٗ علاقے یا روحانی ماحول کامنظر نامہ درج ہے۔ بہترین منظر کشی، اِن کے رنگوں کا سلیقہ، امید کے لمحات اورخواہشات کی پاسبانی کرتا بھرپور کینوس دیکھنے والوں کی اکھڑی سانسیں بحال کرتا ہے۔

ان کے اسٹائل سے ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کی کامیاب مفلسی خود غرض امیری کو تھپیڑے مارتے ہوئے اپنے وجود کو ہمیشہ کا ساتھی بنادینا چاہتی ہے۔ رنگوں کی آمیزش اور ان کا منظوم انداز ہر دل کو اور زیادہ پگھلا دیتا ہے، اور اُن کے نظریات سے لبریز رنگ اور مطلوبہ نفس جدھر جدھر سسکیاں بھرتی ہے، چترا پریتم صاحب نے اُن کناروں کو (جو خود بے کنارہ ہیں) بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ غائبانہ معاملات اور اَن دیکھی خراشیں جو خوشی میں خوش اور غم میں آبِ استادہ کی مانند قائم و دائم ہیں، چترا صاحب کی پینٹنگز میں پکڑم پکڑائی میں مصروف د کھائی دیتی ہیں۔

ان کی فن کار ی جو روح سے ہنر سمیٹتے ہوئے اب دیوار پر چسپاں ہیں، دراصل بذات خود چترا صاحب کی حقیقت ہے۔ آرٹ لورز کے گھروں کی دیواروں پر چترا پریتم اپنے افکار کیساتھ اپنی پینٹنگز سے جھانک رہے ہوتے ہیں۔ اِن کی کامل دوڑ ایسے مقام پر آکھڑی ہے کہ اب یہ رنگوں کے چھینٹے دے دے کر اپنے خمیر سے دوستی کے مرحلے میں ہیں۔ جمیل نقش جن سے انھوں نے اپنی کیفیات کا پرچار سیکھا، ان کے آئیڈیل ٹھہرے اور وہ ان کے طریقے پر چلتے چلتے آخرکار خود سے مل بیٹھے۔ جمیل نقش جو کسی تعریف کے محتاج نہیں چترا پریتم کی ترقی کی وہ سیڑھی ہیں جو ان کو بلندیوں پر پہنچاکر خود گوشہ نشیںہیں۔

چترا صاحب کی موجود قرآنی آیتوں کی خطّاطی، سب کے لیے تشفی بخش ثابت ہوتی ہے۔ خطّاطی سے انھوں نے سب کو وہ ماحول تیار کرکے دیا جو سمجھنے والے کے لیے واپسی کا راستہ اور طوق ڈلوں کے لیے فقط عربی الفاظ سے بنی کہانی ہے۔

قرآنی آیتوں کا مختلف انداز میں پیش کرنا ان کے اُن لمحات کا نمونہ ہے، جب چترا صاحب اِن آیتوں سے سوال جواب میں ڈوبتے ہیں۔ ایسے وقتوں میں ایک یوٹیلائزیشن گراف ان کے اندر محترک ہوتا ہے جو مختلف زاویوں میں دوڑتا ہے۔ کبھی یہ خفا اور کبھی اپنے دل و دماغ کے حد سے زیادہ استعمال ہوجانے پر چوک نظر آتا ہے۔ پھر ان کی پینٹنگز میں بدھا کا وجود آتاہے۔ بدھا اپنی زندگی کو حقیقت کے حوالے کیئے ایک عجب رستے پر چل پڑا تھا جو سنی لکھی تحریوں میں دِکھتا ہے۔ چترا صاحب نے خوب دل کی سنتے ہوئے بدھا کو اپنے رنگوں کے استعمال سے کینوس پرا تا دکر اُسے کسی مورتی سے کم نہیں چھوڑا، جو آج کل موجود کئی خدائوں میں سے ایک خدا کی شکل ہے۔ چترا کا زندگی نامہ آیت قرآنی کے ساتھ ساتھ بدھا کے ذو ق وشوق سے بھی لبریز ہے۔ جس کو انھوں نے اپنے فن پاروں میں بغیر کسی اندرونی حقیقت کو چھپائے اپنے چاہنے والوں کو سونپ دیا ہے۔ بد ھا کے مختلف انداز دراصل اِن کے لیے زندگی کی چال ڈھال کی مانند ہیں۔ اِس چال ڈھال کی جھلک اِن کی پینٹنگزمیں کھل کر واضح ہے۔

حقیقت زدہ انسان وہ ہی ہے جو کچھ سنے، کچھ سنائے، کچھ مانے کچھ منوائے۔ چترا کی مذہبی صورتوں سے رنگ بھر ی پینٹنگز شاید ان کی جستجوکی دلیل ہیں اور ان کے فن پارے خود اپنی جگہ تبلیغ کا اِک انداز ہیں۔

چترا صاحب کی پینٹنگز دراصل زندگی کے وہ رنگ ہیں، جنھوں نے اپنے اندر بچپن، جذباتی وابستگی، آخوند کی مریدی، حقیقت و فلاح کارستہ سمو رکھا ہے۔ یہ دل کے رنگ روزانہ بہانے بہانے سے چترا صاحب کے ذہن و دل سے ہوتے ہوئے انگلیوں پر قابض ہوتے رہیں گے اور روز پھر کہیں نہ کہیں اپنی بدلتی ہوئی صورتیں دکھاتے رہیں گے۔ ان کے لائٹ موڈ میں رنگے فن پاروں نے سب چاہنے والوں کو بھی اپنی پینٹنگز میں کھنچ رکھا ہے۔ سب اپنی تشفی کی تلاش میں خود کو ان کی رنگوں کی دنیا میں بسالیتے ہیں اور کوئی چاہنے والا کسی مٹکے کو تکتا ہے، کوئی کسی چھائوں کی دہلیز پر سر سجائے ہے، کوئی خداسے مل رہا ہے اور کوئی آیتوں کے معنی میں ڈوبا حیران و پریشان ہے۔

اسی طرح شکیل عادل زادہ، جمال احسانی اِنور سن رائے، عذرا عبّاس اور وصی حیدر ان کے سفر میں وہ ہم داہی ہیں جنھوں نے خود چترا صاحب سے فیض اٹھایا اور اپنے کمالات بلاجھجھک ان میں منتقل کردیئے۔ چترا صاحب اپنی گفت وشیند میں یا اپنے وجود کی عکاسی میں جمیل نقش کے نظریات اور ان تحریر شدہ ناموں کی محنت بیان کرتے ہیں۔ یہ محنت دراصل اِن نامور ساتھیوں کا ساتھ ہے جنھوں نے ان کو حوصلے کا پروان چڑھا کہ خود کو ان کی زندگی کا حصّہ بنایا۔ ان کا حصّہ حیات بن جانا، چترا صاحب کی کامیابی اور اپنے روح کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: