کرپشن، احتساب اور انتساب —— محمد خان قلندر

0
  • 72
    Shares

انگلش کا یہ لفظ کرپشن جس قدر وسیع مفاہیم اور معانی رکھتا ہے، اس کا مترادف اردو کا لفظ بدکاری ہی ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں بدکاری کا مختص معنی نازیبا فعل ہونے کی وجہ سے کم استعمال ہوتا ہے اس لئے اب اردو میں کرپشن ہی بکثرت لکھا اور بولا جاتا ہے۔ عام طور پر اس سے مراد فنانشل کرپشن ہوتی ہے، جسے وائیٹ کالر کرائم بھی کہا جاتا ہے۔

احتساب کی ٹرم اکاؤنٹیبلٹی کے مفہوم میں رائج ہے، مطلب “مالیاتی امور میں بدعنوانی کر کے مال دولت جائیداد بنانے کے اشتباہ پر مشتبہ شخص کے مالی معاملات کی چھان بین”

پاکستان میں یہ کام عام طور الیکشن یا مارشل لاء کے ذریعے ہر انتقال اقتدار کے وقت زور شور سے شروع کیا جاتا ہے۔
معطل یا مغلوب حکومت اس میں زیر عتاب اور احتساب کی لاٹھی نئی مقتدر انتظامیہ کے ہاتھ ہوتی ہے۔ کرپشن دنیا بھر میں ہوتی ہے لیکن سوائے ہمارے لیڈران کے اپنے کرپٹ ہونے کا کوئی اور ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک اس طرح ڈھنڈورا نہی پیٹتا، وہ ایکشن لیتے ہیں، شور نہیں مچاتے۔

” کرپشن کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی تاریخ انسانی”

بادشاہت میں سلطنت کا مالک بادشاہ ہوتا تھا، سارے وسائل اس کی ملکیت ہوتے اور ان میں خیانت، اس سے بغاوت تصور کی جاتی تھی۔ یہی احوال خلافت اور سلطانی طرز حکومت میں تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جمہوریت کا طرز حکومت مقبول ہونے لگا لیکن ساتھ ہی نوآبادیاتی نظام بھی رائج ہوا، جہاں حکمران ممالک ان کے مالک بن گئے۔ جن ممالک میں جمہوری حکومت بنی ان کی نوآبادیاں اس سے محروم رہیں، دوسری جنگ عظیم تک دنیا دو اقتصادی نظاموں میں بٹ چکی تھی، ایک اشتراکیت اور دوسرا سرمایہ دارانہ نظام، اس جنگ کے بعد صنعتی ترقی میں بے پناہ اضافہ ہوا، اشتراکیت سمٹنے لگی اور دنیا جمہوریت اور موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی مکمل لپیٹ میں آنے لگی۔ موجودہ کرپشن اسی سرمایہ کارانہ اقتصادی نظام کی جڑ بھی ہے اور پھل بھی۔ اس نظام کے داعی مغربی ممالک تھے اور ان کا سرغنہ برطانیہ رہا۔

اپنے ممالک کے اندر کرپشن سے پیدا کردہ دولت کے استعمال کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے ان ممالک نے سوئٹزر لینڈ کی بینکنگ کے علاوہ ہانگ کانگ میں فری ٹریڈ کے نام سے اور چند اور جزیروں میں فری مارکیٹ قائم کیں جہاں دنیا بھر کا کالا دھن جمع ہوتا تھا۔ ہانگ کانگ کے کنٹرول کی چین کو جزوی واپسی کے بعد پہلے سنگاپور اور بعد میں متحدہ امارات اس کے گڑھ بنے۔

سرمایہ کاری کا نظام رشوت، کمیشن، اوور انوائسنگ، کِک بیکس جیسی ادائیگیوں کے بغیر چل ہی نہی سکتا۔ اس کے لئے بینک بھی لازمی جزو ہیں جب کہ غیر قانونی تجارت، سمگلنگ، اسلحہ کی خرید و فروخت جیسے کام اور جاسوسی اور تخریب کاری اس کالے دھن کے پیدا کرنے کے ذرائع اور استعمال ہیں۔ یہ سب کچھ ترقی یافتہ ممالک کے علم سے ہوتا ہے۔ اب تک ان کی ترجیح یہ تھی کہ یہ کالا دھن ان کے ملک کے اندر استعمال نہ ہو، لیکن مختلف ممالک اور جزائر میں قائم آف شور کمپنیز اور انوسٹمنٹ بنک کے ذریعے یہی کالا دھن سفید ہو کر ان ممالک میں بھی پہنچتا ہے۔ غریب اور غیر ترقی یافتہ ممالک تو اس کا تر نوالہ ہیں، کہ یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پے یہ کالا دھن اس ملک کے اپنے سرمایہ کار ہی لاتے ہیں اور اس پر منافع کما کے اسے دوبارہ بیرون ملک لے جاتے ہیں۔

پاکستان شائد اس کالے دھن کے دھندے میں چند سر فہرست ممالک میں ہے۔
یہاں باقاعدہ قانون باہر سے آنے والے سرمایہ کو کسی بھی پوچھ گچھ سے استثنی دیتا ہے، اور پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ جیسے قانون اس کی بیرون ملک بغیر کسی پابندی کے ترسیل کی اجازت دیتے ہیں۔ اس سے اور دیگر مالی بد عنوانی سے متعلق جرائم وائیٹ کالر کرائم کہلاتے ہیں جو ایف آئی اے، ایف بی آر، اور نیب کا دائرہ کار ہے لیکن جنرل ایوب خان کی ایبڈو، نواز شریف کے احتساب بیورو، اور مشرف کی نیب بنانے کا مقصد صرف سیاسی مفاد رہا۔

ورنہ ملک میں محکمہ انٹی کرپشن، انٹی منی لانڈرنگ سے لے کر انٹی نارکوٹکس تک، تول باٹ کے قانون سے لے کر دیگر کاروباری ضابطوں تک درجنوں قوانین اور محکمے سرگرم عمل رہتے ہیں۔

کرپشن کی تشریح کا مقصد یہ آگاہی دینا ہے کہ ہمارے ہاں سیکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی کوڑیوں کے بھاؤ الاٹ کرنے والے لینڈ کمشنر اور الاٹ کرانے والے بااثر زعما کا کیس اور چار کلو دودھ میں ایک کلو پانی ملانے والے مجرم کے کیس ایک ہی ترازو میں تولے جاتے ہیں۔

احتساب کے سپیشل قانون کی بجائے اگر مروجہ قوانین میں موجودہ زمانے کی ضروریات کے مطابق ترامیم کر کے لاگو کیا جاتا، اور ان محکموں کا بھی آڈٹ اور ریگولر چیکنگ کی جاتی تو کرپشن اور بدعنوانی پر باقی دنیا کی طرح سے ان پر قابو پانے کی اوسط شرح پر بھی کامیابی ملتی تو اس نمائشی احتساب کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

لیکن جیسا کہ بیان کیا گیا ہے سیاسی مفاد میں اپوزیشن اور اسکے معاونین کے نام احتساب کا انتساب ہر حکومت کی مجبوری ہے۔ حالانکہ آج تک کسی بھی بڑی سیاسی شخصیت سے کوئی ریکوری ہوئی ہے اور نہ ہو گی، ہاں اس احتساب ڈرامے پر کروڑوں کے اخراجات اور احتسابی افسران کے دورے اور موج میلہ جاری رہے گا کیونکہ آج کے محتسب بھی کل کے مجرم بن سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: