علامہ اقبال فراق گورکھپوری کی نظر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اعجاز الحق اعجاز

0
  • 71
    Shares

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری(1896تا 1982) اردو کے ایک بلند پایہ شاعر اور نقاد ہیں۔ بیسویں صدی کی غزل میں ان کا ایک خاص مقام ہے اور انھوں نے جدید غزل کے لیے راہ ہموار کی۔ ان کے تنقیدی مضامین اور تبصرے بہت بصیرت افروز ہیں۔ غزلستان، گل نغمہ، نغمہ نما، شعلہ ساز، رمزوکنایات، روح کائنات، شبنمستان (کلیات)، شعرستان (کلیات) ان کے شعری مجموعے ہیں جب کہ اندازے، حاشیے، اردو غزل گوئی اور اردو کی عشقیہ شاعری ان کے تنقیدی مجموعے ہیں۔

فراق گورکھپوری کی شاعری پہ علامہ اقبال کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ مگر یہ ہمارے زیر نظر مطالعے کا موضوع نہیں۔ اس پر الگ سے روشنی ڈالی جائے گی۔ فراق اقبال کی شاعری کے مرتبہ شناس تھے۔ جب کچھ شعرا اور ناقدین کی جانب سے اقبال پر بے جا تنقید کی جارہی تھی تو فراق نے آگے بڑھ کر اس کا دفاع کیا۔ فراق، اقبال سے نظریاتی اختلاف ضرور رکھتے تھے مگر وہ اقبال کی عظمت کو بھی دل سے تسلیم کرتے تھے۔ فراق نے اپنی کتاب ’’اردو غزل گوئی‘‘ میں اردو غزل پہ اٹھائے جانے والے اعتراضات کا بہت مدلل جواب دیا ہے۔ اسی ضمن میں انھوں نے اقبال کی غزل کا بھی بھرپور دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’مجھے سر محمد اقبال کی شاعری میں اگرچہ ملت اسلام اور حجازیت کی رٹ پسند نہیں لیکن موجودہ اسپرٹ اور عمرانیات کے مطالعے نے نیز پنجاب کی آب و ہوا نے حیات کے وہ نئے اور قیمتی عناصر ان کی غزلوں میں بھر دیے ہیں جو دور ماضی اور دور حاضر کے کسی غزل گو کے یہاں نہیں ملتے۔ یہ کہنا کہ اقبال غزل گو شاعر نہیں ہے قابل رحم تنقیدی سہل پسندی ہے۔ تمام ہندوستان کے غزل گو ـ’’کبھی اے حقیقت منتظر۔‘‘ والی غزل پہ طبع آزمائی کر کے دیکھ چکے ہیں لیکن آج تک اس کا جواب نہیں ہوا۔‘‘

فراق نے اقبال کی غزل گوئی کو ’’مفکرانہ پرجوش غزل سرائی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کے محاسن پہ روشنی ڈالی ہے۔ اپنے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں:

’’دنیا کی قدیم سے قدیم شاعری سے لے کر آج تک کی شاعری میں جو کئی زبانوں پر مشتمل ہے اس کا اونچے سے اونچا لہجہ اور اس کی انتہائی بلندی سب کچھ اقبال کے اردو اور فارسی کلام میں مل جاتی ہے اور دنیا کے بڑے سے بڑے شاعروں کے ہاں جو خوبیاں ہیں اقبال کے یہاں موجود ہیں۔‘‘

جوش ملیح آبادی ایک دور میں اقبال کے خلاف کمر بستہ ہوگئے تھے۔ فراق گورکھپوری نے جب جوش کا یہ غیر معقول اور متعصبانہ رویہ دیکھا تو اسے سخت ناپسند کیا۔ بلکہ ایک خط لکھ کر ان کی گوشمالی کی۔ یہ ایک تاریخی خط ہے جو فراق نے جوش کے نام الہ آباد سے 2 جنوری 1975 کو تحریر کیا۔ اس میں وہ جوش کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’تمھارا جو ایک خفیہ انٹرویو تھا یعنی اس کو تمھارے مرنے کے بعد شائع ہونا چاہیے تھا مگر تمھارے حاشیہ برداروں نے اس کو قبل از وقت شائع کرکے راز کو فاش کر دیا اور تمھارے اوپر عتاب نازل ہونے لگے۔ میرے نزدیک یہ تمھاری غلطی تھی۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ تم اقبال کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ اقبال نے دین اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس کی افادیت میں اعلیٰ پیمانے کی گہر افشانی کی ہے۔ ان کا علم اس معاملے میں مکمل ہے۔ تم دین سے واقف ہی نہیں اور دین کی گہرائیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے علم کم ہے اور اس پر طرفہ یہ کہ تم دھریے بھی ہو۔

تم آفاق کے کفر میں گم
اقبال دین کی ہمیشگی سے لبریز

تمھاری شاعری اس لیے نہیں مانی جا سکتی کہ اس میں تضاد ہے۔ میں نے جو اقبال پر اعتراضات کیے ہیں ان کی نوعیت الگ ہے۔ وہ ملت کی شاعری اگر نہ بھی کرتے تو بھی عظیم ترین شاعر ہوتے۔ لیکن ملت کی شاعری پر بھی میں تنقید نہیں کرسکتا کیوں کہ میں اسلامی مسائل سے نابلد ہوں اور اگر واقف ہوتا بھی تو بھی مجھے اس کا حق نہیں کہ کسی کے دینی معاملات میں دخل دوں۔ ملت کی شاعری کے علاوہ اقبال نے جو کہا ہے وہ بھی بہت کچھ ہے۔ تمھاری تنقید اقبال پر ہر اعتبار سے غیر معتبر ہے۔ کیوں کہ تم اس تضاد کا شکار ہو کہ کبھی تم دہریے بن جاتے ہو اور کہیں پر مرثیے میں اپنے جوہر دینی طور پر دکھانے لگتے ہو۔۔۔۔ میں میر انیس، محسن کاکوروی، تلسی داس وغیرہ کو اس لیے نہیں مانتا کہ وہ مذہبی شاعر تھے بلکہ ان کی فنکارانہ صلاحیتیں ادبی دنیا کا عظیم ذخیرہ ہیں۔ اقبال کی شاعری میں جو تضاد ہے وہ بھی عقل و دانش کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ تمھاری شاعری کا بنیادی تضاد مشق سخن پر دلالت کرتا ہے۔ مذہبی دائو پیچ، سیاسی جوڑ توڑ یہ سب شاعری میں ابھرنے کے لیے ہیں۔تم اقبال کو برا کہہ کر اقبال سے بلند ہونے کی کوشش نہ کرو۔ کیوں کہ یہ گناہ گناہ عظیم ہے۔ وقت کی کسوٹی نے جتنا کھرا تم کو مان لیا ہے اسے کھوٹا نہ کرو۔ پچھلے حالات و واقعات کی تلافی اس صورت سے ہوسکتی ہے یا تو تم توبہ کر لو یا خدائی کا دعویٰ کر دو۔‘‘

یہ ایک خط نہیں تھا بلکہ ایک آئینہ تھا جو فراق نے جوش کو دکھانے کی کوشش کی۔ جوش نے اقبال پہ جو اعتراضات کیے تھے وہ زیادہ تر یہی تھے کہ اقبال کیوں اسلام کے تابناک ماضی کے نغمہ گر ہیں۔ جوش نے اس اعتراض کو جوش پر الٹتے ہوئے کہا ہے کہ جوش کی اپنی شاعری اس وقت تضاد کا شکار ہوجاتی ہے جب وہ ایک طرف شاعری میں کسی مذہبی نظریے کے پرچار کو جرم قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف خود مرثیے لکھے جارہے ہیں۔ فراق اصل میں یہ حقیقت آشکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مذہبی نظریے کی ترجمانی سے شاعری کو کم تر یا برتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مذہبی نظریہ ہو یا سیاسی نظریہ دونوں ہی شاعری میں پیش کیے جانے پہ کوئی قدغن نہیں اور شاعری کو اس کے فنی حوالوں ہی سے پرکھا جانا چاہیے اور اس حوالے سے بھی اقبال ایک عظیم شاعر ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: