مولانا حسین احمد مدنی کی کتاب: ہمارا ہندستان اور اسکے فضائل — ایک تبصرہ

0
  • 1
    Share

ہمارا ہندستان اور اسکے فضائل: “قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند” قوم کو سستے میں بیچ دیا اور کتنے سستے میں بیچ دیا۔ تبصرہ: محمد عبدہ


کتاب میں کیا لکھا ہے کچھ جملے آخر میں نقل کردئیے ہیں اور باقی آپ خود حاصل کر کے لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن پہلے آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں۔

یہ ۱۹۳۶ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے جلسے کا واقعہ ہے۔ پہلے روز مولانا حسین احمد مدنی اور مفتی کفایت اللہ نے قائداعظم کی تائید کی کہ مسلم لیگ کو زندہ سیاست کے اکھاڑے میں لایا جائے۔ لیکن آخری روز دونوں میں سے ایک نے یہ تجویز پیش کردی کہ مسلم لیگ کے حق میں موثر و مسلسل پراپیگنڈہ کیلے جمعیت علماء دیوبند اپنے تمام زرائع پیش کردے گا اگر مسلم لیگ خرچہ برداشت کرے۔ اندازے کے مطابق پچاس ہزار روپے خرچہ کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ جبکہ مولانا کو مسلم لیگ کی مخدوش مالی حالت کا سب سے زیادہ علم تھا لیکن پھر بھی پیسے کا مطالبہ کردیا گیا۔ قائداعظم نے یہ کہہ کر مالی مدد کرنے سے انکار کردیا کہ

’’مسلم لیگ میں چندے کا کوئی رواج نہیں ہے اگر قوم کو معلوم ہوگیا کہ ہم سچے دل سے ان کی بھلائی کیلے کام کرنا چاہتے ہیں تو سرمایہ ضرور مل جائے لیکن پہلے ہم کام کرکے تو دکھائیں‘‘۔

اس واقعہ کا علم مولانا آزاد کو ہوا اور وہ انہیں ساتھ لے کر نہرو اور پٹیل کے پاس چلے گئے۔ وہاں 50 ہزار مل گئے۔ یہاں سے جمعیت علماء ہند کے راستے مسلم لیگ سے علیحدہ ہوگئے اور پھر جمعئت علماء ہند جمعئت علماء گاندھی بن کر ہندستان کے تحفظ بقا کیلے وقف ہوگئی۔

پیسے کے بغیر مسلم لیگ کی حمائت سے انکار اور نہرو سے پیسے لیکر انڈیا کی حمائت کا یہ واقعہ ایم ایچ اصفہانی کی کتاب “قائداعظم جیسا کہ میں انہیں جانتا ہوں” کے صفحہ ۴۲ میں اور پھر قیوم نظامی صاحب نے روزنامہ نوائے وقت ۲۲ نومبر ۲۰۱۴ میں تفصیل سے نقل کیا ہے۔ پیسے لینے کا تیسرا حوالہ اصفہانی کی اسی کتاب کے صفحہ ۳۴۳ پر نہرو کے ایک خط میں ہے جس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ خط نہرو نے رفیع احمد قدوائی کو لکھا جو مسلم قوم پرست تھے۔ مگر غلطی سے یہ خط رفیع الدین احمد کو موصول ہوگیا جو وکیل تھے اور مسلم لیگی تھے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ خط ان کے نام نہیں اور اگلے دن جان بوجھ کر یہ خط تمام اخبارات کو بھیج دیا اور کہا کہ یہ خط غلطی سے مجھے ملا ہے۔

اب آپ کتاب کے اقتباسات پڑھیں آپ کو ہندستان کے فضائل سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

  • ’’حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر جس مٹی سے بنایا گیا وہ ہند کے ایک مقام ’’وجنی‘‘ کی ہے‘‘ صفحہ ۱۵۔ ہندستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ سب سے پہلے نبی آدم کو یہاں کی خاک سے بنایا گیا۔ اس لیے جملہ انبیاء اولیاء صلحاکرام علما مشائخ اور تمام انسانوں کے روحانی اور مادی اصل و اصول کا خمیر ہندستان سے بنایا گیا، ص ۱۵۔
  • ’’خلیفہ اللہ کا سب سے پہلا محیط ہونے کی وجہ سے انسانیت کا سب سے پہلا دارلخلافہ ہندستان ہے‘‘، ص ۱۵۔
  • حضرت آدم کو ہندستان کے مشہور جزیرہ سراندیپ (سری لنکا) میں اتارا گیا، ص۱۴۔
  • آدم حوا کو لیکر ہندستان واپس آگئے یہیں رہائش اختیار کی۔ یہیں آپ کی اولاد ہوئی۔ یہیں آپ کی اولاد نے قیام کیا۔ قتل ہابیل کا مشہور واقعہ ہندستان میں ہی ہوا، ص ۱۴۔
  • حضرت شیث کی قبر فیض آباد کے قریب ایودھیا میں ہے جسے رام چندر جی کی جنم بھومی اور پایہ تخت سمجھا جاتا ہے، ص ۱۴۔
  • ’’حضرت آدم علیہ اسلام نے ہندستان سے پاپیادہ چالیس حج کیے‘‘، ص ۱۴۔
    ہندستان ہی وہ مقدس سرزمین ہے جہاں بندوں نے اپنے رب کی ربوبیت کا سب سے پہلے ’’الست بربکم‘‘ اعتراف کیا، ص ۱۶۔
  • جملہ انبیاء کرام نے سرور کائنات کی تصدیق کا نیز آپ ص پر ایمان لانے اور امداد کرنے کا عہد اسی سرزمین ہند میں کیا تھا، ص ۱۷۔
  • سرور کائنات کا وہ نور مقدس جو سب سے پہلے پیدا کیا جاچکا تھا۔ حضرت آدم اور باقی انبیاء کے صلب سے ہوتا ہوا افق مکہ میں طلوع ہوا اس لئے لامحالہ نورمحمدی اور اس افضل سرمدی کا سب سے پہلا مطلع ارض ہند ہے۔ اور سب سے آخری مشرق حجاز پاک ہے، ص ۱۷۔
  • سرور کائنات کی رسالت کا اعلان سب سے پہلے اسی ہندستان کی خاک پر ہوا جو آج خوش نصیبی سے ہمارا وطن عزیز ہے اور قدرتی طور پر پاکستان ہے، ص ۱۸۔
  • حجر اسود اور عصائے موسی حضرت آدم کے ساتھ ہندستان میں نازل ہوئے، ص ۱۸۔
  • حضرت آدم جب دنیا میں آئے تو ایک ہاتھ میں جنتی درختوں کے کچھ پتے تھے ہندستانی درختوں کی خوشبو انہی پتوں کے اثرات کی باقیات ہیں۔ حضرت علی کی روایت ہے ہندستان میں تمام دنیا سے زیادہ خوشبو اسی لئے پیدا ہوئی کہ جنت سے حضرت آدم کو یہیں اتارا گیا، ص ۱۹۔
  • سونا چاندی حضرت آدم کی درخواست پر پیدا کیا گیا اس کے فلذّات سب سے پہلے ہندستان میں پیدا ہوئے، ص ۲۰۔
    حضرت آدم کی وجہ سے لوہے کی صنعت اور پارچہ بانی کی ابتدا کا مرکز ہندستان ہے، ص ۲۰۔
  • ہندستان میں ہی حضرت آدم کا بنایا ہوا وہ تندور تھا جس سے طوفان نوح کا چشمہ پھوٹا۔ ہندستان کے ایک پہاڑ بوبخیر میں
  • حضرت نوح نے اپنی کشتی بنائی، ص ۲۲۔
  • خانہ کعبہ کے سب سے پہلے بانی اور زائر کا شرف بھی باشندگان ہند کو ہے، ص ۲۲۔
  • حضرت آدم کی وفات اور دفن ہندستان میں ہے، ص ۲۳۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: