دانش کے درجے اور مفت کی چائے ۔ ۔ محمود فیاض

2

مٹکے سے گلاس نکال کر مجھے دیتے ہوئے بوڑھے نے میرے حلیے کا جائزہ لیا۔ باؤ جی، دور سے آئے لگتے ہو؟

ہاں، میں نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کرکے اسکو واپس کرتے ہوئے کہا، کافی دور سے، میں نے جان بوجھ کر اپنے شہر کا نام نہ لیا۔

اچھا ، اچھا، ٹھیک ہے۔ تھوڑی دیر ادھر ہی بیٹھ کر سانس لے لو، پھر آگے چلے جانا۔ اس نے پیچھے مڑ کر مٹی کے تیل کے اسٹو پر پڑی پتیلی کو اٹھاتے ہوئے کہا۔

میں نے اسکی جھونپڑی نما دکان کا جائزہ لیا۔ ٹین، لکڑی اور کینوس کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی یہ دکان اتنے ویرانے میں ، اس ٹریک پر کتنے لوگ آتے ہونگے۔ میرے جیسے سر پھرے اور بھی ہوں شائد۔  میں نے سر جھٹک کر سوچا۔

بوڑھا، سامنے پہاڑ سے گرتے چشمے کے پانی سے پتیلی دھو لایا تھا ، اور چولہا جلا کر اس میں پانی ابلنے کو رکھنے لگا تھا۔

یہاں کون آتا ہے بابا، اتنے ویرانے میں تمہاری دکا ن پر، میں نے دکان میں پڑی چیزوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ بسکٹ، ٹافیوں کے ڈبے، آلو، انڈے، سگریٹ، اور کچھ کاپیاں وغیرہ۔ گویا یہ جھونپڑی یہاں کا ڈیپارٹمنٹل اسٹور تھی۔

 میرا رزق لے آتا ہے لوگوں کو اسطرف۔ ویسے اس راستے پر آگے جا کر کچھ گاؤں بھی آتے ہیں۔ انکے لوگ آتے جاتے کچھ خرید لیتے ہیں۔ کچھ انڈے، مرغیاں اور سبزیاں بیچ بھی جاتے ہیں۔ بوڑھے نے اپنا پورا بارٹر پلان مجھے سمجھایا۔

بابا، کچھ پڑھے لکھے بھی ہو؟ میں نے یونہی ہانک دی، سیاحوں کی سی بدتمیزی سے۔

جی باؤ جی، دانش کے تیسرے درجے تک، پھر مرشد نے وقفہ ڈال دیا۔ بوڑھا پانی میں پتی ڈالتے ہوئے بولا اور میں حیران رہ گیا۔

دانش کے درجے ؟ یہ کونسی تعلیم ہے  بابا؟ میں نے حیرانی چھپاتے ہوئے پوچھا۔

جی، اوپر پہاڑ پر آخری گاؤں میں ہمارے مرشد کریم رہتے ہیں، انہوں نے پڑھایا جی مجھے۔

اچھا، دانش کے پہلے درجے میں کیا پڑھا؟ میرا تجسس بڑھا

پہلا درجہ تو بچوں کا ہوتا ہے جی، جب ساری دنیا اپنی لگتی ہے۔  مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا۔ کھیل کود میں دل بہت لگتا تھا۔ سارا دن دوستوں کے ساتھ تین پتی کھیلتے گزر جاتا۔ مرشد نے بتایا یہ پہلا درجہ ہے دانش کا۔ بچوں والا۔ جب کھانا پینا اور کھیل کود ہی زندگی لگتا ہے۔ ساری دنیا اپنی۔ مگر یہ جھوٹ ہوتا ہے ، محض دھوکہ۔

اچھا؟ میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا، پھر دوسرے درجے میں کیا ہوتا ہے؟

بوڑھے نے ابلتی چائے میں دودھ اور چینی ڈال کر دم دے دیا، اور میری طرف منہ کر کے بیٹھ گیا، باؤ جی ! دوسرا درجہ دنیا داروں کا ہوتا ہے۔ دنیا دار مرد و عورت اس درجے کی دانش رکھتے ہیں۔ مال و دولت کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کو اکٹھا کرنے کی ۔ اس کے لیے ہنر سیکھنے اور مقابلہ کرنے کی۔ یہ ساری دنیا اکثر دوسرے درجے کی دانش پر چل رہی ہے۔ مرشد نے مجھے اس درجے سے بھی نکال دیا۔

اچھا، وہ کیسے ؟ میں نے پوچھا۔

مرشد نے مزدوری پر لگوا دیا۔ پھر ہر سال مزدوری بڑھتی گئی، کچھ سالوں میں چھوٹا کاروبار کر لیا۔ کاروبار بڑھ گیا تو مرشد نے کہا بس کر دو۔ بس جی بس کر دیا۔ اور دانش کا دوسرا درجہ پاس کر لیا۔ بوڑھا اطمینان سے چائے کو کپوں میں انڈیل رہا تھا۔

ارے، لگے لگائے کاروبار کو چھوڑ دیا، کیسا مرشد ہے تمہارا؟ میں چپ نہ رہ سکا۔

ناں جی ناں! میں نے ہی مرشد سے کہا کہ آگے پڑھنا ہے، اگلے درجے میں جانا ہے ۔ آپ تو اسکول میں پڑھے ہوئے ہو، اگلے درجے میں جانے کے لیے پچھلی کتابیں کاپیاں بیکار ہوجاتی ہیں ناں۔

تو شادی وادی کوئی نہیں کی، کوئی بچے نہیں ہیں تمہارے؟ میں نے افسوس زدہ لہجے میں پوچھا۔

نہیں جی، اس مالک کی دین ہے۔ تین بیٹے ہیں، دو مدینے پاک میں مزدوری کرتے ہیں، اور ایک کی شہر میں فروٹ کی دکان ہے۔ بیوی کو پچھلے سال اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔ اس نے ایک کپ کو  ٹرے میں رکھ کر میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔

اچھا، بابا یہ اب تیسرا درجہ ہے ؟ یہ دکان اور یہ ۔ ۔ ۔ میں نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا، میں اسکا دل نہیں دکھانا چاہتا تھا۔ بیچارہ عقیدت کا مارا کوئی مرید لگ رہا تھا۔

جی باؤ جی! مرشد کہتے ہیں تیسرا درجہ یہ ہے جب ساری دنیا پھر سے ٹھیک لگنے لگتی ہے۔ ہر کوئی اپنی جاء پر جو کر رہا ہے اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ رب نے ڈیوٹیاں لگائی ہوتی ہیں ، سب کی ۔ چور ڈاکو، سادھ ، وڈیرے، سب اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ دنیا اپنے حساب میں ٹھیک کر رہی ہے۔ بس یہی دانش کا تیسرا درجہ ہے۔ مگر اس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ کوئی لالچ نہیں۔ کوئی گلہ نہیں۔

اگر یہی کرنا تھا، تو کاروبار کیوں چھوڑا؟ سب ٹھیک ہیں تو تم بھی کاروبار کرتے رہتے؟ میں نے سوال کیا۔

بوڑھا پہلی بار مسکرایا،  جیسے بچے کی بات پر ہنستے ہیں،  بات یہ جی کہ جب آپ کاروبار کرتے ہو، تو ہر روز مقابلہ ہوتا ہے۔ آڑھتی سے، گاہک سے، نفع و نقصان کا لالچ ہوتا ہے۔

تو تیسرے درجے نے کیا دیا؟ سب ٹھیک ہے تو آپ کو کیا فائدہ؟

دیا جی، باؤ جی، مقابلے سے نکل کر ایک طرف بیٹھ جانا مشکل ہوتا ہے۔ مگر پھر سکون آپ ہی آپ اپنے اندر اتر جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی نور دل میں بھر رہا ہو۔ بہت سکھ ہے جی۔

ہاں ٹھیک کہتے ہو، کاروبار کی محنت سے جان چھڑا کر تو سکون ملے گا ہی؟ میں نے اسکو ٹوکا۔

نہیں جی، تیسرے درجے میں کاروبار کی مشقت کو خدمت میں بدلنا ہوتا ہے۔ لوگوں کی خدمت، جانوروں کی، اور مسافروں کی۔

تو اب اگلا درجہ کونسا ہوگا؟ میں  نے اسکی صوفیانہ ٹون سے گھبرا کر پوچھا۔

آگے جی ،  مرشد کہتے ہیں ، دانش کا چوتھا درجہ وہ ہے جب اس دنیا سے نظر اگلی دنیا کی طرف اٹھنے لگتی ہے۔ اسکے بنانے والے کی رمز کا اشارہ ملنے لگتا ہے۔ اصل عبادت شروع ہوتی ہے۔ فکر کی عبادت۔ اسکی فکر۔ اپنی نہیں۔

مجھے لگا، بوڑھا مختل الحواس ہے۔ وہ جو دانش بتا رہا تھا، نہ صوفی تعلیم تھی اور نہ دنیاوی۔

بہت بہت شکریہ بابا، چائے کا۔ کتنے پیسے ہوئے؟

نہیں جی، مسافروں کی چائے کے پیسے نہیں ہیں۔ حسب توقع اس نے جواب دیا۔

میں نے بٹوا جیب میں ڈالا، اپنا رک سیک اپنے کاندھے پر ڈالا اور اپنے ٹریک پر آگے چل پڑا۔

بھلا ہو اس بوڑھے کے مرشد کا، مفت کی چائے مل گئی۔

 

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: