دو منطقوں کے بیچ سفر — سلمان باسط

0
  • 81
    Shares

میں صحرا میں رہتا ہوں۔ دشت نوردی کرتا ہوں۔ ریت چھانتا ہوں۔ سفر میں تمازت زدہ راستے کبھی کبھی ریت سے اس طرح اٹ جاتے ہیں کہ گزرگاہ کا اصل چہرہ چھپ جاتا ہے۔ سفر مشکل ہے لیکن میں قدیم ناقہ سواروں کو چشمِ تصور میں لاتا ہوں جو ریت کے طوفان میں بھی عماموں سے اپنے چہرے ڈھانپے اپنی اونٹنیوں کو مہمیز کرتے منزل کی جانب سفر جاری رکھتے تھے۔ میں تو جدید پرآسائش اور پرتعیش عرب کا باسی ہوں جہاں سہولیات فراواں ہیں اور سفر محفوظ۔ میں کسی اونٹنی کی پشت پر نہیں، اپنی ائرکندیشنڈ، آرام دہ گاڑی میں سفر کرتا ہوں۔ راستے وہی ہیں، منزلیں بھی وہی ہیں، باہر چلچلاتی دھوپ بھی ویسی ہی ہے لیکن سفر کی صعوبتیں ویسی نہیں ہیں۔

میں دو مہربان منطقوں کے درمیان قیام پذیر ہوں۔ ایک منطقے میں پہنچتا ہوں تو ایسی کیفیت دان ہوتی ہے کہ وجد میری روح کو بگولے کی طرح رقص کرنے پر محبور کر دیتا ہے۔ میں گھومتا رہتا ہوں، گھومتا رہتا ہوں۔ جی چاہتا ہے دائرے کا یہ سفر کبھی ختم نہ ہو۔ مقررہ دوارنیہ ختم بھی ہو جائے تو گھومتے رہنے کی خواہش طواف میں رہتی ہے۔ مر مر کے ٹھنڈے فرش پر ماتھا ٹیکتا ہوں یہ مہربان سلیں نامہربان زمانے کی دی گئی تمام تر تمازت جذب کر لیتی ہیں۔ میں شفاف چشمے کے پانی سے صدیوں کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو میری ساری جسمانی اور روحانی بیماریاں شفایاب ہونے لگتی ہیں۔ میں بے خود ہو کر دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑنے لگتا ہوں۔ میری سعیِ پیہم رنگ لاتی ہے اور میں شانت ہو کر ایک سمت بیٹھ جاتا ہوں۔ چلچلاتی دھوپ کہیں کسی کونے میں جا جھپتی ہے اور مجھ پرکوئی ابر سایہ کر دیتا ہے۔ چاروں جانب، اندر باہر سکون ہی سکون ہے، شانتی ہی شانتی۔ نہ دنیا ہے نہ دنیا کے جھمیلے، نہ کوئی فکرنہ حرص۔ یہ سب جھگڑے کہیں باہر چھوڑ آیا ہوں۔

دنیا مجھے پھر اپنی جانب کھینچنے لگتی ہے۔ میں وقت کے ٹکسال میں سکے ڈھالنے لگتا ہوں۔ مشکل سے کمائی ہوئی سکون کی دولت کو دنیا دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگتی ہے۔ میں کولہو کا بیل بن کر خواہشوں اور ضرورتوں کے مدار میں دوڑنے لگتا ہوں۔ دوڑتا رہتا ہوں۔ وقت پھر مہربان ہوتا ہے۔ میں دنیا کے اور دنیا کے لوازمات کے حصار سے نکلتا ہوں۔ دوسرے منطقے کی جانب بڑھتا ہوں۔ سفر شروع ہوتا ہے۔ شوق میرا امام بن جاتا ہے۔ راستے اُجلے ہونے لگتے ہیں۔ بے صبری سفر کو طویل کرتی ہے۔ چٹیل، بے آب و گیاہ، طویل قامت، سیاہ پہاڑوں کے درمیان سفر جاری ہے۔ سفر تمام ہوتا ہے۔ میں اس دنیا کے ایسے شہر میں جا اترتا ہوں جہاں نگاہیں چپے چپے کو چومتی ہیں۔ زمین، آسمان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میں اس کی پہنائیوں میں قدم دھرنے لگتا ہوں۔ اچانک روح میں اترتی ہوئی ایک پکار بلند ہوتی ہے۔ وہ خوش الحان پکار اوپر ہی اوپر اٹھتی جاتی ہے۔ میں بے اختیار ہو کر آسمان کی طرف لپکتی اس آواز کا تعاقب کرتا ہوں۔ صف آرائی ہوتی ہے۔ میرے چاروں جانب دور تک دکھائی دیتے ہوئے شانوں کا جنگل اگ آیا ہے۔ میں دوئی کا یکسر انکار کرتے ہوئے اپنے دونوں کانوں کی لووں کو دونوں ہاتھوں سے چھوتا ہوں۔ جو کلام میری سماعت میں رس گھول رہا ہے، وہ اس فانی دنیا کا نہیں۔ کہیں ابدیت مجھے پکار رہی ہے۔ نیستی کا سمندر مجھے نظر آنے لگتا ہے۔ میں اس زمین سے اوپر اٹھنے لگتا ہوں۔ پھر ایک ریلا مجھے اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ کوئی مجھے کاندھوں سے پکڑ کر وہاں جا کھڑا کرتا ہے جہاں دونوں جہان ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ نگاہیں جھکی ہیں۔ اٹھانے کا یارا ہے نہ مقام۔ کچھ ہے جو میرے بدن کے آر پارہو رہا ہے۔ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، فریاد کرنا چاہتا ہوں، بپتا سنانا چاہتا ہوں لیکن ایک گھگھیاہٹ کے سوا لبوں سے کچھ ادا نہیں ہوتا۔ گھٹی گھٹی چیخیں ہیں، آنکھوں کے چھجوں سے بہتا پانی ہے اور لرزتے ہونٹ ہیں۔ میں کچھ نہیں بول پاتا لیکن سب کہہ دیتا ہوں۔ ریلا مجھے اپنے ساتھ بہا کر کنارے پر لا پٹختا ہے۔ مشکل سے روکی ہوئی چیخیں بلبلاہٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ دور سے آئے ہوئے فریادی کی کھوئی ہوئی آواز پلٹ آتی ہے۔ میری سانسیں میرے سینے میں دھونکنی کی طرح چلتی ہیں۔ ٹوٹتے لفظوں کے بیچ کہیں ساری کتھا کہہ ڈالتا ہوں۔ مجھے یقین ہے میری فریاد سن لی گئی ہے۔ میں ایک بار پھر مر مر کی سلوں کو اپنی پیشانی کی ساری حدت سونپنے کے لیے ان سے مس کرتا ہوں۔ میرے بدن کی تمازت، میرے بے بسی اور میری آنکھوں سے بہتے جھرنے ان شفیق، خنک سلوں میں جذب ہونے لگتے ہیں۔ میں اپنی بے چینیاں، الجھنیں اور فریادیں کسی کو سونپ کر اور اپنے کشکول میں سکون کی دولت لے کر پھر صحرا میں پلٹ آتا ہوں۔

وہی دنیا ہے اور وہی اس کے پھندے۔ میں ان میں گرفتار ہو جاتا ہوں لیکن جب جی چاہتا ہے میں ان دو منطقوں کے بیچ گھومنا شروع کر دیتا ہوں۔ دل چاہتا ہے میں انہیں دو سمتوں کی جانب بڑھتا رہوں اور ان بنجر پہاڑوں کے درمیان، ریت چھانتے ہوئے عمر بیت جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: