آرٹيفيشل انٹيليجنس ورلڈ آرڈر؟ —– عمر ابراہیم

0
  • 27
    Shares

بيسويں صدی کئی حوالوں سے تاريخ کا فيصلہ کُن موڑ ثابت ہوئی۔ ايک حوالہ فلسفے کي موت ہے۔ دوسرا حوالہ کميونزم کی موت ہے۔ تيسرا حوالہ يک قطبی دنيا کي موت ہے۔ چوتھا حوالہ انسانی اجارہ داری ميں انفوٹيک اور بائيوٹيک کی شراکت داری ہے۔ پانچواں حوالہ لبرل عالمگيريت کی پسپائی ہے۔ چھٹا حوالہ يہ اہم ترين سوال ہيں، کہ آيا عالمگير انساني تہذيب کا کوئی امکان ہے؟ اگر ہے، توبکون اس کا وارث ہوگا؟ يا انسانی تہذيب مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی؟ سائنٹفک دنيا ميں انسان کا کيا مستقبل ہے؟ يہ اموات بيسويں صدی ميں ہوئيں، جبکہ سوالات اکيسويں صدی ميں چلے آئے ہيں۔

بيسويں صدي کے آغاز پر يہ يقين قبول عام پاچکا تھا کہ مذہب کا کردار ختم ہوچکا۔ کيونکہ ڈارون کے نظريے نے باور کرديا تھا، کہ انسان ارتقا کے ذريعے اميبا اور بندر سے جديد ترين حالت پر پہنچا تھا۔ چنانچہ سمجھ ليا گيا، کہ جس کا جتنا بہتر فطری چناؤ ہوا ہے۔ وہ اتنا ہي اعلٰی نسل ہے۔ ادنٰی نسلوں پر حاکميت کا اتنا ہی حقدار ہے۔ فطرت کی جانب سے انسان کا يہ حياتياتی چناؤ اور درجہ بندی مغرب کا عقيدہ قرار پاچکا تھا۔ چنانچہ بھورے يورپی اعلٰی ترين نسل ٹھہرے تھے۔ جرمن بضد تھے کہ وہ اعلٰی ترين آريائی سلسلے کے وارث ہيں۔ يہی دعوٰی صديوں سے يہودی کرتے آئے تھے۔ يہی وہ وجہ بنی، جس نے يہوديوں کو دربدر کيا، پھر جرمن نازيوں کا وجود مٹا ديا۔ ڈارونيت کی اس بندر بانٹ نے جديديت کے وہ جنازے نکالے، کہ انسان نے پہلے نہ ديکھے تھے۔ جنگوں کے مارے فلسفی پال سارتر اور البرٹ کاميو وغيرہ نے مايوس کن ادب و فلسفہ تخليق کيا۔ فلسفہ مابعد جديديت وجود ميں آيا۔ يہی وہ لمحہ تھا، جب فلسفہ سائنس کے ‘حق ملکيت’ سے محروم ہوا۔ يوں فلسفے کي موت واقع ہوگئی۔ سائنس ‘ترقی’ کے دعووں اور ارادوں کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔

معروف ماہر فلکيات اسٹيفن ہاکنگ نے تصنيف The Grand Design کے آغاز پر لکھا ہے کہ

”ہم سب مختصر وقت کيلئے زندہ ہيں۔ اس مختصر وقت ميں کائنات کا مختصرحصہ ہی سمجھ سکتے ہيں۔ بہرکيف ہم متجسس ہيں۔ کائنات کے اسرار پرحيران ہوتے ہيں، جواب تلاش کرتے ہيں: ہم اس دنيا کو کيسے سمجھ سکتے ہيں؟ کائنات کيسے کام کرتی ہے؟ حقيقت کی فطرت کيا ہے؟ يہ سب کہاں سے آيا ہے؟ کيا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟ ہم سب ان سوالات پر ہر وقت غور نہيں کرتے، مگرہم سب ان سوالات پر کبھی نہ کبھی ضرور غور کرتے ہيں۔ روايتی طور پر يہ فلسفے کے سوالات ہيں، مگر فلسفے کی موت ہوچکی۔ فلسفہ جديد ترقی کا ساتھ نہيں دے سکا ہے۔ بالخصوص طبيعات ميں۔”

اسٹيفن ہاکنگ نے بالکل درست کہا ہے۔ اسی نوے کی دہائی تک لبرلزم اور کميونزم کے نظريات نے بھی بتدريج عمر پوری کرلی۔ دنيا اکيسويں صدی ميں يتيم ہی داخل ہوئی، جس کا احساس نائن اليون کے بعد گہرا ہوتا گيا۔ مغرب ميں انسانی فکر و فلسفے کي جگہ اب بے حس سائنس و ٹیکنالوجی نے سنبھال لی ہے۔ يہ مغربی تہذيب کي وہ نئی صورت ہے، جس ميں ذی روح انسان کا کردار ختم ہوچکا ہے، وہ غير محسوس انداز ميں ‘لاتعلقی کے بحران’ سے دوچار ہے۔ ايک فيصد عالمی اشرافيہ، جوسائنس ٹيکنالوجی کي شراکت داری ميں دنيا کي حکمران ہے، وہ سو افراد جن کے اثاثے چار ارب غريبوں کی جمع پونجی سے زائد ہيں، انسانی تہذيب کيلئے سنگين ترين خطرہ بن چکے ہيں۔ سب سے بڑا خطرہ عالمی مساوات کيلئے ہے۔ معاشرے عالمی معاملات سے يکسر لاتعلق کيے جارہے ہيں۔ بيشتر دنيا آٹوميشن پر چلانے کي منصوبہ بندي ہوچکی ہے۔ آرٹيفيشل انٹيجنس AI بتدريج انسانوں کی معاشی اور سياسی اہميت ختم کررہی ہے۔ چين کی آرٹيفيشل انٹيلجنس صنعت ملکی اور عالمي سطح پر بے روزگاری کے خدشات پيدا کررہی ہے۔ سرکاری نيوز ايجنسی زينوا ميں آرٹيفيشل انٹيلجنٹ نيوز ريڈر شامل کرليا گيا ہے، جو ظاہر ہے کسی انسان کی جگہ لے چکا ہے۔ شنگھائی ميں ايک بينک انسانوں سے خالی کيا جاچکا ہے۔ ايسا ہی کچھ جاپان اورديگر سائنٹفک دنيا ميں ہورہا ہے۔ جاپانی معاشرے کا رويہ اس قدر سائنٹفک اور مشينی ہوچکا ہے کہ لوگ متواتر خودکشی کربرہے ہيں، جبکہ ابھی يہاں بے روزگاری نے قدم نہيں رکھے، غير انسانی طرزنزندگی سے مرجانے کي حد تک مايوسی طاری ہے۔ بائيو ٹيکنالوجی ميں تحقيق کا رجحان تخليق خداوندی ميں ايسی تراميم لارہا ہے، جو ماحوليات کی مانند انسانی حيات پرتباہ کن اثرات مرتب کررہا ہے، اورآئندہ مزيد شدت سے کرسکے گا۔۔۔ يہ سب مغرب کيوں ہونے دے رہا ہے؟

اس کے جواب کيلئے اسٹيفن ہاکنگ سے پھر رجوع کرتے ہيں۔ اپنی نسل کے سب سے بڑے سائنسدان اور ماہر فلکيات کی جانب سے سوال Will artificial intelligence outsmart us? کا جواب بعد از مرگ سامنے آيا، جوکافی دلچسپ ہے، Brief answers to the big questions کے صفحہ 181 سے 196 تک وہ کہتے ہيں کہ

”ميں سمجھتا ہوں کہ ايک کيڑے کے دماغ اور کمپيوٹر کی پروسيسنگ ميں خاص فرق نہيں ہوتا۔ مجھے يہ بھی يقين ہے جيسا کہ ارتقائی عمل ثابت کرتا ہے کہ ايک کيڑے اور انسان کے دماغ ميں معياری فرق نہيں ہے۔ لٰہذا ايک کمپيوٹر انساني ذہانت کي ہمسری کرسکتا ہے، بلکہ اس سے زيادہ قابليت کی استعداد پيدا کرسکتا ہے۔۔۔ آئندہ سو سال ميں کمپيوٹر انسانی ذہانت کو پيچھے چھوڑ دے گا۔ ۔۔۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان آسکتا ہے، اگر ہم اسے محض سائنس فکشن سمجھتے ہيں، توبہت بڑی غلطی کرتے ہيں۔۔۔ سپر انٹيليجنٹ AI انسانوں پر گزرنے والا بدترين يا بہترين تجربہ ہوسکتا ہے۔ آرٹيفيشل ذہانت سے اصل خطرہ دشمنی کا نہيں بلکہ قابليت کا ہے، جو اگر اہداف ميں انسانوں سے انحراف کر گئی تو ہم مشکل ميں پڑجائيں گے۔۔۔ مستقبل کی سب سے بڑي جنگ جديد ٹيکنالوجی اورہماری دانش کے درميان ہوگی کہ آيا ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہيں۔ آیئے ہم سب انسانی دانش کو کامياب بنائيں۔”

اسٹيفن ہاکنگ کی منتخب گفتگو سے سمجھا جائے، تولگتا ہے کہ جديد سائنس ڈارونزم ہی ميں کائنات کی توجيح ڈھونڈ رہی ہے۔ يہ اتنی ہی دہشتناک بات ہے، کہ جتنی نازيوں يا صہيونيوں کی نفسيات ميں مرقسم ہے، کہ ادنٰی انسانوں کی اکثريت فنا کردی جائے۔ اس باب ميں اسٹيفن ہاکنگ نے اس بات کا ذکر کيا ہے کہ عالمی قوتيں آرٹيفيشل انٹيجنس ٹيکنالوجی کے حصول ميں بڑھ چڑھ کر سرگرم ہيں، تاکہ اپنی استعماريت اور دفاع کو ناقابل شکست بناسکيں۔ اب ظاہر ہے جہاں انسان اور کيڑے کے دماغ ميں فرق نہيں وہاں انسان اور کيڑے ميں کتنا فرق قابل قبول ہوسکتا ہے؟

بہرحال اسٹيفن ہاکنگ کا جواب نظر انداز نہيں کيا جاسکتا، کيونکہ اس ميں آرٹيفيشل انٹيلجنس کی ہلاکت خيزی کا تذکرہ تشويشناک ہے۔ بائيو ٹيکنالوجی کے ذريعے امراء ذہنی اور جسمانی صلاحيتوں ميں اپ گريڈيشن پر پيسہ پانی کی طرح بہا رہے ہيں۔ جبکہ انسانوں کی بہت بڑي تعداد بنيادی ضروريات سے محروم ہے۔ يہ تفريق خوفناک ہوچکی ہے۔ بائيو انجينئيرنگ اور آرٹيفيشل انٹيليجنس کا اشتراک دو انسانی گروہوں ميں بہت بڑا فرق پيدا کرسکتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ بائيو ٹيکنالوجی اور انفو ٹيکنالوجی پر کنٹرول رکھنے والوں کی مٹھی ميں معاملات سمٹ رہے ہيں۔ غرض سرمايہ دارانہ لبرلزم جس کا نام ہے، وہ عالمگيريت نہيں بلکہ عالمگير عدم مساوات کی وجہ بن رہی ہے۔ سليکون ويلی، ماسکو اور بيجنگ کے ارب پتی سرمايہ کار عام انسانوں کيلئے عالمگير ‘بے کاری’ اور ‘لاتعلقی’ تشکيل دے رہے ہيں۔ يہ سب اس ليے ہورہا ہے کہ ہم سب اپنا ڈيٹا ان کے حوالے کررہے ہيں۔ ہمارے بينک اکاؤنٹس سے ہيلتھ کارڈ تک، اے ٹی ايم کارڈ سے فيس بک آئی ڈی تک سب کچھ آن لائن بليک مارکيٹ ميں بيچا جارہا ہے۔ بات بائيو ميٹرک بريسلٹ اور ديگر ايسی ڈيوائسز تک جارہی ہے، جو نہ صرف بہت دور سے آپ کو ٹريس کرسکتی ہيں بلکہ ہدف بھي بناسکتی ہيں۔ اس کے علاوہ يہ ڈيوائسز آپ کی حياتياتی کيفيات پر بھی نظريں رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی کسی حساس صورتحال ميں کيا کيفيت ہے؟ بلڈ پريشر کيسا ہے؟ باڈی لينگوئيج کيا ہے؟ اب آن لائن انسانوں کے معاملات ميں رياست، ملک، اورجغرافيائی سرحدوں کی کوئی اہميت نہيں رہی۔ يہ سب اب بے معنی ہو رہے ہيں۔ انسان آن لائن دنيا ميں عالمگير ہوچکے ہيں۔ مواصلات، روابط، کاروبار، سب کچھ ايک کلک کے فاصلے پر ہے۔ الميہ مگر يہ ہے کہ اس عالمگير انسان کی رہنمائی اورترقی کيلئے کوئی عالمگير راہ عمل موجود نہيں۔

يہاں پہنچ کر مغرب کے بڑے دماغ سارے نظريات کا جائزہ ليتے ہيں۔ اسلام اور مغرب کی تہذيبوں کا تجزيہ کرتے ہيں۔ حسب روايت اسلام کی تفہيم ميں حيران کُن لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہيں۔ اس ‘لاعلمي’ يا ‘تعصب’ پر فلسطينی عيسائی دانشور پروفيسر ايڈورڈ سعيد نے عمدہ تحقيقی کام کيا ہے۔ شہرہ آفاق کتاب Orientalism اورCulture and Imperialism ميں اس حوالے سے بھرپور اور لاجواب تنقيد موجود ہے۔ براہ راست مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مغرب کے محققين اسلام سے يکسر نابلد ہيں، قرآن سے يکسر لا علم ہيں، اور اسلام کی تشريح و تعبيرعيسائيت کے تناظر ميں کرتے رہے ہيں، جو ظاہر ہے علمی بدديانتی ہے۔

مدعا مضمون مصنوعی ذہانت کا ورلڈ آرڈر ہے۔ يہ روح سے عاری ہے۔ جذبات واحساسات سے بے پروا ہے۔ بے حس و سفاک ترين صفات کا حامل ہے۔ يوں انسانوں سے معاملات ميں اسے حاکم و مالک بنانا انسانی تہذيب کيلئے تباہ کن ہے۔ يہ بالکل ايسا ہے جيسے انسان نے رب کی نافرمانی کی اورخود خدا بن بيٹھا، پھر سائنس نے اپنے محقق کی حيثيت ختم کرکے اپنی حاکميت قائم کرلی۔ سادہ منطق ہے، مخلوق خالق نہيں بن سکتی۔ سائنس قديم سے وہ قائم و دائم الٰہياتی علم ہے، جسے انسان نے تھوڑا بہت دريافت کيا اور محقق کيا، اور يہ سب کچھ خالق کی عطاکردہ صلاحيتوں سے ہی ممکن ہوا، اس ميں انسان کا اپنا کوئی کارنامہ نہيں۔ مسئلہ سائنس کی غير الٰہياتی تعبيرات، تشريحات، اور استعمال کا ہے۔ انفوٹيک، بائيوٹيک، آرٹيفيشل انٹيلجنس ورلڈ آرڈر انسانی تہذيب کی تکميل نہيں کرسکتا (يہاں اسٹيفن ہاکنگ کے مذکورہ اقتباس کا آخری جملہ کس قدر برمحل معلوم ہوتا ہے کہ”ہمارے مستقبل کي سب سے بڑی جنگ جديد ٹيکنالوجی اورہماری دانش کے درميان ہوگی کہ آيا ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہيں۔ آئيے ہم سب انسانی دانش کو کامياب بنائيں۔”)۔

انسانی تہذيب کا امکان صرف حکم الٰہی ہی سے ممکن ہے، جسے انسان کي نيابت ميسر ہو، اورسائنس کی خدمت حاصل ہو يہی واحد آرڈر ہے، جو پوری کائنات ميں جاری و ساری ہے۔ اس کے سوا جوکچھ ہے، ڈس ارڈر ہے، اور ڈس آرڈر ہی رہے گا۔ ​

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: