امجد اسلام امجد کی ایک نظم: احمد جاوید ۔۔۔ حصہ اول

0

احمد جاوید صاحب کی دانش کے لئے خصوصی تحریر

جدید شاعری میں احساسات کی وہ تازگی مایوس کن حد تک ناپید ہے جس کے ذریعے سے جمالیاتی شعور اپنی سرگرمیوں کو محض تخیل کے دائرے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ایک تجربے کی طرح قاری میں منتقل ہونے کی قوت بھی حاصل کرتا ہے۔شاعری میں تخیل ایک اہم اور بنیادی جوہر ہے جس کے بغیر چیزوں کو دیکھنے کا جمالیاتی تناظر قائم نہیں ہو سکتا، تاہم تخلیقی عمل اگر تخیل پر منحصر ہو کر رہ جائے تو اس کا ایک نقصان بھی ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ چیزوں پر حکومت کرنے کا داعیہ اتنے غیر متوازن انداز سے غالب آجاتا ہے کہ شاعر چیزوں میں پہلے سے موجود حسن کو غیر ذمہ داری سے اور لاتعلقی سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ انہیں ایسی صورتوں میں ڈھالنے پر مائل یا مجبور ہو جاتا ہے جس سے چیزیں مظاہر جمال بننے کی بجائے اپنی اوریجنل ہیئت میں بھی مسخ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بد صورتی کے اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حقیقی شاعر خیال اور احساس کی ایک فعال وحدت بناتا ہے جو چیزوں میں حسن کے با معنی اجزا دریافت کر کے انہیں ایک جمالیاتی کل کی تعمیر میں صرف کرتا ہے۔ اسی لیے شاعری حسن کی ایجاد ہی نہیں ہے، اس کی دریافت بھی ہے۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا :
’’جمیل ترہیں گل ولالہ فیض سے اس کے
نگاہِ شاعرِ رنگیں نوا میں ہے جادو‘‘
یعنی حسن اصلاً شے میں ہوتا ہے مگر اُس کی تکمیل شاعرکی نگاہ پڑنے سے ہوتی ہے جو صورت کو معنی کا نعمَ البَدل بنادیتی ہے اور’ ید‘کو اتنا خالص کر دیتی ہےکہ ذہن کی آمیزش بھی باقی نہیں رہتی۔ یہ بڑی بات ہے لیکن کہنا ضروری ہےکہ انسان کو انفس وآفاق کے ساتھ ہم وجودی کی جس سطح تک پہنچنا اُس کی جمالیاتی اور اخلاقی ذمہ داری ہے وہاں تک رسائی کے مراتب اپنی ساخت میں احوال و احساسات ہیں، خیالات و اقدار نہیں۔ یہی احوال واحساسات جمالیاتی شعورکی شایدسب سے قیمتی متاع ہیں جس میں ورائیت (transcendence) کی نسبت بروئےکارلاکربڑی شاعری وجودمیں آتی ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ رومی و حافظ جیسے لوگ بہت کم بلکہ بہت ہی کم ہوتے ہیں جوتخیل،احساس اورسمبل ازم کے تینوں عناصرِ عظمت کو یکجان کر لینے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں،لیکن عموماً شاعری میں یہ تقسیم کارفرما رہتی ہےکہ فلاں کی شاعری تخیل کی شاعری ہے اور فلاں کی احساسات یا سمبل ازم کی۔ مثلا ہمارے یہاں ٖغالب کو تخیل نے بڑا بنایا، میر کو احساسات نے اور اقبال کو سمبل ازم نے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غالب و اقبال کے ہاں احساسات غائب ہیں یا میر تخیل اور سمبل ازم سے خالی ہیں۔ بات غلبے کی ہے۔ غالب کی شاعری میں تخیل غالب ہے اور میر و اقبال میں احساس اور سمبل ازم۔

اس پس منظر میں امجد اسلام امجد کی نظموں کا مطالعہ بعض دل چسپ نتائج تک پہنچاتا ہے۔ مثلا یہ کہ وہ احساس کے شاعر ہیں مگر اُن کے ہاں احساسات کی بناوٹ طبعی کم اور تخئیلی زیادہ ہے۔ بالفاظ دیگر، ان کی نظموں کا در وبست احساساتی ہے اور سیاق و سباق زیادہ تر تخئیلی ہے۔امجد اسلام امجدکے اس کمیاب وصف کو موقع بموقع تفصیل سے بیان کریں گے۔سرِدست اتنا ہی کہنے پر اکتفاکرتے ہیں کہ احساسات کو پیچیدگی اور خیال کو تجرید سے آزاد رکھ کر انہیں آپس میں مدغم کر دینا ایک تخلیقی کارنامہ بہرحال ہے۔یہ احساس اور تخیل کی تشکیل ِ نو اور صفائی (purification) کا وہ عمل ہے جس کی بدولت زندگی کے معمولی تجربات میں بھی معنی خیز ی اور احوال انگیزی کی خاصیت پیدا ہو جاتی ہے، اور چیزیں داخلی اور خارجی کی مستقل اور بے لچک تقسیم سے، جس کی ہمیں عادت پڑ چکی ہے، نکل آتی ہیں۔ یہ بھی امجد اسلام امجد کا ایک کمال ہے کہ ان کی نظموں نے ہمیں ’ہونے‘کے ایسے ماحول میں پہنچنے کے کئی راستے فراہم کر دیے جہاں داخل وخارج ایک ہی شے کے دو احوال ہیں جن کا باہمی امتیاز اعتباری ہے، واقعی نہیں۔ اس کا فی الحال ایک نمونہ دیکھیے :

کب منظرپیچھے رہتے ہیں!
یہ توہماری آنکھیں ہیں جووقت کی اڑتی
دھول سے آگے ان کو دیکھ نہیں پاتی ہیں یا پھران کو
یادبناکر،انگلی تھامے،ساتھ لگائے
آنے والے ہر لمحے میں جلتی بجھتی رہتی ہیں
کبھی کبھی تو یوں لگتاہے
جیسے آنکھ اور منظردونوں ہجرزدہ دوسائے ہوں
جو دور سے ملنے آئے ہوں
(کب منظرپیچھے رہتےہیں)

امجد اسلام امجد کے ہاں لفظ کے احترام کاایک خاص قرینہ پایاجاتاہے جو معاصرشاعری میں تقریباًمفقود ہے۔یہ الفاظ کو اُن کے اندرپہلے سے موجوددلالتوں اورنسبتوں کے ساتھ اس طرح برتتے ہیں کہ معانی،اشیا اور احساسات میں زبردستی کااجنبی پن نہیں پیدا ہوتااورپڑھنے والا ایک مانوس فضامیں تازگی اورتحیرکے مختلف احوال سے گزرنے کا تجربہ حاصل کرلیتا ہے۔روزمرہ کے محسوسات میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیراُن کے اندر تازگی، گہرائی اور ایک شائستہ سی شدت پیدا کردینا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ ہم اُن چیزوں کو سب سے کم محسوس کرتے ہیں جو ہمارے حواس کا مستقل موضوع ہیں۔ تکرار اور یکسانی احساس کو نا قابل ِ شناخت بنادیتی ہے۔ امجد ایسے ہی مسلسل احساسات کو شناخت دینے کا کام کرتے ہیں۔ اِس سلسلے میں وہ حسن اور محسوس کے درمیان کوئی مصنوعی نسبت ایجاد کرنے کی بجائے اِن کے اصلی اور قدیم تعلق کی تجدید کا سامان کرتے ہیں۔اِ س طرح دونوں کا خالص پن(purity)بھی بحال ہونے لگتا ہے اور اُس جمالیاتی تناظر کے احیا کے راستے بھی کھل جاتے ہیں جسے جدید تخیل کی تجریدی اور میکانیکی روش نے بالکل ڈھانپ رکھا ہے۔ امجد کی شاعری پڑھتے وقت یہ چیز تسلسل کے ساتھ محسوس ہوتی ہے کہ زندگی اور اِس کا اندرونی بیرونی ماحول جیسے ہر طرح کی آلودگی سے پاک ہو رہاہے۔ میرے اندر باہر ایک دھواں سا بھر گیا تھا جسے ایک نرم رو ٹھنڈی ہوا پیچھے دھکیل رہی ہےاور معنی خیز بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل محض نشاطیہ آہنگ میں نہیں ہو رہا بلکہ اِس میں المناکی کی ایک رو اس طرح گندھی ہوئی ہے کہ خوشی بھی مکمل ہو جاتی ہے اور غم بھی پھر سے احساسات کی اصل بن جاتا ہے۔ المیہ محسوس ہو جائے تو نشاط کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ ایک روحانی یا نفسیاتی اصول کی کار فرمائی کے کئی مظاہر ٹھیک سے امجد اسلام امجد کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں مثلاً اُن کی ایک نظم ہے :’’ چوٹیاں پہاڑوں کی ‘‘۔ اس نظم میں ایک آفاقی المیہ بیان ہوا ہے جسے محسوس کرنے کا حال نشاطیہ ہے۔ اس نظم پر آگے چل کر مفصل گفتگو ہوگی جس میں یہ دکھانے کی کوشش کریں گے کہ فطرت کے انسانی اور کائناتی دائروں میں وحدت اور ہم اصلی کی اساس المیاتی ہے۔

ایک سنجیدہ اور پختہ رومانویت کے ساتھ ساتھ امجد اسلام امجد کی شاعری، خصوصا ان کی نظموں میں عصری موضوعات کی فراوانی ہے۔ ایسا کم ہوتا ہے کہ یہ دونوں عناصر کسی ایک دائرے میں اکٹھے ہو جائیں۔ اقبال، لورکا اور نیرودا کے ہاں یہ اجتماع بلند ترین سطحوں پر نظر آتا ہے لیکن اِن تینوں شعرائے اعظم نے رومانویت اور تاریخی شعور کے ادغام کو نظریاتی اور انقلابی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ ذرا نیچے اتر کر فیض احمد فیض کے کلام میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ امجد اسی روایت کے شاعر ہیں مگر اِن کا آدرش خیر اور حسن کا پھیلاؤ ہے، حق اور قوت کی یکجائی سے پیدا ہونے والا بلند آہنگ تسلط نہیں۔ خیر کی غیرنظریاتی بناوٹ اور حسن کی غیر افادی ساخت کو ایک شعری اسٹرکچر میں یکجان کر دینے کی تخلیقی کاوش، امجد کی شاعری کا جوہر ہے جو اُن کے احساس و خیال کی تمام صورتوں میں ایک مستقل جذبے اور اٹل معنی کی طرح موجود رہتا ہے۔ اِن کی نظموں کو ذہنی اور قلبی توجہ سے پڑھا جائے تو قاری خود کوایک نئی تھیوری تک پہنچتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ خیر کی تشکیل کا مجموعی عمل فقط اخلاقی نہیں ہے، جمالیاتی بھی ہے۔ خیر اور حسن میں ایک نامیاتی (organic)وحدت ہے جسے بنیادی حوالہ بنائے بغیر وجود کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے نہ شعور کی ماہیت کو۔ امجد اسلام امجد بتاتے ہیں کہ وجود خیر ہے یعنی جمال ہے، اور اسی طرح علم بھی حسن ہے یعنی نیکی ہے۔ یہ کہنا بہت دشوار ہے کہ موجودہ شعری روایت کے کسی چھوٹے سے حصے میں بھی ذہن اور احساس کی اِن بلندیوں تک پہنچنے کی سکت پائی جاتی ہے۔

شاعری کا بھی ایک نظام ِ حرکت ہوتا ہے جو اُس کے کرافٹ اور معنویت کی زندگی کا تعین کرتا ہے۔ کرافٹ تعمیر کا ایسا عمل ہے جس میں شاعر کے ہمراہ لفظ اور قاری بھی فعال انداز سے شریک ہوتے ہیں۔ یہی صورت شاعری کی معنوی اسٹرکچر کی بھی ہے۔ دونوں کی تشکیل و تکمیل کا عمل کسی نا کسی پہلو سے جاری رہتا ہے اور اس عمل میں لفظ اپنے اندر موجود غیر محدود امکانات کے ساتھ اور پڑھنے والا ایک جوابی خلاقی کے ساتھ جو متن ہی سے تحریک پاتی ہے، شریک رہتا ہے۔ امجد کا خاص ہنر یہ ہے کہ وہ لفظ کو اُس کی سادہ ابتدائی بلکہ اوریجنل حالت میں برتتے ہیں مگر کسی نا معلوم زاویے سے اُس کے مجموعی نظام ِ حرکت کو اس طرح بیدار کر دیتے ہیں کہ اُس کے اندر محفوظ معانی اپنا انکشاف کرتے چلے جاتے ہیں۔ تخلیقی ذہن کی لفظ کے ساتھ ایسی نسبت کم ہی شاعروں میں پائی جاتی ہے۔ معنی، خصوصاً شعری معنی لفظ کے بول اٹھنے سے پیدا ہوتے ہیں، اُسے بولنے پر مجبور کر دینے سے نہیں۔ لفظ کے ساتھ شفیق اور ماہر دایہ کی طرح کا یہ تعلق، یوں لگتا ہے کہ جیسے امجد اسلام امجد کی شاعرانہ قدرت کا جوہر ہے۔ اُن کی بظاہر نا کام نظموں میں بھی الفاظ کو اس حالت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ گویا خود کو تصنیف کرتے جا رہے ہیں، یعنی اپنے معنوی امکانات کے پے در پے اظہار میں برسرِ کار ہیں۔ امجد لفظ کی آزادی کا ایسا احترام کرتے ہیں کہ کہیں یہ محسوس نہیں ہونے دیتے کہ وہ لفظوں پر کوئی تکنیکی، جذباتی یا فکری دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ذہن اور لفظ کے درمیان آزادی کی بنیاد پر پیدا ہونے والی اس نسبت سے کس طرح کے تخلیقی نتائج اظہار پاتے ہیں، انہیں امجد اسلام امجد کی نظموں میں تکرار اور تنوع کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔کوئی خیال حتمی نہیں، کوئی احساس آخری نہیں۔سب کچھ ایک تہہ دار تسلسل کے ساتھ ہے۔ خیال بھی اپنی تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے اور احساس بھی خود کو مکمل کرنے کی حرکت کا حامل ہے۔ تاہم خیال و احساس میں اپنی تکمیل کی یہ حرکت ایک طرح کے ’پورےپن‘ کے ساتھ ہے، اِس کا رخ نقص سے کمال کی طرف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امجد کی شاعر ی سے ذہن اور دل پر جو پہلا تاثر مرتب ہوتا ہے، وہ بھی اپنی جگہ پورا ہوتا ہے۔ ذمہ دار اور با ذوق قاری اِس پورے تاثر کی تہہ میں کارفرما اُس لطیف حرکت کو بوجھ لیتا ہے جو خود قاری کو اپنے تخلیقی تسلسل میں شریک کر لیتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: