اساتذہ جامعہ کراچی کی پد یاترا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 78
    Shares

قربان جائوں ان نازک پیروں پر! قربان جائوں اس غم عظیم پر! اف ڈاکٹر مجاہد کامران کی زنجیروں کی جھنکار!

آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے

بات نئی نہیں، اسی لئے ہم اس پر بات کر رہے ہیں، نئی بات سے مستقل موضوع نہیں نکلتا، بڑی عارضی سی،وقتی سی بات ہو جاتی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ جامعہ پنجاب کے سابق رئیس الجامعہ محترم ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب مع پانچ سابق رجسٹرار صاحبان کے زنجیروں میں باندھ کر NAB کی عدالت میں حاضر کیے گئے، بات یقینی طور پر افسوسناک تھی، پنجاب کی جامعات میں احتجاج ہوا اور پھر سندھ کی جامعات میں بھی احتجاج شروع ہوا۔ جامعہ کراچی کے حوالے سے ایک بڑی مزاحیہ خبر شائع ہوئی، مذکور تھا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ کرام نے پرزور احتجاج کیا اور آرٹس لابی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات تک جلوس نکالا۔ ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔

سب کہو سبحان اللہ! معلوم نہیں یہ ہماری اپنی ذاتی فطرت کا ٹیڑھ ہے یا ہماری تربیت کی خرابی کہ ہم کو منافقت سے گھن آتی ہے، ہم خود جامعہ کراچی کے استاد ہیں اور کھل کر دعوت دیتے ہیں کہ جامعہ کے اساتذہ ہم پر ہتک عزت کا دعویٰ کر دیں، اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو کہ جامعہ کراچی کا ایک بھی استاد یا استانی۔۔۔ جی ہاں ایک استاد یا استانی اپنی نوکری کے اوقات یعنی صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک اپنے دفتر میں نہیں ہوتے۔ ان میں سے ایک کی بھی سمیسٹر میں 45 کلاسیں نہیں مکمل ہوتیں، کوئی بھی استاد / استانی اپنا کورس مکمل نہیں کراتے، تو سوال یہ ہے کہ یہ مسلسل غیر حاضری کیا کسی احتجاج کی وجہ سے ہوتی ہے؟ آپ سب ہی ماشاء اللہ تلاش گمشدہ کے اشتہار ہیں تو پھر آپ کی ایک دن کلاس چھوڑ دینے سے کون سا احتجاج ہو جائے گا؟

دوسرا معصومانہ سوال۔۔۔ یہ شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور آرٹس لابی میں کتنا فاصلہ ہے کہ جس میں آپ لوگوں نے اپنی ’’پدیاترا‘‘ سے کوئی کمال کر دیا؟ آپ لوگوں نے احتجاج اور جلوس کو جامعہ کا ’’ان ڈور گیم‘‘ کیوں بنا لیا ہے؟ بہت بڑی توپ چل جاتی ہے تو UBL سے سلور جوبلی گیٹ تک کی چہل قدمی ہو جاتی ہے اور جامعہ کے لگ بھگ ہزار اساتذہ میں سے بہ مشکل 40، 50 اساتذہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں، کیمرے اور مائیک والے زیادہ ہوتے ہیں اور احتجاج کرنے والے کم۔ مگر آرٹس لابی سے ’’آئی آر‘‘ ڈپارٹمنٹ تو جناب حد ہی ہو گئی! آرٹس لابی اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات تو بالکل ہی متصل ہیں۔ ذرا ہمت کرتے اور NAB سندھ کے دفتر کے سامنے ہزار اساتذہ کا دستہ لے کر احتجاج کرتے مگر ظاہر ہے اتنی محنت کون کرے؟ بہت سے اساتذہ کو نجی جامعات سے چھٹی کرنی پڑ جاتی۔

پھر سنا ہے کہ بڑی آتش بیان تقریریں بھی ہوئیں، KUTS کے جانثاران جوش و ولولے سے اس قدر بھر گئے کہ بعد میں انھیں Risek کھانی پڑی، زیادہ جوش سے انسان کو تیزابیت ہو جاتی ہے، خیر اس وقت جو انجمن اساتذہ برسر اقتدار ہے وہ ماضی کی KUTS سے تو ہزار گنا بہتر ہی ہے، کیونکہ کم از کم اس KUTS کو ڈاکٹر مجاہد کامران کا درد علامتی طور پر ہی سہی، یاد تو آیا۔ کم از کم ان لوگوں نے بناوٹی طور پر ہی سہی ایک جلوس یا جلسی تو نکالی۔ کم از کم ان کے پاس بناوٹی تقریریں تو اپنے ہم پیشہ مبحوس و محکوم ڈاکٹر مجاہد کامران کے لیے تھی، مگر جب 2016ء میں ایک جامعہ کراچی ہی کے استاد کو FIA نے ’’اغوا‘‘ کیا تھا اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا تو اس وقت کی KUTS نے تو اس بات پر جشن منایا تھا اور اس زخمی، مبحوس و محکوم پروفیسر کے زخموں پر میڈیا ٹرائل کروا کر نمک پاشی کی تھی۔

یادش بخیر! اس اسسٹنٹ پروفیسر کو جو جامعہ کراچی ہی کا استاد تھا، تین مرتبہ زنجیروں سے باندھ کر FIA نے عدالت میں پیش کیا تھا، تب نہ اس کا میڈیا ٹرائل کرنے والے اس پر معترض ہوئے کہ وہ استاد ہے، ملزم ہے، مجرم نہیں ہے، پی ایچ ڈی ہے، اس کی یوں تذلیل نہ کی جائے، نہ کسی نے FIA سے درخواست کی کہ اس پر تشدد بند کیا جائے۔ تب جامعہ کراچی کے اساتذہ کے کان پر جوں نہ رینگی، کم از کم احتجاج میں ایک روز کلاس کا بائیکاٹ ہی کر دیتے، ویسے بھی تو کلاسز کا رخ نہیں کرتے، مگر ایسا بھی نہ ہوا۔

تب ایک سناٹا اور سکون تھا، ایک خوشی کی لہر تھی، ایک جشن کا سماں تھا، سنا تھا کہ شارک کو اگر کوئی زخم لگ جائے اور اس کی آنتیں باہر آ جائیں تو وہ اپنی ہی آنتیں کھا لیتی ہے، اسے بس گوشت کھانا ہے، وہ اپنے جسم کو بھی نہیں پہچانتی۔ جامعہ کراچی کے اساتذہ کی مثال یہی ہے، روز ان کی حرمت پر نیا حملہ ہوتا ہے، آئے دن جامعہ کے اساتذہ سماجی میڈیا پر کھلونا بنتے ہیں اور پھر کوئی اسکینڈل دستک دینے پہنچ جاتا ہے، جامعہ سندھ اور جامعہ لیاری میں اینٹی کرپشن جو تحقیقات کر رہی ہے وہ بھی لامحالہ جامعہ کراچی تک آئے گی کیونکہ دونوں میں ایک اہم کردار موجودہ رئیس الجامعہ سندھ صاحب اسی جامعہ کراچی کی ہی سوغات تو ہیں۔ جو ڈاکٹر مجاہد کامران کے ساتھ ہو رہا ہے کیا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو گا؟ جاننے والے جانتے ہیں اسی لئے خاموش رہتے ہیں کہ

اتنی نہ بڑھا پاکی ٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ
اور
بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی
اور
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

اف تلازمات خیال! اف تلازمات خیال! بات اتنی سی ہے دوستو! کہ زنجیر تو شائد اب کسی استاد کو نہ باندھی جائے مگر مستقل ٹھکانہ سینٹرل جیل بہت سوں کا ہو گا۔ پھر احتجاج شائد آرٹس لابی کا طواف کر کے ہی ہو جایا کرے۔ اس لئے کہ نازک پائوں کہاں اتنا پیدل چل سکیں گے، ایک زمانے میں KDA، KMC، NBP وغیرہ NAB اور اینٹی کرپشن کے لئے تر نوالہ تھے اور ان اداروں کے تمام ہی فنکار اب سینٹرل جیل میں اقامت پذیر ہیں، بالکل یہی حال کچھ عرصے بعد جامعات کا ہو گا، یہ اجاڑ جھنجھنے اب NAB اور اینٹی کرپشن کے ’’چنگیز خانوں‘‘ کی گزرگاہ ہوں گے، احکام نادر شاہی جاری ہوں گے اور جامعات طبلے کی طرح بجیں گی۔ راقم الحروف کا اپنی اساتذہ برادری کو برادرانہ مشورہ ہے کہ تب تک کے لئے اپنے جذبات، قوت اور Risek کے پتے بچا کر رکھیں، اس لئے کہ

ابھی مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: