حقیقی تخیلات —– سحرش عثمان

0
  • 81
    Shares

جب میں کچھ نہیں لکھ پاتی یا پھر درد دیتی حقیقیتیں لکھ لکھ کر تھک جاتی ہوں تو فینٹسیز لکھتی ہوں۔ کھلی آنکھ سے دیکھے ہوئے خواب۔ بلکہ اپنے ہاتھوں سے بُنے ہوئے خواب۔ جن میں زندہ رہنا اتنا ہی دلکش اتنا ہی حسین ہے جتنا کسی دل ربا کے ساتھ من مرضی کی حقیقت جینا۔ بلکہ یہ دل رباؤں، حسیناؤں کے ساتھ جینے جیسی حقیقیتیں ہی تو ہوتی ہیں۔

جب مصنوعی لوگوں سے ملتے ملتے آرٹیفیشل تعلقات بناتے بناتے ہم تھکنے لگتے ہیں تو اپنی دنیا بسا لیتے ہیں۔ اپنی پسند کی دنیا۔
جو کبھی ستارے پر پاؤں لٹکا کر بیٹھنے سے مکمل ہوجاتی ہے۔ تو کبھی سٹار ڈسٹ سے اٹے ہاتھ چہرے پر رکھے بے ساختہ ہنسے چلے جانے سے شروع ہو کر دو ستاروں کا درمیانی رستہ دھنک کے پل پر چلتے ہوئے ختم ہوتی ہے۔ کبھی کہکشاؤں کے راستے پر تمہارا ہاتھ تھامے میں اس دنیا کی حدوں سے پرے کہیں دور نکل جاتی ہوں۔ اتنی دور کہ پھر واپس اس دنیامیں آنے کے لئے خود کو آمادہ کرنا پڑتا ہے۔

ویسے سوچو تو اگر خیال کی دنیا بھی میسر نہ ہوتی تو کیسی بے بسی ہوتی۔ قوت گویائی چھن جانے جیسی۔ نہیں یہ اس سے بھی بڑا نقصان ہوتا۔ گویائی چھن جانا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ بول کر کونسے انقلاب لے آتے ہیں ہم۔ گویائی والے بھی تو “سکرپٹڈ” ورژن ہی بولتے ہیں نا۔ اپنی ذاتی رائے کا اظہار تو گستاخی ہوتی ہے نا۔ سنو! میری ایک فینٹسی خالص رائے کا برملا اظہار بھی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے ہر شخص کو اس کی ذات پر اس کا اختیار مل جائے۔ مجھے معلوم ہے میرے دیکھے ہوئے بُنے ہوئے خوابوں میں یہ سب سے مشکل ہے۔ پر یہ سب سے خوبصورت بھی تو ہے نا۔ میری ذات پر میرا تمہاری پر تمہارا اختیار۔ ہاں پتا ہے تم سوشل سیٹ اپ کا سوشل نارمز کا حوالہ دو گے۔ میں کب سوسائٹی کے بیرئیرز کو توڑنے کا کہہ رہی ہوں۔ میں تو بس تمہارے معاملات میں تمہارے فیصلوں کی بات کر رہی ہوں۔ خیر یہ بھی فینٹسی ہے۔
میری ساری فینٹسیز ستاروں سیاروں چاندنی دھنک لئے ہوئے نہیں ہوتی۔ کچھ کا تعلق حقیقت سے بھی ہوتا ہے۔

فینٹسی پر مبنی حقیقت یا پھر حقیقی فینٹسی۔ یہ جملہ پڑھنے کے بعد یقینا آپ سب سنجیدگی سے سائکا ٹرسٹ والے آپشن پر غور کر رہے ہوں گے۔ ٹھہریے سمجھاتی ہوں۔۔۔ میری حقیقی سی فینٹسی ہے کہ کچھ لوگ جب بول رہے ہوں تو ان کو میوٹ پر لگا دوں۔ وہ بولتے رہیں اور آوازیں بند ہوں۔ ویسے کچھ لوگ چپ رہیں تو کسقدر خوبصورت لگتے ہیں نا؟
میرا جی چاہتا برفیلی باتوں والوں کو شعلے گھول کر پلایا کروں تاکہ ان کے لہجے میں گرم جوشی نہ سہی گرمی ِحیات ہی آجائے۔
میں کبھی کبھی چاہتی ہوں اختیار والوں سے ان کا اختیار چھین لوں اور ان کو ان کی ذات کے غرور کے ساتھ جیتے رہنے کا آپشن دوں۔
میری فینٹسی تو یہ بھی ہے ٹراؤٹ فش کی طرح پانی کے بہاؤ کے الٹ تیرنے والے سارے “ٹراؤٹس” کی الگ سے ایک بستی بساؤں۔
چاہتی تو میں یہ بھی ہوں میری بستی کے سارے بچے تھوڑے بہت تو بہاؤ کی الٹی سمت میں تیرنا سیکھیں۔سارے ہی کہیں نا کہیں ٹیبوز توڑیں تعصبات کے عینکیوں کے بغیر ننگی آنکھوں سے زندگی کو دیکھیں۔ اوروں کے “تجربات” کی۔چھتریوں سے “چھاؤں” کرنے کی بجائے اپنے اپنے حصے کی دھوپ خود برداشت کرنے جتنی ہمت پیدا کریں ہم۔ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے پرکھیں۔
خیر چاہتی تو میں یہ بھی ہوں لمبی گیلی سڑک پر چلتے چلتے زندگی کی شام ہوجائے اور وہ ایک بھیگی خنکی بھری شام رات میں نہ بدلے۔
چاہتوں کی لمبی فہرست ہے جس میں ہر خواہش پہ دم نکلے والی صورتحال ہے۔
میں چاہتی ہیں ساحر کی نظم کبھی ختم نہ ہو۔
وہ اپنی لو دیتی نگاہوں سے گنگناتا رہے۔

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاوں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
عجب نہ تھا کہ میں بے گانہء الم ہو کر
ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں
انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی
ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے
مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں
حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں
نہ کوئی جادہء منزل نہ روشنی کا سراغ
بھٹک رہی ہے خلاوں میں زندگی میری
انہی خلاوں میں رہ جاوں گا کبھی کھو کر
میں جانتا ہوں کہ مری ہم نفس مگر یونہی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

اور اس کے اس خیال کا جواب امرتا اپنی مادری زبان کے میٹھے لہجے میں
میں تینوں فیر مِلاں گی کہہ کر دے۔

کبھی کبھی تو یہ بھی چاہتی ہوں ساحر کو جا کر کہوں تمہاری انا نے محبت کی کہانیوں پر کئیوں کا ایمان کمزور کیا ہوگا۔ کچھ احساس ہے تمہیں؟ اب تو خیر لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے۔ ہم تم دیویوں پر ایمان کے وقت میں ہوتے تو محبت کی دیوی کو شکایت کرتی ساحر کی۔ اور پھر اس دیوی کے سبھی ماننے والے ساحر کا داخلہ محبت کے سب ہی مندروں میں ممنوع قرار دے دیتے۔

میں امرتا سے بھی کہتی۔ مرنے والیوں کے بین لکھنے سے حل نہیں ہوگا مسئلہ۔ اب کلام میں جدت لاؤ جینے والوں کا قصہ لکھو زندگی کی بد سلوکیاں رقم کرو۔ ہم بار بار تھوڑی آئیں گے۔ زندگی سے کہو ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آئے ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ ممکن ہے ہم واپس جائیں تو مارکیٹنگ کردیں زندگی کی۔
لیکن افسوس یہ سب میرے وہ خواب ہیں جن کے پورا ہونے میں ایک عمر ایک زمانہ اور ایک قیامت حائل ہے۔

لیکن اب سب خواب تو جنت پر نہیں چھوڑے جا سکتے نا۔ زندہ رہنے کے لیے خواب دیکھنا پڑتے ہیں اور ان کو تعبیر کرنا پڑتا ہے۔
ویسے میرا ایک اور خواب ہے۔
میرا جی چاہتا ہے دھوپ کنارے کبھی ختم نہ ہو۔ اور ڈاکٹر احمر یونہی ضویا کے تصور کو مسکرا کر دیکھا کرے اور یونہی کہتا رہے۔

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے۔
جیسے ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے۔

پر مسئلہ یہ ہے نا بے وجہ قرار آتا نہیں۔
بے وجہ صرف بے چینی آتی ہے، اداسی آتی ہے اور بے بسی آتی ہے۔ قرار کو وجوہات درکار ہوتی ہیں اور بیمار کو دوا۔
بھوکے کو مضافات سے خوشبو آ بھی جائے تو اس کا پیٹ نہیں بھرتا خوشبو لاکھ حسین سہی پر پیٹ کی آگ نہیں بجھاتی۔ شاعر کے خیالات سے زندگی نہیں بسر ہو پاتی۔
ڈاکٹر احمر اور اس کا تصور لاکھ جاذب و جمیل سہی پرہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔

ہم سے پاگل تخیل میں ڈراموں کہانیوں قصوں کے ہیرو ہیروئن کی محبت کی۔دنیا بسا تو سکتے ہیں اس دنیا میں جی نہیں سکتے۔ اور اگر جی بھی لیں تو وہ زندگی چند لمحوں سے زیادہ کی نہیں۔ کہ ساحر و ضویا بوڑھے ہوجاتے ہیں۔اور احمر اور امرتا مر جاتے ہیں۔
یہ ہی زندگی ہے شائد جب ذرا فرصت کا گمان ہونے لگتا ہے تو وعدہ وفا کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔اور اس سے کئے وعدے کو کون توڑے۔ کس کی جرات وعدہ خلافی کرے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: