تارڑ صاحب کا نیا ناول: منطق الطیر، جدید — علی عبداللہ کا خوبصورت تبصرہ

0
  • 42
    Shares

مارچ 1939 میں پیدا ہونے والے مستنصر حسین تارڑ کو کون نہیں جانتا؟ یہ ایک ایسا بہروپیا ہے جو کبھی آپ کو شمال کے پہاڑوں پر کسی جپسی کی مانند قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا ہوا اور اٹھکیلیاں کرتا ہوا دیکھائی دے گا تو کبھی اپنا منہ ول کعبے شریف کر کے روحانیت سے بھرپور ایک ایسے عاشق کی مانند چلتا دکھائی دے گا، جو دیدار یار کی خاطر چلے تو جان سے بھی گزر جانے کو تیار ہوتا ہے- یہ وہ مورت ہے جو کبھی ماسکو کی سفید راتوں میں کہر اور جاڑے کو محسوس کرتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی وہ خانہ بدوش بن جاتی ہے جو بہتے سندھ کے ساتھ خود تو بہتی ہی ہے مگر ساتھ اپنے چاہنے والوں کو بھی تاریخ کے دریا میں بہا لے جاتی ہے- لاہور کی تنگ گلیوں سے جھانکتا یہ آوارہ لاہوری گزرے وقتوں کی داستانیں سنانے کو اپنے گرد ایک جمگھٹا اکٹھا کیے ایسا ساحرانہ انداز اختیار کرتا ہے کہ اس کا سحر کو بہ کو پھیلتا دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ اندلس میں اجنبی بنتا ہے تو غار حرا میں یوں آشنا کہ رات گزارے بنا رہ نہیں سکتا اور پھر اچانک وہاں سے اڑ کر پورن کے کنویں سے ہوتا ہوا نیشا پور کے عطار کے پرندوں سے متاثر ہوتا ہے اور ٹلہ جوگیاں جانے والے پرندوں سا ایک پرندہ بن کر جستجو، بے نیازی اور خود شناسی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے ساتھ اپنے قارئین کو بھی مائل پرواز کر دیتا ہے۔

پرندے ہو یا پرواز یا پھر بہاؤ، مستنصر حسین تارڑ اپنی ہر کتاب میں ایک منفرد اسلوب اختیار کرتے نظر آتے ہیں اور یہی منفرد انداز ایک بار پھر ان کے نئے ناول منطق الطیر، جدید میں نظر آتا ہے۔  نیشا پور کے خواجہ فریدالدین عطار کی منطق الطیر، جس کے پرندے مولانا روم کی نظروں کو ساکت کرتے ہیں وہی پرندے تارڑ صاحب کی نظروں کو بھی خیرہ کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ مولانا روم نے کہا تھا ”عطار عشق کے سات شہروں سے گزرا، جب کہ میں ابھی پہلی گلی کے موڑ پر ہوں” لیکن مستنصر حسین نہ تو رومی ہے اور نہ ہی عطار مگر انہوں نے ناول منطق الطیر، جدید میں رومی و عطار کے اس پیوند زدہ نقش پا کو چھونے کی کوشش کی ہے جو زمانوں سے عشق کی راہ پر گامزن ہے۔ منطق الطیر، جدید کے ذریعےگزرے زمانوں کو زندہ کر کے تارڑ صاحب نے اس ناول کا انتساب عطار کے نام ان لفظوں سے کیا ہے، “پرندوں کی بولیاں میرے کانوں میں پھونکنے والے مرشد عطار کے نام”۔

اس ناول میں مصنف نے اپنے سات پرندوں کا مسحورکن انداز میں تعارف کروایا ہے جو اپنے اپنے زمانوں سے نکل کر نئے سچ کی کھوج میں محو پرواز ہوتے ہیں- ایک پرندہ طور کی سلگتی اس جھاڑی کے اندر موجود تھا جس کا بیج کہیں آسمانوں سے گرا، طور کی مٹی میں دفن ہو کر پھوٹا اور پھر عشق کی آگ کی تپش میں سلگنے لگا۔ وہ پرندہ اپنی مختصر حیات کے دن اسی جھاڑی میں بسر کر لیتا لیکن طور کے دامن میں ایک چرواہا عصا ٹیکتا آیا اور اس جھاڑی میں ایسی آگ روشن ہوئی کہ اس کے بال و پر جلنے لگے اور وہ فرار پر مجبور ہو گیا- آبائی مسکنوں سے فرار ہونے والے پرندوں میں بدھ کے فاقہ زدہ بدن سے نکلنے والا وہ پرندہ بھی شامل تھا جس کے دل نے بھی بغاوت کی تھی اور اسے طور کے پرندے کی پرواز کا الہام ہوا تو وہ بھی مائل پرواز ہوگیا۔ ابن مریم کے بائیں ہاتھ میں ٹھونکی گئی میخ کے نتیجے میں نکلنے والے خون کی ایک بوند نے جب اپنے اکیلے ہونے اور بے یار و مددگار ہونے کی فریاد کی تو اس بوند سے ایک ناخن جتنا پرندہ وجود میں آیا اور ابن مریم کے پیاسے ہونٹوں کو تر کرنے کے لیے دریائے اردن کے پانیوں میں جہاں کبھی یحی نے لوگوں کا بپتسمہ کیا تھا اپنی چونچ ڈبوکر ایک بوند پانی کی لی اور واپس ابن مریم کے ہونٹوں پر جمی پپڑی کو تر کیا۔ وہ مسلسل عیسی کی صلیب اور دریائے اردن کے درمیان اڑان بھرتا رہا اور ایک بار جب واپس آیا تو صلیب پر ابن مریم موجود نہ تھا وہ تو بلندیوں کی جانب جا چکا تھا۔ اس پرندے نے صلیب کو مسکن بنا کر اس کی جدائی میں کئی صدیاں بیتا دیں اور اب اس کا دل بھی شک کے بوٹے میں اٹکا اور وہ بھی محو پرواز ہوا۔

غار حرا کے شگافوں میں سے چاندنی کے جزیرے اترتے تھے۔ ان شگافوں میں سے ایک شگاف کے اندر وہ پرندہ ازل سے مقیم تھا جو فنا سے آشنا نہ تھا۔ غار کی بلند تنہائی میں خلقت سے الگ ہو کر گیان و دھیان میں گم بیٹھنے والوں کے کندھوں پر یہ پرندہ بیٹھ کر وحدت کے گیت گاتا اور ان کا مونس و غم خوار ہو جاتا تھا- پھر ایک دن اقراء کی شب آئی اور وہ شخص جس کا سایہ کائناتوں پر محیط ہونے والا تھا اور جس کی آغوش میں ایک زمانہ روپوش ہونا تھا جب بھی وہاں قدم رکھتا تو اس گپھا میں بے انت چراغ جل اٹھتے اور ہر سو روشنی ہو جاتی- پرندے کی آنکھیں چندھیا جاتیں اور وہ پھڑپھڑاتا ہوا اپنے شگاف سے نکل کر اس کے پاؤں میں گر جاتا اور اس کی بوسیدہ ہوتی جوتیوں کی ہر گانٹھ میں اپنا دل رکھ دیتا- آخری بار جب وہ آیا اور اگر پرندے کو معلوم ہوتا تو وہ اس کی گانٹھوں کے ساتھ ہی جبل نور سے اتر جاتا- چودہ سو برسوں تک وہ جدائی کی آگ میں سلگتا اس کا انتطار کرتا رہا اور پھر اپنے شگاف گھونسلے سے نکلا، جبل نور پر بلند ہوا اور خانہ کعبہ کے گرد ابابیلوں کے ایک غول سے بچتا ہوا اڑ گیا۔ آتش پرست بلخ سے یوں نکالے گئے جیسے مدینے کے یہودی معاہدے کی خلاف ورزی پر نکالے گئے تھے- لیکن وہاں موجود وہ پرندہ جو بلخ کے آتش کدے کی راکھ میں ققنس کی مانند بھسم ہوتا اور اسی راکھ سے جنم لیتا رہا تھا اور اویستا کی قرات کرتا رہا تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں ایمان نہ لا سکا۔ آتش پرستی سے تائب نہ ہو سکا اور بجھ چکی آگ میں مقیم، بھسم ہوتا اور دوبارہ زندہ ہوتا رہا۔ بار بار مرتا اور بار بار نئے جنم لے کر زندہ ہوتا وہ پرندہ بیزار ہو چکا تھا- وہ اپنی ابدی حیات کو داؤ پرنہ لگاتا اگر اسے بلخ کے کھنڈروں میں ایک عجیب ارتعاش سنائی نہ دیتا۔ اسے خبر ہو گئی تھی کہ اس کےہم جنس کوہ طور سے اتر رہے ہیں، بدھ کی پسلیوں میں سے، عیسی کی صلیب کے شہتیروں میں سے، غار حرا کے شگافوں میں سے اپنے آشیانے ترک کر کے نکل پڑےہیں تو وہ بھی اپنے بال و پرسے اس راکھ کو جھاڑ کر جو اسےبار بار زندہ کرنے پر قادر تھی، بلخ کے کھنڈروں پر بلند ہوا- قرۃ العین طاہرہ خاتون عجم کا گلا گھونٹنے والے یہ نہ جان سکے تھے کہ اس کے پیراہن میں پرویا ہوا ایک پرندہ اس کے شعروں کا حافظ ہے- اس پرندے نے طاہرہ کی ہڈیوں میں سے پھوٹنے والی عشق کی چنگاری سے ہونے والی روشنی میں کنویں کے اوپر تنے ہوئےنیلے افلاک میں چھید کیا اور پرواز کر گیا کیونکہ اسے بھی ان پرندوں کی خبر ہو چکی تھی۔

حلاج کو جب نذرآتش کر کے دریائے فرات میں بہایا گیا تو اسی راکھ سے اس پرندے نے بھی جنم لیا تھا اور اپنے دل میں پڑی گانٹھ اور کھینچی جانے والی ڈور سے وہ بھی با خبر ہوا اور فرات کے پانیوں سے اٹھا، حلاج کے لہو میں نچڑتا بلند ہوا کہ جہاں جہاں سے وہ پرواز کرتا گزرتا، اس کے پروں تلے سرکتی زمین پر لہو کی بوندیں گرتی گئیں، اناالحق کے سرخ پھولوں کی فصلیں پھوٹتی گئیں لیکن سب کی سب سر بریدہ- صرف یہی نہیں بلکہ ان سب کے متوازی ایک کردار موسی حسین بھی ہے جو اپنی ناتواں کڑکتی ہڈیوں کے ساتھ ٹلہ جوگیاں کا مسافر ہے اور اولاد کی خواہش میں پورن کے کنویں سے ہوتا ہوا بلآخر وجدان اور وارفتگی کو اپنے نصیب میں ڈھونڈنے نکلتا ہے اور اسی ٹیلے پر ان پرندوں سے ملتا ہے جہاں وہ ساتوں پرندے اپنے اپنے زمانے کا کٹھن سفر کر کے اکٹھے ہوتے ہیں۔ موسی حسین ایک طرف اولاد سے محرومیت کی اذیت برداشت کرتا ہے تو دوسری جانب اپنی بد زبان اور چڑچڑی عورت کے نازیبا الفاظ سے بھی دلبرداشتہ نظر آتا ہے۔ مزید ان پرندوں کے ساتھ ہیر، سوہنی اور صاحباں کے نور کے پرندوں کا اترنا ناول کو مزید دلچسپی کا باعث بنا دیتا ہے-

منطق الطیر، جدید اتنا آسان ناول نہیں ہے۔ علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں تجریدی رنگ بھی دکھائی دیتا ہے۔ قاری اگر مذہبی روایات، تاریخ اور اساطیر سے واقف نہ ہو تو وہ یہ ناول دو چار صفحات پڑھنے کے بعد ہی رکھ دے گا یا پھر یہ اس کے سر سے گزر جائے گا۔ صوفیانہ رنگ لیے کئی زمانوں کی سیر کرواتا ہوا یہ ناول قاری پر ایک عجب رنگ طاری کرتا ہے کہ وہ خود کو جستجو کا پرندہ محسوس کرنے لگتا ہے- یہ ناول بذات خود ٹلہ جوگیاں کا وہ پہاڑ ہے جسے عبور کرنے والا مجاز کے اندھیروں سے پھوٹنے والی حقیقت کی تیز روشنی کو روح میں اترتا ہوا محسوس کرتا ہے اور جگہ جگہ اٹکتا، گرتا اور نئے رازوں سے واقفیت حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ ناول عطار کی منطق الطیر تو نہیں لیکن یہ ان زمانوں کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے- مستنصر حسین تارڑ کے اس ناول کو ایک بہترین ادبی شاہکار کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ اتنے حساس موضوع کو فکشن میں ڈھال کر اسے مزید حساس اور پراثر بنا دینا سوائے چاچا جی کے اور شاید کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: