سیاست کے مسائل، وسائل اور دلائل —- محمد خان قلندر

0
  • 72
    Shares

دنیا کو گلوبل ویلج قرار دینے کا ایک مقصد مغربی استعمار کی سرمایہ کاری اور تجارت کو قوانین سے آزاد کرانا ہے۔ یہاں تہذیب و تمدن گڈمڈ ہونے کے ساتھ سیاست بھی شیر و شکر ہونے لگی ہے۔ مغربی تہذیب کے تاجور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک منفرد شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار بنے تو دنیا بھر کے قدامت پسند سیاسی حلقے ہیلری کلنٹن کے ساتھ صف آرا ہو گئے۔ لیکن نئی دنیا کی جدیدیت کی مدد سے ٹرمپ جیت گئے جس کا سہرا فیس بُک اور روسی معاونت کے سر باندھنے کے علاوہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے ساتھ ہی انکے مواخذہ ہونے پر بحث شروع ہو گئی، ٹرمپ آج تک کامیابی سے حکومت چلا رہے ہیں وسط مدتی انتخاب میں کانگرس کی کچھ سیٹیں ہارنے کا سینیٹ کی سیٹوں سے ازالہ کر لیا گیا۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ ٹیم جدید مسائل کو جدید وسائل سے حل کرتی ہے مشرق وسطی افغانستان چین بھارت یا روس سے خارجی محاذ پر برتری صرف اسلحہ و بارود سے نہی بلکہ جدید مواصلات اور میڈیا کی طاقت کا بروقت استعمال ہے۔ جدید میڈیا کو باقاعدہ انڈسٹری کا سٹیٹس مل گیا ہے ریاستی امور میں روایتی تین ستون مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ اسے چوتھے ستون کا مقام ہے پہلی مڈل ایسٹ وار میں انٹرنیشل چینلز کے کامیاب پروپیگنڈہ رول سے پروان چڑھنے والی مقبولیت سے نئے ذرائع ابلاغ وجود میں آئے اب انفارمیشن ٹیکنالوجی ریاست، صنعت وحرفت تجارت بینکنگ سے لے کر تعلیم صحت سوشل ورک غرض ہر شعبہ زندگی کی روح رواں ہے۔

سوشل میڈیا تو اب ہر فرد ادارے محکمے کی ہمہ وقتی ضرورت ہے اس کی ترویج میں دیگر ذرائع ابلاغ کے مقابل مکمل آزادی اور ہر مقام پر رسائ کی آسانی ہے۔ میڈیائ صنعت کی اپنی سائینس بھی مرتب ہوئ، شخصی مقبولیت کو راتوں رات چار چاند لگانے کے اصول بھی بن گئے۔ یہ حقیقت کہ منفی تشہیر سے مشہوری تیز تر ہوتی ہے واضح ہوئ تو سیاسی شخصیات نے اس استعمال کرنا شروع کیا، تمام بڑے لیڈران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بن گئے لیکن ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت سیاسی شخصیات پر سر فہرست ہے۔ صدر امریکہ روزانہ متنازعہ ٹویٹ نشر کرتے ہیں جس پر پھر سارا دن دنیا بھر میں بحث ہوتی رہتی ہے یوں انکی ذات ہر جگہ موضوع گفتگو رہتی ہے، لیکن منفی بحث کا اثر ریاست پر اس لئے ہوتا کہ امریکہ کا نظام حکومت اور ادارے ملکی آئین کی سخت مربوط بندش قوائد و ضوابط کے مطابق کام کرتے ہیں ٹرمپ صاحب دنیا کی سیاست میں ان وسائل کی سہولتوں کو استعمال کرتے چھائے ہوئے ہیں۔

مشرقی دنیا چاہے کوئ نئی ٹیکنالوجی ایجاد نہ کرے لیکن جاپان کے بعد اب چین کی قیادت میں ہر شے کی نقل اس کی اصل سے بہتر بنانے کی ماہر ہے۔ پاکستان میں اسی اور نوے کی دہائ میں ڈِش اینٹینا اور موبائل فون متعارف ہو چکے تھے لیکن پرائیوٹ چینلز کی کھل ڈھل جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئ روشن جدیدیت کے زیراثر میڈیا پے ملکی اور غیر ملکی چینلز کی یلغار آ گئی پھر عدلیہ بحالی تحریک اور لال مسجد کے واقعات کی بعد اسے لگام دینے کی ناکام کوشش کی گئی جن دوبارہ بوتل میں بند کرنا ممکن نہیں تھا سوشل میڈیا کو پروان چڑھانے میں بھی ابتدائ ہاتھ تو مشرف کا تھا لیکن اس کی دھوم تحریک انصاف نے مچائی۔ یہ پارٹی سوشل میڈیا سے منظم ہوئ دھرنے اور چینلز پر جلسوں کی بلاتعطل کوریج نے اسے مشہور کیا۔ پنامہ کیس کے نمودار ہونے کے بعد نواز شریف کے چند ہفتوں کے لندن میں قیام کے دوران مریم نواز جب ایکٹنگ پی ایم بنی تو نُون لیگ کے پراپر میڈیا سیل بنائے گئے خاص طور پر ٹویٹر پر مریم نواز نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔

مشرف ہی سوشل میڈیا بائیٹ کا پہلا شکار ہوا لاکھوں فالورز کے زعم میں جب وطن واپسی پر کراچی ایرپورٹ پے اترا تو اس کے مرید تب بھی گھروں اور دفاتر میں اس کی آمد میڈیا پر دیکھ رہے تھے، وہاں چند درجن موجود تھے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد اس کے احتجاجی مارچ اور جلسے میڈیا تک محدود تھے جن کی وجہ سے مقبولیت کی خوش فہمی میں باپ بیٹی اور داماد جیل پہنچ گئے سارا مسئلہ میڈیا پر رہنے کے لئے متنازعہ بیان اور تقریر کرنا ہے۔ ٹرمپ فارمولہ شہرت کی کاپی کرتے ہوئے عمران نے بھی ہر مسئلے پر ہر جگہ بیان داغنے، ٹویٹ کرنے میڈیا سے خطاب میں سخت اور مخالفین پر توہین آمیز لہجے کا چلن نہیں بدلا۔ سربراہ مملکت ہوتے اگر ٹرمپ صبح شام اپنے پچھلے بیان کو بدل دیتا ہے تو بطورصدر اس کے پیچھے یو ایس اے کی انتظامی طاقت بروئے کار رہتی ہے، ان کا سیاسی سیٹ اپ سینیٹ کانگرس اس قدر مضبوط ہے کہ وہاں ہر غلطی کے ازالے کا نظام خودکار طریقے سے کام کرتا ہے۔ پاکستان کے ادارے نہ اتنے مستحکم ہیں نہ مربوط۔ حالیہ حادثات اور واقعات اس کے مظہر ہیں۔ امن و امان کی مخدوش صورت حال، معیشت کی زبوں حالی اور اس پر طرہ حکومت کے غیر ذمہ دارانہ اعلانات اور بیان یہاں حکومت کا سربراہ خود کو متنازعہ بنائے رکھنا افورڈ نہیں کر سکتا۔ روزانہ کوئی تنازعہ پیدا کر کے بعد میں تاویلات سے اسے صحیح ثابت کرنا لوگ قبول نہیں کرتے سوشل میڈیا پے پارٹی ارکان لاکھ دلائل لکھتے رہیں عوام رد کر دیں گے۔

سعودی عرب کے دونوں دورے نمائشی ثابت ہوئے، چین یاترا میں چینیوں کی روایتی مہمان نوازی بھی انہیں اپنے تحفظات کے اظہار سے نہ روک سکی، کوئی بھی معاملہ حتمی طور پے طے نہیں ہو پایا۔ وزیراعظم کی موجودگی میں کچھ فائنل نہیں ہوا تو اب بھی وفود کی آمد و رفت جاری ہے۔ اسلام آباد کے ایس پی کا اغوا اور قتل جیسے سنگین واقعے پر حکومت کوئ واضح بات نہیں بتا پائی، مولانا سمیع الحق کے بیہمانہ قتل پر خاموشی ہے، ملک بھر میں تین دن کے دھرنے پر تاحال کوئی پیش رفت نظر نہی آئی، ایسے نازک مسائل پر پیش رفت نہ ہونا قابل تشویش ہے۔

اس کے ساتھ روز اسمبلی سینیٹ اور ٹاک شوز میں سوشل میڈیا پر فرضی مناقشت زیر تفتیش معاملات پر حکومتی بیان بازی سے ظاہر ہے کہ یا حکومت کو مسائل کا ادراک نہی یا حکومتی وسائل استعمال کرنے کی سمجھ نہیں وزیراعظم نے کل غلط تاریخی حوالے کوٹ کر کے اور یو ٹرن پے دلائل دے کر کیا خود کو میڈیا ٹاک میں خود کو زیر بحث ہی رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس کی تاویلیں اور دلائل دینے پر وقت ضائع ہو گا ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: