معاصر اردو فکشن: ہیئت اور اسلوب کے تجربات —– محمد حمید شاہد

0
  • 78
    Shares

واقعہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے ناول نگاری کی طرف بہت توجہ رہی ہے۔ اب اسے نظر انداز کیا ہی نہیں جاسکتا، لہٰذاپہلے کچھ باتیں ناول کے باب میں۔

وہ ناول جنہیں معاصر فکشن کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے وہ تعداد میں بہت ہیں مگر میں آپ کی توجہ ان درجن ڈیڑھ درجن کتب کی طرف چاہوں گا جو کئی حوالوں سے مختلف تجربے کی صورت ہمارے سامنے آئی ہیں۔ اس باب کا پہلا ناول جناب شمس الرحمن فاروقی کا ہے ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘، یوں تو ان کا ایک اور ناول بھی آیا ’’قبض زماں‘‘، مگر جو توجہ پہلے ناول کو ملی اس دوسرے کو نہ مل پائی اور پہلے ناول کا اختصاص یہ ہے کہ ناول سے بڑھ کر یہ ایک تہذیبی مرقع ہو گیا ہے۔ فاروقی صاحب کے اس ناول میں 1811ء سے 1856ء کے زمانے کا تہذیبی منظر نامہ متن میں ڈھلتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لاتے ہیں اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی۔ ایک گزر چکے زمانے سے متعلق مواد اور زبان کو برت کر وہ اسے ایک ایسی تہذیب کا مرقع بنا دیتے ہیں جو اپنے قدموں پر ڈھیر ہو رہی ہے۔ ’’موت کی کتاب‘‘ اور ’’نعمت خانہ‘‘ خالد جاوید کے ناول ہیں۔ ’’موت کی کتاب‘‘ وہ ناول ہے جس نے ادبی حلقوں میں بہت توجہ پائی۔ ناول کی بنت نفسیاتی سطح پر کی گئی ہے، کیوں کہ اس کے کردار کو اس کے بغیر ڈھنگ سے نہ تو سمجھا جاسکتا تھا اور نہ ہی سمجھایا جاسکتا تھا۔ مسئلہ محض کردارکی نفسیاتی دبائو کی جہتیں سمجھنے سمجھانے تک محدود نہیں رہتا کہ اسے اسی دبائو اور اعصابی تنائو کے ساتھ، جس میں خود کشی کی تاہنگ بڑھ جاتی ہے، کہانی میں رواں بھی کرنا تھا، اور خالد جاوید نے اسے اپنے غیر معمولی بیانیے کے وسیلے بہت کا میابی سے رواں کرکے اپنا ناول مختلف کر لیا ہے۔ یہیں ایک اور ناول۔ جی وہ ناول، جس میں اس نوع کا تجربہ نہیں اور بیانیہ ماجرے کو صاف ستھری رواں نثر میں لے کر چلتا ہے، مگر پھر بھی مختلف ہو جاتا ہے، اس ناول کی طرف آپ کی توجہ چاہیے۔ میری مراد ناول ’’دکھیارے‘‘ سے ہے، جسے لکھنو کے رہنے والے انیس اشفاق نے لکھا ہے۔ انیس اشفاق کے دو ناول بھی ہیں’’خواب سراب‘‘اور ’’پری ناز اور پرندے‘‘ مگر ’’دُکھیارے‘‘ کی طرف دِھیان رہ رہ کر جاتا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو، کہ یہ ایسا ناول ہے ہی اس لائق۔ لکھنو کی تہذیب نظروں کے سامنے کیسے بوسیدہ ہو رہی ہے، یا کہہ لیجئے وقت کیسے پرانے لکھنو کو پچھاڑ رہا ہے، یہی اس ناول کا موضوع ہوا ہے اوراس کی اصل خوبی وہ بیانیہ ہے جس میں اس شہر کی گلیوں، محلوں، امام بارگاہوں، درباروں اور چوباروں کی زندہ تصویریں متن سے جھلک دینے لگتی ہے۔ ’’نمبردار کا نیلا‘‘ والے سید محمد اشرف کے قلم کا جادو اس بار ’’آخری سواریاں‘‘ جیسے بہت توجہ پانے والے ناول میں جاگا ہے۔ یہ ناول بھی ایک جیتی جاگتی تہذیب کے انہدام کی تصویر ہے۔ ’’ آخری سواریاں‘‘ کا اسلوب الگ ہے۔ قاری کو گرفتار کرنے والا اور ناول کی کہانی کو بھی لائق توجہ بنا دینے والا۔ اس ناول میں دوحصوں پر مشتمل ایک سے زائد کہانیاں ہیں مگر سب باہم مربوط اور معنیاتی سطح پر منسلک، یوں کہ دورِ زیاں کی ایک کہانی کا تہذیبی بیانیہ ہوگئی ہیں۔ ایک موضوع، یعنی ایک جمی جمائی تہذیب کی پسپائی اور بالآخر انہدام، ہندوستان کے ِ ان تینوں ناول نگاروں کے ہاں کسی نہ کسی صورت میں توجہ پاتا دیکھا جاسکتا ہے مگر یہ اسلوب ہی ہے، جو ہر بار ناول کو بالکل جدا گانہ متن میں ڈھالتا رہا ہے۔

اب کچھ پاکستان کے ناول نگاروں کا ذِکر۔ سب سے پہلے مستنصر حسین تارڑ، کہ اس باب میں انہوں نے بہت توجہ پائی ہے اور ’’بہائو‘‘ سے لے کر ’’راکھ‘‘، ’’قربت مرگ میں محبت‘‘، ’’اے غزال شب‘‘، ’’خش و خاشاک زمانے‘‘ اور دوسرے ناولوں کے علاوہ تازہ ترین ناول تک فرد، معاشرے اور زندگی کو ہر بار نئے رُخ سے دیکھ برت کر متوجہ کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے سفر ناموں کے علاوہ فکشن میں بھی وہ نہ صرف مقبول فکشن لکھنے والوں میں سب سے نمایاں ہیں، ان کا قلم بھی خوب رواں ہے اور یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس باب میں بہ طور خاص پہلے ’’بہائو‘‘ سے اور پھر ’’راکھ‘‘ سے سنجیدہ ادبی حلقوں کو نہ صرف متوجہ کیا ان سے خود کو منوایا بھی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ، اپنے خاص نوع کے بیانیے کو تشکیل دینے والے وسائل کے سبب دوسرے ناول نگاروں سے مختلف ہیں۔ حسن منظر نے بھی افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ ناول نگاری میں قابل قدر اضافے کیے ہیں۔ میں اُن کے جن ناولوں کا میں بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا ان کا منظر نامہ پاکستان سے باہر کا ہے، جی میری مراد ’’العاصفہ‘‘ اور ’’حبس‘‘ سے ہے تاہم یہ دونوں ناول اس خوبی سے لکھے گئے ہیں کہ اپنے اجنبی وسیب کے باوجود اپنے بیانیے کی دلکشی سے قاری کی توجہ پوری طرح پانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ تاہم اُن کے ایک ناول ’’ماں بیٹی‘‘ کا منظرنامہ ہمارے اپنے ملک کا ہے مگر ماں بیٹی کے کرداروں کا تکلیف دہ المیہ یہ ہے کہ جیسے یہ کردار اس زمین اور اس ملک کے ہو کر بھی ہمارے نہیں ہیں۔ مرزا اطہر بیگ کے ’’غلام باغ‘‘ کا ذِکر کرنا چاہوں گا۔ نئی تنقید نے جو فضا بنا رکھی ہے اس میں اپنے اس بیانیے کی وجہ سے جس میں واقعات کم اور مباحث یا مکالمات اور الجھاوے زیادہ ہیں، اس نے ایک مابعد جدید ناول کے طور پر بہت داد پائی۔ مجھے بطور خاص اس کے نام ’’غلام باغ‘‘ نے متوجہ کیا تھا۔ ’’صفر سے ایک تک‘‘ اور ’’حسن کی صورت حال‘‘ کے بھی نئی تنقید والے مداح ہیں۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ فلسفیانہ سطح پر متن کی بنت کے ذریعے وہ اپنے ہم عصروں سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ کوئی کم اہم بات نہیں ہے۔ خالدہ حسین کا الگ اسلوب ہی اُن کے افسانے کی پہچان رہا ہے۔ اپنے اکلوتے ناول ’’کاغذی گھاٹ‘‘ میں انہوں نے افسانے کی تیکنیک اور اسلوب میں کچھ تبدیلیاں کرلی ہیں۔ اس ناول کی ساری عورتیں لگ بھگ ایک سے انجام سے دوچار ہوتی ہیں گویا وہ اس رُخ سے بھی ناول میں کچھ کہنا چاہتی تھیں اور کہا بھی مگر ملک کے ٹوٹنے کا سانحہ اس ناول کی کہانی کے مرکز میں تھا۔ اس موضوع کو انہوں نے اپنے خاص تہذیبی رچائو‘ تاریخی شعور‘ ثقافتی پس منظر اوراپنے ادراک سے متشکل ہونے والے پیش منظر سے جڑ کر اُبھارا ہے اور یہی عناصر ان کے ناول کو مختلف کرتے ہیں۔ اب دو شاعروں کا تذکرہ، جو ناول کی طرف آئے اور لائق توجہ بھی ہوئے۔ جی، میری مراد ڈاکٹر وحید احمد اور اختر رضا سلیمی سے ہے۔ لطف کی بات کہ ان دونوں کے ہاں وقت تخلیقی سطح پر ان کا مسئلہ ہوا ہے بہ طور خاص ڈاکٹر وحید احمد کے ناول ’’زینو‘‘ اور اختر رضا سلیمی کے ناول ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ میں۔ اس مسئلے نے ان دونوں ناول نگاروں کو نہ صرف مختلف کیا ہے، یہ دونوں اپنے اپنے متن کی ترکیب اور ماہیت میں بھی ایک دوسرے سے الگ ہوگئے ہیں۔ مرزا حامد بیگ عمدہ نثر لکھتے ہیں؛ فکشن کے لیے موزوں ترین نثر، اورجتنا ناول ’’انارکلی‘‘ میں نے پڑھا ہے اُنہیں، اسی سلیقے کو وہاں برتتے ہوئے پایا ہے۔ مرزا صاحب افسانہ نگار کے علاوہ محقق اور ناقد بھی ہیں، چنانچہ ناول کا متن تشکیل دیتے ہوئے اُنہوں نے ان وسائل سے خوب خوب کام لیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ دستاویزی ناول، اپنی اس خوبی کے علاوہ فکشن کی خالص زبان کے سبب مختلف ہو جاتا ہے۔ یہاں خاور ایوب تشریف فرما ہیں، ان کے شہر لاہور کے ڈرامہ نگار دوست اور افسانہ نگار یونس جاوید کا ناول’’ کنجری کا پل‘‘ اپنی کہانی سے کہیں زیادہ چھوٹے چھوٹے اور چست جملوں سے متشکل ہونے والے بیانیے سے الگ مزاج بناتا ہے۔ خالد طور کے ناول ’’بالوں کا گچھا‘‘ اور طاہرہ اقبال کے ’’نیلی بار‘‘ سے، محمد الیاس، خالد فتح محمد، سعید نقوی اور زیف سید اور ادھر ہندوستان کے مشرف عالم ذوقی سے رحمان عباس تک، سب کے ناولوں کو پڑھ جائیں ہر ایک کے ہاں، کچھ خاص وسیلوں کو برت کر نثر کا مزاج بنایا جاتا ہے، نثر کا مزاج بھی اور کہانی کا بہائو اور تیکنیک بھی اور اسی سے وہ الگ ہوتے رہے ہیں۔

اس باب میں کوئی نتیجہ نکالنے سے پہلے ایک نظر معاصر افسانے پر۔ اوپندر ناتھ اشک سے مروی ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ یہ واقعہ ان کے مشہور مضمون ’’منٹو میرا دشمن‘‘ میں ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ جب وہ عصمت چغتائی اور منٹوپر معترض ہوا کرتے تھے، جوبہ قول اُن کے، اُن دنوں عریاں نگاری کو ترقی پسندی سمجھنے لگے تھے، تو کرشن چندر اپنے آپ کو ان دونوں کے ساتھ ملا کر طعنہ زن ہو جایا کرتے تھے کہ وہ یعنی اوپندر ناتھ اشک چوں کہ جنس پر لکھ نہیں سکتے اس لیے اس موضوع پر لکھنے والوں سے حسد کرتے ہیں۔ یہ سن کر اوپندر ناتھ کو بہت طیش آیا کرتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ منٹو اور اشک نے ایک موضوع پراپنا اپنا افسانہ لکھنے کی ٹھانی اور موضوع ظاہر ہے جنس تھا، کہ اسی پرتو جھگڑا چل رہا تھا۔ صرف جنس نہیں؛ نوکروں کے سامنے مالکوں کی جنسی بے اعتدالی۔ منٹو نے ’’بلائوز‘‘ لکھا اور اشک نے ’’اُبال‘‘۔ اور دونوں کسی ایک پرچے میں شائع ہوئے مگر سب نے دیکھا کہ دونوں مختلف ہو گئے تھے۔ اشک کی لکھی ہوئی نوعمر چندن کی کہانی ’’اُبال‘‘ باورچی خانے میں اُبلتے دودھ سے شروع ہوئی، نوبیاہتا مالک کی ملازم کے سامنے بیوی سے جنسی چھیڑ چھاڑسے ہوتی، شہر میںگھومتے گھماتے، ایک کوٹھے کے غلیظ پردے کے پیچھے، تیرہ سال کی اُس نازک لڑکی تک جا پہنچی تھی جس کی ابھی بہ قول نائیکہ نتھ بھی نہ اُتری تھی۔ مگر منٹو کے نفسیاتی باریکیوں کے ساتھ لکھے گئے افسانے ’’بلائوز‘‘ میں کہانی کی دھج مختلف ہو جاتی ہے۔ یوں توپندرہ سولہ سالہ مومن کی کہانی بھی باورچی خانے سے شروع ہوتی ہے مگر لگ بھگ گھر کے اندر ہی اپنا معنوی دائرہ مکمل کرتی ہے۔ یہ افسانہ صرف گھر کی چہل پہل نہیں دکھاتا، مومن کے دُکھتے بدن کے اندراور اس کی سوچ میں اتر کر بھی جنس کے وہ سارے بھید کھولتا ہے جو اس افسانے کا موضوع ہیں۔ ڈپٹی صاحب، اس کی بیوی، بلائوز سیتی شکیلہ اوراس کی چھوٹی بہن رضیہ، اس کہانی کے کردار ہیں مگرکہانی کے مرکز میں گھر کا نو عمر ملازم مومن ہی رہتا ہے۔ ایک بلائوز کے ریشمیں خیال میں ایک تکلیف دہ حرارت سے ٹھنڈی سی لہر کے مقابل ہو کرایک ہی ہلے میں جوان ہوجانے والا مومن۔

منٹو کا افسانہ ہو یا اوپندر ناتھ اشک کا؛ دونوں کا موضوع ایک ہے، کہانیوں کے مرکزی کرداروں کی عمرایک سی، ایک ہی سماجی مرتبہ، ایک سی ذہنی اور جذباتی کیفیت، جس منظر میں اور جس زمانے میں ان کرداروں کو رواں کیا گیا ہے وہ بھی ایک سے ہیں مگر اس سب کے باوجود کچھ ہے جو دونوں کو مختلف کر دیتا ہے اور اس نے ہی ان افسانوں کو مختلف کیا ہے۔ مان لیا کہ اس مختلف کرنے میں موضوع، مواد، کرداروں کا انتخاب اور ماحول یقینا کچھ نہ کچھ حصہ ڈال رہے ہوں گے مگر اصل کا م اسلوب اور تیکنیک نے دکھایا ہے۔ اسلوب جو ہر جینیوین فکشن نگار کے ہاں الگ سے شناخت کیا جاسکتا ہے اور جو کہیں اور سے نہیں اس کے زندگی کرنے کے اپنے قرینوں سے پھوٹتا ہے۔ رہی بات تیکنیک اور ٹریٹمنٹ کی، تو یوں ہے کہ یہ ایک نظر میں بہ قول مہدی جعفر میکانکی ساکا عمل دِکھتا ہے، جب کہ ایسا ہے نہیں۔ ہر تخلیق کار اپنے اسلوب کے زیر اثر اِس ٹریٹمنٹ میں بھی رد و بدل کرتا رہتا ہے۔ یہی بات اسلوب کے باب میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ اسلوب جسے انگریزی میں اسٹائل کہہ لیتے ہیں لیکن میں نے کہا نا! یہ محض اور صرف سٹائل نہیں ہے زندگی کرنے کا وہ قرینہ ہے جس میں کچھ اختیار اور بہت سی بے اختیاری شامل ہوجاتی ہے ؛ یوں یہ محض زندگی کرنے کی اداکاری یا فیشن سے نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کی شخصیت کے اندر سے پھوٹتا ہے۔ تاہم اس کے اجزاء کسی معجون میں شامل اجزاء کی طرح ہر افسانے میں ایک طے شدہ وزن میں استعمال نہیں ہوتے، کہانی کہنے کا قرینہ بدلتے ہی اسلوب کے اپنے بھید بھرے خواص میں بھی بہت لطیف سطحوں پر تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ایک ہی افسانہ نگار کے ہاں افسانوں میں اسلوب اور تیکنیک کا مختلف ہو جانا اِسی کا شاخسانہ ہے۔

مجوزہ موضوع کے مقابل ہونے سے پہلے میں نے اپنے تئیں سوچا کہ میں وہی حیلہ کروں جو منٹو اور اشک نے کیا تھا یعنی ایک موضوع کا چنائو جس کے تحت یہ دیکھا جائے کہ انہیں اسلوب اور تیکنیک ایک مختلف تجربہ ہو کر کیسے ظاہر ہوتے ہیں۔ اپنی سہولت کے لیے جو موضوع میں نے چنا وہ ہے ’’دہشت‘‘: جی وہ دہشت جس نے ہمارا اپنا چہرہ بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ دیکھئے یہ موضوع چنتے ہی زمانے کا تعین بھی ہو گیا ہے یعنی مجھے ہم عصر افسانے پر بات کرنا ہوگی۔ اپنے آپ کو ایک موضوع کے اندر قید کرنے کا طے کرکے بھی مجھے یوں لگا کہ اس موضوع سے انصاف ممکن نہ ہوگا، اس موضوع کو، ہو نہ ہو، چار پانچ درجن افسانہ نگاروں نے برت رکھا ہے اور سب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے رہے ہیں۔ اس نشست میں ان سب پر بات مشکل ہو جائے گی لہٰذا میں نے ایک اور دائرہ کھینچا اور اس میں محض کراچی کے دس افسانہ نگاروں کو الگ کرلیا۔ وہ جنہوں نے شناخت بنالی ہے اور وہ بھی جو ابھی اس جانب سفر میں ہیں۔

لیجئے صاحب، شہر کراچی کے پہلے افسانہ نگار اسد محمد خاں؛ جن سے میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک انتخاب میں شامل کرنے کے لیے افسانہ مانگا تو، پہلے تو وہ کہنے لگے کہ وہ اس موضوع، یعنی دہشت پروہ کچھ لکھ ہی نہیں پائے ہیں مگر پھر ایک افسانہ بھیج دِیا۔ یہ افسانہ ہمارے اُس منظر نامے کا نہ تھا جس میں سے دہشت ٹپک رہی ہے مگر اِسے پڑھتے ہوئے جونہی میں اُن سطروں پر پہنچا جہاں ایک پیڈیسٹل پرسنگ مر مر سے بنا ایک گنجے انگریز کا شانوں تک کا بت رکھا ہوا تھا۔ ایسا بت جو اپنی بے نور آنکھوں سے، بہت بھنا کر، مستقل ناک کی سیدھ میں دِیکھ رہا ہے، تو دہشت میرے بدن میں اُترنے لگی تھی۔ جس افسانے کا میں ذِکر کر رہا ہوں، اس کا نام ہے ’’بوب کا چائے خانہ۔‘‘۔ اسد محمد خاں نے اس افسانے کی تیکنیک یہ رکھی کہ اپنے موضوع کو برتنے کے لیے اپنے آپ کو دہشت والے منظرنامے سے الگ کر لیا اور ہمیں بھی الگ کرکے وہ بوب کے چائے خانے میں لے گئے۔ اور جب ہم وہاں پہنچ گئے جہاں دہشت تھی ہی نہیں توپھر اچانک ہمیں اس دہشت کے مقابل کر دیا جو ناک کی سیدھ میں چلتی آئی اور ہماری بدنوں میں گھس گئی۔

زاہدہ حنانے کہانی کہنے کاجو قرینہ چنا ہے اُس میں بھی وہ ہمیں یہاں سے باہر لے جاتی ہیں مگر وہاں جہاں دہشت کی آگ ہر کہیں برس رہی ہے جی افغانستان میں۔ میں ان کے جس افسانے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ان کا بہت معروف افسانہ ہے: ’’کم کم بہت آرام میں ہے‘‘۔ اسے انہوں نے بہت سہار اور سنبھال کر لکھا ہے۔ وہ کہانی جو دادی نے کم کم کو سنائی تھی یا جو اب کم کم ایک خط کی صورت میں دادی کو سنانے جارہی تھی، اس میں ایک زمانہ ہے اور اس زمانے میں آدمی کی بدلی ہوئی حسیات بھی ہیں۔ زاہدہ حنا کا کمال یہ ہے کہ وہ محض ماجرا کہہ کر الگ نہیں ہو جاتیں، ماجرے کے اندر اترنے کے لیے کھڑکیا ں کھولتی چلی جاتی ہیں۔ سیاسی سماجی کھڑکیاں، تاریخ اور تہذیب کی کھڑکیاں، انسانی نفسیات کی کھڑکیاں۔ کئی برس پہلے لکھی گئی رحمت کابلی والا کی کہانی سے جڑی ہوئی کم کم کی کہانی میں، ماضی اور حال کے بیچ اس آر جار نے متن کو معنویت سے بھر دیا ہے۔ اس افسانے میں رحمت بابا کی کابل میں رہنے والی وہ بیٹی ہے جس کے ہاتھ کا چھاپہ اس کا باپ سینے سے لگائے پھرتا ہے اور ایسا منظر بھی کہ اسی کابل پر امریکی جہازوں سے بم گرا رہے ہیں۔ اس افسانے میں وہ زمانہ بھی ہے کہ جب چنگیز خان نے اپنے پوتے کے انتقام میں یہاں کا ایک جاندار زندہ نہ چھوڑا تھا اور بدلا ہوا نیا زمانہ بھی ہے کہ طالبان اپنا غصہ پتھر کی مورتیوں پر نکالتے ہیں۔ سو اس کہانی میں امریکہ کا وار تھیٹر ہے۔ چنگیز خان کا لشکر بامیان کا زن بچہ کو لہو میں پلوا کر آگے نکل گیا تھا لیکن آج کا چنگیز کہیں نہیں جاتا قوموں کی گردن میں ڈریکولا کی طرح اپنے دانت گاڑے ہوئے ہے، ہارے ہوئے قبیلے کی آنکھیں ہوں یا ڈریکولا کے دانت انہی سے دہشت اُبل اُبل پڑتی ہے۔ تو یہ ہے وہ تیکنیک، جس میں آپ موضوع سے الگ نہیں ہوتے اس سے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جڑے رہتے ہیں، نئے پرانے متون کے اندر ایک ربط پیدا ہوتا ہے۔ زاہدہ نے یہ تجربہ اپنے اسلوب کے اندر رہ کر کیا کوئی اور ایسا کرنا چاہے اور انہی وسائل کو استعمال کرکے اسی اسلوب کا افسانہ لکھنا چاہے تو شاید نہ لکھ پائے گا۔

نجم الحسن رضوی کا افسانہ، ’’بوری میں بند آدمی‘‘ کا پہلا جملہ ہے ’’انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر اب بوری میں بند ہے۔‘‘ اور یہ بات اُس مردے سے کہلوائی گئی ہے جو اُس شہر میں سب سے زیادہ بولتا ہے جو دہشت کی اس فضا میں شہرِ خموشاں ہو گیا ہے۔ اس افسانے میں موضوع ہونے والی دہشت صرف نائن الیون کے بعد یا براہ راست نائن الیون سے جڑی ہوئی دہشت نہیں ہے، اس میںوہ دہشت بھی ایزاد ہو گئی ہے جوجنگ کے اس سارے زمانے میں آمریت یاگود لی گئی جمہوریت کے نرغے میں رہنے والے بے بس عوام کو’ عطا‘ ہوئی ہے۔ یاد رہے جمہوریت کو گود لینے والے وہی ہیں جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت کو نئے زمانے کادستوربنانے والے جارح کے سہولت کارہیں۔ ایک لفظ ’’انارکی ‘‘ کبھی کتابوں میں پڑھا تھا مگر اس کا عملی مظاہر ہ اب ہم دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں سیاسی سماجی زندگی تباہی سے دوچار ہے، ادارے اتنے کمزورہیں کہ کچھ بھی سنبھال نہ پارہے تھے۔ نجم الحسن رضوی کا افسانہ کراچی شہر کی اسی انارکی کی تصویر دِکھا رہا ہے جب اس شہر میں بوری بند لاشوں کا کلچر ایسے ہی سہولت کاروں کی وجہ سے اپنے عروج کو پہنچا تھا اور روز اتنی لاشیں بوریوں میں بند ملنے لگی تھیں کہ موت کے دُکھ کا احساس ہی ختم ہوگیاتھا۔ نجم الحسن رضوی کا یہ افسانہ سماجی حقیقت نگاری کا نمونہ ہوکر بھی روایتی ماجرا نگاری سے کنی کاٹ کراپنی راہ تراشتا ہے۔
بد قسمتی سے دہشت اور کراچی کے درمیان ایسا رشتہ قائم ہوا ہے کہ ٹوٹنے میں نہیں آتا۔ کبھی یہ روشنیوں کا شہر تھا، اب لگتا ہے دہشت کا شہر ہے۔ اسٹریٹ کرائم سے لے کرقبضہ گیروں کی ہنگامہ آرائی اور فسادیوں کی سیاسی پشت پناہی تک، پولیس مقابلے، بھتہ خوری اور نہ جانے کیا کچھ۔ پہلے بوریوں میں بند لاشیں ملتی رہیں، اب لوگ غائب کر دیے جاتے ہیں۔ امن و امان کے نام پر متعدد اقدامات کیے گئے مگر اس میں بھی یوں ہوتا ہے کہ کسی گلی میں کسی کی بھی لاش اوندھے منھ پڑے مل سکتی ہے۔ اسی انارکی کے زمانے میں آصف فرخی نے کراچی کے گلی کوچوں میں بائولے کتوں کی طرح کاٹ کھانے کو دوڑتی دہشت پر اتنے افسانے لکھے کہ دو کتابیں مرتب ہو گئیں؛ ’’شہر بیتی‘‘ اور ’’شہر ماجرا‘‘۔ آپ ان کہانیوں کو پڑھیں گے تو محسوس ہوگا کہ خبریت کا عنصر، شدید خوف، اور زندگی کی ناپائیداری کا احساس ہر افسانے میں اپنی مقدار کا تناسب کمی بیشی کے ساتھ آتا ہے اورہر کہانی کے مزاج کو بدل دیتا ہے۔ آصف فرخی ہی کا ایک افسانہ ہے؛’’خواجہ اجمیر نگری‘‘۔ یہ افسانہ ایک مجبور ماں کی گود میں موجود ایک مرگھلے کی بچے کی کہانی ہے۔ بچہ بعد میں اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہمحلّے کے پی سی او سے فون کرکے بتاسکتا ہے کہ’’ڈاکٹر صاحبہ، امّی نے کہلوایا ہے کلینک مت کیجیے، رات بھر فائرنگ ہوئی ہے۔ ‘‘ اب اُس کی آواز گونج دار ہو گئی ہے۔ اسی گونج دار آواز والے ندیم کی لاش ایک روزوہاں اوندھے منھ پڑے ملتی ہے جہاں رینجرز راستہ روکے کھڑے تھے تو دُکھ پڑھنے والوں کے کلیجے چیر کر رکھ دیتا ہے۔ آصف فرخی کے اس افسانے میں برتا گیا طریقہ کار ان کے افسانے ’’پاڈا‘‘ یا ’’سمندر کی چوری‘‘ سے مختلف ہو گیا ہے۔
کراچی ہی کے ایک افسانہ نگارہیں، ان کاذکر بہت کم کم ہوتا ہے مگر مجھے ان کا افسانہ’’ خالی ہاتھ‘‘ نہیں بھولتا۔ جی، میں اے خیام کی بات کر رہا ہوں۔ بظاہر سماجی حقیقت نگاری کا نمونہ ایک افسانہ، مگر نفسیاتی سطح پر اسے یوں کامیابی بُناگیا ہے کہ انسانی وجود کے باطن کی ایک ایک لرزش متن کا حصہ ہو جاتی ہے۔ بالائی سطح پر یہ محض ایک ڈاکے کا ماجرا ہے، ایسا ڈاکہ جس میں ڈاکو خالی ہاتھ لوٹ گئے تھے مگر درحقیقت گھر میں لٹنے کو بچا ہی کچھ نہ تھا جس کی حفاظت کے لیے دروازے کی چٹخنی چڑھا کر رکھی جاتی۔ ذرا غور کرنے پر آپ محسوس کریں گے کہ یہ ان بوڑھے ماں باپ کی بھی کہانی ہے جو بے اتنے بے بس ہیں کہ سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی ایک بار پھر لٹنے سے خوف زدہ ہیں۔ اس افسانے کی ایک اور جہت بھی ہے، جی اُس لڑکی کی نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ، جس کی زندگی میں مرد اور جنس دوڈاکوئوں کی صورت داخل ہو تے ہیں۔ اپنی بڑھتی ہوئی عمر سے اُکتائی ہوئی پکی عمر کو پہنچنے والی لڑکی جو ماں کا چٹخنی کی طرف اُٹھا ہاتھ جھٹک کر کہتی ہے، سارا شہر مر گیا وہ دو غنڈے بھی مر گئے جو یہاں آئے تھے۔ ایک صاف ستھرے بیانیہ والی کہانی میں یوں ایک سے زائد طرفیں رکھ لینا کوئی کم اہم تخلیقی تجربہ نہیں ہے۔

اخلاق احمد کا ایک افسانہ ہے؛ ’’قتل گاہ میں ایک دوپہر‘‘: یہ اسی بھرے پرے اور مصروف شہر کراچی کا افسانہ ہے۔ اس شہر میںسینکڑوں لوگ اردگرد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ کام پر جانے والے، کام سے واپس آنے والے لوگ، تھکے ہوئے لوگ، زندگی سے صبح و شام لڑتے لوگ، ناتمام خوابوں کو سینوں میں دبائے لوگ، کامیابی کے آرزو مند مگر ناکامی کی دہلیز پر کھڑے لوگ۔ وہ ادھر دیکھتے ہی نہیں کہ ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اپنا سرمئی شاپنگ بیگ تھامے وہاں کھڑا ہوتا ہے۔ ہر نئی بس کے قریب آنے پر دو قدم آگے بڑھ کر اس کا نمبر دیکھنے اور پھر مایوس ہو کر دو قدم پیچھے ہوجانے والا شخص۔ افسانے میں بتا دیا گیا ہے کہ کراچی میں یہ توقع رکھنا ہی بے کار ہے کہ کوئی آپ کو غور سے دیکھے گا، آپ کے دِل میں چھپے اِضطراب کا سبب پوچھے گا، رُک کر آپ سے کہے گا کہ آپ کو کسی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے۔ یہ تو مارا ماری کا شہر ہے۔ بھاگتا دوڑتا شہر۔ اپنی اپنی ضرورتوں کے گھوڑے پر سوار لوگوں کا شہر۔ مگر اس مارا ماری کے شہر میں اچانک ایک نوجوان ادھیڑ عمر آدمی کو لے کر ایک طرف نکل کھڑا ہوتا ہے۔ اسی راہ پر ایک باپ کی آغوش میں مہینوں بعد اس کا جوان بیٹا پہنچتا ہے توذرا سی دیر کے لیے سب کچھ غائب ہو جاتا، وہ ہوٹل جہاں باپ بیٹے کی ملاقات ہوئی، وہ علاقہ، وہ شہر۔ جی وہی شہر جس میں دہشت بولائے ہوئے کتے کی طرح گلیوں میں گھوم رہی ہے۔ جس پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے بارہ مقدمے چل رہے ہوں، وہ کسی ماں یا باپ کا بیٹا رہتا ہے نہ کسی معصوم لڑکی کا بھائی کہ وہ تو مجرم ہو جاتاہے۔ یہ مقدمے جھوٹے ہوں یا سچے، آخر کا ر یہی دہشت گرد بناتے ہیں۔ یہ تھانے، جیل، رشوت، ضمانت، رہائی یا مقدمہ چلائے بغیر مار دیا جانا سب اسی کھیل کا شاخسانہ ہے۔ افسانہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ’کسی بھی انسان کو بلاسبب ہلاک کرنا دہشت گردی ہے۔ ‘‘ تو ادارے اور طاقتیں جویہ ظلم ڈھاتی ہیں وہ دہشت گرد کیوں نہیں ہیں؟یہ جسے چاہیں دہشت گرد بنادیں، جسے چاہیں مجاہد، آخر کیوں؟ اخلاق احمد کاایک صورت حال کو سہج سہج بیانیہ میں ڈھالتا یہ افسانہ دوپہر سے شروع ہوتا ہے مگر مکمل ہونے سے پہلے ہی اس میں رات ہو جاتی ہے۔ کتنی جرات اور کتنے سلیقے سے اخلاق احمد کا افسانہ دہشت کے اندر سے اس سچ کو بیان کرتا ہے جو ناقابل بیان ہو گیا ہے۔

افسانہ نگارمبین مرزا کا بھی اس شہر کا تجربہ مختلف نہیں ہے مگر اپنے افسانے ’’دامِ وحشت‘‘ میں وہ ایک نئی راہ لیتے ہیں۔ اس افسانے کا آغاز ایک ایسی آواز سے ہوتا ہے جو منظر سے کٹی ہوئی ہے۔ منظر میں عورتیں ہیں، جوان، خوب صورت اور دلکش۔ نئے پرانے فیشن کے جھلملاتے ملبوسات میں سے اپنے جسمانی خطوط کچھ زیادہ نمایاں کرکے توجہ کی طالب عورتیں۔ لیکن آواز مردانہ ہے۔ اونچی نیچی لہروں پر سفر کرتی ہوئی بھاری مردانہ آواز۔ اور واقعہ یہ ہے کہ وہاں عورتیں تھی ہی نہیں۔ یہ سب تو ایک نمازی کے لذیذ خیالوں کی چہل پہل میں تھیں۔ نمازی لاحول ولا قوۃ پڑھتا اور سرجھٹکتا ہے مگراس کا تخیل، اپنے لذت مانگتے وجود کے لیے مسجد میں بھی لذیذنظارہ فراہم کر دیتا ہے۔ مسجد میں ایک مشکوک شخص کے داخل ہوتے ہی کہانی کا مزاج بدل جاتا ہے۔ کہانی کا مزاج بھی اور کہانی کا موضوع بھی۔ اب وہاں جہاں عورتیں تھیں وہاں ایک دہشت گرد ہے۔ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے کرنے والا، خود کش حملوں میں انسانی اجسام کے چیتھڑے اُڑا دینے والا۔ کہانی لکھنے کے لیے افسانہ نگار نے ایسے راوی کو چنا ہے جو انسانی وجود کے اندر اور باہر دونوں سمتوں سے دیکھ سکتا ہے اور اسی نے دو الگ الگ پڑی کہانی کے پارچے باہم جوڑ دیے ہیں۔ پہلی کہانی میں جنسی لذت کے چٹخارے لیتا نمازی، اس جنسی قضیے کو نپٹائے بغیر کہانی جست لگا کر ایک اور موضوع کی طرف لپکتی ہے۔ اوریہ موضوع ہے دہشت۔ یوں تو جنس زدہ ہر دم بدنی دہشت اور وحشت کا گرفتاررہتا ہے مگر یہاں افسانہ اس دہشت کی جانب رُخ کرتا جس میں جسم کے چیتھڑے اڑجایا کرتے ہیں۔

رفاقت حیات زندگی کے بہاؤ کے قریب تر ہو کر کہانی لکھتے ہیں پورے منظر کو گرفت میں لیتے ہوئے۔ واقعے کی جزیات کو کام میں لانے کا ہنر بھی انہیں آتا ہے۔ سو ایسے میں کہانی کا طویل ہوجانا یقینی ہو جاتا ہے۔ ان کے جس افسانے کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں ’’سزائے تماشائے شہرِ طلسم‘‘، وہ بھی اسی سبب قدرے طویل ہوگیاہے۔ رفاقت حیات کے اس افسانے میں دہشت گردی کا جوزمانہ پوری تفصیلات اور قباحتوں کے ساتھ تصویر ہوتا ہے، اُس میں ایک تلخی کے ساتھ عام آدمی کی مشکلات نشان زد ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنی جزیات سے گندھے پھیلاؤ والے بیانیے میں پہلے دہشت سے منسوب تجسس کو داخل کیا اور پھر چپکے سے اس منظر کے مقابل کردیا جس میں ڈنڈے برساتے، چیختے غراتے، گولیاں برساتے نوجوان تھے، اور دہشت بھی۔ کرفیو لگی سنسان گلیوں کا منظر بھی اس کہانی کا حصہ ہے۔ انہی گلیوں کے سناٹے میں ایک دہشت زدہ بچہ بھاگتے ہوئے پکڑا جاتا ہے اور پھرجب اسے بھاگ جانے کا حکم ہوتا ہے تووہ اپنے اعصاب توڑ بیٹھتا ہے۔ کہانی کو اس طرح پھیلا کر مگر ہر واقعے کے پارچے کے ریشوں میں اتر کر لکھنا بجائے خود بہت اہم اور الگ سا ہو جاتا ہے۔

یہیں میرا دھیان ڈاکٹر شیر شاہ سید کے ایک افسانے کی طرف جارہا ہے مگر پہلے نوجوان افسانہ نگار اقبال خورشید کے افسانے ’’قبل از تاریخ کی ایک رات‘‘پر ایک آدھ بات: میں نے اقبال خورشید کا ناول ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ بھی پڑھا ہے جسے ابھی چھپنا ہے جو اس موضوع پر ان کاایساتخلیقی تجربہ ہے جس پر الگ سے بات ہونی چاہیے مگر چوں کہ میں نے بات کو پھیلنے سے روکنا ہے لہٰذا ان کے اسی افسانے پر بات ہوگی۔ کاش اس نشست میں ناولوں پر بھی بات کر پاتاتو میں سید کاشف رضا کے ناول ’’چاردرویش اور ایک کچھوا‘‘ پرضرور بات کرتا جس میں مرد اور عورت کے تعلق سے پھوٹ پڑنے والی جنس کی لذیذ دہشت موضوع ہوئی ہے مگرعین آغاز میں سانحہ کارساز میں انسانی وجود وں کو چیتھڑے بناتی دہشت لیاقت باغ کے سانحے سے پھوٹ کرناول کا حصہ ہو گئی ہے۔ کاشف نے کہانی کے راوی اور روای کرداروں کو کہانی کے اندر اور باہر رکھ کر ہر جہت سے بیانیہ تشکیل دینے کا جو تجربہ کیا ہے وہ بھی لائق توجہ ہے۔ خیر، بات افسانے تک محدود رکھنی ہے اور یہاں یہ بتانا ہے کہ اقبال خورشیدنے اپنے مذکورہ افسانے میں چھوٹے چھوٹے جملوںسے ایک صوتی آہنگ کا اہتمام کرکے اپنا بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ بے جا تفصیلات کو پرے دھکیلتے ہوئے مگر ہر ضروری جزو کو عبارت کا حصہ بناتے ہوئے۔ اپنے افسانے ’’قبل از تاریخ کی ایک رات‘‘ میں وہ ایک ایسی رات کا ذکر کر رہے ہیں، جس کا جنم نائن الیون کے بعدکا ہے مگر افسانہ ایک انوکھی بات کہتا ہے، کہ یہ قبل از تاریخ کی ایک رات کا ذکر ہے۔ اقبال خورشید نے دہشت کے زمانے کا منظر نامہ ایک اسٹوڈیو کے اندر سے دِکھایا ہے مگر کچھ یوں جیسے بے حسی کے دیوتا کی تاج پوشی ہورہی ہو اور تقریب کا مہمان خصوصی امن کا دیوتازندوں سے اُوب چکا ہو۔ دیکھیے یہ محض ماجرا نگاری نہیں ہے۔  اور ڈاکٹر شیر شاہ سیّد کے جس افسانے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ ہے ’’جذبہء شہادت‘‘۔ جی، یہ وہی جذبہ ہے جس کے متبرک مفہوم کو دہشت کے اس موسم نے گدلا کر رکھ دیا ہے۔ اس افسانے کا پہلا جملہ پڑھتے ہی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ آپ بھی یہ جملہ پڑھ لیں ’’میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔‘‘ یہیں وہ فلم یاد آتی ہے جس میں ایک افغان طالب تیز دھارچاقو سے منٹوں میں زندہ انسان کی کھال کچھ اس طرح سے کھینچ لیتا ہے جیسے قصاب بکرے کی کھال کھینچتا ہے۔ پھر اس افسانے میں بارودی جیکٹ پہنے ایک خود کش داخل ہوتا ہے اور ایک ایسے خداترس ڈاکٹر کی گاڑی میں گھس جاتا ہے، جو زندگی سے محبت کرتا ہے۔ سو زندگی اور موت کے درمیان مکالمہ جاری ہے اوراسی میں کہانی مکمل ہو تی ہے۔ اس دوران، وہ شخص جس نے کھال کھینچنے والا جملہ کہا تھا، قاری کی طرف کچھ معلومات اچھالتا ہے کہ کیسے جب امریکی روس کے خلاف جنگ میں، اُن کے ساتھی تھے تواس نے تب امریکیوں سے سیکھاتھا کہ آٹھ منٹ میں انسان کی کھال کیسے کھینچی جاسکتی ہے۔ ایک امریکی نے انہیں اس کی تربیت فراہم کی تھی۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا۔ وہ روسی سپاہیوں، افغانستان میں موجود روسی شہریوں یا ان کے جاسوسوں کو اغوا کرکے انہیں لٹکا کر کھال کھینچ لیتے تھے اور بغیر کھال کے زندہ آدمی یا اس کی لاش کو کابل کی سڑکوں پر پھینک دیتے تھے۔ تب یہی طریقہ کار تھا دشمنوں میں دہشت پھیلانے کا۔ اب وہ امریکی پٹھووٗں کے ساتھ بھی یہی کرنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر بچ نکلا تھااور دہشت گرد مایوسی سے کسی اور طرف نکل گیا مگر کہانی اپنے قاری پر دہشت گردی کے اسباب کھول کررکھ دیتی ہے۔ دہشت کی اس کہانی میں مکالمہ ہے، بدلتا ہوا منظر ہے، جنگ کی تاریخ کی ایک جھلک ہے، انسان کیسے سفاک ہو جاتا ہے، اس کی نفسیاتی سطح پر تفہیم ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس موضوع پر دوسرے شہروں کے لکھنے والوں نے بھی لکھا ہے اور خوب لکھا ہے خالد ہ حسین کا وہ مجموعہ، جسے میں نے پچھلے دنوں ’’جینے کی پابندی‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا اس میں اس موضوع پر بہت عمدہ افسانے موجود ہیں، مجھے تو انتظار حسین کی کہانی ’’آخری سوال آخری جواب‘‘ بھی اسی قضیے کی الگ نہج سجھاتا ہے۔ مسعود مفتی کا ’’ثواب‘‘، منشایاد کا ’’ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ، دیوان محمد اقبال ’’وہ جو مایا تھی‘‘ اور نیلوفر اقبال کے افسانے ’’سرخ دھبے‘‘ سے لے کر ناصر عباس نیر کے افسانے ’’ستر سال اور غار‘‘ اور ژولیاں کے ’’مینگل‘‘ تک کوئی سینتالیس افسانوں کو میں نے توجہ سے پڑھا ہے: جی ہاں، ایک موضوع اور ایک قضیے پر سینتالیس افسانے، جو ایک ہی زمانے میں لکھے گئے ہیں مگر اپنے اپنے تخلیقی تجربے کے سبب الگ ہو گئے ہیں۔ نمونے کے وہ دس افسانے، جو کراچی کے لکھنے والوں کے ہیںانہیں آنک کر دیکھ لیں، ہئیت یہاں کوئی کسا کسایا شکنجہ نہیں رہتی، اس میں ایک لچک پیدا ہوتی ہے۔ بلاشبہ شاعری ہو یا فکشن دونوں کا معاملہ زبان سے ہوتا ہے مگردونوں کی ماہیت الگ ہے۔ جس طرح شاعری لفظوں کو برتنے اور ایک آہنگ قائم کر لینے سے عبارت ہے، فکشن میں اس سے کام نہیں چلتا یہاں ایک بیانیہ متشکل ہوتا ہے جو زمان اور مکان سے اتھلی سطح پر نہیں بہت گہرائی میں تعلق پیدا کرتا ہے۔ وہ جو فاروقی صاحب کہا کرتے تھے کہ فکشن میں خرابی یہ ہے کہ یہ زماں و مکاں سے کٹ کر نہیں لکھا جاسکتا تو واقعہ یہ ہے کہ یہی اس کی خوبی اور اختصاص بھی ہے۔ بس یوں ہے کہ اس باب میں اپنا اپنا قرینہ چاہیے جو ہر تخلیق کار کے ہاں اس کے اسلوب اورکہانی کہنے کے طریق کار یا تیکنیک سے ظہور کرتا ہے اور ایساان افسانوں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

اور آخر میں، ہم عصر افسانے کی مجموعی پیش رفت او صورت حال اور توفیقات کو سامنے رکھ کر میں جن نتائج پر پہنچا ہوں وہ عرض کرکے رخصت چاہوں گا:

  1. ہم عصر افسانے میں ماجرے کو افسانے میں برتنے کا جو طریقہ کار ملتا ہے اس میں تنوع ہے۔ یہ سب افسانے، ماقبل افسانہ نگاروں کے اس ایقان یا فارمولے کو رد کرکے لکھے گئے ہیں کہ جب تک وقوعہ پرانا نہیں ہو جاتا اسے فکشن نہیں بنایا جاسکتا۔ آج کا افسانہ رواں منظر نامے سے اپنا مواد اخذ کرتا ہے اور پوری طرح عصری حسیت کی تظہیر ہوجاتا ہے۔
  2. عصریت کے اس غلبے کے باوجود، فکشن بن جانے کے لیے محض زمانی بُعد کو وسیلہ نہ کرنے والے ان افسانوں کی اپنی الگ سے جمالیات مرتب ہوتی ہیں۔ اس تخلیقی جمالیات کی تظہیر محض زبان کی سطح پر نہیں ہوتی، زمان و مکان کو مختلف سطحوں سے برتنے اور ماقبل زمانوں کے رواں منظر نامے میں تحلیل و انجذاب سے بھی ہوتی ہے۔ یہ عمل یوسا کے لفظوں میں ’’کیفی اور زمانی زقندیں‘‘ ہیں اور ہمارے افسانہ نگاروں نے اسے کہانی کے باطن کو گدازبنانے اور معنوی گہری عطا کرنے کے علاوہ واقعہ یا خبر کی ماہیت بدلنے کے لیے برتا ہے۔ جس خوبی اور تخلیقیت سے اس قرینے کو برتا گیا ہے، اس میں رواں زندگی کا جانا پہچانا یا عمومی سچ، عام نہیں رہتا زندگی کی کسی نہ کسی جہت سے تعبیر ہو جاتا ہے۔ جی، ایسی تعبیر جس میں کئی زمانوں کی معنویت اور حسیات بہم ہو تی ہیں اور جس سے اپنے زمانے سے مخصوص تخلیقی جمالیات کا اہتمام بھی ہو جاتاہے۔
  3. ایک ہی زمانے اور ایک ہی مکان اور سپیس سے تعلق کے باوجود، ہر تخلیق کار اپنے خالص اسلوب کے اندر رہ کر افسانہ لکھنے، اور اپنے طریقہ کار کو وضع کرنے کی تاہنگ کو محترم کر لینے کے سبب الگ ہو گیا ہے۔ یہ تخلیقی حکمت عملی، گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کے اُن تخلیق کاروں سے بہت مختلف ہے جوعلامت اور تجرید کا فیشن اپنانے کی جستجو میں لگ بھگ ایک سا متن ڈھالنے لگے تھے۔ یہاں ہر افسانہ نگار اپنا الگ سے اسلوب بناتا اور کہانی کہنے کے اپنے ڈھب سے نئی معنویت سجھاتا نظر آتا ہے۔

اور آخری بات یہ ہے کہ آج کے افسانہ نگارنے اپنے تخلیقی تجربے کو یوں بھی مختلف کرلیا ہے کہ اس نے اپنے حسوں کو معطل نہیں ہونے دیا، جو دیکھاہے بلکہ جھیلا ہے، اس کے تخلیقی امکانات کو ساتھ ساتھ پرکھا بھی ہے۔ ہمارا ہم عصر افسانہ، کسی تحریک کے ردعمل کے تحت یا کسی نئی تحریک کے زیر اثر لکھا جانے والا افسانہ نہیں، سماجی سیاسی صورت حال کی دین ہے مگر یوں ہے کہ ہر تخلیق کار کے ہاں یہ انفرادی تخلیقی تجربے سے پھوٹا ہے۔ یہیں دھیان باغ و بہار کے اس چراغ کی جانب ہو رہا ہے جو باد تند اور آندھی میں بھی جلتا تھا اور صبح کے تارے کی مانند دور سے نظر آتا تھا۔ تب وہ چراغ حکمت سے خالی نہ تھا۔ نئے زمانے کی آندھی میں روشنی دینے والا گلوب بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ یہ وہ چراغ نہیں جو بوسیدہ ماضی کے طلسم، رواں وقت سے کٹ کر بیٹھے ولی یا کسی چراغ کے ادھر ادھر چھڑکی ہوئی روایتی گندھک اور مذہبی پھٹکڑی کے وسیلے سے جلتا ہو کہ یہ تو برقی رو کے تسلسل سے روشن ہونے والاگلوب ہے۔ وہ جو ایک مصری کہاوت ہے’’من دَق الباب سمع الجواب‘‘ یعنی جو دروازے پر دستک دیتا ہے، اسے جواب بھی سننے کو ملتا ہے، تو یوں ہے کہ نیا افسانہ رواں عصر کے دروازے پر دستک ہے اور اسی وسیلے سے یہ پہلوں سے مختلف اور اور اپنے عصر سے کہیں زیادہ ریلے وینٹ بھی ہے۔
(آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس ۲۰۱۸ء میں پڑھا گیا)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: