بلاول بھٹو اور بھینسے کے مغز کی نہاری ۔ میاں ارشد

0

گزشتہ رات ہم گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے کہ اچانک باہر لان میں کچھ شور اٹھا، نظر پڑی تو کیا دیکھا کہ ایک دیو عظیم الشان، بشکل حافظ صفوان کھڑا ہے ۔ اپنی تو جان ہی نکلنے کو تھی، لیکن حوصلہ کر کے پوچھا، بھائی صاحب آپ کا تعارف؟ تو کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جو دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ ہم نے ٹھنڈی سانس لی اور عرض کیا کہ صورت تو تم نے بہت مومنانہ اختیار کی ہے، بولا اسکا بہت لیوریج ملتا ہے۔ میں نے استفسار کیا، فرمائیے جناب کیسے تشریف لائے۔ کہنے لگا کہ بلاول بھٹو کو ایک پیغام دینا ہے اس لئے آیا ہوں۔ہم نے کہا میں تو ابھی پچھلے گناہوں کی معافیاں مانگ رہا ہوں، تم نے مزید بوجھ لادنا شروع کر دیا ہے، ہم سب میں سے کسی کو لے لیتے، یا میرے دوست جنہیں خواب دیکھنے کی عادت ہے انکو اس خدمت کیلیے ایلیویٹ کر لیتے؟ کہنے لگا وہ آجکل ایک بنک کی اعلی افسر گوری کے خواب دیکھ رہا ہے، یہ عشق کا بھوت جسکو لگ جائے وہ میرے کام کا نہیں رہتا۔ میں نے کہا اس کا عشق سے کیا واسطہ ؟ فرمایا کہ اسے تو ہر چھ ماہ بعد کسی نہ کسی سے عشق ہو جاتا ہے اور ہر دفعہ یہ پہلے سے زیادہ سچا ہوتا ہے۔

پھر کہا غور سے سنو تم نے بلاول کو ایک مشورہ پہنچانا ہے۔ میں نے کہا جی فرمائیے۔ بولا اسے کہنا کہ بھینسے کے مغز کی نہاری کبھی نہ کھائے۔ میری حالت دیدنی ہو گئی اور میں نے کہا کہ تم اس بے ہودہ مشورے کو میرے ذریعے اس تک پہچانے کا کہہ رہے ہو۔ بولا یہ بے ہودہ نہیں ہے اس میں بہت گہرائی کا وزڈم ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ بھینسے کے مغز کی نہاری کھانے سے انسان کے اندر اقربا پروری پیدا ہوتی ہے اس لیے اسے صرف اپنے خاندان کے لوگ ہی اہل نظر آتے ہیں اور وہ وزارتوں کو ان میں ریوڑیوں کی طرح بانٹتا ہے جس سے عوام میں خوامخواہ کا احساس محرومی پیدا ہوتا ہے حالانکہ اگر وزارتیں اپنوں کو نہ بھی دی جائیں تو کونسا انکی حالت بہتر ہو جانی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کو کھانے سے انسان علم دشمن ہو جاتا ہے اور کسی شاعر ادیب کو نزدیک نہیں پھٹکنے دیتا حالانکہ سیاستدان خواہ سویکارنو جتنا کرشماتی ہی کیوں نہ ہو اسے کیرزما  شعرا اور ادیب ہی دلاتے ہیں اور اس خدمت کیلیے نہ تو وزارت مانگتے ہیں اور نہ ہی ہائی کورٹ میں تعیناتی، لیکن نہاری کھانے سے اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس نہاری کھانے سے تجارت اور حریت کا فرق سمجھ نہیں آتا اور مسئلہ کشمیر پیچھے چلا جاتا ہے اور بلاول کے لئے یہ غلطی کرنا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ چوتھی بات یہ ہے نہاری کھانے والے اچھی بری حکومت تو کر سکتے ہیں لیکن ایک سیاسی پارٹی کا کلچر نہیں بنا سکتے اور عوام سے دور ہو جاتے۔ ایسے رہنما چند قصیدہ گوؤں کے گھیرے میں آجاتے ہیں جبکہ پارٹیاں کلچر سے بنتی ہیں خاندانوں کے تو مافیا ہوتے ہیں۔اور ہاں اسے یہ بھی کہنا کہ ماموؤں سے بچ کر رہے ان میں سے کئی ایسے ہیں جو نہ صرف تمہاری دو نسلوں بلکہ ایک پوری معزز کمیونٹی کو ماموں بنا چکے ہیں۔

میں نے کہا باتیں تو تمہاری سبھی درست لگ رہی ہیں لیکن تمہارا کام تو ہمیشہ برائی پھیلانا ہے یہ تم اچھائی کے پرچارک کب سے بن گئے۔ اس نے ایک ممتاز کالم نگار کی مانند قہقہہ لگایا اور کہا کہ  یہ سب  الزامات مجھ پر ملا نے لگائے ہیں ورنہ میں تخلیق کا پوشیدہ ترین راز ہوں۔ میں ہی نئی ایجادات، تمام تر تخلیقی قوت اور انسان کی سر بلندی کا محرک ہوں۔ ہم نے اپنی کم علمی کے باعث بحث سے جان چھڑانا چاہی اور بات بدلنے کے لئے کہا کہ چلو اب اپنی اصل صورت بھی دکھا دو تو اس نے اپنا چہرہ تبدیل کیا تو سامنے میرے استاد گرامی کی صورت نورانی آگئی اور میری آنکھیں کھل ہی گئیں۔

About Author

میاں ارشد صاحب لاہور میں مقیم ہیں اور پیشہ وکالت سے وابستہ ہیں۔ ترقیاتی تنظیموں اور کارپوریٹ اداروں کے مشیر ہیں اور ادب فلسفہ اور سماجیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ادبی مطالعہ نے انکی نثر کو چاشنی عطا کی ہے اور سنجیدہ فکر نے تحریر کو گہرائی۔ اردو ویب اور سماجی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں مختلف پہلووں سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: