میرے پیارے اباجی کی یاد میں ۔۔۔۔۔ اسلم خان

0

اباجی چلے گئے اپنے پیچھے ، یادیںاورانگنت کہانیاں چھوڑگئے ،اباجی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ،وہ بینکارتھے، زمیندار تھے اس سے بھی بڑھ کر غریبوں کے غمخوار تھے میرے والد گرامی قدر، رانا محمد اشرف خاں،ذاتی زندگی میںبہت ہی حلیم اور بردبار۔ جن کی دیانت اورحد سے زیادہ عاجزی کا ایک زمانہ معترف رہا، وہ بھٹو مرحوم کے عاشق زار تھے۔ ایسے وفاشعار کہ نوے کی دہائی میں آصف زرداری نے برادرم فاروق فیصل خان اور اس کالم نگار کو ڈکیتی کے بے بنیادمقدمے میں ملوث کرایا توہمیں روپوش ہونا پڑاجس سے ہماری جان ،مرشدم ومحترم جناب مجید نظامیؒ نے چھڑائی تھی۔ روپوشی کے انہی دنوں جب دوران گفتگو میری تلخ کلامی بڑھتی گئی تو قبلہ والد گرامی نے فرمایا”اک پرچے نے تیرا کی حال کردتا اے ہوش کر بھٹو صاحب بارے بکواس نہ کریاکر“یہ کالم نگار دیانتداری سے پاکستان کو درپیش موجودہ مسائل کا ذمہ دار بھٹو مرحوم کوسمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکستان کی تقدیر بدلنے کے ان گنت مواقع عطا فرمائے لیکن نرگسیت کاشکار، اس خود پسند جاگیردار نے اپنی افتاد طبع کے تحت انہیں ضائع کردیا اگر وہ1977کے عام انتخابات میں حق رائے دہی اور ووٹ کی حرمت پامال نہ کرتے اورجے اے رحیم جیسے بے ضرر بزرگوں کی عزت نفس مجروح نہ کرتے شائد آج تک زندہ ہوتے اور دیوتا سمان کادرجہ پاتے۔
کواپریٹو بنک انتظامیہ بھی تمام لاینحل اور پیچیدہ مسائل اباجی کے سپرد کردیا کرتی تھی۔ وہ سینئر منیجر آڈٹ اینڈ انسپکشن کے منصب سے ریٹائر ہوئے لیکن تاریخی راہوالی شوگرمل کی اربوں روپے مالیت کی زمین،اباجی نے ذاتی جائیداد سمجھ کر قبضہ گروپوں سے واگذار کرائی، نوادرات کادرجہ رکھنے والی ویمبلے دونالی بندوقوں کے ہیرپھیر پر پیپلزپارٹی کے ایک وفاقی وزیرپر چوری کاپرچہ درج کرانے کے بعد اس کی پیروی کرتے رہے۔ اس منفرد مزاجی کے باعث ان کے ساتھی انہیں،بادشاہ سلامت کہتے تھے۔ اباجی کا اپنا سچ اورذاتی پسند ،نا پسند پر مبنی قانون تھا۔ سینکڑوں افراد پر مشتمل وسیع و عریض ہمارے خاندان میں جدی جائیداد اور قدیم وارثتی تنازعات کچھ ایسے الجھے ہوئے تھے کہ کسی فریق کا موقف کلی سچ قرار نہیں دیاجاسکتا تھا لیکن اباجی ان پیچیدہ معاملات کواپنی سادگی طبع کے تناظر میں سلجھانا چاہتے جو ممکن نہیں ہوسکتا تھا اس پر خاکسار سے ناراض رہتے، سخت سست کہتے، میں بھی آئیں بائیں،شائیں کرتا رہتا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد نجانے کیسے انہیں اچانک پٹیالہ یاد آنے لگا جہاں سے ہجرت کرکے ہمارا خاندان بڈھا گورائیہ ضلع گوجرانوالہ آباد ہوا تھا۔ تقسیم کے وقت اباجی کی عمر تین، چار سال ہوگی یہ ان کی زندگی کا نیادورتھا ۔یہ کالم نگار علاقائی تناظر میں اکھنڈ بھارت کے فلسفے کی وجہ سے بھارت کانام لینا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ اباجی کے مجبورکرنے پر ان کے ساتھ پٹیالہ گیا۔ میری اماں تقسیم کے وقت ہونے والے مظالم کاذکر کرکے ہندوﺅں کوبے نطق سناتیں، اباجی ان کی انسانیت کاذکرکرکے جان چھڑایاکرتے تھے۔ اباجی نے تواتر سے بھارت یا ترائیں کرکے وہاں اپنا وسیع حلقہ بنالیا تھا۔ امرتسر سے لے کر پٹیالہ تک سینکڑوں نمایاں افراد ان کے مداح تھے ،امرتسر میںپنجاب اسمبلی کے لےے بی جے پی کے اُمیدوار راجیس ہنی کاخاندان ان کے لےے ہر لمحہ پلکیں بچھائے رہتا تھا۔ روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان ،منفرد اسلوب نگار طارق چودھری اوردیگر ساتھیوں کے ہمراہ ہم راجیش کمار ہنی کے گھر گئے تو انکے اہل خانہ کی پذیرائی، مہمان نوازی اوراندازِ میزبانی نے ہمیں ششدرکرکے رکھ دیا۔وقت رخصت طارق چودھری نے بے اختیار پکارا ”اتنی محبت تو ہمارے اپنے گھروالوں نے کبھی نہیں کی“ بی جے پی کے رہنما اور متعدد بار منتخب ہونے والے رکن لوک سبھا ایوی ناش رائے کھنہ کاخاندان کچھ ایسے اباجی پر فریفتہ ہوا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لےے 5ہزار ڈالر لے کر آئے جو یہاں کوئی لینے کے لےے تیار نہیں تھا اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو یہ عطیہ وصول کرنے کے لےے آمادہ کیا۔
اباجی،فرقہ ورایت کو ہوا دینے والے مولوی حضرات سے شدید الرجک تھے۔ ہمارے خاندان میں ہمارے بھائی حضرت مولانا محمد یوسف خان نے عین جوانی میں داڑھی رکھی۔ انکے بعد یہ سعادت اس بے عمل، گناہ گارکے حصے میں آئی جو سید ابو اعلی مودودیؒ کی نثر کا ایسا اسیر ہوا کہ کہیں کانہ رہا، یہ تومرحوم ڈاکٹر احسن اخترناز کی صحبت کااعجاز تھا کہ موجودہ جماعت اسلامی کی دنیا دار قیادت کی زلف گرہ گیر سے بچ نکلا کہ دنیاوی مفادات کے لےے ان صالحین کی سودے بازیوں نے دل اچاٹ کردیا۔
اباجی طویل واک کرنے والے سخت کوش تھے لیکن پانی نہ پینے کی عادت بتدریج اندر سے کمزور کرتی رہی۔ایک برس قبل سعودی عرب میں فالج حملہ آور ہوا وہاں دوماہ زیرعلاج رہنے کے بعد پاکستان آگئے۔ چھڑی کے سہارے چلنا پھرنا بھی شروع کردیا تھا لیکن بلند فشار خون نے انہیں الجھائے رکھا۔ خوش قسمت تھے کہ آخری لمحے تک اپنی من مرضی سے جئے ،زندگی کوٹھوکروں پر رکھا اوربھرے پرے خاندان کے درمیان سے پرسکون انداز میں سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔صاحب سیف الملوک حضرت میاں محمد بخش ؒنے والدین کی عظمت بارے شاہکار شعر کہے ہیں ۔ میاں صاحبؒ فرماتے ہیں:
اے بابل توں قبلہ کعبہ دِل تے جان میری دا
دائم اسم شریف تُساڈا وِرد زبان میری دا
دَر تیرے دی خاک اسانوں سُرمہ عَین نورانی
تخت تیرا کوہ طور تے ،چہرہ چشمہ فیض ربّانی
ظِل اللہ وجود تُساڈا ،چَھتر میرے سِر سایا
قدم تیرے دی دھوڑ مبارک چاہاں تاج بنایا
اِن اشعار میں والد کو قبلہ و کعبہ سے تشبیہ دی ہے اوروالد گرامی کے اسم مبارک کو اپنی زبان کا وِرد قرار دیا ہے۔باپ کے دروازے کی دھول کو سرمہ نورانی کہا ہے۔ ان کے تخت کو کوہ طور سے جبکہ چہرہ مبارک کو ربانی فیض کا سرچشمہ کہا ہے۔ باپ کے سائے کو ربّ کے سایہ اور باپ کے قدموں مٹی کا تاج بنا کر سر پر پہننے کو مبارک جانا ہے۔
اَج میرے سِر رحمت وُٹھی، ٹھنڈ پئی وچ پِتّے
نال دُعا توجہ تیری سب مطلب ربّ دِتے
محض طفیل تساڈی میں پر ہویا فضل حضوروں
مدد قبلہ گاہ دی کولوں لتھے رنج رنجوروں
میں وچ کجھ نہ آہی شیخی نہ قوت ہُشیاری
ہر آفت تھیں راکھی ہوئی ہِمّت خاص تمہاری
تُساں نگاہ میرے وَل رکھی، دِتیاں نیک دعائیں
تاں ایہہ سفر عشق دے ساہدے، گاہے دیو بلائیں
آج جو مجھ ناچیز کے سر پر رحمتِ اِلٰہی کا نزول ہوا ہے اور میرے پِتے میں ٹھنڈ پڑی ہے تو یہ فضل و کرم آپ کی دعاو¿ں کے طفیل ہی ہوا ہے۔ میرے تمام رنج دور ہوئے ہیں، وگرنہ نہ ہی تو مجھ میں ہمت تھی نہ ہی اہلیت۔ آپ کی دعاو¿ں کے صدقے میں مجھے تمام آفتوں سے نجات مِلی۔ آپ نے ہر پَل اپنی نگاہِ شفقت میری طرف رکھی۔ اس طرح میں نے دیوو¿ں اور بلاو¿ں کو شکست دیتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے کے تمام مراحل نہایت کامیابی سے طے کیے۔
حضرت میاں محمد بخشؒ نے مثنوی سیف الملوک کے آخر میں ایک پورا باب شہزادہ سیف الملوک کے والدِ محترم بادشاہ عاصم شاہ کی وفات کے حوالے سے لکھا ہے۔ آپؒ نے اس میں بہت سارے شعر نہایت ہی پُرسوز انداز میں پیش کیے ہیں:
فانی دی آشنائی کولوں دِل بیزار ہویا سی
باقی وَل محمد بخشاؒ اُٹھ سوار ہویا سی
ذِکر شہادت کلمے پڑھدا، خوشیاں نال مُراداں
عاصم شاہ پکّے گھر ٹُریا چھڈ کچّیاں بُنیاداں
پنجر وچ اُداسی ہوئی، بُلبُل مست چمن دی
پھاہی گر نے لائی کِڑ کی، قید مُکی جَل اَن دی
عاصم شاہ بُلایا بیٹا سینے چِھک لگایا
پَندوصیّت دِتی نالے، الوداع بُلایا
سُکھ وَسّو تَم سیف ملوکا ،ٹُریا باپ سفر نوں
ماتم سوگ نہ کرو سفر دا ،چلّے اصلی گھر نوں
الوداع تُساں تھیں مینوں کیتا یاد سہیلی
اللہ بیلی جان اکیلی، چلّی چھوڑ حویلی
(سہیلی: قبر۔پکّا گھر: اگلا جہان ۔کچّا گھر، کچیاں بنیاداں: ایہہ فانی دُنیا)
باپ بیٹے کی جدائی کی منظر کشی میاں صاحبؒ کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں
لُطف ،احسان ،مروّت، شفقت کرسی کون اجیہی
شالا چِھک محبت تیری کدی نہ ہووے بیہی
مغفرت کرے ربّ تینوں دیندے اسیں دعائیں
راضی رَہِیں اَساں پر دائم مَتھے وٹ نہ پائیں
ایس فانی زندگی بارے ارشاد فرماتے ہیں
دنیا نال نہ گئی کِسے دے، ٹُر ٹُر گئے اکلے
اوہو بَھلے جِنہاں چھنڈ رکھے، اِس دُھوڑوں ہتھ پَلّے
حرف آخریہ کہ اباجان، رانامحمد اشرف خان کی رسم چہلم اورختم دسویں شریف آج جمعرات، 23 فروری کوبڈھاگورائیہ ضلع گوجرانوالہ بعد نمازظہر 1:30 ہوگا تمام احباب سے انکے سفرآخرت میں آسانیوں کے لےے دعاﺅں کی درخواست ہے ۔ دائم جدائی کے اس مرحلے پر چراغ حسن حسرت یاد آرہے ہیں جنہوں نے دُنیا کی بے ثباتی کو کچھ یوں بیان کیا تھا۔
وہ بھی تو مِٹے ،جانِ جہاںنام تھا جن کا
یہ نظمِ جہاں پھر بھی تو،برہم نہیں ہوتا

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: