اوڑھنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہدہ تبسم کا افسانہ

0
  • 18
    Shares

یہ 1978 کی بات ہے جب میں کراچی یونیورسٹی کے سالانہ مجلے الجامعہ کے لئے تحریریں جمع کرتا پھر رہا تھا…. تب شاہدہ تبسم نے میرے کہنے پر دو افسانے لکھ کر مجھے دئیے ’’ منی پلانٹ‘‘ اور ’’اوڑھنی‘‘۔ پہلا افسانہ تو شائع ہو گیا مگر دوسرا بہ وجوہ شائع نہ ہو سکا…. جو افسانہ شائع ہوا اُس نے پڑھنے والوں سے خوب خوب داد پائی…. میں دوسرے افسانے ’’اوڑھنی‘‘ کی حفاظت نہ کرسکا اور یہ افسانہ مجھ سے کہیں کھو گیا…. شاہدہ اس بات پر مجھ سے خفا بھی تھی کہ میں نے اس کی حفاظت کیوں نہ کرسکا؟…. وقت دبے پاؤں گزرتا رہا اور پھر شاہدہ بھی ہم میں نہ رہی….. وہ چلی گئی …. ہمیشہ ہمیشہ کے لئے…. آج ٹھیک چالیس سال بعد وہ افسانہ مجھے میرے پرانے کاغذات میں سے مل گیا۔ یہ افسانہ اب میں شاہدہ کو تو نہیں لوٹا سکتا مگر شاہدہ سے محبت کرنے والوں اور اُسے پڑھنے والوں کو لوٹا رہا ہوں…. شاہدہ میں نے تمھاری امانت بل آخر تمھارے قارئین تک پہنچا دی۔ سلیم مغل


’’بھیا اب کے میری اوڑھنی بھی نہیں لائے‘‘ کوئی کسک اس کے اندر بولی۔
اندھیرا ہو چلا تھا اور رات اترنے والی تھی۔ سارا دن بارش ہوتی رہی تھی حد نظر تک کھیت سبز ہورہے تھے۔ نہائے ہوئے درخت دھلی ہوئی فضاء کی خوب صورتی میں اضافہ کررہے تھے۔ ہر چیز پرسکون اور خوشگوار تھی مگر اس کے دل میں دور کہیں کوئی چیز کھٹک رہی تھی اور کھٹک گہری ہوتی جارہی تھی۔ سر پر آسمان شفاف نیلاہٹ میں بدل چکا تھا۔ اندھیرا … اُسے چاروں طرف سے گھیرنے لگا، وہ جلدی جلدی قدم بڑھانے لگی۔

’’پتہ نہیں ہر چیز بدلی بدلی سی کیوں ہے آج۔ نہیں …. شاید بھیا کے آنے کی وجہ سے ، بعض اوقات خوشی میں بھی تو پرانا ماحول اور فضاء نئی نئی سی لگتی ہے نا…. مگر … بھیا بھی تو اب کے کچھ بدلے بدلے سے ہیں۔ کچھ؟…. نہیں بہت کچھ مگر…. ماحول اور حالات بھی تو انسان کو بدل ڈالتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ بھابھی کی وجہ سے ہو۔ اف! کتنی پیاری سی ہیں بھابھی…. جیسے سجی ہوئی گڑیا!‘‘

بھیا پورے دوسال بعد واپس آئے تھے ، ایک خوب صورت سی شریک حیات کے ساتھ ۔ شیماں کو بھابھی کو دیکھنے کا کتنا ارمان تھا! …. اماں پہلی بار بہو کو دیکھ کر ایسے واری صدقے ہورہی تھیں جیسے اب سے پہلے اس سے نہ مل سکنے میں کوئی ان کا اپنا قصور تھا جبکہ بھیا نے خود ہی چپ چپاتے شادی کرڈالی تھی اور اب اچانک ہی آوارد ہوئے تھے کیونکہ ان کی دلہن کو یہ بستی دیکھنے کا بڑا ارمان تھا اور انہیں دیہات کی زندگی پر اپنا تھیسس مکمل کرنا تھا۔ اس وجہ سے بھیا کو بھابھی کو یہاں لانا پڑا۔

شیماں نے ہر چیز کو حیرت سے دیکھا ۔ بھابھی کے اور بھیا کے ایسے خوب صورت کپڑے جیسے کوہ قاف سے پریاں لائی ہوں۔ کاسمیٹکس ، صابن، پرفیوم کی شیشیاں ، جوتے ، برش، نائٹ گاؤن۔ شہر کی ایک پوری نئی دنیا خواب کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے پڑی ہوئی تھی۔ بھیا جب بھی شہر سے آتے اس کے لئے ایک قیمتی اوڑھنی ضرور لاتے اور وہ اسے سینت سینت کر رکھتی اور بڑی احتیاط سے استعمال کرتی پر اب کے بھیا شاید بھول ہی گئے تھے… . وہ ایک ایک چیز کو دیکھ دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ ’’اماں بھابھی کے کرتے کے بٹن کتنے خوب صورت ہیں…. چاندی کے ہیں کیا؟ کتنے کے ہیں بھابھی؟‘‘

’’یہی کچھ ایک ہزار سات سو کے۔‘‘

ایک ہزار سات….الفاظ اس کی سوچ میں اٹک کر رہ گئے۔

پچھلے مہینے نسیم نے اپنی پوری تنخواہ جو پانچ سو کے قریب تھی ، اماں کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا ’’اماں کیا بھیا ہمیں بھولتے جارہے ہیں؟ کئی کئی مہینے خبر ہی نہیں لیتے ۔ بہت اچھی پوسٹ ہے ان کی شہر میں ۔ کچھ ایسی کمی تو نہیں ہوگی ان کی پاس۔‘‘

’’مگر بیٹا اب اس کی زمہ داریاں بھی تو بہت بڑھ گئی ہیں۔‘‘

اور بھابھی نے آکر جب پہلی بار اس بے چارے ماحول پر نظر ڈالی تو اماں چور سی ہوگئیں۔ ’’بیٹی یہاں تمھیں تمھارے گھر جیسا ماحول تو نہ مل سکے گا ۔ بہت تکلیف ہوگی تمھیں۔‘‘

’’بھیا میں سوچ رہی تھی کہ اس کمرے کے نئے پردے بنا دیتی ۔ ان پردوں کو تو نہ معلوم کتنے سال ہوگئے پڑے پڑے۔‘‘ شیماں نے بھابھی کا بیگ کمرے میں رکھتے ہوئے کہا۔

’’ارے نہیں شیماں! پیسے ضائع کرنے سے کیا فائدہ جان، ایسی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے اور پھر آج کل مہنگائی بھی تو کتنی ہے ۔ آج کل تو بس بہت دیکھ بھال کر خرچ کرنا چاہیے۔‘‘بھابھی نے اُسے پیار کرتے ہوئے کہا۔

بھابھی کتنی اچھی ہیں… اس نے سوچا۔

’’ہم تو بس چند دن یہاں ہیں ۔‘‘

شیماں کا دل ڈوبنے لگا…’’کیوں؟‘‘

’’وہاں کام بہت ہے اور یہاں زیادہ رہنے میں وقت ضائع ہوگا۔‘‘ بھیا بولے۔

’’ہاں یہاں مچھر بہت ہیں۔ امی آپ صبح نسیم کو شہر بھیج کر ایک ماسکیٹو کلر منگوالیں۔ زیادہ مہنگا نہیں یہی کوئی ڈیڑھ دو سو کا ہوگا۔ ورنہ میں تو یہاں سو نہیں سکوں گی رات بھر…. کیوں وسیم؟‘‘ بھیا چپ چاپ کپڑے تہہ کرکے رکھتے رہے۔

بھیا اس پورے ماحول سے کچھ ایسے الجھے الجھے سے تھے شیماں کو وہ کچھ غیر غیر سے لگے۔ اب کے اماں کے پاس بیٹھتے ہوئے جیسے انہیں کوئی تکلف ہورہا تھا۔ اِدھر اُدھر پورے ماحول کو نظریں بچا بچا کر دیکھتے ہوئے جیسے اپنے اندر کہیں شرمسار ہوں اور بھابھی کو یہاں لاکر پچھتا رہے ہوں۔چھوٹا سا گھر، آنگن میں لگا آم کا درخت جس کے سائے میں وہ کھیل کر بڑے ہوئے تھے۔ نلکے پر کپڑے دھوتی شیماں اور ان کے قریب چارپائی پر بیٹھی اماں جن کی باتوں کی سادگی جیسے بھیا کو بھابھی کے سامنے خجل کئے دے رہی ہو۔ سب چیزیں انہیں اندر ہی اندر گھلنے لگیں…. نہ انہوں نے شیماں سے کوئی مذاق کی بات کی نہ اُسے چھیڑا اور تنگ کیا جیسے وہ کہیں اجنبیوں کے بیچ میں ہوں۔ ’’شام کو جاکراچھی خالا سے تین سو روپے قرض لے آنا‘‘…. بھابھی اور بھیا اندر چلے گئے تو اماں نے شیماں سے کہا۔

گھر میں پیسے بھی ختم ہونے والے ہیں اور وہ بھی منگوانا ہے…. کیا نام ہے اس کا جو دلہن بتا رہی تھی۔ وسیم سے مانگے تو وہ کیا کہے گا۔ آتے دیر نہیں ہوئی اورپیسوں کا تقاضہ شروع! بس پیسوں کی فکر ہے۔ آئے مہمانوں کا خیال نہیں۔ گھر کی عزت بھی کوئی چیز ہے آخر۔‘‘اور شیماں کو اپنے اندر کچھ ٹوٹنے کی گونج سنائی دے رہی تھی….

….مگر بھابھی کتنی اچھی ہیں کیسے پیار سے بات کرتی ہیں۔

سہ پہر کو بھیا اور بھابھی کو کہیں ضروری کام سے جانا تھا ۔ شیماں اچھی خالا کے گھر جانے کے لئے رخصت ہونے لگی تو بھابھی نے پوچھ لیا۔
’’کہاں جارہی ہو شیماں؟‘‘
’’بس زرا یہیں قریب ہی جانا ہے بھابھی۔‘‘
’’اچھا ٹھہرو ہم لوگوں کے ساتھ ہی چلنا …. ٹیکسی منگوالیتے ہیں اسٹیشن سے ۔ ہمیں کسی سے ملنے جانا ہے قریب ہی ۔ تھوڑی دیر وہیں ٹھہرنا پھر ہم تمھیں راستے سے ڈراپ کردیں گے…. ٹھیک ہے نا امی‘‘

’’ٹھیک ہے اگر دیر ہوجائے تو خالا کے گھر سے فخر بیٹے کے ساتھ واپس آجانا۔‘‘ اماں بولیں
’’امی آپ فکر مند مت ہوئیے گا…. یہ ہمارے ساتھ ہی جارہی ہے۔‘‘
بھابھی حتی المقدور اس کا دل رکھنے کی کوشش کررہی تھیں۔ اُسے ایسا لگا جیسے بھیا کو یہ بات ناگوار گزری ہو۔
’’میں زرا ابھی آئی ‘‘بھابھی اندر کمرے کی طرف چل دیں۔
’’بھابھی تھوڑا سا پرفیوم میں بھی لگا لوں۔‘‘ معلوم نہیں کیسے اُس کی زبان سے نکل گیا۔
ہاں کیوں نہیں…. بھابھی نے اُس پر خوشبو چھڑکی اور جب رکھنے لگیں تو بھری ہوئی بوتل ان کے ہاتھ سے فرش پر آرہی۔
کتنی خوب صورت بوتل تھی… ’’چلو کوئی بات نہیں‘‘ بھابھی نے کرچیں سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیں….نسیم نے اُسے بتایا تھا کہ یہ بوتل تین سو چالیس روپے کی آتی ہے۔

اف! تین سو چالیس روپے کا صرف یہ خوشبو دار پانی!…. نا چاہتے ہوئے بھی اس کی نظر اپنی تلا نکلتی ہوئی جوتی پر ٹھہرگئی….

ہمارے اور تمھارے درمیان کا زمانہ کتنا بدل گیا ہے نا بھیا…. ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے اُس نے سوچا …. اُسے لگا جیسے وہ بالکل اکیلی ہے اُس کے قریب کوئی بھی نہیں ہے ۔ زمین پر اس کے پیر اکھڑے اکھڑے ہیں اور دائیں بائیں ایک خلاء ہے….یہ سب وہی راستے تھے جن پر وہ بھیا کے ساتھ گھوما کرتی تھی۔ میلوں دور تک دونوں پیدل نکل جاتے ۔ کھیتوں میں آنکھ مچولی کھیلتے۔ بھیا اُسے جگنو اور تتلیاں پکڑ کر دیتے ۔ اس کے کانٹا چبھتا تو خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر روتے اور دوسرے بچوں سے اس کی خاطر خوب لڑا کرتے۔ کوئی آنکھ اٹھا کر اس کی طرف نہ دیکھ سکتا تھا…. اور ایک شینی تھا جس نے بچپن سے اب تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ جب بھی وہ شیماں کو ستاتا بھیا اُس کی خوب خبر لیتے ۔ مار کوٹ کر اسے ایک کونے میں ڈال دیتے پر وہ باز نہ آتا…. شیماں کو اس سے نفرت تھی… سخت نفرت مگر وہ اب بھی جب سامنے پڑتا اُسے چھیڑنے کی حرکتوں سے باز نہ آتا۔

سب کچھ کتنا بدل گیا ہے ۔ بھیا تو بالکل ایسے ہوگئے ہیں جیسے میں ہوں ہی نہیں ان کے آس پاس…. راستے سے گزرتے پیپل کے درخت کو دیکھ کر اُس نے بڑے مشکل سے اپنے آنسو ضبط کیے ۔ بھیا اس کی چھاؤں مجھ پر اور تم پر برابر تھی۔ اُس کے دل میں کچھ چبھ کر رہ گیا۔ اُسے پھر بچپن یاد آنے لگا۔

ان سب لوگوں میں جہاں وہ پہنچی اپنے آپ کو سب سے الگ لگی۔ بھابھی سب سے باتیں کررہی تھیں اور اُسے لگا بھیا کھسیائے ہوئے سے اس ماحول میں شامل لیکن کٹے کٹے سے ہیں۔ وہاں سب کچھ بہت رنگین تھا۔ وہ سارا گھر ، وہاں کی عورتیں اور مرد سب بہت مہذب بہت شائستہ ! پورا سجا ہوا باغ۔ بڑے بڑے کمرے، صوفے، پردے، قالین، ہر چیز خوب صورت تھی۔ دن بھر کی بارش نے ساری فضاء نکھار دی تھی۔

’’یہ شیماں ہیں…..‘‘ کسی نے اس کا تعارف چاہا تو بھیا نے بتایا اور اپنا حوالہ دینا گویا بھول ہی گئے ۔ وہ بہت بجھے بجھے سے ہورہے تھے۔ پھر اتنی دیر میں کچھ اور پروگرام بن گیا۔ سب کو کہیں اور جانا تھا۔

تم کیسے جاؤ گی؟ ہم لوگوں کو تو اب کہیں اور جانا پڑے گا۔ کچھ ضروری کام ہے۔ بھیا نے اپنی برأت ظاہر کردی…. اور اس کی سر سے آسمان ہونے کا واہمہ بھی اُٹھنے لگا۔

کیسے جاؤں گی؟؟؟ مغرب کا وقت ہونے والا ہے ۔ اندھیرا پھیلنے والا ہے بھیا میں کیسے جاؤں گی؟ میں کبھی آج تک شام میں اکیلی باہر نہیں نکلی بھیا، ہاں بچپن میں تمھارے ساتھ آدھی آدھی رات تک گرمیوں کی راتیں باہر گزاری ہیں…. لیکن وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔

’’ٹیکسی لے لینا ، یہاں آسانی سے مل جائے گی۔‘‘بھیا نے کچھ پیسے نکال کر اُس کے ہاتھ پر رکھ دئیے۔

بھیا کیا بھول گئے مجھے اندھیرے میں کیسا ڈر لگتا ہے ۔ میں تو کبھی ٹیکسی میں اکیلی نہیں بیٹھی ۔ بھیا کو کیا یاد نہیں سارا راستہ کتنا سنسان ہے ! کتنا خطرناک ہے!

’’ارے کوئی بات نہیں شیماں تم تو پڑھی لکھی لڑکی ہو، سمجھدار ہو۔ ڈر تو نہیں لگے گا نا تمھیں جان…..‘‘ بھابھی نے پیار سے کہا اور اس کا گال چوم لیا۔
’’ارے نہیں…. کیا ڈر ور …. کیا دقیانوسی باتیں ہیں۔‘‘ بھیا بولے ’’نہیں نہیں میں چلی جاؤں گی۔‘‘

جھٹپٹے میں وہ نکل کھڑی ہوئی …. ساری فضاء دھلی دھلی سی تھی اور اُس کے اندر کہیں کوئی گدلا پن گہرا ہونے لگا…. اوڑھنی کے بسکے ہوئے کنارے کو اس نے اپنی انگلی سے کھول دیا اور پیدل ہی چل پڑی اچھی خالا کے گھر کے راستے پر کہ ان سے قرضہ لیا جائے تاکہ بھیا اور بھابھی کے سامنے گھر کی عزت رہ جائے…..دن بھر کی بارش کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اس لئے راستہ کچھ زیادہ ہی سنسان تھا…. ’’مگر ٹیکسی میں تو مجھے اور زیاد ہ ڈر لگتا۔‘‘

اندھیرا پھیلنے لگا تھا …. بھیا کو یہ موسم کتنا پسند تھا۔ اماں سے پھلکیاں بنوا کر کھایا کرتے پھر خود بھی بنانے کی کوشش کرتے اور خود ہی پودینے کی چٹنی پیسنے بیٹھ جاتے ….شیماں کے منہ میں زبرستی پکوڑیاں ٹھونسا کرتے پھر وہ روٹھتی تو گھنٹوں اُسے مناتے….

اماں تمھارے ہاتھوں میں چوڑیاں کتنی اچھی لگتی ہیں ۔ اب کے میں جاکر تمھارے لئے سونے کی چوڑیا ں بھیجوں گا…. پر کانچ کی چوڑیاں بھی ٹوٹ گئیں…. مگر …. ہاں مگر آج کل مہنگائی بھی تو بہت ہے نا۔پر یہ تو دو سال پہلے کی بات ہے جب بھیا کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔

جگہ جگہ پانی اور کیچڑ سے بھرے گڑھے چلنے میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے …. اور اُس کے اندر کہیں بارش ہورہی تھی۔ روح تک بھیگنے لگی تھی۔ اُس نے اوڑھنی سے خوب اچھی طرح جسم ڈھانپنے کی کوشش کی۔ زمین ناقابل برداشت ہورہی تھی اور آسمان اُس کے سر سے اٹھ چکا تھا…. ایک بے حفاظتی اُس کے چاروں طرف پھیلنے لگی…. اُسے لگا جیسے ڈر سے اُس کا کلیجہ بیٹھ جائے گا، جیسے زمین آسمان کے درمیان بہت بڑا خلاء بھر گیا جو چاروں طرف سے اُسے اپنے گھیرے میں لے رہا ہے جیسے وہ تنہا ہے ہمیشہ سے! ہمیشہ کے لئے!!!

بسکی ہوئی اوڑھنی بدن ڈھانکنے کی کوشش میں چر چرا کر ایک کنارے سے دو نیم ہونے لگی۔ جیسے اس کے سر سے کوئی سایہ اٹھنے لگا۔ ایک کھیت کی منڈیر کے قریب سے گزرتے ہوئے تیز ہوا کے جھکڑنے سر کھول کر اُس کے بال بکھرا دئیے….. سامنے سے آتے ہوئے شینی کے کھلے ہوئے دانت اُسے نظر آئے اُس نے بال سمیٹنے کی کوشش کی….. کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کھیت میں کھڑی لانبی لانبی بالیوں میں گھسیٹ لیا۔ ایک ہاتھ نے اس کا منہ دبا دیا…. اور اس کی اوڑھنی کھینچ کر دور پھینک دی۔ ایک چیخ اس کی روح میں گھٹ کر رہ گئی۔

ویر میرے…… ہائے میری اوڑھنی
دنیا پر اندھیرا اتر چکا تھا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: