جماعت اسلامی دیر کے نئے زمام کاروں کے نام ۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الرحمان

0
  • 14
    Shares

پچھلے دو ہفتوں سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن کبھی مصروفیات آڑے آ رہی تھیں اور کبھی مصلحتیں۔ آج ارشد زمان صاحب کی قیم ضلع کے انتخاب کی خبر سنی۔ ایک مرتبہ پھر قلم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ مصلحتیں ایک مرتبہ پھر راستے کی رکاوٹ بنتی جا رہی تھیں لیکن ضمیر نے یکسر مسترد کیا۔ چپ ہونے پر گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ ذہن کے دریچوں کو جکڑی ہوئی خود ساختہ زنجیر مذید بوجھ بنتی جا رہی تھی، اسی لئے تازہ ہوا کے جھونکے کیلئے دل مچل چکا ہے۔

محترمان و راہمنا! جی چاھتا تھا کہ اپنوں کی بھیڑ میں موجود پرایوں کی کہانیاں سناوں لیکن پھر خیال آیا اس جبر کی بھٹی میں تو آپ بھی جل رہے تھے۔ دماغ اس پہ بضد ہے کہ اس خط میں وہ اضطراری کیفیات تحریر کروں جو گزشتہ پانچ سالوں سے سہہ رہا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر چپ ہوں کہ گزرے ہوئے زمانے کی یادوں پر آہ و زاری کرنے سے آگے کی جانب سفر میں خلل واقع ہوسکتا ہے۔ اندر کا ضدی انسان اس بات پر مصر تھا کہ جس جس نے اس تحریک کی کمر میں خنجر گھونپنے کی ناکام کوشش کی ہے اس کو نشان عبرت بنانے کیلئے دلائل پیش کردوں، لیکن اگلے لمحے سید مودودی کی تحریکی حکمت چیخ چیخ کر بول اٹھی کہ یہ تحریک اسلامی کی روایات نہیں۔ دل چاہتا تھا کہ روح پر لگائے گئے زخموں کو دکھا دوں لیکن پھر سوچا زخموں کو کریدنے کے بجائے مندمل کرنے کی سعی سیدی کا شیوہ ہے۔ گاہے خیال آتا ہے دیر میں جماعت اسلامی کو ڈبونے والوں کا پردہ چاک کردوں لیکن اندھیری رات میں بیتے ہوئے مشکل ترین لمحوں کے بجائے روشن صبح اور ابھرتے سورج کی کرنوں کا ذکر افضل ٹھہر گیا۔ سو، ماضی کے قصے چھیڑنے کے بجائے مستقبل کے خاکے میں رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

استادان محترمان! جہاں تک میری سوچ و خیال پہنچ رہا ہے دیر کی جماعت اسلامی میں کچھ بنیادی قسم کی کمزرویاں و نقائص سرایت کر چکے ہیں جس کی بیخ کنی کیلئے رب کعبہ نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ ذیل میں چند عمومی اہمیت کی حامل گزارشات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلا نمبر ٹھیکیدار مافیا کا ہے۔

ٹھیکیدار مافیا:
جس طرح عام سیاسی جماعتوں میں “انویسٹمنٹ” کا کلچر پہلے سے موجود ہے اسی طرح یہاں بھی باقاعدہ انتخابی مہم چلائی جاتی ہے، پیسوں کی ریل پیل ہوتی ہے اور بعد میں دگنا اور چگنا حصہ وصول کیا جاتا ہے اور کہیں تو وہ امیدوار بھی بن جاتے ہیں۔ اب تو چونکہ اسمبلی میں اللہ اللہ خیر سلا ہے، سو فی الحال ایسا کوئی خدشہ موجود نہیں لیکن مستقبل میں یہ طبقہ اور زور سے سامنے آئے گا جس کی بیخ کنی کیلئے آپ لوگوں کی بصیرت کافی ہے۔

ارکان سازی:
چرب زبانی، دولت، اثر و رسوخ، زاتی ووٹ بنک، زاتی تعلقات یہ وہ پیمانہ ہے جس پر اشخاص کو تولا جاتا ہے۔میرے خیال میں جتنے بھی مسائل آج دیر میں موجود ہیں اس کا سر چشمہ ارکان کی دھڑا دھڑ بھرتی ہے۔ جب ارکان سازی کا پیمانہ زاتی پسند و نا پسند ہو تحریک کی گاڑی کیسے اگے بڑھے گی؟

گروپنگ:
بعض باتیں لکھتے ہوئے مجھے چھوٹا منہ بڑی بات والی صورتحال کا سامنا ہے لیکن شفقت کے پیرائے میں معذرت کا پیشگی خواستگار ہوں۔
دیر میں بدترین قسم کی گروپنگ اور لابنگ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ محترمان قوم! اشخاص کے درمیان اختلاف تحریک کا سرمایہ ہے لیکن جب اختلاف، مخالفت اور لابنگ کی بنیاد بن جائے یہ تحریک کیلئے سرطان کی مانند ہے۔ میرا کارکن تیرا کارکن والی پالیسی کے اگے بند باندھنا آپ کے ذمے قرض ہے۔

سوشل میڈیا وار:
آج کل ہم سوشل میڈیا کے زمانے میں جی رہے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ منظم سوشل میڈیا کے سپورٹ کے بغیر آگے بڑھنا محال ہے۔ ویسے تو جماعت اسلامی یوتھ کے کافی لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر سرگرم عمل ہے لیکن بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ تربیت کی کمی اور کم فہمی بار بار دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ لوگ ایک طرح سے سوشل میڈیا پہ آپ کے نمائندہ گان ہیں اسی لیئے ایک جامع اور منظم قسم کی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پہ موجود دیگر جماعتی احباب کی طرح یہ بھی اپنے رویہ سے جماعت کے لئے نیک نامی کے بجائے لوگوں کو جماعت سے دور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

امیدواران کا انتخاب:
گزشتہ الیکشن کے حوالے سے آپ کو بخوبی اندازہ ہے اور ہم نے بھی وقتا فوقتا آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ شکست کی بنیادی وجہ قومی اور صوبائی اسمبلی کیلئے امیدواران کا انتخاب تھا۔ ویسے تو انتخاب پارلیمانی بورڈ نے کرنا ہے لیکن جو کام ضلعی امیر کے حد تک ممکن ہے اب اس میں کمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ایک لاجک یہ پیش کی جارہی تھی کہ اگر ٹکٹ نہ دیا تو دوسرے پارٹی میں چلے جائیں گے۔ جانے دیتے نا! آج بہت سوں کے ضمیر تو مطمئن ہوتے۔ سیٹ تو ویسے بھی ہاتھ سے گئ۔

احتساب:
تحریکی پیرائے میں احتساب ایک ایسا عمل ہے جو لوہے کو کندن بنانے میں کارگر ثابت ہوا کرتا ہے لیکن میرے خیال میں جماعت اسلامی کی تاریخ میں کسی ضلع میں احتساب کا اس قسم دگرگوں صورتحال کبھی رہا ہو۔ دستور کو تلوار بے نیام بنا دیا گیا ہے لیکن وار ہر اس گردن پر کرتی ہے جو کلمہ حق کو بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خدار اس روایت کی سرکوبی کیلئے کسی قسم کے کوشش اور مصلحت کو خاطر میں نہیں لایئے گا۔ اگر آپ دستور کو اصل روح میں نافذ کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوگئے یہ آپ کی اصل کامیابی تصور ہوگی۔

رپورٹس، کمیٹیاں اور سفارشات:
محترمان قوم! ضلعی شوری کے سطح پر بہت سی کمیٹیاں بنی اور بہت سی سفارشات پیش کی گئیں لیکن عمل ایک پر بھی نہیں ہوا۔ جب رپورٹ اور سفارشات کو باقاعدہ ایک لابنگ کے شکل میں کچرا دان کی زینت بنا دیا جاتا ہے تب لوگ سرعام محفلوں میں رکن کی قیمت محض 1000 پاکستانی روپیہ لگانے سے دریغ نہیں کرتے۔ اسی لائن میں کام بہت ضرورت ہے۔

شخصیت پرستی:
دیر جماعت اسلامی جس بدترین قسم کی شخصیت پرستی کی زنجیروں جکڑی ہوئی ہے اس سے تحریک کو آزاد کروانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ تحریک کا تو حسن یہی ہے کہ یہ شروع سے ہی شخصیات کے سحر سے آزاد ہے۔ دیر میں کیا ہوگا؟ بڑے بڑے کرشماتی لوگوں کو بڑی دھج کے ساتھ چھوڑنے کا حوصلہ یہ تحریک دکھا چکی ہے۔ بس آپ نے تحریک کی اسی جہت سے گرد ہٹانے کی کوشش کرنی ہے۔ پھر دیکھئے گا قدرت کے کرشمے۔

مسقبل کی حکمت عملی:
لیڈر وہی ہوتا ہے جس میں مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ایک طبقہ ایسا موجود رہے گا جو آنے والے اوقات میں مسئلے مسائل بننے اور بنانے کی کوشش کرے گا۔ اور یہ دو سالوں میں ختم نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کے آگے بند ضرور باندھا جاسکتا ہے۔ وہ پورا زور لگانے کی کوشش کریں گے کہ جن خاردار روایات کے بیج انہوں نے بونے کی کوشش کی ہے وہ مسقبل میں جھاڑیاں بن جائیں لیکن آپ نے نہ صرف ان جھاڑیوں کو جڑ سے اکھاڑ پیھنکنا ہے بلکہ اس کی جگہ سیدی افکار و تحریکی روایات کا بیج بونا ہے۔ تاکہ کل آپ ہوں یا نہ ہوں تحریک اپنی اصلی روایات اور افکار کے بل بوتے پر چلتی رہے۔

یہی چند گزارشات تھیں فی الحال، جو آپ کے خدمت میں پیش کر دی ہیں۔ مجھے اندازہ ہے آپ کو ان میں بہت سی باتوں کا پتہ ہوگا۔ لیکن اتمام حجت کے خاطر ہم نے 2018 کے الیکشن سے پہلے بھی کوشش کی تھی اور یہ خط بھی اس سوچ کی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ اگر سانسوں نے وفا کی ہم کوشش کرینگے کہ ٹوٹے پھوٹے، بے ربط الفاظ میں اپنا مدعا مسقبل میں بھی پیش کریں۔ خط کھلا اس لیئے رکھا گیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ اللہ تعالی ہم سب کو حق دیکھنے، سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی تو فیق عطاء فرمائیں۔ آمین۔

(یہ کھلا خط محترم اعزاز الملک افکاری صاحب کے امیر ضلع اور استاد محترم ارشد زمان صاحب کے قیم ضلع انتخاب ہونے پر ان کو لکھا گیا ہے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: