آئیڈیل ——– ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 12
    Shares

کبیر کے من میں آئیڈیل کا پہلا پودا اس دن لگاجب چچا کی بغل میں بدیسی گوری چٹی میم دیکھی۔ دودھ جیسی رنگت والی مارگریٹ، جیسے سنار کی دکان میں پڑی ہوئی سونے کی ڈلی۔ وہ اس سونے کی ڈلی کو چھو کر خود کندن ہونے کے خواب دیکھنے لگا۔ چچا اپنی چہیتی دلہن کو گریسی کہتے تو کبیر کا والہانہ پن بھی دیکھنے کے قابل ہوتا۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ آئیڈیل کیا ہوتا ہے۔ پھر تو چلتی پھرتی زندگی آئیڈیلز کی زد میں آگئی۔ کبیر کی دنیا خیالات کا سمندرتھی۔ جس میں پسند کے بلبلے بنتے رہتے، وہ دن بھر یہ جھاگ اڑاتا لیکن تشنگی ختم نہ ہوتی۔ پھر یہیں سے کبیر کاسفر شروع ہو گیا۔ مارگریٹ ٹی۔وی پر چلنے والے کسی اشتہار کی طرح روز اس کے کاموں کے درمیان اپنے ہونے کا یقین دلاتی۔ ولایتی چچی منی پلانٹ بن کر اس کی زندگی کے مرتبان میں لگ چکی تھی۔ جوانی کا نشہ دیسی شراب جیسا ہوتا ہے۔ نہایت ترش اور خام شراب دل اور دماغ کو راکھ کر دیتی ہے۔ کبیر بھی راکھ ہونا چاہتا تھا اور اسے راکھ بننے کے لیے روزا مل گئی۔ روزا نے کبیر کی زندگی کے معنی بدل دیے تھے۔ کیا کبھی خوابوں میں آنے والے آئیڈیل بن جاتے ہیں؟ یہ سوال وہ روز خود سے کرتا اور خود کو ہاں میں جواب دے کر مطمئن بھی کر لیتا تھا۔ روزا اس کے تخیل کی ساتھی تھی، وہ روز اس کے ساتھ سوتا اور اٹھتا تھا۔ دونوں اکٹھے بیٹھ کر ناشتہ کرتے اور وہ اس کے تصوراتی ہاتھوں سے بنے پراٹھوں پر اس کی نرم و گداز انگلیوں کے سایے محسوس کرتا۔ گلاب جیسی روزامیں خوشبوئیں کروٹیں لیتی تھیں اور کبیر کواس میں مارگریٹ نظر آنے لگی تھی۔ وہ پردیس کاٹتے ہوئے بھی زندگی کے ذائقوں سے نابلد ہی رہا۔ اس کا ٹھنڈا کمرہ کبھی دھوپ کی تمازت سے دہک نہیں سکا۔ وہ بدیسی چہروں کے درمیان روز کسی نئے چہرے کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتا لیکن ہار جاتا تھا اور جب گھر سے ماں کا فون آتا تو اس کے اندر کا پینڈو رونے بیٹھ جاتا۔ گاؤں کی پگڈنڈی یاد آتی تو نہ پھر روزا یاد رہتی اورنہ جرمنی کے مشہور میڈیول ٹاؤن کی طرف جاتی رومانٹک روڈ۔ آئیڈیل تو بلبلوں جیسے ہوتے ہیں۔ بنتے ہیں، بگڑتے ہیں اور پھر ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ کبیر کی آنکھ کو ابھی بہت سے آئیڈیلز کی تلاش تھی۔ تعلیم تو مکمل ہوگئی لیکن تلاش نہیں۔ سو اسے پھر ہجرت کرنا پڑی مگر اس مرتبہ اپنے گھر، اپنے وطن کی طرف۔

پرانے منظر ہاتھ سے چھوٹ جائیں تو نئے منظر لکیروں کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ سو کبیر کے ہاتھوں میں نئی لکیریں بن گئیں۔ ایک دن اچانک ماں نے فیصلہ سنا دیا کہ اسے شادی کرنی ہے۔ اس کے اندر بلبلے بناتے ہوئے انسان نے خوب شور مچایا لیکن یہ جرمنی تو نہیں تھا کہ روزا جیسا آئیڈیل اسے مل جاتا۔ یہ موراں والا پنڈ تھا جہاں اس کی قسمت کی گاڑی پروین کے دروازے کے باہر آکر رک گئی۔ لمبے بانس جیسے وجود پر منہ تک آتا گھونگٹ دیکھ کر کبیر کا دل متلی کھانے لگا۔ زندگی بھر متنجن کھانے والا آج پھیکے سالن کی پلیٹ سامنے رکھے اپنی بھوک مٹنے کا ناٹک کر رہا تھا۔ پروین کو کیا پتہ کہ جذبات کیا ہوتے ہیں۔ اچھا لگنا کیا ہے۔ جلتی لکڑیوں پر پھونکیں مارنے والی کیا جانے مسکراہٹ کسے کہتے ہیں۔ وہ کیا جانے کہ کبیر کیا چاہتا ہے۔ بس ایسے ہی خیالات اس کے دل و دماغ میں جالے بناتے رہے۔ اس نے سوچا اگراس منظر کو اپنی آنکھ کے فریم میں اپنی مرضی سے سیٹ کر لیا جائے تو شاید پروین بھی نئی رُت کی طرح ہو جائے۔ پھر اس نے اسے جب بھی ساڑھی میں دیکھنا چاہا وہ لمبے اور کھلے سے کرتے میں نظرآئی اور کبھی بند گریبان کی قمیض میں، جیسے بانس پر کپڑا لپیٹا ہو۔ زندگی میں سب کچھ اکٹھا ایک ساتھ کسے ملتا ہے۔ اگرمل جائے تو تلاش ختم ہوجاتی ہے۔ مگر کبیرکی تلاش ختم ہونے والی کہاں تھی۔ اسے روز نیا چہرہ ملتا اور پھر وہی بلبلے اور وہی سطح آب پر ٹھہری خاموشی۔

پھر اک دن اسے وہ مل گئی۔ جیسے اچانک کسی کو خزانے کی چابی مل جائے۔ کبیرکو آئیڈیل کی تلاش تھی اور منزہ کو آئیڈیل بننے کی۔ یعنی پازیٹو اورنیگٹو ایک جگہ مل گئے۔ کبیر کو ٹی۔ وی آڈیشن کے لیے منزہ کو فون کرنا تھا۔ آوازیں اکثر دھوکہ دیتی ہیں۔ مگر کچھ دھوکے بڑے دلفریب ہوتے ہیں۔ منزہ کے لفظوں میں جادو تھا اور باتوں میں خوشبو، بس یہی چیز دھوکے کی پہلی سیڑھی ثابت ہوگئی۔

کبیر کو بھی ایسا ہی آئیڈیل چاہیے تھاجسے وہ اپنے ہاتھوں سے بناتا، سنوارتا۔ چاہے تو پروین ہی سہی مگرکبیر کو ماں نہیں بلکہ گرل فرینڈ جیسی بیوی چاہیے تھی۔ منزہ ایسا دکھنے لگی تھی۔ اس کی باتیں، اس کے جملے کبیر کے لیے رس بھری سٹابریاں تھے۔ جن کا ذائقہ منہ میں رچ جاتا ہے اور رنگ انگلیوں کی پوروں پر۔ کبیر اپنے آئیڈیل سے ملنا چاہتا تھا۔ اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔ سو ٹیلی فون پر ہی طے ہوا کہ وہ آئے گا۔ ’’اس دن میں تمہیں ایسا دیکھنا چاہتا ہوں جیسے، جیسے۔ ۔ ۔ جیسے تمہیں میرے لیے ہونا چاہیے۔‘‘ کبیر کے لہجے کی سرشاری میں بہت سارا نشہ تھا۔

پھر وہ دن بھی آگیا۔ پنڈی کے متوازی موسم کا عادی کبیر لاہورکی گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے سامان پیک کرنے لگا۔ جون کے آغاز کاایسا ہی ایک گرم دن تھا۔ لاہور ائرپورٹ پر دن کے وقت زیادہ رش نہیں تھا۔ وہ جیسے ہی باہر نکلا اس کی آنکھیں اپنے آئیڈیل کی تلاش میں تھیں۔ ’’یہ ہوگی۔ ۔ ۔ اوہ نہیں۔ ۔ ۔ شاید یہ۔۔‘‘

کبیر اندازے لڑاتا رہا۔ پھر یکدم اس کی نظر ریلنگ پر کھڑی دبلی پتلی سی منزہ پر پڑی۔ ’’اوہ ہاں !یہی ہے وہ۔ ۔ ۔ تصویر سے ذرا سی مختلف نظر آتی ہے۔‘‘

کبیر کھڑے کھڑے کن اکھیوں سے اس کا جائزہ لینے لگا۔ وہ منزہ ہی تھی۔ دوپٹے میں لپٹی، دیسی گھی میں چپڑی ہوئی روٹی جیسی۔ سادہ سی اور شاید بہت ہی عام سے نین نقش والی منزہ۔ جسے تھوڑا سا خیال تھوڑی سی توجہ بہترین بنا سکتی تھی۔ جیسا کہ کبیر چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ائیرپورٹ سے ہوٹل تک جاتے ہوئے کبیر کا سارا راستہ گاڑی سے باہر کے منظر دیکھتے ہی گزرا۔ اس کے اندر آندھیاں چل رہی تھیں اور لگتا تھا منہ میں ریت سی پڑ گئی ہو۔ وہ کب اسے ہوٹل تک چھوڑنے آئی اور کب دروازے سے ہی لوٹ گئی۔ کبیر کو اس کا کچھ خیال نہ تھا۔ اس کا وجود عجیب سی تھکن کا شکار تھا۔ شایداس کے ذہن پر رات بھرجاگنے اورخواب دیکھنے کی تھکاوٹ تھی۔ پھر شام کووہ جب اسے ملی تو اپنی تصویر اپنی باتوں اور اپنے جملوں سے کہیں مختلف لگی۔ شاید ایساہی ہوتاہے جب زندگی سے بہت سی توقعات وابستہ کرلی جائیں تو اکثر نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ اس سے پہلے کہ کبیرکی سوچ کا نتیجہ صفر نکلتا وہ منزہ سے دور بھاگ جانا چاہتا تھا۔ ’’کیا میں تمہیں ائیرپورٹ چھوڑنے آؤں‘‘ منزہ کی آواز میں تھرتھراہٹ برقرار تھی۔ ’’ارے!۔ ۔ ۔ تم کہاں اتنی دور آؤ گی۔ میں چلاجاؤں گا۔ اٹس اوکے۔۔۔‘‘ کبیر نے خود کو تسلی دینا چاہی لیکن منزہ اسے آخری بار ائرپورٹ چھوڑنے آئی۔ وہ جانتی تھی کہ کبیر کی آنکھ کا موسم آندھیوں کی زد میں ہے۔ سیاہ لباس میں ملبوس چلچلاتی گرمی میں وہ ایسی ہی لگ رہی تھی جیسے ٹہنی پر لگا شہتوت پک کر زمین پر گر گیا ہو۔ دھلے ہوئے چہرے پر افسردگی سجائے وہ بہت بدنما سا اشتہار لگ رہی تھی۔ کبیر کو محسوس ہوا جیسے کسی پرانی برانڈی پر نئی پرچی لگا کر پیسے کھرے کیے گئے ہوں۔ پھر روانگی کا وقت آیا اور کبیر چلا گیا۔ وہ جس شورکے تعاقب میں آیا تھا اس سے کہیں زیادہ خاموشی کے ساتھ گیا۔ گریسی چچی، مارگریٹ، منزہ اوران سب کے درمیان ملنے والے آئیڈیلز کبیر کی آنکھ کا دھوکہ تھے اور آئیڈیلز ہمیشہ زندہ آنکھوں کو ہی مردہ کر تے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: