نفاذ اور اختیار ….. ثاقب ملک

0

"جو چیز نافذ کی جائے لوگ اسے اختیار کرنا پسند نہیں کرتے. اسلام، شریعت، اسلامی تعلیمات یہ نفاذ نہیں ، اپنی پسند سے اختیار کرنے کی چیزیں ہیں. طالبان ،دا عش اور مذہبی جماعتوں کے رویے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے ہم اسلامی معاشرہ نہیں چاہتے ہم اسلام کو لوگوں کے سروں پر بطور سزا تھوپنا چاہتے ہیں. اسی لئے ملا کا طرز اسلام خوفناک ہے کیونکہ اسکی بنیاد ،رد عمل اور انتقام سے نکلی ہے. اسکی دوسری اور غلط انتہا تبلیغی جماعت کا طرز فکر ہے جہاں اسلام کو بطور لالچ اور اشتہا کے رکھ چھوڑا ہے. یہ دونوں طرز فکر اسلام کی روح کو نہیں بلکہ انسانی نفس کی تسکین کو زیادہ اپیل کرتے ہیں اس لئے باوجود عظیم الشان اجتماعات کے عوام پر مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں. اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ تبلیغی جماعت کے کچھ فوائد بھی ہیں .لیکن مجموعی ناکامی انکے کردار پر سوال اٹھاتی ہے .دوسری جانب یہ بھی ممکن نہیں کہ الله کی حدود کے نفاذ کو کھلا چھوڑ دیا جائے . لیکن اس کا درست راستہ اپنانا بیحد اہم ہے .حکمت مومن کی میراث ہے جو فی الحال ہمارے پاس موجود نہیں .

تصوف کی مصیبت یہ بنی کہ اللہ اور بندے کے تعلق کو نا دانستہ طور پر اللہ اور بندے کا مقابلہ بنا دیا گیا. یعنی بندہ اپنے اندر جب تک مافوق الفطرت خصوصیات اور صلاحیتیں نہ پیدا کر لے تب تک وہ خدا کے قرب کا حقدار نہیں ہے. اسلام کا حقیقی راستہ تو بہت وسیع سمت ہے. اس کسی ایک چیز کی اسپشلٹی دوسری کمزوری کو کور کر لیتی ہے. آپ صرف دیانت دار ہیں اور صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے دیانت دار ہیں تو اللہ اس صلاحیت اور خصوصیت کو بھلا کیوں اور کیسے اگنور کرے گا؟ اسکا اجر تو آپ کو لازمی ملے گا. اسی طرح کوئی اپنی نماز میں دوسروں سے کہیں بلند ہے اور صرف اللہ کے حکم کے تحت بلند ہے تو اسکے اجر کا تصور بھی محال ہے. مگر ساتھ ہی ساتھ یہ اچھائیاں آپکی برائیوں کا جواز نہیں بن سکتیں. یعنی میں ایک پہلو میں اچھا ہوں اور دوسرے میں بہتری کی کوشش ہی نہ کروں تو میں نے اللہ کا دیا ہوا اختیار اللہ کے حق میں استعمال ہی نہیں کیا. ذرا سوچا جائے تو کتنی بڑی بات ہے. یہ نمبروں کا کھیل نہیں ہے. وزن کا کھیل ہے. اپنی اچھائی کا وزن ایسا ہو کہ آپکی برائی پر بآسانی غالب آجائے. اس لیے کسی عمل کی پر فیکشن ہی اسکی نیت کا اظہار ہے. جتنی پرفیکشن انسانی حد میں ممکن ہے وہ کرنا نیت کی جانچ کی یارڈ سٹک ہے. اسی لئے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اللہ نے انسان کو نیت کی پرکھ دی ہے کیونکہ اللہ سب سے زیادہ کسی کی نیت کو جانتا ہے تو کمتر ترین سطح پر ہم بھی کچھ نہ کچھ جان سکتے ہیں. اسی طرح گناہ بھی ایسے کرنا چاہیے کہ شیطان کو اس سے خوشی نہ ہو. اپنی بجائے کے اپنے گناہ کا عزت بچانے کے لئے جواز بنایا جائے .سیدھا سادا اعتراف شیطان کے دل پر جا لگے گا. یہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ انسان کو درست اور غلط کا اندازہ ہے. کیرٹ اینڈ سٹک بہترین فارمولا ہے مگر ہم نے دونوں میں زیادتی اور مبالغہ ڈال کر انکو تریاق کے بجائے زہر بنا دیا ہے . لوگوں کو انتخاب دے کر قائل کریں ان پر زبردستی تھوپ کر انہیں برافروختہ نہ کریں .

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: