اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں روسی لائحہ عمل —– قمر الہدیٰ

0
  • 12
    Shares

افغانستان سے انخلا کے تقریباً 30 سال بعد ماسکو نے ماہِ رواں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں طالبان کے وفد سمیت 12 ملکوں نے شرکت کی۔ صدر اشرف غنی کی حکومت نے افغانستان کی نمائندگی نہیں کی، تاہم کابل نے ہائی پیس کونسل کے ایک اہل کار کو شرکت کے لیے بھیجا۔ ہائی پیس کونسل جہادی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے اہتمام و انتظام کا کام انجام دیتی ہے۔ روس یہ جانتے ہوئے کہ عالمی طاقتوں کی “گریٹ گیم” نے ماسکو کے لیے بہت سے در وا کر دیے ہیں، لیبیا سے لے کر افغانستان تک وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل اور ثالثی کی کوششوں میں بڑا کرادار ادا کر رہا ہے۔

ابھرتا ہوا روس:
طالبان اور کابل کے مابین مؤثر ثالثی پر قادر عظیم طاقت کے طور سے اپنے آپ کو پیش کرنے کی غرض سے روس دوحہ، قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھا رہا ہے۔ طالبان کے ایک چوٹی کے سیاسی نمائندے محمد عباس ستانکزئی نے کہا، “ہم موجودہ افغان حکومت کو جائز اور قانونی حکومت نہیں مانتے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔” طالبان کا مقصد ہے کہ انھیں ایک جائز و قانونی افغان تحریک کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کر لیا جائے۔ روسی ان کے اس مقصد کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

در ایں اثنا ریاستِ ہائے متحدہ امریکا کا قابلِ لحاظ سیاسی مقام تسلیم کر لینا عالمِ اسلام کے قلب میں کلیدی نوعیت کے خِطّوں بالفاظِ دیگر شمالی افریقا، مشرقی بحیرۂ روم کے ساحلی ملکوں، جزیرہ نمائے عرب، ترکی سے ایران تک کے شمالی سرے اور جنوبی ایشیا سے پرے ایک اہم جیوپولیٹیکل کھلاڑی کی حیثیت سے روس کے ابھار کا واحد سبب نہیں۔ سوویت روس کے انہدام کے بعد ماسکو کو جیو پولیٹیکل اعتبار سے بحال کرنے کی صدر ولادی میر پوٹن کی کوششیں بالخصوص اور کریملن کا اپنی دو کروڑ بیس لاکھ مسلم آبادی کی فکر کرنا روس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کےسبب ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور مسلم اکثریتی ملکوں کے لیے پوٹن کی جارحانہ پالیسیوں کا حقیقی محرک کیا ہے؟

تین غالب عوامل مسلم اکثریتی ملکوں کے ساتھ پوٹن کے روابط کی صورت گری کر رہے ہیں: روس کی مسلم برادریاں (بالخصوص شمالی کاکیشیا کے خطے میں جاری شورش)، وسطِ ایشیا کی سابق سوویت جمہوریاؤں کی غالب مسلم برادریاں اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا کے مسلم جیو پولیٹیکل دباؤ کو روس کے علاقے سے باہر رکھنے کی خواہش۔

مسلم گھیرے کا خوف:
پوٹن روسی مسلم تاتاریوں کی عثمانیوں اور صفویوں کے ساتھ تاریخی عقیدت و وفاداری اور کرائیمیا کے ان کے ساتھ تعلقات کو سمجھتے ہیں۔ اگرچہ روس نے 1994ء-2000ء کی چیچن بغاوت بزور کچل دی تھی، تاہم پوٹن جہادسٹ شورش کی طرف سے فکر مند ہیں بالخصوص داعش کے زمانے میں۔ سالِ رواں چیچنیا میں ایک چرچ پر بم حملہ اور متعد خود کُش حملے کیے گئے ہیں۔ پڑوس میں واقع داغستان بھی ایسا علاقہ ہے جہاں ریڈیکل ازم ابھر سکتا ہے، جہاں جہادسٹ کاکیشیائی خلافت کا اعلان کر چکے ہیں۔ پورے روس سے تقریباً 2,500 نوجوان مسلمان شام میں لڑنے کی داعش کی پکار پر لبیک کہ چکے ہیں۔

ماسکو کو اس امر پر بھی تشویش ہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے گروپ ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان میں وفاداریاں حاصل کر چکے ہیں۔ مثال کے طور سے ماہِ رواں تاجکستان کے شمالی علاقے کے ایک قید خانے میں ہونے والے ہنگامے کی ذمہ داری داعش کے لڑاکوں نے قبول کر لی ہے۔ اس ہنگامے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 2011ء کی عرب بہار تحریکیں پوٹن کے لیے ڈراؤنا خواب تھیں۔ روس کو خوف تھا کہ عرب بہار اس کے اپنےعلاقوں میں اسلامسٹوں کی زیرِ قیادت مسلمانوں کی عوامی تحریکوں کا باعث بن سکتی ہیں اور اسے یقین تھا کہ انتہا پسندانہ اسلام ازم اور سلفسٹ جہادسٹ تحریکوں کا پھیلاؤ “اعتدال پسند” روسی اسلام کے لیے خطرہ ہوں گی۔ پوٹن کو خوف تھا کہ سلفسٹ جہادسٹ تحریکیں شام میں روس کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر کے کاکیشیا سے لے کر وسطِ ایشیا تک اسلامسٹ لڑاکوں کے تعاونِ باہمی کا مربوط سلسلہ بنا دیں گی اور آخر الامر شمالی کاکیشیا کے روسی صوبوں پر پوٹن کے کنٹرول کے لیے خطرہ بن جائیں گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ماسکو فارمیٹ: طالبان کے ساتھ بھارت کے رابطے —— پروفیسر ضمیر اعوان

 

شام کے لیے پوٹن کی تشویش حقیقت بن گئی۔ 2012ء کے اواخر تک القاعدہ کی شامی شاخ کے علاوہ دوسرے سلفسٹ جہادسٹ گروپ شام کی حزبِ اختلاف میں غالب مقام حاصل کر چکے تھے۔ 2013 ء میں داعش کے رونما ہونے سے یہ گروپ بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کے لیے سنگین خطرہ بن گئے۔ روس کا اپنے داخلی خطرات سے نمٹنے کا تقاضا شام میں پوٹن کے عسکری اعتبار سے ملوث ہونے کا سبب تھا۔

ملوث ہونے کی ضرورت:
اس ہنگامہ خیز و پُر آشوب تناظرمیں روس جانتا تھا کہ وہ مسلمان مذہبی عاملین اور برادریوں کو مسلسل نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور سے 2016ء سے روس مرکزی دھارے کے اسلام کی تعیین کے لیے بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کر رہا ہے اور معروف مسلمان مذہبی راہ نماؤں کی میزبانی کر کے روایتی اعمال و رسوم اور عقائد کو اہمیت دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے وہابی علما کے سِوا پورے عالمِ اسلام سے 200 سے زیادہ سُنّی علما کو 2016ء کی گروزنی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس کا عنوان “اہل السُنّۃ و الجماعۃ کیا ہے؟” تھا۔

گو کہ کانفرنس کا باقاعدہ بیان کردہ مقصد تو روایتی سُنّی اسلام کی تعریف کا تعین تھا، تاہم اس اجلاس کا مقصد یہ امر واضح کرنا تھا کہ سلفی تعبیرات گم راہ کُن اور غلط ہیں۔ گروزنی کانفرنس میں مصر سے بڑا وفد شریک ہوا جس میں الازہر کے امامِ اعظم؛ موجودہ مفتیِ اعظم شیخ شوقی علام؛ مصر کے امورِ مذہبی کے نمائندے شیخ اسامہ الازہری اور مصر کے سابق مفتیِ اعظم شیخ علی جمعہ شامل تھے۔ شام کے مفتیِ اعظم احمد بدر دین حسون اور عدنان ابراہیمی جیسےمعروف علما نے کانفرنس میں شرکت کی۔

ماسکو میں شان دار مسجد کا افتتاح کرتے ہوئے پوٹن نے کہا، “روایتی اسلام روس کی حیاتِ روحانی کا جزوِ لازم ہے۔ اسلام کی انسانی اقدار، ہمارے دوسرے مذاہب کی اقدار کی طرح، لوگوں کو درد مندی، انصاف اور اپنے پیاروں کا خیال رکھنا سکھاتی ہیں۔” مزید بر آں زیادہ بہتر مذہبی ارتباط کے حصول کی غرض سے پوٹن نے “روس کے مفتیوں کی کونسل” اور اوفا شہر میں “دفترِ مسلم روحانی مقتدرہ ” قائم کیے۔ “دفترِ مسلم روحانی مقتدرہ” شمالی کاکیشیا میں سرگرمیوں کے انتظام و انصرام کا مرکز ہے۔

“مرکزی دھارے” کے روایتی اسلام کی تعیین میں روس کی بڑھتی ہوئی دل چسپی نے اسے مذہب کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا موقع دیا ہے …… جیسے کہ افغان امن مذاکرات میں اپنے آپ کو شامل کرنا۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگی لاواروف نے طالبان امن عمل کے اجلاس کے موقع پر کہا، “روس افغانستان میں تعمیری مکالمے کے آغاز کے لیے ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی غرض سے آج اس میز پر جمع ہونے والے افغانستان کے علاقائی پارٹنروں اور دوستوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔”

مسلمانوں کے عالمی مذہبی راہ نماؤں کے ساتھ روس کے روابط سے ایک یقینی امر عیاں ہے کہ پوٹن مذہبی سفارت کاری کی قوت اور ملکی و بین الاقوامی سامعین کو متاثر کرنے کے لیے سوفٹ پاور کے استعمال کو سمجھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے سلامتی اور جیوپولیٹیکل عوامل مسلم اکثریتی ملکوں کے ساتھ روس کی مذہبی سفارت کاری کے ماخذ ہوں لیکن روسی یہ سبق سیکھ چکے ہیں کہ سفارت کاری متعدد پالیسی اہداف حاصل کر سکتی ہے ….. اور اکیسویں صدی میں سفارت کاری کے لیے مذہب سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: