نئی حکومت: سو دن کی کہانی، قلندر کی زبانی —– محمد خان قلندر

0
  • 52
    Shares

پارلیمانی طرز حکومت میں اسمبلیوں کے وجود میں آنے کے ساتھ نئی حکومت بن جاتی ہے، اس لئے سو دن کا کانسپٹ جو صدارتی نظام حکومت سے متعلق ہے یہاں نووارد ہے، لیکن اس بار حکومت کا بدلنا چونکہ ایک بڑی تبدیلی بھی ہے اور تبدیلی کے ظہور کو ظاہر کرنے کی مجبوری بھی، تو حکومت وقت نے ازخود اپنی پرفارمنس کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے کے لئے اس مدت کا تعین کیا۔

اس ٹرانزیشن میں بڑے بڑے چیلنج بھی درپیش ہیں، کسی بڑی کامیاب تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان تھا نہ یہ ممکن ہے، لیکن حکومت کی پالیسیوں کا خاکہ، ان پر عمل کرنے کی حکمت عملی اور مسائل کی نشان دہی کے ساتھ ملک میں حکومت کو اپنی سمت کے تعین کو عوام کے سامنے لانے کا موقع بہرحال میسر ہو گا۔

چند بنیادی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ حکومت نے خزانہ خالی ہونے، بیرونی قرضوں کی مالیت اور بے تحاشا کرپشن کا جتنا شور مچایا کیا
حقیقت میں یہ سب ایسا ہے؟
ان مسائل سے فوری طور پر نپٹنے کی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے نتائج کی اصلیت کیا ہے ؟
حکومت اپنی آئینی ذمہ داری امن و امان کا قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ دینے میں کتنی کامیاب رہی یا کس حد تک ناکام رہی؟
انتظامیہ کی ہیئت، مقتدرہ کی تنظیم نو، لوکل گورنمنٹ، صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت میں ربط کی صورت حال بہتر ہوئی یا مزید غیر فعال ہو گئی؟
مالیاتی ڈسپلن میں کیا تبدیلی واقع ہوئی اور اس کے مستقل حل کے لئے پلاننگ میں کتنی پیشرفت ہو سکی؟

بظاہر ان سب پہلوؤں میں حکومت بالکل ناکام نظر آتی ہے، سارا زور اسمبلی کے اندر اور باہر بھی ایک ہی بات پر لگایا گیا کہ سابقہ حکومت اور موجودہ اپوزیشن من حیث کُل بدترین کرپشن میں ملوث ہے اور ملکی مسائل جو حقیقی ہیں یا مفروضہ سب کی ذمہ دار بھی یہی ہے۔ موجودہ حکومت ان سب معاملات سے کیسے نپٹے گی یہ حکمت عملی یا تو سرے سے تاحال موجود ہی نہیں یا مجوزہ سو دن کے متوقع جشن تک اسے صیغہء راز میں رکھنا ضرورت ہے!

اس پر تو دو رائے ہو ہی نہی سکتیں کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف ادوار کے بشمول پیپلز پارٹی اور نُون لیگ کی حکومتوں نے ملک کو ایسے گھمبیر مسائل میں الجھا دیا ہے جن سے فوری طور پے نکلنے کے لئے الہ دین کا چراغ چاہیے۔ اس پر مستزاد عمران خان نے گزشتہ پانچ سال میں ان سب امور سے قوم کو آگاہی دینے کے ساتھ اپنے وزیراعظم بننے کی صورت میں ان کو حل کرنے کے بلند بانگ دعووں کے ساتھ اتنی قوی امید دلا دی تھی کہ اب جب وہ صاحب اقتدار ہو گئے ہیں تو فطری طور پر لوگ بے صبری سے راتوں رات دودھ کی نہریں بہتی دیکھنے کے لئے بےتاب ہو رہے ہیں۔

لیکن پچھلے تین ماہ میں انہیں مہنگائی کے ساتھ بے روزگاری میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ چالیس سال سے مروجہ ہر حکومتی ادارے کی بدانتظامی، رشوت اور بدعنوانی کو یکلخت ختم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے وقت اور سخت محنت درکار ہے۔ موجودہ حکومت کو ہر قسم کی رعایت دینے کے ساتھ یہ مطالبہ بہت ہی جائز ہو گا کہ کچھ کام ہنگامی بنیاد پر کرنے کے ساتھ ملک کو درپیش بڑے مسائل کے ادراک، انکے حل کرنے کے اقدامات سے قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے کہ کسی شخص یا قوم کو اس کی استطاعت سے زیادہ امتحان میں نہیں ڈالتی۔ سو جتنے بھی مسائل ہیں انہیں حل کرنے کی وسائل بھی مہیا ہوتے ہیں۔ انکو حکمت عملی سے استعمال کرنا فرد یا قوم کی صوابدید پر ہوتا ہے۔

آج جب کئی عشروں کے بعد حکومت عدلیہ اور فوج ایک صفحے پر ہیں، یکسو اور یکجان ہیں، تب سویلین قیادت کا فرض ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ، رعونت اور خود نمائی و خود پرستی جو سابقہ حکمرانوں کی ناکامی کا بھی سبب رہا اس سے جان چھڑا کر عاجزی کی خو اپنائے۔ اپنے حق میں سازگار ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو ترقی کی اصل راہ پر ڈالے اور عوام کی فلاح و بہبود کی کوشش کرے۔

چینی قونصلیٹ اور اورک زئی ایجنسی کے حادثات کے باوجود آج امن عامہ کے لئے حکومتی رٹ کا بحال ہونا بہت امید افزاء امر ہے لیکن دہشت گردی کا خاتمہ اوّل ترجیح ہونی چاہیے۔ اسکے لئے حکومت کو اپنی توجہ نیب کی بجائےبنیشنل ایکشن پلان اور نیکٹا پر مرتکز کرنی ہو گی۔

اکانومی کے لئے سستی توانائی اہم بنیاد ہے۔ وقتی بحران حل کرنے کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے وقتی طور پر بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ اگر بڑھائے جاتے ہیں تو ہنگامی اقدامات سے ان محکموں کی تنظیم نو کر کے ان کے ترسیلی نقصانات اور چوری پر قابو پانا لازمی ہے۔ بجلی کا اوسط ریٹ بارہ روپے یونٹ پر واپس لانا ایکسپورٹ کی پیداواری لاگت کم رکھنے کے لئے ناگزیر ہےماس کے متبادل ڈالر کی قیمت بڑھانے سے معیشت کا بہت زیادہ نقصان ہو گا۔

زر مبادلہ کو بڑھانے کے لئے بیرون ملک سے ترسیلات زر کو منظم کرنے کے ساتھ ایکسپورٹ کو خاص طور سے چین کے ساتھ تجارتی خسارہ زیرو کرنا ہو گا۔ ان دو اقدامات سے فوری طور پر تقریبا پچیس ارب سالانہ کا فرق پڑے گا۔

خارجہ امور میں تڑی لگانے اور اکڑ فوں دکھانے کی بجائے میچیور سفارتی ردعمل کی روش اپنانی ہو گی۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی نزاکت کے مطابق محتاط پالیسی رکھنی لازم ہے۔ یہ سارے کام پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی اور مشاورت سے ہونے چاہیئیں۔ جہاں کا ماحول اس ادارے کے دیگر اداروں سے سپریم ہونے کے آئینی تقاضوں کے مطابق رکھنا حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ پارلیمان کے ارکان کو اسمبلی اور سینیٹ میں حاضر رہنے اور زیربحث ہر موضوع پر اپنے آئینی فرض کے مطابق حصہ لینے کا پابند بنانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم اور وزراء کی ہر اجلاس میں موجودگی اشد ضروری ہے تاکہ مؤثر قانون سازی اور اس سلسلے میں ضروری مشاورت یقینی بنائی جا سکے۔

اپوزیشن کی سکت ہی نہیں حکومت گرانے کی، مقتدر ادارے تعاون کر رہے ہیں تو حکومت کو بھی ذمہ دارار رویہ اپنانا ہوگا۔ برائے مہربانی یہ چور، ڈاکو ثابت کرنے کا کام متعلقہ اداروں کو کرنے دیں اور یقین رکھیں کوئی آپ کو نہیں چھیڑے گا کیونک سب کے ہاتھ اپنے کام میں بندھے ہوں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: