جادوئی حقیقت نگاری پرمبنی اردو ناول: چار درویش اور ایک کچھوا

1
  • 88
    Shares

تبصرہ: نعیم الرحمان
سیدکاشف رضاکی ادبی حلقوں اور دوستوں میں پہچان نثری نظم اور انگریزی ادب کابے پناہ مطالعہ رہی ہے۔ ان کی شاعری کے دومجموعے ’’محبت کا محل وقوع‘‘ اور ’’ممنوع موسموں کی کتاب‘‘ شائع ہو کرقارئین کی بھرپور داد حاصل کرچکے ہیں۔ 1973ء میں سرگودھا میں پیدا ہونے والے سیدکاشف رضاچوتھائی صدی سے کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کابچپن پاک فضائیہ کے مختلف مراکز میں گزرا جہاں ان کے والدملازم تھے۔ انہوں نے راولپنڈی سے بی اے کے بعدکراچی یونی ورسٹی سے انگریزی ادب اور انگریزی لسانیات میں ایم اے کیا۔ وہ بطور صحافی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں۔ سید کاشف رضا کاحلقہ احباب انگریزی ادب کے وسیع مطالعہ سے واقف ہیں۔ لیکن انہوں نے اردومیں منفرد ناول لکھ کرحیران کردیا۔

اولین ناول سے قبل سیدکاشف رضا نے نوم چومسکی کی دو کتابوں کے تراجم ’’دہشت گردی کی صحافت‘‘ اور ’’گیارہ ستمبر‘‘ کے نام سے کیے۔ تاہم یہ ان کے مزاج اورفکرسے ہم آہنگ موضوع تھے۔ وہ محمدحنیف کے مشہورناول A case of Exploding Mangoes کا ترجمہ بھی کررہے ہیں۔ میلان کنڈیراکے ناول The Joke کا ترجمہ بھی مکمل کررہے ہیں۔ دونوں تراجم کا کچھ حصہ آج میں شائع ہو چکے ہیں۔ غرض بھرپورادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم یہ ان کے مزاج اور فکر سے ہم آہنگ موضوع تھے۔ پھرادبی جریدے آج میں ان کی طویل سفری کہانیاں شائع ہوئیں۔ اورقارئین کو سفرنامے کے ایک نئے لطف سے آشناکیا۔

سیدکاشف رضاکے پہلے ناول ’’چاردرویش اورایک کچھوا‘‘ نے ادبی جریدے آج میں شائع ہوکر دھوم مچائی۔ اسے کتابی شکل میں مکتبہ دانیال نے شائع کیاہے۔ تین سوتیس صفحات کے ناول کی قیمت پانچ سو پچیانوے روپے ہے۔ ناول کے لیے انہوں نے اردو ادب کے لیے منفرد تکنیک برتی ہے۔ جو ان کے وسیع مطالعہ کی آئینہ دارہے۔ اس اسٹائل کو بجاطور ’’اردو ادب میں جادوئی حقیقت نگاری‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔

ناول کے ابتدائیہ میں مصنف انوکھا سوال اٹھاتا ہے کہ

’’پتہ نہیں کب انسانوں نے طے کیا تھا کہ کہانی کو بیان کرنے کے لیے کسی نہ کسی راوی کی موجودگی ضروری ہے۔ مگر ایک کہانی کو ایک راوی کیسے بیان کرسکتاہے؟ کہانی تو ہر سمت سے دکھائی دیتی ہے، تو پھراس کے بیان کے لیے ایک عدد راوی کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ میرے سامنے میرے کردار اپنی اپنی کہانیوں کی پوٹلیاں اٹھائے موجود ہیں۔ میرے ذراسے اشارے کے منتظر، کہ میں ان پوٹلیوں میں سے زندگی کے رنگ برنگے ٹکڑے نکال کرانہیں دیکھنا دکھانا شروع کروں۔ لیکن کردار آپ کے سامنے بھی تو موجود ہیں۔ توچلیے ان کی کہانی کو ایک ایسادسترخوان سمجھیے جس پرمیں آپ کوب ھی دعوت اڑانے کی پیشکش کر رہا ہوں۔ میں ان پوٹلیوں میں سے زندگی کے جو رنگ برنگے ٹکڑے نکالوں ان میں سے کچھ کو منظور کیجیے اور کچھ کو مسترد، اور منظور شدہ ٹکڑوں کو توڑ، موڑ اورجوڑ کر ہر کہانی کو خود ترتیب دینے اور اپنے طور پر دیکھنے، دکھانے کی کوشش کر دیکھیے۔ میں خود ایک سامع بھی رہاہوں جسے یہ جاننے کی جستجو بھی رہی ہے کہ شہرزاد کے ساتھ ایک ہزاردوسری رات کو کیا ہوا۔ مجھے ایک حریص راوی بھی سمجھ لیجیے جس نے بیان کے ہرہر طریقے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھاہو۔ ایک حریص راوی کوکسی حریص سامع سے زیادہ کسی کی تلاش نہیں ہوتی۔ سو میری اس حرص میں آپ بھی شریک ہو جائیں تومل جل کردعوت اڑانے کاسامزہ آجائے۔ اب آغاز قصے کاکرتاہوں، ذرا کان دھر کر سنو اور منصفی کرو۔‘‘

کیا انوکھا اور قدیم داستانی انداز ہے۔ ناول اس ابتدائیہ کے ساتھ ہی قاری کی پوری توجہ کواپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ’’چاردرویش اورایک کھچوا‘‘ کے چھ ابواب ہیں۔ جن میں سے پانچ روایتی قصہ چاردرویش کی مانندچاردرویش جاوید اقبال، آفتاب اقبال، بالادی ویجی گاٹ اور ان کے تینوں کے والدتحصیل داراقبال محمدخان اورپانچواں باب کچھوے ارشمیدس کے بارے میں ہے۔ جس کے بارے میں سید کاشف رضا نے ایک انٹرویومیں بتایاکہ

’’میں نے زیادہ ترناول انگریزی میں پڑھے ہیں ان میں روسی، لاطینی، امریکن اوربرٹش شامل ہیں۔ وہاں جنس کابیانیہ اجنبی نہیں ہے۔ اردومیں جنس کابیان کافی ملفوف ہوتاہے۔ مجھے لگاکہ مجھے ملفوف طرز سے ہٹ کر انگریزی ناولوں کے طرز کی پیروی کرناچاہیے۔ میں نے اس مشکل کوایسے حل کیاکہ ایک کردار کچھوا تخلیق کیا وہ جنس کے بیان پر تنقید کرتا ہے۔ اور یہ بھی بتاتاہے کہ اسے انگریزی میں ایسے بیان کیا جاسکتا تھا۔ وہاں میں نے انگریزی اقتباسات بھی دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انگریزی ٹکڑوں پر اب تک کسی نے بات نہیں کی، اورنہ ہی اعتراض کیا۔ بہرحال ناول کی کئی سطحیں ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں آدمی کوسمجھنے کے لیے اس کی جنسیت کوبھی سمجھناضروری ہے۔ اور معاشرے کی نمائندگی بھی کرنی ہے اوریہ معاشرے کے جنسی رحجانات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں معاشرے کی جنسیت کے رحجانات جیسے دکھانا چاہتا تھا وہ ابھی تشنہ رہ گئے۔‘‘

سید کاشف رضا کی کردارنگاری بے مثال ہے۔ چاربنیادی کرداروں کی مکمل اوربھرپور شخصیت اوران کی خامیاں اورخوبیاں انہوں نے بہت عمدگی سے پیش کی ہیں۔ ناول میں سیاسی، مذہبی، معاشرتی، طبقاتی، جنسی، غرض ہرموضوع کو چند مخصوص کرداروں کے دائرے میں بڑی خوبی سے بیان کیاگیا ہے۔ خصوصاً متنازعہ موضوعات کاذکرکاشف رضا نے بڑی خوبی اور بے باکی سے کیاہے۔ ہمارے معاشرے میں جن پربات کرتے ہوئے ہرکسی کے پرجلتے ہیں۔ ایک اچھے مصنف کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ جوکہناچاہتاہے کسی نہ کسی انداز میں کہہ گزرے۔ چھٹے باب ’’ستائیس دسمبر اور اس کے بعد‘‘ میں نال کو بہت عمدگی سے اختتام تک پہنچایا ہے۔ بہت کم ناولوں اورڈراموں میں اس طرح ہر کردار کا واضح اور منتقی انجام پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح ’’چاردرویش اورایک کچھوا‘‘ میں پیش کیا گیا ہے۔ سیدکاشف رضا کا وسیع مطالعہ، ہرباب کے آغاز میں ژاں بودریاغ کے جملے، مختلف ناولوں، فلمیں سین اور مصنفین کا ذکر کمال مہارت سے کہانی کو بیان کرنے یا آگے بڑھانے میں استعمال کیاگیا ہے۔ ہرکرداراپنی جگہ مکمل اوراس کے حوالے سے آنے والی تفصیلات اسکی شخصیت کے خدوخال قارئین پر واضح کردیتی ہیں۔ جاوید، آفتاب دو مختلف ماؤں سے اقبال محمدخان کے بیٹے جبکہ بالااس کی غلط کاریوں کا نتیجہ ہے۔ چاروں کردار، کچھوا ارشمیدس اور راوی بھی ایک کردار کی صورت پورے ناول میں موجود ہیں اور اسے قدیم داستان گوئی خصوصاً قصہ چاردرویش سے منسلک کرکے اس کی دلچسپی میں اضافہ کرتاہے۔ اس قسم کے کردار حقیقی زندگی میں ہمارے اردگرد ہی موجود ہیں۔ بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔ واقعات بھی ہمارے جانے پہنچانے سے ہیں۔ بقول سیف الدین سیف ’’سیف اندازِ بیان رنگ بدل دیتاہے۔ ۔ ورنہ دنیامیں کوئی بات نئی بات نہیں‘‘

سیدکاشف رضاکا انگریزی ادب کا مطالعہ انہیں انگلش ناولوں میں موجود پورنوگرافی کی جانب راغب ضرور کرتا ہے۔ لیکن ان کے ہاں یہ پورنوگرافی نہ بلاضرورت ہے اور نہ ہمارے معاشرتی اخلاقیات کے دائرے سے باہر ہوتی ہے۔ بلکہ کہانی کا ایک حصہ اورانسانی کردار اور سائیکی میں موجود بوالعجی کو آشکار کرتی ہے۔ کیونکہ بہرحال جنس بھی انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ کہانی سے لطف اندوز ہونے والے کویہ جنسیت ناگوار نہیں گزرتی۔

ناول کا پہلا باب ’جاویداقبال‘ کے بارے میں ہے، جوٹی وی چینل میں رپورٹر ہے اورکرینہ کپورکا شیدائی ہے۔ جس کی تصاویر اس کے پورے فلیٹ میں لگی ہیں، جہاں وہ تنہا رہتا ہے۔ اس کے فلیٹ کے سامنے زرینہ اورصادق رہائش پذیر ہیں۔ جاوید اپنے فلیٹ سے زرینہ کو دیکھتا رہتاہے۔ جواسے کرینہ سے مشابہہ اورایک چیلنج محسوس ہوتی ہے۔ جسے حاصل کرنے کے بعد اس کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ صادق بھائی ناول کاعجیب وغریب کردار ہے۔ جس کے خواب حقیقت میں ڈھل جاتے ہیں۔ جاوید، زرینہ کے حصول کے لیے صادق سے دوستی کرتاہے۔ اپنے متعلق صادق کاخواب اسے حیران کر دیتا ہے۔ جاوید کوٹی وی چینل میں ساتھی مشعال بے حد پسند ہے اوراس کے مثبت ردِ عمل سے وہ بے حد خوش ہے۔ مشعال کو اینکر بننے کا موقع ملتا ہے، تواس کے عزائم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اپنے ظاہرکے برعکس پختہ کردار کی مالک ہے۔ زرینہ کے حصول کے لیے کاوشوں سے جاوید کا کردار اور شخصیت کے روپ اجاگر ہوتے ہیں۔ اٹھارہ اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پرکارساز دھماکے اور ٹی وی چینلز کی مصروفیات کہانی رنگ اجاگر کرتے ہیں اوربہت سی ان کہی بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ صادق بھائی کے خواب ناول میں ایک عجیب پراسرار فضا کو جنم دیتے ہیں۔ جن پرحقیقت اورگمان دونوں کاشائبہ ہوتاہے، اور انہی کے پس منظر میں بے نظیر بھٹو کی آمد پر بم دھماکہ، پنڈی دھماکے میں بے نظیربھٹو کی شہادت، اس کے قتل میں ملوث مذہبی عناصر اوران کی بے نظیرسے اس حدتک ناراضی کی وجوہ، قتل کے بعد رحمٰن ملک جیسے پی پی کے لیڈروں کاکردار اورشیری رحمٰن کی اپنی گاڑی میں بے نظیرکولے جاناقتل کے محرکات بہت کچھ واضح اورپس پردہ طورپربیان کیے ہیں۔ جوناول کی دلچسپی میں اضافے کاباعث ہیں۔ نفاذِ شریعت کے لیے مذہبی عناصر کیا کچھ کرتے ہیں اورکس حدتک جاسکتے ہیں۔ اس کی حقیقت کیاہے۔ یہ ایک اغواکار کے مطالبے اوراس کے لیے ٹی وی بیپر میں ایک عالم دین سے گفتگو میں واضح کیاگیا ہے۔ جو کسی طور پراس بدترین اور ناقابل ِ قبول سانحے کی مذمت کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ مختلف تاویلات پیش کرتاہے۔ اینکرسوال کرتی ہے۔ لیکن مولانا یہ شخص شریعت کی خاطرخواتین کاریپ کر رہاہے۔ کیاآپ اس کی مذمت نہیں کریں گے؟ تو مولاناجواب میں کہتے ہیں کہ دیکھئے میں کوئی مفتی نہیں ہوں، لیکن تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ اب کون حق پرتھا اور کون نہیں تھا، یہ فیصلہ میں اور آپ یہاں بیٹھ کرتونہیں کرسکتے نا۔ آپ لوگ بلاوجہ میڈیا پر ایسے سوالات پوچھتے ہیں؟ ایسے معاملات میں پردہ پوشی ہی مستحسن ہے لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ آپ امریکا کے ایجنڈے اور سیکولر ایجنڈے پرکام کر رہی ہیں۔

یہاں کاشف رضاریپ کے بجائے کسی اورصورتحال کے ذریعے بھی پیغام دے سکتے تھے۔ ان کے طرزبیان سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن جو وہ کہناچاہتے تھے وہ بہت خوبی سے قارئین پرعیاں کردیا۔ یہی ناول نگارکی خوبی ہے۔

جاوید اقبال کے حوالے سے ان کی والدہ سلطانہ بیگم کا ایک دلچسپ پیرا بھی چشم کشا ہے۔ والدہ جاوید سے دور رہتی تھیں۔ لیکن انہیں بیٹے کی لڑکیوں سے دلچسپی کاعلم ضرور تھا۔ جس نے اپنے کارناموں کا آغاز اسکول سے ہی کردیا تھا۔ ان دنوں وہ اپنے شوہرسے الگ ہوکر اپنی امی کے ہاں رہ رہی تھیں۔ علیحدگی کاسبب گھرہی میں شوہرکوایک عورت کے ساتھ نازیباحالت میں دیکھناتھا۔ اب جب بیٹے نے گل کھلایا تو انہیں غصہ کے بجائے احساس تفاخر ہوا۔ یہاں ماؤں کابیٹوں کی غلط کاریوں کی پردہ پوشی اور بڑھاوا دینے کی عمل کو واضح کیاگیا ہے۔

ناول کا دوسرا باب دوسرے درویش آفتاب اقبال کے بارے میں ہے۔ جو اقبال محمدخان کی پہلی بیوی امتہ الکریم سے بڑا بیٹا ہے۔ امتہ الکریم کی تین بیٹیاں بھی ہیں۔ وہ احمدی عقیدے سے تعلق رکھتی اورصوم وصلواۃ کی پابند اور پردہ پرسختی سے کاربند ہیں۔ اسی وجہ سے آزاد طبیعت کے اقبال نے انہیں طلاق دیدی۔ امتہ الکریم کی خودداری نے سابقہ شوہرسے بچوں کی پروش کے لیے بھی کچھ لیناگوارا نہ کیا۔ بیالیس سالہ آفتاب یونیورسٹی میں پروفیسر اور عملاً مذہبی جھمیلوں سے دورہے۔ اس کی ذہانت اور فکری نشوونما کو کلاس میں دلچسپ اور فکرانگیز مکالمے میں افلاطون اور ارسطو کے تصور ممیسس کے بارے میں گفتگو کے ٹکڑے سے اجاگر کیا گیا ہے۔ آفتاب طلبا کو بتاتے ہیں کہ حقیقت کی نمائندگی یا ریپریزنٹیشن ایک بہت لیئرڈ کانسیپٹ ہے۔ یعنی اس کی بہت سے تہیں اور بہت سے آسپکٹس ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک واقعہ دیکھ رہے ہوں اورآپ کواسے بیان کرنے کوکہاجائے توسب کابیان الگ الگ ہوگا۔ کسی کو کوئی چیز اہم لگی ہوگی اور کسی کو کوئی اورچیز۔ ریالٹی کی نمائندگی میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ نمائندگی یاری پریزنٹیشن کون کر رہا ہے۔

اس قسم کی فلسفیانہ بحث کوبھی دلچسپ انداز میں بیان کیاگیاہے۔ جس سے ناصرف ناول کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بلکہ قاری کے علم میں بھی کشادگی آتی ہے۔ بیالیس سالہ آفتاب کی دیدہ زیب شخصیت اور ذہانت سے متاثر چھبیس سالہ شاگرد سلمٰی ان سے محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کنوارا آفتاب بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ سلمٰی امیر والدین کی اولاد ہے۔ جو کسی صورت یہ رشتہ کرنے کوتیار نہیں اورجب انہیں آفتاب کی والدہ کے احمدی ہونے کا علم ہوتا ہے تو انہیں انکار کا جواز مل جاتاہے۔ سلمٰی کے والد آفتاب سے فوری مستعفی ہونے کاکہتے ہیں اور وہ  چپ چاپ ایساہی کرتا ہے۔ لیکن سلمٰی کالج لیکچرار بننے اور خودمختار ہونے کے بعد آفتاب سے شادی کرلیتی ہے۔ تب ایک ہجوم ان کے گھر پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہ دونوں بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔

ناول کے اس حصے میں ہماری کردارکی بوالعجبیوں اورقول وفعل کے تضاد کوواضح کیاگیا ہے۔ آفتاب شاگردوں سے بات چیت میں کہتا ہے کہ

’’تو دیتے نا عورتوں کوعزت! تو پیدا کرتے نامساوات! حضورﷺ نے تومیثاقِ مدینہ میں مسیحیوں کو برابر کا شہری قرار دیا تھا نا۔ توغیر مسلموں کو برابرکا شہری کیوں نہیں سمجھتے مسلمان؟ غلامی کا انسٹی ٹیوشن ختم کرنے کے لیے بھی ابراہام لنکن کو آنا پڑا۔ عورتیں ہیں تو بیچاری ذلیل ہورہی ہیں کسی غیرتمند بھائی سے اتنانہیں ہوتا کہ والدین کے مرنے کے بعد جائیدادمیں سے شریعت کے مطابق بہنوں کاحصہ ہی انہیں دیدے۔ سب بے شرمی سے اسٹامپ پیپرلے کر بہنوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں کہ اپنا حصہ ہمارے نام کردو، چودہ سوسال تک مسلمان اس بات پرکشت وخون کرتے رہے کہ کسی بادشاہ کے مرنے کے بعداس کاکونسا بیٹابادشاہ بنے گا، ارے بھئی کوئی قانون بنادو کہ باپ کے بعد سب سے بڑا بیٹا بادشاہ بنے گا۔ ویسٹ بھی تو ہے جنہوں نے ٹرائیل اینڈ ایرر کے بعدمنصفانہ انتخاب کاطریقہ سوچ لیا اور بادشاہ؟ یہ کہاں سے آگئے اسلام میں؟ اسلام میں توسب برابرتھے، پھر ملوکیت کہاں سے آگئی اسلام میں؟‘‘

اس قسم کی فلسفیانہ گفتگو اور دیگر مصنفین کے اقتباسات سے سیدکاشف رضا نے اپنے قاری کی ذہنی تربیت کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اور یہ سب کسی بیزارکن لیکچرکی شکل میں نہیں ہے۔ بلکہ ناصرف ناول کی کہانی کو آگے بڑھانے میں مددگارہیں۔ بلکہ ناول کی دلچسپی بھی قائم رہتی ہے۔ اورمتنازعہ امورکی وضاحت کے لیے مصنف نے بڑی خوبی سے مختلف حوالوں کواستعمال کیاہے۔ جیسے آفتاب اقبال کے باب میں احمدیوں سے ملک میں سلوک کو واضح کرنے کے لیے سیدکاشف رضا نے یہودی فلسفی بروچ اسپائی نوزاکے بارے میں آفتاب کی فکرکو بڑی عمدگی سے بیان کیاہے۔

’’میرے لیے یہ عجیب بات تھی کہ اسپائی نوزاکے خیالات سے اتفاق نہ کرنے کے باوجودمیں آج چوتھی مرتبہ ایک ایسی صورتحال سے دوچار تھا، جو اسپائی نوزا کو بھی پیش آچکی تھی۔ بروچ بطور انسان مجھے بہت پسند تھا لیکن مسئلہ جبر و قدرکے بارے میں اس کا نظریہ یہ تھاکہ تمام تراختیارخدا کو ہی حاصل ہے۔ جس نے انسان کی تقدیرطے کردی ہے۔ میرا موقف یہ تھا کہ اگریہ نظریہ درست ہے تب بھی قابلِ عمل نہیں اوریہ نظریہ انسان سے اس کی زندگی کے غیرمتوقع حالات میں عمل کی طاقت سلب کر لیتا ہے۔ میرے لیے عجیب بات یہ تھی کہ اسپائی نوزاکے نظریات سے متفق نہ ہونے کے باوجود وہ میری زندگی میں باربارمثال بن کرکیوں آتاہے۔ سپائی نوزا ایک مظلوم اقلیت سے تعلق رکھتاتھا، لیکن سچائی کی تلاش میں اس نے یہ بات قبول کرلی تھی کہ یہودی ربی اسے اپنے دین سے خارج کردیں میں بھی اپنے فرقہ کو مظلوم سمجھتا ہوں، لیکن اس کے ساتھ ہی میں اپنے فرقے کی تمام عبادات اور مجالس سے دور رہتاہوں۔ اسپائی نوزاکے والدین کو اپنے بیٹے پرکوئی فخرنہیں تھا، اور والد کے مرنے کے بعدان کی جائیداداسپائی نوزا کی بہن نے ہتھیانا چاہی تھی۔ اسپائی نوزا نے مقدمہ کیا اور جیتا، اور پھر جائیداد اسی بہن کے حوالے کردی جس کے خلاف وہ مقدمہ لڑا تھا۔ تنہائی کے بہت برسوں میں ہر مشقت، معاشی جدوجہدنے میری ماں کو اور خود مجھے ایسا غیور بنادیا تھا کہ ہم ابو کی جائیداد میں سے کسی حصے کے خواہاں نہیں تھے۔ اسپائی نوزا نے اپنے استاد کی بیٹی سے محبت کی تھی اور محبت کرتے وقت یہ بھول گیا تھا کہ لڑکی مسیحی ہے اوروہ خود یہودی۔ حالانکہ یہودی توصرف اس کا باپ تھا۔ میں بھی سلمٰی سے تعلق کے دوران چاہتا تھا کہ یہ بات بھولارہوں کہ میں ایک احمدی ماں کا بیٹا تھا۔ آج زندگی کے ایک اہم مرحلے پر مجھے اسپائی نوزا کی یاد آرہی ہے۔ جب اسپائی نوزا پر روزگار کے تمام دروازے بند کردیے گئے تھے۔ تواس نے عدسے چمکانے کاکام شروع کر دیا تھا۔ آج میں اپنے یونیورسٹی کے کیریئر کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور مجھے نئے پیشے کا انتخاب کرنا تھا۔ جو میری اولین محبت یعنی تعلیم سے بالکل الگ ہوگا۔

اسی باب میں پاکستان کی تاریخ کے اتفاقات کا مختصر ذکر سب کچھ دہراتے ہوئے مصنف بیان کرتاہے کہ

’’اگر بھٹو گیارہ جنریلوں کو سپرسیڈ کرکے ضیاالحق کو آرمی چیف نہ بناتا، اگر بھٹو، مجیب الرحمٰن کو وزیراعظم تسلیم کرنے پرآمادہ ہو جاتا، اگر ایوب خان نے پاکستان میں سیاسی عمل روک کرمارشل لانہ لگا دیا ہوتا، اگرراولپنڈی کے لیاقت باغ میں لیاقت علی خان کو قتل نہ کردیا جاتا، اگر جناح قیام ِ پاکستان کے ایک سال بعد ہی انتقال نہ کرگئے ہوتے توپاکستان کی تاریخ شاید مختلف ہوتی۔ اس قسم کی گفتگو اور پیراگرافس میں سیدکاشف رضا اپنے سیاسی، مذہبی اورمعاشرتی خیالات کا بڑی خوبی سے کسی تنازعہ میں پڑے بغیر آشکار کرتے ہیں۔

ناول کا تیسراباب ارشمیدس کچھوے کے بارے میں ہے۔ جسے ایک کردارکے طور پرپیش کرکے سیدکاشف رضا نے کہانی آگے بڑھانے کا کام بڑی خوبصورتی سے لیاہے۔ اس باب میں بہت سے ان کہی بے حدعمدگی سے بیان کی گئی ہیں۔ کچھوا جاوید کوکیسے ملا، اس کے بارے میں پراسرار کہانی کچھوے کے گرد ایک غیرمرئی طلسماتی ہالا قائم کردیتی ہے۔ راوی اور کچھوے کی بحث دلچسپ اورحقیقت کشاہونے کے ساتھ مصنف کی ذہانت کی بھی آئینہ دار ہے۔ جس نے بہت سے مشکل مراحل کچھوے اور راوی کے بیان کی صورت میں بڑی آسانی سے طے کرلیے۔ جس کے لیے وہ بھرپورداد کے حقدار ہیں۔ پہلے ہی ناول میں ان کااعجا زبیان حیران کن ہے۔

ناول کا تیسرا درویش اور چوتھا باب بالادی ویجی گاٹ ہے۔ بالا، اقبال محمدخان کا ناجائز بیٹا ایک دیہاتی عورت عالم گیر سے تعلقات کا ثمر ہے۔ وہ اپنے دوسرے بہن بھائیوںسے شکل میں مختلف، رنگ میں گورا اور اقبال محمدخان سے مشابہت پر ہمیشہ باپ اور بہن بھائیوں کی نفرت اورغلط رویے کا شکار رہا ہے۔ اس ناروا سلوک کی وجہ سے وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ اور گاؤں میں قتل کرکے بھاگ جاتاہے۔ بالا گھرسے بھاگنے کے بعدمذہبی جہادی تنظیم کے ہتھے چڑھ جاتاہے۔ بالاکے کردار کے حوالے سے سیدکاشف رضا نے جہادی تنظیموں کے طریقہ کار، کم عمر بچوں کو ورغلانے، خود کش دھماکوں کو فضیلت کا روپ دیکر آمادہ کرکے جنت میں جانے اور وہاں حوروں اوردیگرسامانِ عیش حاصل کرنے کی ترغیب کمال مہارت اور اختصار سے بیان کی ہیں۔ ناول کے مطابق بالا ہی بے نظیر بھٹو کی گاڑی سے باہرخودکش دھماکا کرتا ہے۔ لیکن بے نظیر گاڑی سے باہر سر نکالنے کی وجہ سے شہید ہوتی ہے۔

ناول کا چوتھا درویش اقبال محمدخان پہلے تین درویشوں کاباپ ہے۔ اس کے کردار کی تشکیل اورکہانی کی تعمیر میں یہ باب بھی دلچسپ ترین ہے۔ اقبال کے عورتوں سے تعلق، دوبیوں اوربچوں کی موجودگی میں دیگرخواتین سے روابط ہربات انتہائی دلچسپ، تہلکہ خیز اور عقدہ کشا ہے۔ ناول کی بے شمار پرتیں اور پہلو ہیں۔ کئی پیرے اتنے دلچسپ ہیں کہ قاری انہیں بار بار پڑھنے پر مجبور ہو جاتاہے۔ اور ہر پڑھت پرایک نیا مفہوم سامنے آتا ہے۔

چھٹا اور آخری باب ’ستائیس دسمبر اور اس کے بعد‘میں تمام کڑیوں کو جوڑ کرناول کے ہرکردارکو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ بہت کم ناولوں میں اس طرح ہر پہلو کو اختتام پذیرکیا جاتا ہے۔ کوئی بات ادھوری نہیں چھوڑی گئی۔ یہ ناول کی بہت بڑی خوبی ہے کہ صفحہ اول سے آخر تک قاری کی دلچسپی کاتارکہیں ٹوٹنے نہیں پاتا۔ ہرکردارحقیقت سے قریب تر، ہر واقعہ زندگی کے ایک نئے ان کہے روپ کاعقدہ کشاہے۔ اپنے پہلے ہی ناول میں اس کمال کے بیانیہ اوربے مثال مہارت پر سید کاشف رضا بھرپور مبارکباد اور داد کے مستحق ہیں۔ قارئین کو ان سے آئندہ ناول کے لیے توقعات بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ میری نظرمیں’’چاردرویش اور ایک کچھوا‘‘ اردوادب میں جادوئی حقیقت نگاری کی عمدہ مثال پیش کرتاہے۔ بقول مستنصر حسین تارڑ ایک ناول توبہت لوگ اچھالکھ لیتے ہیں۔ کسی مصنف کااصل امتحان اس کے دوسرے ناول سے ہوتا ہے۔ اور یہ امتحان سید کاشف رضا نے ایک بے مثال ناول لکھ کرمزید مشکل بنالیا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: