امام شافعی کی کتاب الام سے میرا تعلق — عمار خان ناصر

1
  • 263
    Shares

کتاب الام، امام شافعی کی زندگی کے آخری دور میں مرتب کی جانے والی تصنیف ہے جب وہ مدینہ میں حجازی اور بغداد میں عراقی مکتب فکر کے اساطین سے تفصیلی استفادہ کے بعد قاہرہ منتقل ہو چکے تھے۔حصول علم کے اس طویل سفر میں امام شافعی اس نتیجے تک پہنچے کہ ان دونوں مکاتب کے منہج فکر اور آرا میں جہاں اخذ واستفادہ کے غیر معمولی مواقع اور علم وتفقہ کے شاندار مظاہر پائے جاتے ہیں، وہاں بہت سی آرا اور نتائج فکر قابل نقد بھی ہیں۔ ان نزاعی موضوعات کا تعلق زیادہ تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات واخبار کے رد وقبول سے تھا اور امام شافعی کے نقطہ نظر سے اہل عراق اور اہل حجاز، دونوں جہاں بہت سی ایسی روایات کو اپنے اجتہادات کی بنیاد بنا رہے تھے جن کا ثبوت علمی طور پر قابل اطمینان نہیں تھا، وہاں بہت سی صحیح اور ثابت شدہ احادیث کو بعض قیاسی وعقلی اصولوں کی بنیاد پر رد بھی کر رہے تھے۔ امام شافعی نے محسوس کیا کہ ان قابل نقد نتائج فکر کے پیچھے احادیث کے رد وقبول کے حوالے سے عراقی اور حجازی ائمہ کے کچھ اصولی رجحانات کارفرما ہیں اور ان کی غلطی واضح کرنے کے لیے علمی طور پر چند بنیادی اصولی مباحث سے تعرض کرنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے متعدد معاصر اہل علم کی جزوی فقہی آرا پر تنقیدی تحریریں لکھنے کے علاوہ مختلف اصولی مباحث کو بھی اپنا موضوع بنایا اور اصول فقہ کے بنیادی ترین اور اہم ترین مباحث کے حوالے سے اپنے نتائج فکر کو مختلف تصانیف، اور خاص طور کتاب الام میں بہت واضح اور منضبط انداز میں پیش کیا۔ ان مباحث کے حوالے سے کتاب الام کو افلاطون کے مکالمات سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اس میں ان علمی مباحث کا بھرپور تعارف اور تجزیہ ومحاکمہ ملتا ہے جو پہلی دو صدیوں میں فقہاء ومحدثین کے ہاں زیر بحث تھے۔ افلاطون کی طرح، امام شافعی نے بھی ان مباحث پر موجود علمی مواقف اور ان کے استدلال کا نہ صرف تفصیلی ذکر کیا ہے بلکہ ان سب پر مجتہدانہ نقد وتبصرہ بھی کیا ہے۔

امام شافعی کی کتاب الام کا ذکر پہلی دفعہ اپنے دادا محترم، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی زبان سے سنا تھا۔ وہ دوران درس میں بعض بحثوں کے ضمن میں اس کتاب کا حوالہ دیا کرتے تھے، اور خاص طور پر امام کے پیچھے فاتحہ کی قراء ت کی بحث میں ان کی تصنیف ’’احسن الکلام” میں کتاب الام کے اقتباسات بھی نقل کیے گئے ہیں۔ کتابوں کا حوالہ دینے میں دادا محترم کا خاص انداز یہ تھا کہ وہ یہ بھی بتاتے تھے کہ یہ کتاب ان کے ذاتی یا مدرسہ نصرۃ العلوم کے کتب خانے میں موجود ہے اور اس کے ابتدائی صفحات پر ان کے نوٹ کیے ہوئے اہم حوالہ جات بھی درج ہیں۔ کتاب الام کے متعلق بھی انھوں نے بتایا کہ اس کی سات جلدیں ہیں جن کے آخر میں امام شافعی کی کتاب الرسالہ بھی شامل ہے اور یہ مدرسہ نصرۃ العلوم کی لائبریری میں موجود ہے۔ یہ چار جلدوں میں مصر کا مطبوعہ نسخہ ہے جس کی ایک جلد میں کتاب کے ایک سے زیادہ حصے اکٹھے کر دیے گئے ہیں۔ گہرے سبز رنگ کی ریگزین سے مجلد یہ نسخہ آج بھی مدرسہ کی لائبریری کی زینت ہے اور اس پر دادا محترم اور غالبا بعض دیگر محققین کے نوٹ کیے ہوئے حوالہ جات بھی درج ہیں۔

کتابی ذوق کے تحت مدرسہ کی لائبریری میں آنا جانا رہتا تھا، اور دوسری بہت سی کتابوں کے علاوہ کتاب الام کو بھی الٹ پلٹ کر دیکھنے اور بعض مباحث پڑھنے کا اتفاق ہوا، لیکن باقاعدہ استفادہ کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ۱۹۹۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں تدریس کا آغاز کیا۔ ابتدائی دو تین سال چھوڑ کر باقی کے سالوں میں مشکوۃ المصابیح تقریبا مسلسل زیر تدریس رہی۔ اس کے فقہی مباحث سے متعلق مطالعے کے لیے حسب موقع کتاب الام سے بھی رجوع کیا جاتا تھا۔ طہارت کے ابواب میں اس بحث سے متعلق امام شافعی کے استدلال نے اس وقت مجھے متاثر کیا کہ مادہ منویہ ناپاک نہیں ہوتا۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے آدم کی تخلیق دو پاک چیزوں یعنی پانی اور مٹی سے کی تھی، اس لیے یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی ذریت کی تخلیق جس مادے سے کی جاتی ہے، وہ ناپاک ہو۔ روایات میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس پر لگے ہوئے مادہ منویہ کو کھرچ کا یا دھو کر صاف کر دیا جاتا تھا۔ امام شافعی کے نزدیک اس کی وجہ مادہ منویہ کا ناپاک ہونا نہیں، بلکہ کپڑے کو صاف کرنا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے تھوک، بلغم یا ناک کی رینٹ یا مٹی وغیرہ کپڑے پر لگ جائے تو صفائی کے لیے انھیں دور کر دیا جاتا ہے۔

میں نے دوران درس میں امام شافعی کے حوالے سے یہ استدلال مشکوۃ المصابیح کے طلبہ کے سامنے بیان کر دیا۔ سامنے چونکہ حنفی طلبہ بیٹھے تھے جو حنفی مسلک کے مطابق مادہ منویہ کو ناپاک سمجھتے تھے، اس لیے اس کی رپورٹنگ کی گئی۔ ہمارے چھوٹے دادا اور استاذ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ مدرسہ کے مہتمم بھی تھے اور مجھ پر خاص نظر شفقت رکھتے اور علمی بحث ومباحثہ میں شریک کرنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔ ان تک بھی یہ بات پہنچی اور انھوں نے ایک مجلس میں امام شافعی کی ذہانت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ امت کے ذہین ترین لوگوں میں سے تھے اور ان کی کتاب الام واقعتا متاثر کرتی ہے۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ شاہ ولی اللہ نے بھی حرمین کے قیام کے دوران میں کتاب الام کامطالعہ کیا تھا اور اس کے گہرے اثرات ان کے فقہی انداز فکر پر پڑے تھے۔
بہرحال یہ کتاب الام سے استفادہ کا پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرا موقع تب پیدا ہوا جب ۲٠٠۴ء سے ۲٠٠۷ء کے دوران میں جاوید احمد غامدی صاحب کے ادارہ، المورد سے وابستگی کے زمانے میں، میں جہاد کے موضوع پر تحقیقی کام کر رہا تھا۔ یہ ’’جہاد، ایک مطالعہ”کے نام سے چھپ چکا ہے اور اس میں اسلام کے تصور جہاد کے حوالے سے عہد نبوی وعہد صحابہ سے لے کر دور حاضر میں مولانا مودودی اور جاوید احمد غامدی صاحب کی پیش کردہ تعبیرات تک، امت کی مجموعی علمی فکر کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کام کے دوران میں امام شافعی کی کتاب کا اور خاص طور پر جہاد وسیر سے متعلق مباحث کا بہت غور سے اور تفصیلا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اس مقصد کے لیے میں نے غالبا دار الفکر بیروت کا طبع کردہ پانچ جلدوں پر مشتمل ایک نسخہ خریدا اور حسب روایت، اس کے ابتدائی صفحات پر ضروری حوالہ جات کا تفصیلی اندراج کرتا رہا۔ یہ نسخہ اب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری میں جمع ہے۔

پچھلے چند ماہ سے ایک اور تحقیقی کام کے سلسلے میں کتاب الام زندگی میں تیسری دفعہ باقاعدہ زیر مطالعہ ہے۔ اس دفعہ مطالعے کا موضوع قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اصولی فکر کے ارتقا اور مختلف علمی رجحانات کا تجزیہ ہے اور اس میں عہد صحابہ سے لے کر آج تک کے نمائندہ اصولی نظریات کا ایک مبسوط تجزیہ وتقابل پیش کیا جائے گا۔ اس بحث میں اگرچہ امام شافعی نے اپنا بنیادی نقطہ نظر اور اس کا استدلال ’’الرسالہ” میں بیان کر دیا ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ کتاب الام کے مختلف مقامات پر انھوں نے بہت اہم نکات بیان کیے ہیں اور خاص طور پر مخالف نقطہ نظر کے حامل اہل علم کے ساتھ اپنے علمی مجادلوں کی بھی تفصیلی روداد قلم بند کی ہے جو بعض پہلووں سے الرسالہ سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ایک بار پھر کتاب الام کے تفصیلی مطالعہ کی سعادت حاصل ہوئی اور اس مطالعے کا ماحصل ان شاء اللہ حالیہ تصنیفی کام کے علاوہ مستقل تحریروں میں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Respected team, I need it’s English translation
    With regards
    Irfan Jalal
    Research Scholar
    Islamic university of Science and Technology Awantipora Pulwama Kashmir

Leave A Reply

%d bloggers like this: