یو ٹرن اب سیاستِ دوراں کا کھیل ہے —– عطا محمد تبسم

0
  • 33
    Shares

کھیلوگے کودو گے، ہوگے خراب، کا زمانہ گزر گیا۔ اب داغ تو اچھے ہوتے ہیں کا زمانہ ہے۔ نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیئے، اب یو ٹرن بھی اچھا ہے، اور ایک سے زیادہ ہوں تو اور اچھا ہے۔ کراچی والے تو اسی غم میں مبتلا ہیں کہ سگنل فری کے چکر میں شہر کی سڑکوں سے یو ٹرن ہی غائب ہوگئے۔ سڑک کے پار بھی گھر ہو تو ایک آدھ میل کا راونڈ اباوٹ یا برج پار کر کے ہی گھر کا راستہ مل سکتا ہے۔ راستے لمبے ہوں تو گھر واپسی کے لیے یو ٹرن ہی بہتر ہے۔ بھلا ہو ہمارے کپتان کا انھوں نے ’یوٹرن‘ کے حق میں بیان دے کر ہمارے لیے آسانی پیدا کردی، جب کہیں مشکل ہوئی، یو ٹرن لے لیا۔

آئی ایم ایف اور ناصر درانی کے معاملے پر یوٹرن سے متعلق سوال پر وزیر اعظم نے تاریخ اور جغرافیہ کی جو گتھیاں سلجھائی ہیں۔ وہ سنہری حرفوں سے لکھنے کے قابل ہیں۔ کپتان نے فرمایا کہ ایک تو ہم نئے ہیں اور ہم سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر میں ایک راستے پر جا رہا ہو ں اور آگے دیوار آگئی ہے تو میں کیا کروں؟ یا اس دیوار سے ٹکر ماردوں یا یو ٹرن لے کر دوسرا راستہ اختیار کروں۔ ہٹلر روس میں گیا اور پھنس گیا، اس کے جرنیلوں نے کہا موسم ٹھیک نہیں ہمیں واپس چلے جانا چاہئے لیکن ہٹلر اڑ گیا اور اس کو مار کھانا پڑی۔ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی“۔ ہٹلر کی تو مت ماری گئی تھی۔ اس لیےوہ تاریخ میں اپنا نام روشن نہ کرسکا۔ لیکن ہم تو تاریخ اور وہ بھی نئے پاکستان کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ شروع شروع میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کو لاک ڈاو¿ن کرنے کے اعلان اور منصوبے اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کے بعد ‘یو ٹرن’ نے پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنوں کو بد دل کیا تھا۔ بہت سے کارکنوں نے تو شوشل میڈیا پر کھلے عام قیادت کے فیصلوں پر تبصرے بھی کرنے شروع کردیئے تھے۔ لیکن اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔ اب تو تحریک انصاف کے رہنماؤں نے یہ کہنا بھی شروع کردیا ہے کہ، ہر بڑا لیڈر اور انسان یوٹرن لیتا تھا اور لیتا رہے گا“۔ کچھ کا خیال ہے کہ جب آپ کسی بڑے مقصد کے لیے یو ٹرن لیتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آصف زرداری نے ایک بار کہا تھا وعدے قرآن و حدیث نہیں ہیں۔

میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ اسمبلی کی تقریر میں جو کچھ کہا وہ سنی سنائی باتیں تھیں۔ قطری شہزادے کا خط ہمارے اخبارات کی جانے کتنے دن کی سرخیاں کھا گیا۔ اب اس کی کوئی دھیلے کی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے سیاست دن گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہیتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا تھا کی سندھ کی سیاست موسم اور معشوق کی طرح مزاج بدلتی ہے۔ انہی حالات سے تنگ آکر عوام نے نئے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ اور عمران خان کو وزیر اعظم بننے کے بعد ان سے ڈھیروں امید وابستہ کرلی ہیں۔ لیکن عمران خان نے جس طرح یو ٹرن کی سیاست اپنائی ہے اس سے ان امیدوں پر اوس پڑ رہی ہے۔ ان کے تاریخی یو ٹرن اب بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ کپتان نے ایک بار کہا تھا کہ افتخار چوہدری اس ملک کی آخری امید ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ افتخار چوہدری بھی دھاندلی میں ملوث ہے. کبھی ان کا خیال تھا کہ پرویز الہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، اب وہ سمجھتے ہیں کہ پرویز الہی اور ہم مل کر کرپشن کے خلاف لڑیں گے۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ شیخ رشید جیسے آدمی کو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ہی انھیں اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ شیخ رشید اور ہماری سوچ ایک ہی ہے۔

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو کرپٹ مافیا کے پروپیگنڈے میں نہیں آنا چاہیئے۔ عوام کی بڑی تعداد ان سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ انھیں دوسرے سیاسی لیڈروں سے بہتر اور مختلف سمجھتی ہے۔ اگر یو ٹرن لیتے لیتے وہ راستے سے بھٹک گئے تو پھر قوم مایوسی کے اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے گی۔ محمد خلیل الرحمن نے کیا خوب کہا ہے :

یو ٹرن اب سیاستِ دوراں کا کھیل ہے
سڑکوں سے اس کے پہلے نشاں تو مٹائیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: