کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 9

0
  • 288
    Shares

جناب انور عباسی کی مشہور سوانح حیات کا یہ سلسلہ دانش کے صفحات پہ کچھ عرصہ تک شایع ہوتا رہا، وقفہ کے بعد اسکی نویں قسط پیش خدمت ہے۔ نئے پڑھنے والے قارئین اس کا پچھلا حصہ اس لنک پہ دیکھ سکتے ہیں۔ عباسی صاحب کی یہ کتاب زیر طبع ہے اور اس سال کے آخر تک قارئین کے لئے دستیاب ہوگی۔


شادی بیاہ:
رسمِ نکاح رات کو نہیں بلکہ صبح ناشتے کے بعد ادا کی جاتی۔ دلہن والے بعض اوقات کچھ شرائط بھی منوانے کے لیے پر تول رہے ہوتے۔ چنانچہ دولہا والے مہمان اس وقت تک ناشتہ نہیں کرتے تھے جب تک نکاح خیریت سے نہیں ہو جاتا تھا۔ نکاح کے بعدجب ایک گولا چھوڑا جاتا تو نہ صرف رہائش پذیر مہمانوں کو بلکہ پورے گائوں والوں کو معلوم ہو جاتا تھا نکاح ہو گیا ہے۔ پھر سب خوشی خوشی ناشتہ کرنے بیٹھ جاتے۔ اس پروسیس میں بعض اوقات ناشتے کا وقت گزر کر کھانے کے وقت میں داخل ہو جاتا۔ لوگوں کے پیٹ میں چوہے دوڑیں یا بلیاں بہرحال ناشتہ گولا چھوڑنے کے بعد ہی کیا جاتا تھا۔

شادی کی رات محفلِ موسیقی جمتی۔ خیر یہ نام ہم نے رعایتِ زمانہ کے لحاظ سے دیا ہے ورنہ کہنا دراصل یوں چاہیے تھا کہ مراثی ڈھول پیٹتے، قوالی گاتے۔ اس موقع پر ویلیں دینے کا ایک ایسا رواج تھا جس میں مخالفیں کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کا بہترین موقع ہاتھ آتا تھا۔ ابتدا میں تو ایک آدمی جیب سے ایک دو روپے نکال کر ہاتھ لہراتا اور مراثیوں کی نذر کرتا تو مراثی اس کا نام لے کر اعلان کرتے کہ فلاںسردار کی اتنے روپے کی ویل۔ دوسرا شخص اپنا نام اونچا کرنے کے لیے اس رقم میں کچھ اضافہ کر دیتا لیکن مزا اس وقت آتا جب کوئی اپنے مخالف کا نام لے کر کچھ رقم پھینکتا تو مراثیوں سے اپنا نام سن کر اس مرد مجاہد کی غیرت جاگ جاتی۔ کچھ لوگ مراثیوں سے مل کر اس طرح کا ناٹک کرتے جب اس سازش کی اطلاع فریقِ مخالف کو ہو جاتی تو بدمزگی بڑھ کر جھگڑے کی نوبت بھی آ جاتی۔ اسی طرح ڈولی، جس میں دلہن کو گھسایا جاتا تھا، دولہا سے آگے کرکے دڑایا جاتا۔ جب ڈولی آگے ہو جاتی تو سمجھا جاتا کہ دولہا ہمیشہ دلہن کے تابع رہے گا۔ اسی لیے بعض ’غیرت مند‘ جان کی بازی لگا کر ڈولی سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے۔عام طور پر دلہن والے پیچھے ہی رہ جاتے کیونکہ بوجھ اٹھا کر چلنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ یہ تو دولہا ہی ہوتا ہے جو یہ بوجھ اٹھا کر زندگی کی دوڑ میں چلتا رہتا ہے مگر تھکتا ذرا نہیں۔

شادی کے موقع پردوستیاں کرنے کا ایک اہم رواج تھا۔ دولہا کا دوست تو آج کل بھی ہوتا ہے لیکن ماضی میں اس کا اہتمام کچھ اور ہی تھا۔ خاندان سے باہر یا اپنے گائوں سے باہر جب دوستی کی جاتی تو اس کا الگ سے اہتمام ہوتا۔ دولہا، اس کا خاندان اور دوست کا خاندان شادی کے بعد بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے اور خوشی غمی میں شامل ہوتے۔ آج کل تو دوست بنانا محض ایک بے جان سی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ شایدہی کسی کو یاد ہو کہ اس کا دوست کون بنا تھا یا کیوں بنا تھا۔ دوست صاحب اپنے طور پر لوگوں کو مدعو کرتے اور ایک جتھا بنا کر بارات ہی کی طرح بارات میں شامل ہوتے۔ شادیوں میں ڈھول اور بین باجے کا خصوصی اہتمام ہوتا۔ ساتھ ساتھ ’گولے چھوڑتے‘ یعنی بارودی پٹاخے چلائے جاتے۔ اس دھوم دھڑکے میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ واقعی دور کے ڈھول ہی سہانے ہوتے ہیں۔ جب باہر کی دوستی ہوتی تو وہ الگ سے ڈھول وغیرہ کا انتظام کرتے۔ وہ جب ڈھول بجاتے ہوئے وارد ہوتے، اِدھر سے دولہا والے اسی جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ نکلتے اور ڈھول بجانے کا ایک مقابلہ سا کرتے، کہ کہیں ان سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ باراتیوں اور دوست والوں کا جب سنگم ہوتا تو چند منٹ تک یہ مقابلہ جاری رہتا اور اچانک جب ختم ہوتا معلوم ہوتا کہ موت کا سا سنّاٹا چھا گیا ہے۔ کان سائیں سائیں کرکے پھر کہیں نارمل ہوتے تو ہوش آتا۔ آج کل کے نئے دور میں ’پنچوں‘ نے فیصلہ کیا کہ شرعی حکم کے تحت یہ رواج بند کر دیا جائے حالانکہ کسی حد تک شادی کے موقع پر گانے بجانے کی اجازت کتابوں میں ملتی ہے لیکن کئی اور رسمیں مثلاً جہیز وغیرہ ابھی تک قائم ہیں۔ اس کے حق میں شرعی دلائل دینے والے ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ کسی کو خیال نہیں آتا کہ لڑکی والوں پر یہ کتنا ظلم ہے۔

اِدھر سے دولہا والے اسی جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ نکلتے اور ڈھول بجانے کا ایک مقابلہ سا کرتے، کہ کہیں ان سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ باراتیوں اور دوست والوں کا جب سنگم ہوتا تو چند منٹ تک یہ مقابلہ جاری رہتا اور اچانک جب ختم ہوتا معلوم ہوتا کہ موت کا سا سنّاٹا چھا گیا ہے۔ کان سائیں سائیں کرکے پھر کہیں نارمل ہوتے تو ہوش آتا۔

گھڑی یا گھڑولی بھرنا اور ’گالیاں گانا‘ (یعنی خوشی کے گیت) بھی شادی کا ایک لازمی جزو ہوتا تھا۔ لغت میں گالیاں بکنا یا دینا تو آپ کو ملے گا، یہ گالیاں گاناکہیں نہیں ملے گا۔ یہ ایجادہ بندہ سہی، ایک زمانے میں اس کی بڑی حیثیت تھی۔ دولہے کی بہنیںبھاوجیں اور رشتہ دار خواتین مٹی کا نقش و نگار والا گھڑا کروشیے کے خوبصورت رومال سے ڈھانک کر پانی بھرنے جاتیں۔ آدھے گھنٹے کا راستہ دو گھنٹوں میں طے ہوتا۔ چار قدم چل کر رک کر ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے کورس کی شکل میں گیت گاتیں۔ گیت کے بول نہ اُس وقت سمجھ میں آئے تھے نہ اب یاد ہیں۔ البتہ برسوں بعد ایک گیت کے بول سنے جو اب بھی یاد ہیں۔ ’’راجا کی آئے گی بارات، رنگیلی ہو گی رات، مگن میں ناچوں گی‘‘۔ ابتدا میں جب یہ گانا سنا تھا تو راجا سے یہی سمجھا کہ اپنی طرف کی راجا برادری ہی کا کوئی آدمی ہوگا، جس کی بارات آنے والی ہے۔ بعد میں جب تھوڑی سی عقل آئی تو یہ غلط فہمی دور ہو گئی۔ پتا چلا کہ یہ ’راجا‘ کوئی عباسی بھی ہو سکتا ہے۔ اُس دور میں گیت ہوتے تھے نہ ناچ، محض ’گالیاں‘ ہوتی تھیں جو گائی جاتی تھیں۔ رات بھی رنگیلی لازماً ہوتی تھی مگر اس کا اظہار اس طرح کھلے بندوں نہیں کیا جاتا تھا، بالکل اسی طرح جس طرح کھلے بندوں روزہ نہیں کھایا جاتا تھا! یہ پانی سے بھرا ہوا گھڑا لا کر دولہا کے اوپر انڈیل دیا جاتا اور وہ بیچارہ پانی پانی ہو جاتا۔ بارات کی روانگی سے پہلے دولہا کو ویسے بھی غسل کرنا ہوتا تھا۔ ابتدا اسی سے ہو جاتی تو ٹھیک ہی ہوتا ہوگا۔

نندرہ ’نیتدرہ‘یا بھاجی غالباً ابتدا میں ایک رضاکارانہ تعاون کی صورت ہوئی ہو گی جسے لوگوں نے شروع کیا ہو گا بعد میں جسے حق کے طور پر وصول کیا جانے لگا۔ اس معاملے میں یادداشت اتنی تیز ہوتی کہ جہاں سے یہ رقم وصول نہ ہوئی ہوتی، دوسرے تیسرے دن بر سرِ عام پکار کر وصول کر لی جاتی۔ ولیمے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ آج کل بھی بعض جگہوں پر رخصتی کے دوسرے دن نہیں بلکہ پہلے روز ہی ولیمہ کی رسم ادا کر دی جاتی ہے۔ اس میں مذہب سے زیادہ سہولت اور معاشیات کا زیادہ دخل ہے۔عام طور پر دلہن کے لیے سونے کا زیور دینے کا رواج نہیں تھا۔ کانوں میں چاندی کی چھے چھے چوڑی نما بالیاں جنھیں ’بھادریاں‘ کہتے تھے، گلے میں چاندی کا ایک بڑا سا کڑا جسے ہنسیرا کہتے اور بعض اوقات ’دولاڑہ‘ یعنی دولڑیوں والا ایک ہار بھی دیا جاتا۔ ہاں ایک دو چاندی کی بنگاں (چوڑیاں) تو کہیں نہیں گئیں۔ بعض علاقوں میں نتھ اور پازیب بھی دینے کا رواج تھا لیکن یہ عام نہیں تھا۔ کچھ مالدار لوگ سونے کا زیور بھی دے دیتے۔ کانوں میں چھے چھے سوراخوں میں پہنی گئی یہ ’بھادریاں‘ کان کے اوپر والے حصے کو نیچے کی طرف جھکا کر ایسے کر دیتیں جس طرح انگوروں کا گچھا لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ کانٹا اور بالیاں بھی کانوں کے مشہور زیورات تصور کئے جاتے۔بالیوں کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا چاندی کا بالا بھی ہوتا۔ بالیاں کئی لیکن بالا صرف ایک، ذرا سائز میں بڑا۔ اسی سے تعدد ازدواج کے جائز ہونے کی دلیل ہاتھ آتی ہے ورنہ کوئی اور دلیل تو ٹھیک نہیں بیٹھتی۔ جھمکا دورِ جدید کا زیور ہے جو زیادہ تر بریلی کے بازار میں گم کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ بعد میں کانوں کے سوراخ بھی کم ہو گئے اور دو سوراخوں کے ساتھ صرف چاندی کے دو عدد بُندوں پر ہی اکتفا کر لیا گیا۔ شاید زیور کم ہو جانے پر خواتین کو افسوس ہوا ہو لیکن ان کو ریلیف بھی تو ضرور ملا ہوگا۔

کپڑوں کا ایک جوڑا بالکل نیا، شاید ایک آدھ اضافی بھی ’مور اوور‘ کے طور پر۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ ایک زمانے تک لڑکی والے بارات کا سارا خرچہ لڑکے والوں سے وصول کرتے، چاہے شادی عزیزوں میں ہوئی ہو یا غیروں میں۔ اسے ’رَم‘ کہا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ اسے معیوب سمجھا جانے لگا۔ چنانچہ کھلے بندوں تو یہ خرچہ نہ لیتے لیکن لوگ چوری چھپے اسے وصول کرتے۔ آج کل یہ رسم بالکل ختم ہے لیکن بعض مذہبی ملکوں میں کہا جانے لگا ہے کہ بارات کا خرچہ لڑکی والوں پر ڈالنا اسلام کی روح کے مطابق نہیں۔ سارا خرچہ لڑکے والے ہی کریں۔ہمارے معاشرے میں اس کی دوبارہ ابتدا تو نہیں ہوئی، شاید بعد کے وقتوں میں اس کی کوئی اور شکل سامنے آجائے۔ کہاں چاندی کا معمولی سا زیور اور ایک دو جوڑے کپڑے اور کہاں لاکھوں کے زیورات اور کپڑے۔ہمارا خیال ہے کہ جس طرح ہفتوں پہلے شادی کا میلہ اور بارات کو دولہا کے گھر رات کے قیام کا حکم وجوب تو کیا مستحب سے بھی گر کر ممنوع قرار دیا گیا، اسی طرح یہ لاکھوں کے اخراجات ایک دن ختم ہو جائیں گے اور لوگ اطمینان کا سانس لیں گے۔ یہ اجتہاد ایک دن ہو کر رہے گا۔ یہ ہمیشہ جاری رہتا ہے، چاہے زبان سے اس کا انکار ہی کیوں نہ کیا جاتا رہے۔

جاری ہے——

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: