وحید مراد اور ہمارا عہد —- قسط 1 — خرم علی شفیق

0
  • 240
    Shares


’’وحید میراد اور ہمارا عہد‘‘، خرم علی شفیق کی انگریزی کتاب کا اضافہ شدہ اُردو ایڈیشن ہے جو کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے قسط وار پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف کی شہرت تو ماہر اقبالیات کے طور پر ہے مگر قارئین اس تحریر میں انکا یہ خوبصورت رنگ بھی دیکھ سکیں گے۔ دانش کے قارئین، وحید مراد کی برسی کے موقع پہ شروع ہونے والے اس سلسلہ کی دو اقساط ہر ہفتہ ملاحظہ کرسکیں گے۔

یہ ایک ادبی سوانح ہے جس میں وحید مراد کے حالاتِ زندگی کے علاوہ ایک مصنف، فلمساز اور اداکار کے طور پر اُن کی خدمات کا تجزیہ قومی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔


آج سے تقریباً سات سو سال پہلے جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک عظیم ریاست تھی جسے بہمنی سلطنت کہتے تھے۔ یہاں کے صوفیوں نے اُردو زبان کی ترقی میں بہت حصہ لیا جن میں سے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہیں اُردو کی پہلی مثنوی ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ لکھی گئی۔

وحید مراد کے آبا ؤ اجداد اِسی سلطنت سے وابستہ تھے۔ وہ یہاں بہت اونچی حیثیت رکھتے تھے اور اُن کا شمار قریب قریب شاہی خاندان میں ہوتا تھا۔ اُن کے نام اب تاریخ کے دھندلکے میں گم ہو چکے ہیں لیکن ایک عظیم تہذیب کی پرورش میں اُنہوں نے جو کردار ادا کیا ہو گا، اُسے محسوس کرنے میں علامہ اقبال کی نظم ’گورستانِ شاہی‘ ہماری رہنمائی کر سکتی ہے۔ اقبال نے یہ نظم اسی علاقے کے ایک شاہی خاندان کی قبروں کی زیارت کرتے ہوئے لکھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ تہذیب اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکی ہے لیکن اِس کے حُسن کا اظہار ہونا ابھی باقی ہے:

F-D-Murad

ہو چکا گو قوم کی شانِ جلالی کا ظہور
ہے مگر باقی ابھی شانِ جمالی کا ظہور

بہمنی سلطنت کا اختتام ۱۵۱۷ ء میں ہوا۔ اُس سے پہلے وحید کے بزرگ ہجرت کر کے کشمیر جا چکے تھے کیونکہ انہیں وہاں کے حکمران کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی۔ اُس وقت کشمیر کے مسلمان حکمرانوں کی پالیسی تھی کہ دُور دراز سے قابل افراد کو جمع کر کے ایک خوبصورت ثقافت کو فروغ دیں۔ کچھ اس پالیسی کی وجہ سے اور کچھ وہاں کے صوفیوں کی تعلیم و تربیت کی بدولت، کشمیر ’’ایرانِ صغیر‘‘ یعنی چھوٹا ایران کہلاتا تھا۔ وہاں کے حکمرانوں کی دعوت پر وحید کے بزرگ بھی چلے آئے، جس کے بعد یہ خاندان ’’نوبہمنی ‘‘ یعنی نیا بہمنی کہلانے لگا۔

اٹھارہویں صدی کے اواخر میں کشمیر کے حالات بھی بگڑنے لگے اور بہت سے کشمیری خاندانوں نے وہاں سے ہجرت کی، مثلاً اقبال کا خاندان وہاں سے نکل کر سیالکوٹ میں آباد ہوا۔ وحید کے بزرگ یعنی نو بہمنی خاندان کے لوگ بھی کشمیر چھوڑ کر سیالکوٹ آ گئے۔ یہاں اُنیسویں صدی میں اِس خاندان کے کرم الٰہی بہت بارسوخ شخصیت تھے۔ انہیں رئیسِ اعظم کہا جاتا تھا۔ ان کی حویلی کا نام ’’کرم لاج‘‘ تھا اور خاندان کی دوسری املاک میں سے ’’شیخاں دا باغ‘‘ اور ’’بابے دی بیری‘‘ نامی کنواں مشہور ہیں۔

میر حسن

۱۸۸۷ء میں شیخ ظہور الٰہی مراد پیدا ہوئے۔ یہ وحید کے دادا تھے۔ یہ اس خاندان کے پہلے فرد تھے جن کے نام کے آخر میں ’’مراد ‘‘ لگایا گیا۔ وجہ معلوم نہیں ہے لیکن اُس زمانے کے عام رواج کو دیکھتے ہوئے پہلی بات یہی ذہن میں آتی ہے کہ ممکن ہے اِس بچّے کی پیدایش سے ان کے والدین کی کوئی ’’مراد ‘‘ پوری ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ تصوّف کی زبان میں ’’مراد ‘‘ایک خاص قسم کے مرید کو کہتے ہیں جسے خدا خود منتخب کر کے اُس کے ذریعے اپنی توحید کو ظاہر کردے، اور اُس زمانے کے سیالکوٹ میں تصوّف کا رجحان اتنا زیادہ تھا کہ اقبال، جو پڑوس کے محلے میں رہتے تھے اور اُس وقت صرف دس برس کے تھے، اُن کے والد کی دکان پر بھی ابن عربی کی کتابوں کے درس دئیے جا رہے تھے اور اقبال اپنی کم عمری کے باوجود اُن میں شریک تھے! تیسری بات یہ ہے کہ ترکی کے عثمانی سلطانوں میں بھی مراد بیحد مقبول نام تھا اور ہندوستان کے مسلمانوں کو اُن کے ساتھ ایک خاص ہمدردی بلکہ عقیدت تھی۔

ظہور یعنی وحید کے دادا نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے اسکاچ مشن اسکول میں حاصل کی۔ اُن کے اساتذہ میں مولوی میر حسن بھی شامل تھے جن کی سب سے زیادہ شہرت اقبال کے اُستاد کی حیثیت میں ہے )علامہ نے اسی اسکول سے پرائمری تعلیم اُس برس مکمل کی تھی جب ظہور پیدا ہوئے)۔ میر حسن اپنے زمانے کی ایک ممتاز شخصیت اور سر سید احمد خاں کے وفادار ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بانیوں میں سے بھی تھے جو برصغیر میں مسلمانوں کی نمایندہ تنظیم تھی اور بعد میں اسی تنظیم نے آل انڈیا مسلم لیگ کو جنم دیا۔ ظہور، اُن کے نمایاں شاگردوں میں سے تھے۔ اقبال اکادمی نے میر حسن کی جو سوانح شائع کی ہے، اُس میں میر حسن کے شاگردوں میں ظہور کا تعارف بھی کروایا گیا ہے۔ ظہور نے ۱۹۲۹ء میں میر حسن کی وفات پر تعزیتی مضمون بھی لکھا جس کا عنوان ’زندہ دلانِ پنجاب کا اپنا سر سید‘ تھا۔

ظہور نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکیل بن گئے۔ کسی زمانے میں وہ بیگم صاحبہ بھوپال کے قانونی مشیر بھی مقرر ہوئے، جو بھوپال کی حکمراں تھیں اور علمی منصوبوں کی سرپرستی کی وجہ سے انہیں ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ سے تشبیہہ دی جاتی تھی (جب شبلی نعمانی نے’’ سیرۃ النبی‘‘ لکھنے کا منصوبہ بنایا اور قوم سے چندے کی اپیل کی تو بیگم صاحبہ نے تنہا ساری رقم ادا کر دی اور اِس طرح شبلی کی سیرۃ النبی لکھی گئی)۔

اسکاچ مشن اسکول

ظہور کے پانچ بہن بھائی تھے: فیروز الدین، خورشید بیگم، احمد بی بی، مہر الٰہی اور فضل الٰہی۔ ان سب کے ناموں کے آخر میں بھی مراد آتا تھا اور اس طرح یہ ایک خاندانی نام بن گیا۔ فضل الٰہی مراد کے صاحبزادے انور مراد بعد میں پاکستان نیوی کے اعلیٰ عہدے دار ہوئے، اور پھر ترکی اور سری لنکا میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔ لیکن ظہور کے بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ مشہور فیروزالدین ہیں۔

فیروزالدین نے فزکس کی تعلیم حاصل کی اور ’’ایف ڈی مراد‘‘ کے نام سے پورے برصغیر میں مشہور ہو گئے۔ وہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ طبیعات کے صدر تھے۔ آج بھی علیگڑھ یونیوسٹی میں ایم ایسی سی فزکس میں اول آنے پر اُن کے نام کا تمغہ ’’ایف ڈی مراد امام الدین میڈل ‘‘ دیا جاتا ہے (علیگڑھ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر تفصیل موجود ہے)۔ انہیں لکھنے سے بھی دلچسپی تھی۔ اقبال نے اپنے شاگرد حکیم احمد شجاع کے ساتھ مل کر اُردو کی نصابی کتابوں کا سلسلہ شروع کیا، تو اُس میں بھی ایف ڈی مراد کی سائینس کے موضوع پر تحریر شامل کی۔ انہوں نے شرلک ہومز کی کہانیوں کا اُن کے مصنف آرتھر کونن ڈائل کی خاص اجازت کے ساتھ اُردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اقبال کے ساتھ اُن کے خصوصی تعلقات تھے کیونکہ جب اقبال اپنے ’’تشکیلِ جدید ‘‘ کے موضوع پر اپنے مشہور لیکچرز دینے علیگرھ گئے تو فرصت کا کافی اُن کے ساتھ گزارا جس کی خبر اُس زمانے کے اخبار میں موجود ہے۔

ظہور سیالکوٹ میں غریب موکلوں کے مقدمے کسی معاضے کے بغیر لڑتے تھے۔ شراب کی فروخت اور حسن فروشی کے خلاف احتجاج میں پیش پیش تھے۔ انجمن حمایت اسلام سے بھی وابستہ تھے اور چاہتے تھے کہ اُن کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے قوم کی خدمت میں زندگی وقف کر دیں۔ اُن کے سب سے بڑے لڑکے ظفر نے مَرے کالج جموں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انجمن حمایت اسلام کے اسکولوں میں تعلیم دینے میں عمر گزاری اور ہیڈ ماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ظہور کی صاحبزادی انوری مراد نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا۔ وہ سیالکوٹ میں مشن گرلز اسکول کی وائس پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں (یہ وحید کے والد نثار کی سگی بہن اور وحید کی پھوپھی تھیں)۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: طوائف یا فن کار: سجاد خالد

 

آخری زمانے میں ظہور کو ایک شدید ذاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کے سب سے چھوٹے لڑکے نذید احمد ٹی بی کے شکار ہو گئے۔ انہیں ایبٹ آباد کے پرفضا مقام پر سینی ٹوریم میں بھیجا گیا لیکن وہ کچھ ہی عرصہ بعد صرف سترہ برس کی عمر میں ٹی بی میں فوت ہو گئے (خاندان میں مشہور ہے کہ ایبٹ آباد میں اُنہیں ایک تنور والی سے محبت ہو گئی لیکن ظہور نے اِس رشتے کی اجازت نہ دی)۔ ظہور کی شخصیت کا صوفیانہ پہلو بیٹے کی تدفین کے موقع پر سامنے آیا جب جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے بار بار خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔ کسی نے تعجب کا اظہار کیا تو اُنہوں نے کہا، ’’اگر خدا میرے بیٹے کو اُس کی پیدایش کے سترہ منٹ بعد مجھ سے واپس لے لیتا تو میں کیا کر سکتا تھا؟ یا سترہ مہینے بعد؟ میں خدا کا شکرگزار ہوں کہ اُس نے میرے بچے کو سترہ برس میرے پاس رہنے دیا۔‘‘

یہ ۱۹۳۰ء کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ قریباً اُسی زمانے میں نذیر سے بڑے لڑکے، نثار، سیالکوٹ سے بمبئی چلے گئے۔ بظاہر وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ ظہور نے رفاہی کاموں میں وقت صرف کرنے کی وجہ سے بچوں کے لیے کوئی خاص اثاثہ جمع نہیں کیا تھا۔

Gulbarga-Fort

نثار ۷؍ جون ۱۹۱۵ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ سنیما کا عشق انہیں اگر بمبئی پہنچنے سے پہلے نہیں تھا تو وہاں پہنچ کر ضرور ہو گیا۔ برطانوی ہندوستان میں یہ فلمسازی کا سب سے بڑا مرکز تھا جس کے بعد کلکتہ اور پھر لاہور کا نمبر آتا تھا۔ بمبئی میں نثار نے فلموں کی تقسیم کاری کے ادارے انڈیا فلم بروز (India Film Bros.) میں ملازمت اختیار کر لی۔
بمبئی ہی میں اُن کی ملاقات بیکانیر، راجستھان، کی ایک عیسائی خاتون سے ہوئی جو وہاں نرس کی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ خاتون نے اسلام قبول کر کے شیریں نام اختیار کیا اور نثار کے ساتھ اُن کی شادی ہو گئی۔ اس کے بعد کسی وقت نثار کی پوسٹنگ کراچی ہو گئی اور وہ بیگم کے ساتھ یہاں تشریف لے آئے۔

نثار اور شیریں کی واحد اولاد وحید مراد تھے جو ۲؍اکتوبر ۱۹۳۸ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ پیدایش کے وقت اُن کا نام وحید احمد رکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اُن کے دادا ظہور کا اپنے بھائی ایف ڈی مراد سے کچھ اختلاف ہو گیا تھا اس لیے ظہور نے اپنی اولاد کے ناموں میں لفظ ’’مراد ‘‘ شامل کرنا ختم کر دیا اور بڑے لڑکے ظفر کے سوا باقی بچوں کے ناموں کے آخر میں اس کی بجائے احمد کا اضافہ کیا۔ ظہور کی وفات کے بعد اُن کی اولاد نے ایف ڈی مراد کی اولاد کے ساتھ تعلقات بحال کر لیے جس کے بعد ناموں میں خاندانی لاحقہ ’’مراد‘‘ بھی واپس آ گیا۔ اس طرح نثار احمد، نثار مراد ہو گئے اور اُن کے کمسن لڑکے وحید احمد کا نام وحید مراد ہو گیا۔

ظہور کا انتقال اپنے پوتے وحید کی پیدایش کے چند ہفتے بعد ۱۰ نومبر ۱۹۳۸ء کو سیالکوٹ ہوا (اُسی دن ترکی میں مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک نے وفات پائی)۔
—جاری ہے—


اگلی قسط، ’’قومی تھیٹر‘‘ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔
تھیٹر، فلم اور تفریحات سے وابستہ شعبے اُس زمانے میں معیوب سمجھے جاتے تھے اس لیے ہمیں حیرت ہو سکتی ہے کہ ایف ڈی مراد کا بھتیجا اور ظہور الٰہی کا بیٹا نثار مراد فلمی صنعت سے وابستہ ہو گیا۔ لیکن زیادہ حیرت ہمیں اپنے آپ پر ہونی چاہیے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے عظیم ترین رہنماؤں کا تھیٹر اور سنیما کے ساتھ کیا تعلق تھا۔

اگلی قسط اس بارے میں ہے کہ مولانا حالی، سر سید اور علامہ اقبال نے تھیٹر اور سنیما کی ترقی میں کیا کردار ادا کیا اور وہ ذہنی ماحول کیا تھا جس میں وحید مراد نے آنکھ کھولی لیکن جس سے ہم بالکل بے خبر ہیں۔ اس قسط میں بعض ایسی معلومات بھی پیش کی جا رہی ہیں جو آج سے پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: