ماسکو فارمیٹ: طالبان کے ساتھ بھارت کے رابطے —— پروفیسر ضمیر اعوان

0
  • 195
    Shares

افغانستان میں امن اور خوش حالی کے حصول کے لیے “ماسکو فارمیٹ” ایک نئی پہل قدمی ہے۔ چوں کہ امریکا کی زیرِ قیادت امن عمل مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا، اس لیے روس نے پہل قدمی کرتے ہوئے ان سارے ملکوں کو، جن کا نفع نقصان افغانستان میں امن سے جُڑا ہوا ہے، دعوت دی کہ مل کر بیٹھیں اور افغانستان کے مستقبل کے لیے تفصیلی منصوبہ تیار کریں۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے افغانستان، امریکا، پاکستان، ایران، بھارت، افغانستان کی سرحدوں سے متصل پانچ وسط ایشیائی ریاستوں اور طالبان کو ماسکو میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔ ابتدا میں امریکا، افغانستان اور بھارت نے اس عمل میں شرکت سے انکار کر دیا تھا لیکن آخرِ کار وہ سارے مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو گئے۔ بھارت کی نمائندگی ٹی سی اے راگھون نے کی، جو پاکستان میں بھارت کے سفیر رہ چکے ہیں۔ فیصلے کے وقت سے مذاکرات میں بھارت کی شمولیت اور طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے اور یوں انھیں قانونی درجہ دینے کو زیادہ سے زیادہ جانچا جا رہا تھا۔

طالبان کے ساتھ بھارت کی مفاہمت:
طالبان حکومت ختم کیے جانے کے بعد سےبھارت نے افغانستان میں یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی حکومتوں کوامداد و اعانت دی ہے۔ بھارتی فوج افغان نیشنل آرمی کو طالبان کی شورش سے نمٹنے کے لیے تربیت دے رہی ہے اور انھیں ہتھیار فراہم کر رہی ہے۔ وہ طالبان کو کسی بھی اعتبار سے تسلیم کرنے سے انکار کرتا آیا ہے۔ بھارت افغانستان کے زیریں ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور سرکاری و غیر سرکاری ذرائع سے ملک میں اپنا اثر و نفوذ بڑھا رہا ہے۔

بھارت کو افغانستان میں زیریں ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مختلف بین الاقوامی ذرائع سے بھاری مقدار میں ترقیاتی فنڈ بھی مل رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے اس کی سا ری کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ افغان حکومت کی ملک پر گرفت کم زور تر ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ طالبان آگے بڑھتےچلے جا رہے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق افغانستان کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس فی صد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بد عنوانی اور نا اہلی کی دلدل میں دھنسی افغان حکومت افغان عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

افغان نیشنل آرمی کا حال بھی دگر گوں ہے۔ امریکی حکومت کے ایک نگران ادارے سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (ایس آئی جی اے آر) کی ایک رپورٹ سے عیاں ہوا ہے کہ افغان فوج کی تربیت پر 70 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکی اس کام میں ناکام رہے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کی امریکی کوششیں حکومت کی ناکامی اور ناموزوں تربیت کاری کے باعث رکاوٹوں سے دوچار رہی ہیں۔ ایس آئی جی اے آر کے آڈیٹر نے عوامی سطح پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ شورش پسند ہماری سپلائی چین کے آخری سِرے پر موجود ہیں۔ ”

ان حالات میں ہو سکتا ہے کہ بھارت کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہو کہ اس نے غلط فریق کی حمایت کی تھی اور اسی لیے وہ تزویری تبدیلی عمل میں لا چکا ہے اور طالبان کے زیادہ قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی وفد طالبان کے ساتھ بیٹھنے پر رضا مند ہو چکا ہے اور اس طرح اس نے طالبان کو تسلیم نہ کرنے کی اپنی برسوں پرانی پالیسی ختم کر دی ہے۔ اب بھارت کے اقتصادی مفادات کے علاوہ سیاسی مفادات بھی طالبان کو تسلیم کرنے سے منسلک ہو چکے ہیں۔

افغانستان میں بھارت کی بھاری سرمایہ کاری اور بڑی تعداد میں بھارتی ورکروں کی افغانستان میں موجودگی کے باعث انھیں اقتصادی مفادات کے طور سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور سے سات بھارتی شہریوں کے اغوا کیے جانے کا الزام طالبان پر لگایا گیا تھا۔ بھارت اس ضمانت کے بدلے طالبان کو تسلیم کر سکتا ہے کہ وہ افغانستان میں بھارت کے تعمیراتی منصوبوں پر حملہ نہیں کریں گے یا ان میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ سیاسی رخ سے دیکھا جائے تو بھارت چاہتا ہے کہ وہ اس انتہائی اہم امن عمل سے باہر نہ رہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ جو بھی نکلے، اس میں اس کا حصہ بھی ہو۔

بھارت کا مخمصہ:
افغانستان میں بھارت کا اثر و نفوذ افغان حکومت پر منحصر ہے، جس کی ساکھ افغان عوام اور طالبان میں بالکل بھی نہیں ہے۔ “ماسکو فارمیٹ” میں طالبان کے مذاکرات کار افغان حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان مسترد کر چکے ہیں۔ اس کی بجائے وہ امریکیوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے پر مُصِرّ ہیں۔ بھارت افغانستان میں جتنی بھی سرمایہ کاری کر لے یا اپنی ساکھ بڑھا لے، اسے افغانستان کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہمیشہ مسائل کا سامنا رہے گا کیوں کہ وہ افغانستان میں اپنی پالیسیوں کو پاکستان کے عدسے سے دیکھتا ہے۔

وہ چاہتا ہے کہ کابل میں پاکستان دوست حکومت قائم نہ ہو۔ دوسری طرف وہ افغانستان میں اپنی واحد اتحادی یعنی افغان حکومت کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ بھارت “سب کا دوست” بن کر اپنے پتّے دونوں طرح سے کھیلنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ “سب کا دوست” ہونے کی پالیسی اس باعث زیادہ قائل کُن نہیں کہ آخر الامر آپ کسی کے دوست نہیں ہوتے، لہٰذا کوئی بھی آپ پر حقیقت میں اعتبار نہیں کرتا۔ اوّل، بھارت کا مخمصہ یہ ہے کہ اس نے پاکستان کو ہٹا کر اس کی جگہ لینے کی کوشش کی، جو غیر فطری امر ہے کیوں کہ خشکی پر ان کی سرحدیں نہیں ملتیں۔ دوم، اس نے پاکستان کو ناراض کرتے ہوئے ہر پاکستان مخالف کی مدد کی حتیٰ کہ زمینی حقائق یعنی طالبان تک کو نظر انداز کرنے کی قیمت پر۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں روسی لائحہ عمل —– قمر الہدیٰ

 

پاکستان کے افغانستان کے ساتھ نسلی، لسانی، مذہبی اور ہمسایگی کے رشتے ہیں۔ کوئی بھی امن عمل میں پاکستان کی جگہ اس کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ پچھلے چند برسوں سے بھارت کو افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔ تاہم یہ تجربہ کارگر نہیں رہا۔ اس وقت سے معاملات امریکا، افغانوں اور دنیا کے لیے بد تر ہو چکے ہیں۔ طالبان کا بھارت کے ساتھ تجربہ تلخ ہے، جس نے افغان نیشنل آرمی کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا ہے۔

طالبان اپنے تاریخی تجربات کی اساس پر بھارتیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے سےبہت ہچکچائیں گے۔ چوں کہ بھارتیوں نے تحریکِ طالبان کے خلاف شمالی اتحاد اور افغان فوج قائم کی ہے، اس لیے وہ افغانستان میں بھارت کی پہل قدمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔

امن کے لیے نئی پہل قدمیاں:
افغانستان میں امن کے لیے نئی پہل قدمیوں کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور ان سے پورے خِطّے کا منظر نامہ بدل سکتا ہے۔ پچھلے چالیس برسوں میں افغانستان اور اس کے عوام نے بڑی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ 1979ء میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد سے افغانستان مسلسل حالتِ جنگ میں چلا آ رہا ہے۔ پہلے دس برسوں میں امریکا نے سوویت فوج کے خلاف جنگ کی قیادت کی، پھر یو ایس ایس آر کے انخلا کے بعد امریکا نے افغانستان کو چھوڑ دیا۔ اس سے ایک خلا پیدا ہوا اور مجاہدین کے مختلف دھڑوں کے مابین اقتدار کی کش مکش نے اگلے دس برسوں کے لیے ملک کو داخلی حالتِ جنگ میں پہنچا دیا۔

نائن الیون کے بعد امریکا کی زیرِ قیادت نیٹو فورسز 2001ء میں افغانستان میں داخل ہو گئیں اور اس وقت سے لے کر آج تک جنگ مسلسل جاری ہے، جس کا اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔ نیٹو اتحادی افغانستان میں 17 سال سے لڑ رہے ہیں لیکن ہنوز پورے ملک پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اب بھی امریکی فوج اپنے فضائی اڈوں اور کیمپوں سے باہر آزادنہ حرکت نہیں کر سکتی۔ آج بھی ملک کے بڑے حصوں پر طالبان فورسز کا کنٹرول ہے۔

صرف ایک ایسا امن عمل، جس میں سارے فریق شریک ہوں، واقعتاً افغانستان میں امن قائم کر سکتا ہے۔ تاہم امن عمل کو افغانوں کی زیرِ قیادت اور افغانوں کے مکمل اختیار میں ہونا چاہیے۔ صرف اس صورت میں افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں امن قائم ہونے سے وسط ایشیائی ریاستیں، روس، چین، بھارت اور پاکستان بحرِ ہند کے ذریعے باقی دنیا کے ساتھ اقتصادی سرگرمی میں شریک ہو سکیں گے۔ افغانستان کی مرکزی تجارتی راستے کی حیثیت ممکن حد تک جلد بحال کی جانا چاہیے۔ اس سے افغانستان اور اس کے ہمسایوں کو اپنی اپنی معیشتیں بہتر بنانے اور غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس میں پورے خطے کی تقدیر بدلنےکے امکانات مضمر ہیں۔

“بیلٹ اینڈ روڈ اِنی شی ایٹِو” (بی اینڈ آر) جیسے چینی منصوبے اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے مقاصد صرف اس وقت حقیقت کا روپ اختیار کر سکتے ہیں جب افغانستان میں استحکام ہو۔ ایس سی او کے حالیہ اجلاس میں افغان صدر اشرف غنی کو مہمان اور مبصر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا، جس سے افغانستان کی اہمیت عیاں ہوتی ہے۔ امید ہے کہ افغانستان جلد ہی ایس سی او کا رُکن اور چین پاکستان اکنامک کاریڈور اور بی آر آئی کا حصہ بن جائے گا۔ ایک مستحکم اور خوش حال افغانستان سب کو مطلوب ہے۔


پروفیسر ضمیر احمد اعوان نیشنل یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این یو ایس ٹی) کے چائینیز سٹڈیز سینٹر فار ایکسیلنس، اسلام آباد، پاکستان کے ایک ماہرِ امورِ چین ہیں۔ آپ 2010ءسے 2016ء تک بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے میں سائنس قونصلر (ٹیکنیکل افیئرز) کی حیثیت سے پاکستان اور چین کے مابین سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔

انگریزی مضمون کے لئے یہ لنک ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: