لابی … حسن تیمور جکھر

0

لابی انگریزی زبان کالفظ ہے جس کے معنی برآمدہ کے ہیں، یعنی وہ سائبان جس کی طرف ملحق کمروں کے دروازے کھلتے ہوں مگر موجودہ زمانہ میں یہ لفظ ایک سیاسی اصطلاح بن گیا ہے۔ جس کا مفہوم ہے پالیسی تبدیل کرانے کے لیے حکومت پر اثر انداز ہونا۔ چوں کہ ابتدائی زمانہ میں اراکین اسمبلی سے ملاقات کرنے کے لیے اسمبلی کے برآمدے استعمال ہوتے تھے، اسی لیے لابی کا لفظ دھیرے دھیرے اس مفہوم کے لیے سیاسی اصطلاح بن گیا۔

امریکہ میں رواج ہے کہ وہ ہر فائدہ مند چیز کو صنعت کا درجہ دے دیتے ہیں۔ چنانچہ فائدہ کےلیے وجود میں آنے والی لابی مزید فائدے کے لیے صنعت میں بدل دی گئی۔ امریکہ چونکہ سپر پاورہے اس لیے اس کے رواج عالمی دنیا خوشی سے اپنا لیتی ہے۔ اب یہ صنعت دنیا کے ترقی یافتہ سے لیکر ترقی پذیر ممالک تک وجود میں آچکی ہے۔ باقاعدہ رجسٹرڈ کمپنیاں مختلف نوعیت کےفوائد کےلیے ہر سطح پر لابنگ کےفرائض سرانجام دیتی ہیں۔ یہ کمپنی جس بھی سطح پہ کام کرے، اس کا مقصد اپنے ملک /کلائنٹ کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ مگر جب یہی اصطلاح لابی مملکت خداد میں پہنچتی ہے تو سب الٹ ہوجاتا ہے۔ یہاں لابی کاروبار سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کرمشن کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

اسلام کے نام پہ قائم ہونے والے پاکستان میں کوئی بھی لابی بھائی چارے کےلیے کام نہیں کرتی۔ یہاں قائم ہونے والی لابیاں غیروں کے فوائد کومدنظر رکھ کے، اغیار کے نظریات کا پرچار کرتی نظرآتی ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان اسلام کی بنیاد پہ وجود میں آئی تھی۔ اس ملک کے قیام کا مقصد اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام تھا جس کی بنیاد حقوق العباد اور بھائی چارے پہ رکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایسی دھرتی کا قیام تھا جہاں سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والےشہریوں کو یکساں حقوق اورضروریات زندگی فراہم کیے جائیں۔ اس مقصدکےلیے اداروں کےقیام اور انہیں مضبوط بنانے کا خیال پیش کیا گیا۔ یہاں ادارے تو مضبوط نہ ہوسکے لیکن لابیاں ضرور طاقت پکڑ گئیں۔ سب سے پہلی مغرب نواز لابی بنی، جس کےبعد بھارتی، ایرانی اور سعودی لابیاں بھی وجود میں آگئیں۔ سب نے اپنا اپنا منجن بیچا اور وہ بھی ملک کی قیمت پہ۔ ان کے ساتھ ساتھ ایک لابی اور بھی ہے جو دراصل ان سب کی ماں ہے اور وہ ہے لالچی یامفاداتی لابی۔ یہ سب سے مضبوط لابی ہے اور اس کے حصہ داروں کی بنیادی اہلیت میں کوتاہ نظری، حرص، بے صبرہ پن اور دماغی کمتری جیسے منفی خصائص شامل ہیں۔ اس کی جڑیں ایوان اقتدار کی اعلی ترین مچان سے لیکر سرکاری اداروں کی بنیادوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ پرائیویٹ سیکٹر سے لیکر گلی محلےکی نکڑ تک موجود ہے۔ یہ وہ لابی ہے جو اپنے پانچ سو کے فائدے کے لیے قوم کے لاکھوں ضائع کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتی۔ یہ وہ لابی ہے جو اپنے مفاد کے لئے کسی کے بچے مروانے سے بھی نہیں چوکتی۔ یہ وہ لابی ہے جو اپنی انا یا جھوٹی شہرت کےلیے کسی قابل کی زندگی برباد کرنے میں ذرا نہیں چوکتی۔ یہ وہ لابی ہے جو اپنا پیٹ بھرنے کےلیے ملک کو بیچنے میں بھی عار نہیں سمجھتی۔ یہ گروہ رشتہ داری یا قومیت کو نہیں مانتا، ان کا ہر رشتہ مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔ وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانے والا محاورہ انہی کے لیے بنا ہے۔ یہ سادہ، شریف، محنتی اور ایماندار آدمی پر ہنستے ہیں اور آڑے آنے پر اسے نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ لابی ہرجگہ ہی کامیاب ہوتی ہے۔ ان میں جذبات کی جگہ دماغ کےاستعمال کا رجحان ہوتا ہے۔ یہ وقت کی آواز کو سب سے پہلے سنتی ہے، اور ہمیشہ جیتنے والے گھوڑے پہ سوار ہوتی ہے۔ ان کی نظر ہمیشہ جوتے پہ ہوتی ہے، اور بوٹ پالش میں مہارت ان کا بہترین ہنر ہے ۔ ابھی تک اس”مفاد پرست لابی‘‘ کا کوئی معقول متبادل ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ متبادل اگر سامنے آتا ہے تو وہ جذباتیت، سادگی، معصومیت، انتہاپسندی جیسی دلدل میں خود بھی دھنس جاتی ہے اور اپنے ساتھ اپنے حلقہ اثر کو بھی دھنسا دیتی ہے۔ مفاداتی لابی مجموعی بھلائی کی بجائے ذاتی بھلائی کا شوق رکھتی ہے لہذا جہاں جہاں مواقع ملتے ہیں ‘‘یہ اندھے اپنوں میں ہی ریوڑیاں بانٹتے ہیں‘‘۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: