اشرف شاد: اردو کا سیاسی، سماجی ناول نگار ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 22
    Shares

اشرف شاد پاکستان کے سینئر صحافی اور اردو کے منفرد سیاسی اور سماجی ناول نگار ہیں۔ سیاسی ہفت روزہ ’الفتح‘ کے ایڈیٹر اشرف شاد کو ضیاالحق کے دورِ ضیاع میں آسٹریلیا ہجرت کرنا پڑی۔ وہ تین دہائیوں سے بیرون ملک ہی مقیم ہیں۔ لیکن اردو ادب کے حوالے سے ان کا ملک سے رابطہ برقرار ہے۔ اشرف شاد نے نوے کی دہائی میں ناول نگاری کا آغاز کیا۔ ان کے پانچ ناول شائع ہو چکے ہیں۔ انیس سو ستانوے میں ان کا پہلا ناول ’جلا وطن‘ شائع ہوا۔ جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر مبنی ایک سماجی ناول تھا۔ جس میں کسی حد تک آپ بیتی کا بھی گمان ہوتا ہے۔ انیس سو ننانوے میں ان کا پہلا سیاسی ناول ’وزیر اعظم‘ شائع ہوا۔ جو نوے کی دہائی میں پاکستانی سیاست اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے تناظر میں انتہائی دلچسپ ناول ہے۔ دو ہزار چار میں اشرف شاد کا تیسرا اور دوسرا سیاسی ناول ’صدر محترم‘ اور دو ہزار سترہ میں ’جج صاحب‘ شائع ہوا۔ ان ناولوں کے ذریعے مصنف نے پاکستانی سیاست کی نیر نگیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں اور ٹانگ کھینچنے کا عمل بخوبی ان ناولوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اشرف شاد کے ناولوں کی ایک اہم بات تمام ناولوں کے کچھ مشترکہ کردار اور ان کے حوالے سے ان کا ایک دوسرے سے تسلسل قائم ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ناول کے مکمل ہونے کے باوجود قاری کو دیگر ناول بھی پڑھنا پڑتے ہیں اور ان سے دلچسپی قائم رہتی ہے۔

اشرف شاد کی کردار نگاری بے مثال ہے۔ انہیں جزئیات نگاری میں بھی مہارت حاصل ہے۔ جلاوطن سے لیکر جج صاحب تمام ناولز میں ایک ایک کردار کو بھرپور اندازمیں ڈیولپ کیا گیا ہے۔ ہر کردار کی شخصیت اور مزاج پوری طرح عیاں کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کردار اگلے ناولوں میں بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ اس طرح یہ تمام ناولز ایک دوسرے سے مربوط اور قاری کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم میں نوے کی دہائی میں ملکی سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جس میں قاری ہر کردار کے آئینے میں چھپے حقیقی سیاست دان کوبخوبی پہچان سکتاہے۔ یہی صورتحال ’صدر محترم‘ اور ’جج صاحب‘ کی بھی ہے۔ اردو میں اس نوعیت کا ایک ہی ناول مشہور صحافی، کالم نگار اور دانشور محمود شام نے ’شب بخیر‘ کے نام سے لکھا ہے۔ جس میں پاکستان کے معروف اور سرگرم سیاستدانوں کو ہر قاری بخوبی دیکھ اور پہچان سکتا ہے جبکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ عبد اللہ حسین کے ’اداس نسلیں‘ اور ’نادار لوگ‘ اور شوکت صدیقی کے ’خدا کی بستی‘ اور ’جانگلوس‘ سمیت بہت سے ناولوں میں موجود ہے۔

اشرف شاد کی شاعری کے تین مجموعے ’نصاب‘، ’آمرے قریب‘ اور ’اخبارِ عشق‘ بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ایک افسانوی مجموعہ ’پیلی لکیر‘ اور سیاست دانوں سے انٹرویوز پر مبنی ’سیاستیں کیا کیا‘ کے علاوہ ’احمد فراز بقلم خود‘ بھی اشاعت پذیر ہو چکی ہیں۔ جن سے اشرف شاد کے قلم کے مختلف روپ سامنے آتے ہیں۔ حال ہی میں اشرف شاد کا نیا ناول ’بی اے، رستم ،ٹی وی اینکر‘ شائع ہوا ہے۔ یہ اشرف شاد کا ایک یکسر مختلف قسم کا ناول ہے۔ جس کا موضوع الیکٹرانک میڈیا اور اس کی بولعجبیوں کو بنایا گیا ہے۔ کس طرح ٹی وی چینل کام کرتے ہیں۔ وہاں مفادات کا سودا کس طرح کیا جاتا ہے۔ اداروں کی سیاست کا اثر کارکنوں اور دیگر افراد پر کس طرح پڑتا ہے۔ یہ سب بے حد دلچسپ کہانی ہے۔ دوست پبلشرز کی روایتی عمدہ طباعت میں شائع تین سو صفحات کے ناول کی قیمت چھ سو پچاس روپے ہے۔

شاعر، ڈرامہ نگار اور استاد امجد اسلام امجد مصنف کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’اشرف شاد جہاں گرد آدمی ہیں، اپنی صحافیانہ بے باکی اور حق گوئی کی وجہ سے جب ان پر ستر کی دہائی میں وطن کی زمین تنگ ہوئی تو وہ امن اور رزق کی تلاش میں رضاکارانہ طور پر ایک ایسی نیم اختیاری جلاوطنی کا شکار ہوئے کہ تقریباً پینتالیس برس سے ان کا زیادہ وقت مل سے باہر ہی گزرا ہے۔ اگرچہ اس دوران وہ کویت، یو اے ای، برونائی، امریکا اور بحرین میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہے لیکن آسٹریلیا کی آب وہوا ان کو زیادہ راس آئی، سوہ گھوم گھام کر اب پچھلے کچھ برسوں سے دوبارہ آسٹریلیا میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ صحافت کی مشق، پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت ، براڈ کاسٹنگ کے تجربے اور حقائق کو شاعرانہ نگاہ سے دیکھنے کی صلاحیت نے ان کے بیانیہ میں ایک مخصوص نوعیت کی گہرائی، وسعت اور تازگی پیدا کر دی ہے کہ ان کے ناولوں کے کردار، واقعات اور نثر تینوں قاری کو ایک ساتھ اپنے گھیرے میں رکھتے ہیں۔ ان کے تینوں کرداری ناول، وزیرِ اعظم، صدرِمحترم اور جج صاحب اپنے عنوان اور موضوعات کے حوالے سے بوجوہ ایک ایسے علامتی اندازِ تحریر کے متقاضی تھے کہ بات کو حقیقت اور افسانے کے بین بین رکھا جائے اور یہ کوئی آسان نہیں کہ آپ کسی اصلی اور دیکھے ہوئے کردار کی ایسی تصویر بنائیں کہ قاری ہمہ وقت غالب کے اس شعرکی پہیلی کو ہی کھولنے میں لگا رہے۔

ہاں کھائیو مت فریبِ ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے

نیا پاکستان کے عنوان سے پیش لفظ میں اشرف شاد لکھتے ہیں کہ ’’وطن عزیز میں نیا پاکستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ نئے پاکستان کی پہلی اینٹ میں نے اپنے دوسرے ناول ’وزیر اعظم‘ میں انیس سو ننانوے میں رکھی تھی۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایمان علی تھا جس کا خاکہ کم و بیش عمران خان سے ملتا جلتا تھا۔ اس نئے پاکستان کی تکمیل میرے اگلے ناول ’صدر محترم‘ میں ہوئی تھی جسے میں نے دو ہزار میں لکھنا شروع کیا تھا اور جو دو ہزار چار میں شائع ہوا تھا۔ ایمان علی فوج کی مدد سے ایک خود مختار صدر بن کر اقتدار میں آتا ہے۔ وہ ایوانِ صدر کو پاکستانی سیاست کا عجائب گھر اور وزیر ِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیتا ہے اور کرائے کے مکان میں اپنا دفتر بنا کر ملک کی تشکیل ِ نو کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان جو ’نیا پاکستان‘ بنانا چاہتے ہیں وہ تقریباً ایسا ہی ہو گا جیسا کہ میرے تخلیق کردہ ایمان علی نے آج سے اٹھارہ سال پہلے بنایا تھا۔ یہ مماثلت حیرت انگیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عمران خان اردو ناول نہیں پڑھتے اور انہوں نے اپنے نئے پاکستان کا خاکہ ایمان علی سے مستعار نہیں لیا ہو گا لیکن میری مستقبل بینی اور تخلیقی قوت کوداد ضرور دی جا سکتی ہے۔ میرے اس نئے ناول، بی اے رستم، ٹی وی اینکر، کے باب نمبر سات ’وزیر ِاعظم‘ میں بھی ’نیا پاکستان‘ سے ایسی ہی ایک حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔ یہ باب بھی آج سے تقریباً چھ سال پہلے ایک ٹی وی سیریل کی قسط کے طور پر لکھا گیاتھا اور کسی رد و بدل کے بغیراس ناول کا حصہ ہے۔ میں اس مماثلت پر بھی اپنے پڑھنے والوں سے داد طلب کر سکتا ہوں۔ اس ناول کا آخری باب ’خلائی مخلوق‘ میری شدید جھنجھلاہٹ اور نا امیدی کا نتیجہ ہے۔ میں نے اس باب میں فکشن سے گریز کر کے حقائق نامہ تحریر کر دیا ہے۔ یہ آخری باب لکھتے ہوئے بہت اذیت سے دو چار ہوا ہوں اور رستم کی طرح میرا دل بھی دیوار سے سر ٹکرانے کو چاہا ہے۔ نیاپاکستان اسی ناامیدی سے امید تک کا سفر ہے۔‘‘

پیش لفظ سے طویل اقتباس سے قاری پر اشرف شاد کی تحریروں اور خصوصاً اس ناول کی وجہ تخلیق واضح ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر ناول مصنف کی آپ بیتی کا حصہ ہوتا ہے۔ بی اے رستم، ٹی وی اینکر کے بارے میں بھی اشرف شاد کا کہنا ہے کہ اس کا اینکر میں ہوں۔ بالکل اسی طرح جلا وطن کا ’بے وطن‘ بھی میں تھا۔ ’وزیرِ اعظم‘ اور ’صدر محترم‘ بھی میں اور ’جج صاحب‘ بھی میں تھا۔ ناول نگار کو اپنے تخلیق کردہ کردار میں ڈھلنا اور ہمہ وقت اپنی تخلیق کی ہوئی دنیا میں رہنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی زندگی میں ٹی وی اینکرز کا کردار بہت اہم ہے۔ اپنی اپنی سیاسی اور نظریاتی وابستگیوں کے حوالے سے سب کے اپنے اپنے فیورٹ اینکر ہیں۔ سب اینکرز اپنے وسائل، محدودات اور اہلیت کے مطابق بے شمار پابندیوں میں جکڑے مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔

ناول کا مرکزی کردار بی اے رستم ہے۔ جسے آسٹریلیا میں نہیں، پاکستان میں ٹی وی اینکر بننا ہے۔ جمال بیگ پاکستان کے ایک بڑے چینل این ٹی این کا چیئرمین ہے جسے رستم کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن وہ اسی کے چینل میں موجود ہے۔ بلقیس جمال عرف بی جے جو باپ سے اصولی اختلاف کی وجہ سے آسٹریلیا میں تعلیم کا خرچ اور وطن واپسی پر اس کے چینل کے بجائے این جی او میں کام کرنا پسند کرتی ہے۔ علیمہ خان محبت اور نفرت کے درمیان پسنے والی این ٹی این کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہے۔ تہمینہ رحمانی موسم کا حال پڑھتی ہے، لیکن اسے اینکر بننا ہے۔ آصف جاہ سینئر رپورٹر اور این ٹی این کا ڈائریکٹر نیوز جسے رستم اپنا گرو مانتا ہے۔ ڈولی ناول کا ایک اور دلچسپ کردار ہے۔ جو این ٹی این میں سیکریٹری ہے جسے ہر خبر پہلے سے معلوم ہوتی ہے۔ منصور خان منن جو اینکر بننے کے خواب دیکھتے دیکھتے رستم کا وفادار معاون بن گیا۔ سونیا بھی رستم کی وفادار معتمد ٹی وی پروڈیوسر ہے۔ پیرو چینل کا میک اپ آرٹسٹ اور ادارے کا ہائیڈ پارک ہے۔ وزیراعظم کو ایک انوکھے کردار کے روپ میں اشرف شاد لائے ہیں۔ جو صرف ایک سال کے لیے حکومت کرنا چاہتا ہے۔ داؤد شیخ ایک ایسا ٹی وی اینکر جسے پچاس لاکھ مہینہ اور ایک مرسیڈیز کار چاہئے۔ معروف سیاستدان شہباز رانا جسے اپنی شادی کا علم نہیں۔ اس کے علاوہ این ٹی این کے ڈائریکٹرز، رپورٹرز، کیمرہ مین، پروگرام میں آنے والے وزیر، سیاست دان، بیورو کریٹ، وکیل اور بے شمار دلچسپ کردار ناول ’بی اے رستم، ٹی وی اینکر‘ کی کہکشاں میں جگمگا رہے ہیں اور اس کی دلچسپی میں اضافے کاسبب بنتے ہیں۔

جمال بیگ کی بیٹی بلقیس جمال آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران رستم سے متعارف ہوئی۔ بی جے کی ماں کا کینسر میں انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ابتدا میں بی جے یہ سمجھ کر رستم سے دور رہتی ہے کہ وہ اس کے امیر باپ اور چینل کی ملکیت سے واقف ہونے کی وجہ سے اس سے قریب ہو رہا ہے ۔ لیکن یہ علم ہونے پر کہ رستم اس بات سے آگاہ نہیں اور وہ اس کی باپ کی دولت سے کوئی سروکار نہ رکھنے کی یقین دہانی کرا دیتا ہے۔ تب دونوں شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بی جے کے والد سے دوران تعلیم بھاری رقوم بھیجتے ہیں۔ لیکن وہ این جی او میں کام کر کے اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔ وطن واپسی پر جب وہ جمال بیگ کو رستم کے بارے میں بتاتی ہے تووہ اس سے رستم کا بیک گراؤنڈ پوچھتے ہیں۔ تو وہ بتاتی ہے کہ رستم نے میڈیا میں ماسٹر کیا ہے۔ اسے آسٹریلیا میں بھی آفرز تھیں لیکن وہ پاکستان میں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے۔ سڈنی میں وہ ٹیکسی چلاتا تھا۔اس کے والد دبئی میں اکاؤٹینٹ ہیں۔ جس پر جمال بیگ کہتے ہیں کہ تم چاہتی ہو کہ میں دبئی کی معمولی فرم کے اکاؤنٹینٹ کے ٹیکسی ڈرائیور بیٹے سے تمہاری شادی کر دوں۔ والد کے دو ٹوک انکار کے بعد بی جے گھر چھوڑ دیتی ہے اور رستم کے ساتھ شادی کر لیتی ہے۔ جمال بیگ داماد کا نام بھی نہیں جاننا چاہتے۔

رستم این ٹی این کے ڈائریکٹر نیوز آصف جاہ کی مددسے چینل کا اینکر بن جاتا ہے۔ اس کا منفرد نوعیت کا پروگرام پہلے ہی پروگرام سے ہٹ ہو جاتا ہے۔ تب وہ بی جے سے اپنی شادی کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن جمال بیگ کسی صورت اسے داماد ماننے یا اپنے چینل میں رکھنے پر تیار نہیں۔ پروگرام کی مقبولیت اور اسپانسر کے اصرار اور دوسرے چینلز کی رستم میں دلچسپی کے باوجود وہ اسے اپنے چینل سے فارغ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے نت نئے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ادارے کی سی ای او علیمہ خان اور موسم کا حال سنانے والی سینئر رکن تہمینہ رحمانی کو رستم کو فارغ کرنے کا ٹاسک دیتا ہے۔ ان کی پہلی کوشش بری طرح ناکام ہوتی ہے کیونکہ رستم نے پیش بندی کے لیے کچھ شرائط منوا لی تھیں۔ انہیں کی بنیاد پر وہ اپنا شو پریس کلب کے باہر کرتا ہے اور چینل اسے واپس بلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ا س تمام کشمکش میں ٹی وی چینلز میں گروپ بندی، ایک دوسرے کیخلاف مختلف حربے اور سازشوں کا بیان بہت دلچسپ ہے۔ رستم کا اپنے شو کی ابتدا میں سچ بولنے کا حلف اٹھانا اور شو کے مہمانوں کے بارے میں بھرپور تحقیقات کے بعد سوالات سے بخیے ادھیڑنا بے حد مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن مہمان اس کے شو میں آنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔ جس کا توڑ رستم ایف بی آر چیف تحسین جاوید کے آنے سے گریز پر ایک کتے کو اس کے نام کی تختی کے ساتھ کرسی پر بٹھا دیتا ہے۔ یہ ٹرک بھی کامیاب ہوتی ہے۔

کئی حکومتوں میں وزیر رہنے والا شہباز رانا اب مختلف چینلز پر سیاسی پیش گوئیاں کرتا ہے اور ہر چینل اس کی مقبولیت کو کیش کراتا ہے۔ رستم کا مہمان بننے پر وہ اس کی دوسری شادی کا بھانڈا پھوڑتا ہے۔ جس سے شہباز مسلسل انکار کرتا ہے اور رستم نکاح نامے سے لیکر نکاح خواں قاضی اور اس کی بیوی تک کو بلوا لیتا ہے اور پروگرام کے دوران ہی اس کی بیوی مطالبہ کر کے طلاق لے لیتی ہے۔ اس تمام صورتحال کے ذریعے مصنف نے پاکستانی چینلز پر کیا کچھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں۔ ان سے بخوبی پردہ اٹھایا ہے۔ یہ تمام چشم کشا تحریر قاری کی دلچسپی کے ساتھ معلومات میں بھی اضافے کا سبب بنتی ہے۔

ناول کا ایک دلچسپ باب وزیر اعظم ہے۔ جو ایک عام آدمی ہے۔ جس کا انٹرویو رستم اپنے پروگرام میں پیش کرتا ہے۔ جس کے انٹرویو میں رستم ناظرین کو بتاتا ہے کہ ’’پروگرام کے اس حصے میں ایک بہت اہم انٹرویو۔ آج ہم پرائم منسٹر کا انٹرویو کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے انٹرویو کی جو شرائط رکھیں، وہ ہمیں منظور نہیں تھیں۔ ہمارے پروگرام میں انٹرویو برائے انٹرویو نہیں ہوتے،سچ کی تلاش ہوتی ہے، سچ بولا جاتا ہے دلیری اور بے باکی کے ساتھ۔ اسی سچ کے لیے ہم نے ایک اور وزیراعظم تلاش کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نہیں وزیر کے نیچے زیر لگائے بغیر، صرف وزیر اعظم۔ ان کا تعلق اوکاڑہ کے ایک کسان گھرانے سے ہے۔ انہوں نے محنت سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، امریکا سے ایم بی اے کیا اور اب ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ فارغ وقت میں وہ ’پروجیکٹ پاکستان‘ پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف ایک سال کے لیے حکومت دی جائے تووہ ملک کو خوشحال بنا دیں گے۔‘‘

رستم پوچھتا ہے کہ آپ ناظرین کو اپنے وزیر اعظم ہونے کی وجہ بتائیں گے؟ جواب ہے۔ ویری سمپل میرا نام وزیر ہے اور میرے مرحوم والد کا نام اعظم تھا۔ اسی لیے میرا نام وزیر اعظم ہے۔ میری شناختی کارڈ پر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہی نام ہے۔ میں ہمیشہ اور مستقل رہنے والا، بقول آپ کے، بغیر زیر کے وزیر اعظم ہوں۔

یہ ایک انتہائی دلچسپ باب ہے۔ جس میں ملک کی اقتصادی حالت میں بہتری ، کرپشن کے خاتمے اور حکمرانوں کو عام گھروں میں رہنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ جن میں سے کئی پر وزیر اعظم عمران خان عمل پیرا ہیں اور اسی خاکے کوپیش کرنے پر اشرف شاد نے داد بھی طلب کی ہے۔

اشرف شاد کے گذشتہ ناولز کی طرح ’بی اے رستم، ٹی وی اینکر‘ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ جسے شروع کر کے ادھورا چھوڑنا قاری کے لیے سخت مشکل ہو گا۔ ناول میں پاکستانی سیاست کی رنگا رنگی کے ساتھ ٹی وی چینلز کے حقائق دلچسپ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اشرف شاد اپنے ہر ناول میں آئندہ ناول کی جھلکیاں بھی پیش کرتے ہیں۔ اس بار انہوں نے اپنے دو اگلے ناولز کی جھلکیاں پیش کی ہیں۔ ایک’ بے وطن‘ کے بعد اشرف شاد کا ایک اور سماجی ناول ’’رونق آرا، پی آئی‘‘ ہے۔ جس میں حسب سابق حیران اور اداس کرنے والی بے شمار کہانیاں ہیں۔ جب کہ دوسرا ناول اشرف شاد کے سیاسی ناولوں کی سیریز کا ایک اور اہم ناول ’’اقتدار مافیا‘‘ ہے۔ جس میں وزیرِ اعظم، ’صدر محترم ‘اور ’جج صاحب‘ کے کئی اہم کردار جلوہ گر ہوں گے۔ ان دونوں ناولوں کی اشاعت دو ہزار بیس تک متوقع ہے۔ لیکن اشرف شاد کے مداح ان کا ابھی سے انتظار شروع کر دیں گے۔ ایک اچھا ناول تو کئی مصنف لکھ لیتے ہیں۔ اصل امتحان دوسرا ناول ہوتا ہے۔ اشرف شاد پانچ بہترین ناول پیش کر کے خود کو اردو کا صف اول کا ناول نگار ثابت کر چکے ہیں اور اب مداحوں کی توقعات پر پورا اترنا بھی ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: