چڑیا، چڑے کی کہانی اور جدید زندگی کا المیہ —— ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 94
    Shares

بچپن کی ایک کہانی اب تک ذہن نشین ہے کہ چڑیا لائی دال کا دانا چڑا لایا چاول کا دانا۔ دونوں نے مل کر کھچڑی پکائی اور مل کر کھائی۔ گویا کھچڑی اور بھوک دونوں ایسے محرکات سے جڑے ہیں جن کی تکمیل کے لیے چڑے اور چڑیا کو زندگی بھر تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اور ملتے زمین پر ہیں پھر یہ جوڑے گھونسلے بنانے میں جت جاتے ہیں اور کہانی ختم ہوجاتی ہے۔ آج میری دو ساتھی استاد ریٹائر ہو گئیں، ان کے چہروں پر بکھری اداسی اور اضمحلال صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ ادارے کو زندگی کے بتیس سال دے کر دونوں گویا شب غم گزار کر رخصت ہوئیں۔ دونوں کی زندگی بھی ان بہت ساری خواتین کی طرح محنت مشقت میں کٹ گئی جس کا تجربہ ہر نوکری پیشہ عورت کرتی ہے۔

ساری زندگی ایک گھر بنانے کے لیے تنکا تنکا جوڑنے میں صرف ہوتا ہے۔ کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں، پرائز بانڈ خرید کر رکھے جاتے ہیں، لائف سیونگ سرٹیفکیٹ لیے جاتے ہیں اور پھر عورتیں اپنا زیور بیچ کر ایک گھونسلا خرید لیتی ہیں۔ بقول شاعر:

عہد جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لی آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا

مجھے اکثر و بیشتر اتنی محنت کش عورتیں دیکھ کر خوف سا آتا ہے۔ پیپر چیکنگ، امتحان ڈیوٹی اور نجانے کتنی مشقت کا بار اٹھاتی ہوئی یہ محنت کش خواتین اپنے شوہروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں۔ اس اختلاط کا انجام تو دیکھیے کہ ماں باپ کے مرتے ہی اولاد اس چاؤ سے بنے گھر کا بٹوارہ کر لیتی ہے۔ خاک اور خمیر ایک ہو جاتے ہیں، یوں چڑیا اور چڑے کی کہانی بھی انجام بخیر ہوتی ہے۔ کبھی وہ وقت تھا جب ایک بڑے سے صحن کے گرد بنے کمروں میں خاندان کے پچاس افراد مقیم ہوتے تھے، کچن ایک ہوتا تھا اور ایک کمانے والا دس کا پیٹ پالتا تھا۔ تب زندگی کی دوڑ اتنی تیز رفتار نہیں ہوئی تھی، تب بیٹیوں کی شادی کرنا بھی اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔ زندگی نشاطِ کل تھی اور محنت کش کی نیندیں بھی اس کی رفیق تھیں۔ میری پھوپھو کا گھر بھی ایساہی دو کمروں پر مشتمل تھا، جہاں دن رات ہنسی کے فوارے پھوٹتے تھے۔ بارہ لوگوں کا کنبہ ایک کمرے میں ایسے سمایا ہوا تھا جیسے آسمان کی وسعتیں ان کے لیے کہکشاں ہوں۔

اتنی بہت سی مشقت نے ہمارے جذبوں کو لوریاں دے کر سلا دیا ہے۔ کاش وقت یہیں رک جائے، مہنگائی کا ناگ خود کو ڈس لے، مہنگی زمینوں پر کیکر اگ جائیں، گاڑیاں ہوا میں اڑ جائیں، سمور و کتاں اور خلعت فاخرہ تار تار ہو جائے، دیسی ناشتوں کی خوشبو سے برگر، پیزے اور ڈونٹس گھبرا کر وطن کو خیر باد کہہ دیں، بریکنگ نیوز سو جائے اور زمانے کے صحن میں چارپائیاں بچھ جائیں

پھر گھر بدل گیا اور دو کمروں کے مکین کنال سے تجاوز کرتی کوٹھیوں میں آباد ہو گئے۔ جہاں کبھی رویوں کی باتیں ہوتی تھیں اب لاکھوں کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ محنت کشوں کے کاندھوں پر ہل لاد دیا گیا ہے۔ اب وہ فرصتیں اور فرحتیں نہیں رہیں، اب پیسے کی فراوانی نے نئے جہانِ معنی ڈھونڈ لیے ہیں۔ زندگی کے ٹریک پر محنت کی یہ گاڑی رواں دواں ہے، اب دلوں میں ولولے اور جذبے نہیں رہے۔ اب اسی گھر میں میری بہن آباد ہے لیکن ہم دونوں ایک دوسرے سے بس فون پر ملاقات کرتے ہیں۔ یہ وقت پتا نہیں پر لگا کر کہاں اڑ گیا ہے، اتنی بہت سی مشقت نے ہمارے جذبوں کو لوریاں دے کر سلا دیا ہے۔ کاش وقت یہیں رک جائے، مہنگائی کا ناگ خود کو ڈس لے، مہنگی زمینوں پر کیکر اگ جائیں، گاڑیاں ہوا میں اڑ جائیں، سمور و کتاں اور خلعت فاخرہ تار تار ہو جائے، دیسی ناشتوں کی خوشبو سے برگر، پیزے اور ڈونٹس گھبرا کر وطن کو خیر باد کہہ دیں، بریکنگ نیوز سو جائے اور زمانے کے صحن میں چارپائیاں بچھ جائیں جہاں شب بھر ستارے گننے والی آنکھیں مسکراتی رہیں۔ کاش ایسا ہو سکتا لیکن یہ سب کچھ اب میں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ اب زندگی کی دوڑ نے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے، اب ’’ پوری نہیں پڑتی‘‘ کی گردان ازبر ہو چکی ہے۔ پچاس ہزار میں بھی چار لوگ نہیں پلتے، ہر طرف افراتفری اور ہنگامہ سا مچا ہے۔

میں بھی مشقت کے آرے میں گردن دے چکی ہوں، ان تمام محنت کش عورتوں کی طرح جنہیں چڑیا اور چڑے کی طرح گھر بنانا اور بسانا ہوتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ مجھے اپنے آج میں جینا اچھا لگتا ہے، میں نے اپنا کل اللہ کے سپرد کر دیا ہے اور تخیل کی آنکھ سے گھونسلے کے تنکے جوڑ رہی ہوں۔ کاش زندگی کچھ دیر کے لیے تھم جائے اور وہی پرانے دن واپس لوٹ آئیں۔ جب گھرسے زیادہ گھر والوں کی چاہت مقدم ہوتی تھی، سٹیٹس کی اس جنگ میں جیت تو ہماری نسلوں کی ہو گی لیکن ہم کہیں ہار جائیں گے۔ اتنی محنت کے باوجود اگر تحفے میں ذیابطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض لگوا کر ہی مرنا ہے تو یا اللہ مجھے جیسی تمام کام چور عورتوں کو چڑیا بنا دے۔ مجھے تو وہ گھونسلا عزیز ہے جہاں بس چڑیا اور چڑا دال چاول کھا کر اپنے پنجے صاف کرتے ہیں کیونکہ کہانی اگر شروع ہو جائے تو پھر ختم نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: