رہنمائے بیگمات ——- خرم شہزاد

0
  • 10
    Shares

آجکل گھروں میں عمران خان کے وعدوں کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ حضرات ہی ہیں۔ اگرچہ عمران خان بھی حضرت ہے لیکن اس پر گفتگو کرنے والے اس سے بڑے حضرت ہوتے ہیں اس لیے عمران خان کا حضرت پن آجکل خبروں میں اتنا ان نہیں ویسے بھی ریحام خان کے باہر جانے اور حکومتی مصروفیات نے بھی اس کو وہ حضرت نہیں رہنے دیا جو دوسروں کو موقع گفتگو دے۔ اس لیے گھروں میں موجود مرد حضرات سارا دن پچاس لاکھ گھروں، ایک کروڑ نوکریوں اور ڈیم فنڈ کی تازہ ترین اسٹیٹمنٹ ڈسکس کرتے ہیں اور خواتین آپس میں اپنے حضرات ڈسکس کرتی نظر آتی ہیں۔ اپنی بیگم کے زیر سایہ رہتے ہوئے ہم حلفا کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کسی خاتون نے کبھی اپنے میاں جی کی شکایت نہیں لگائی لیکن یہ وہ آگ ہے جو من میں بھی جلے تو ساس، نند، بھابھی اور پڑوسیوں تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ صرف میاں صاحب بے خبر ہوتے ہیں (یہاں میاں صاحب کا ذکر ہو رہا ہے اس لیے صرف بیگمات کے اپنے میاں صاحب ہی پڑھا اور سمجھا جائے)۔

خواتین کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ان کا ہزاروں روپے کا میک اپ اب خراب ہو جاتا ہے لیکن میاں صاحب دیکھتے ہی نہیں، اگرچہ اس بات میں یہ ذکر کہیں نہیں کہ یہ میک اپ لگانے کے بعد خراب ہوتا ہے یا پڑے پڑے خراب ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس سے غرض بھی کوئی نہیں کیونکہ میک اپ سے ہمارا کیا دینا لیکن خواتین کی یہ شکایت بہت بجا ہے۔ آپ ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈہ، ٹیکسی اسٹینڈ سے لے کر سڑک پر پیدل چلتے لوگوں کو دیکھیں یا گھروں میں ڈرائینگ روم اور بیڈ رومز میں لیٹے حضرات دیکھ لیں سبھی آپکو موبائل کی سکرین میں منہ دئیے ہوئے ملیں گے۔ گھر والے عموما اور بیگمات خصوصا اس صورت حال پر دل جلا اور میک اپ بگاڑ رہی ہوتی ہیں۔ کچھ اچھی بیگمات دل میں صلواتیں سنا رہی ہوتی ہیں تو کم اچھی بیگمات زیرلب پاس سے گزرتے چوٹ کرنے اور فقرے کسنے کی کوشش کرتی ہیں کہ شائد کوئی فرق پڑ جائے جبکہ بیگمات کی تیسری قسم دل میں گالیاں دیتے ہوئےزبان سے یہ سوال پوچھتی پائی جاتی ہیں کہ آخر اس میں کس ماں کے ساتھ مصروف ہیں کہ کچھ بھی اور نظر نہیں آتا۔ یہی وہ بات اور نقطہ ہے جسے خواتین جاننے کی خواہش کا اظہار کرتی تو ہیں لیکن دل سے اس سوال کے جواب میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس بات کا اندازہ ہمیں گذشتہ رات کھانے پر ہوا۔ ہم موبائل میں سر دئیے نوالہ نوالہ فیس بک کی پوسٹوں اور میسجز سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور بیگم صاحبہ فون کو سوتن سمجھ کر صلواتیں سنا رہیں تھیں۔ آخر ہم نے فون ایک طرف رکھا اور پوری توجہ بیگم پر مرکوز کر دی جبکہ کھانا ابھی بھی نوالہ نوالہ ہی چل رہا تھا۔ دن بھر کا حال احوال پوچھا لیکن دو تین باتوں کے بعد ہی ان کی طرف سے جواب ملا کہ چپ کر کے کھانا کھائیں۔ فیس بک پر بھی ہر پوسٹ الگ موضوع کی ہوتی ہے، ہم نے بھی یہاں موضوع بدلا اور سسرال کے بارے بات کرنے لگے۔ اب یہ پاکستانی خواتین کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے کہ ساس کبھی اچھی نہیں ہو سکتی ویسے ہی اگر میاں سسرال کے بارے کوئی اچھا جملہ کہہ دے تو یہ بھی انہیں طنز لگتا ہے۔ فورا تیوری چڑھائی کہ کیا مطلب ہے آپکا۔ ہم نے فورا وضاحت کی کہ مطلبی ہم بالکل نہیں اس لیے سیدھی سیدھی بات کر دی لیکن ہماری وضاحت حکومتی وضاحت کی طرح مسترد کر دی گئی تب ہمیں حکومتوں کے دکھ کا اندازہ ہوا کہ ان کی اچھی بات، کام اور وضاحت جب مسترد ہوتی ہے تو دل پر کیا گزرتی ہے۔ خیر مزید بد نظمی پھیلنے سے پہلے ہم نے اسمبلی اجلاس کی طرح کھانے کے سیشن کے خاتمے کا اعلان کیا اور چائے کی فرمائش کر دی۔ جب تک دسترخوان سمیٹا جاتا ہم نے کھانے کی تعریف میں دو تین جملے کہہ دئیے اس خیال سے کہ اتنی انہوں نے محنت اور محبت سے کھانا بنایا ہے تو تعریف ضروری ہے۔ بجائے خوش ہونے کے، بیگم صاحبہ کا پارہ آسمان کو چھو گیا۔ پہلے ان کے میکے والوں کی تعریف اور اب کھانے کی۔ ۔ ۔ انہیں سو فیصد یقین ہو گیا کہ میں فون رکھنے کا بدلہ لیتے ہوئے انہیں طنز کر رہا ہوں۔ ہماری حالت تو اس پاکستانی جیسی ہو رہی تھی جو مسلم لیگ کی کسی خرابی کا ذکر کرئے تو اسے یوتھیا کہا جاتا ہے اور اگر تحریک انصاف کے خلاف بول جائے تو پٹواری کے لقب سے سرفراز ہو جاتا ہے حالانکہ بندہ سمجھدار بھی تو ہو سکتا ہے، بالکل ایسے ہی بیگم کا دل جیتنے کے لیے بندہ سسرال اور کھانے کی تعریف کر ہی سکتا ہے لیکن کون مانتا ہے اس بات کو۔ بیگم صاحبہ نے اب کی بار خاموش رہنے کی آخری وارننگ دی اور چائے بنانے کے لیے باورچی خانے چلی گئیں۔ چائے لاکر ہمارے پاس رکھی اور خاموشی سے واپس پلٹنے لگیں تو ہم نے روک لیا۔ یہاں تک کہانی تو اب گھر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ خیر فون آن کے سامنے کرتے ہوئے انہیں سمجھانے لگے کہ آپکا کیا خیال ہے ہم فون پر آئن سٹائن یا علامہ طاہر القادری لگے ہوئے ہیں ؟ نہیں جناب فون پر بھی ہم ہی ہیں، بس فرق اتنا ہے کہ وہاں موجود لوگ، احباب اور خواتین جب وقت دیتی ہیں تو بھلے وہ تھوڑی دیر کا وقت ہو لیکن توجہ اور گفتگو ہم سے ہی ہوتی ہے یا کم از کم ہمیں یہی بتایا اور سمجھایا جاتا ہے جبکہ گھر میں جب ہم گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو آپکے پاس کچن کی شیلفیں صاف کرنا سب سے زیادہ ضروری کام ہوتا ہے۔ آن لائن اگر کسی کو میری کسی بات پر اعتراض ہوتا ہے تو وہ مجھ سے ہی بات کرتا ہے، اپنی بات کہتا ہے، اس طرح گفتگو جاری رہتی ہے۔ آپ کی طرح دل ہی دل میں کڑھتا نہیں ہے۔ بس یہی وجہ سے ہے کہ وہاں جان پہچان نہ ہو کر بھی بات چیت چلتی رہتی ہے اور یہاں گھر میں رشتے ناطے ہونے کے باوجود بھی سوچنا پڑتا ہے کہ یہ بات طنز تو نہیں سمجھی جائے گی، اس بات کا کیا مطلب نکالا جائے گا، یہ بات صرف بات ہی سمجھی جائے گی یا کچھ اور۔ ۔ ۔ بس اتنا سی بات ہے کہ ہم موبائل میں منہ دئیے ہوتے ہیں۔

یہاں بھی پڑھنے والی خواتین سے درخواست ہے کہ آپ کے گھرمیں جو لوگ موبائلز میں منہ دئیے ہوئے ہیں، وہ سب بھی نیٹ پر کوئی علامہ نہیں لگے ہوئے لیکن اگر گھروں میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے لیے کوئی موضوع نہ ہو، ایک دوسرے کے لیے برداشت نہ ہواور ایک دوسرے کے لیے وقت نہ ہو تو پھر سبھی موبائلز میں ہی منہ دئیے ہوئے ملیں گے۔ اس لیے خدارا پھٹکاریں دینے کے بجائے ایک دوسرے کو وقت دیں کہ زندگی اسی سے ہی خوبصورت بنتی ہے۔

حضرات سے بھی یہی کہوں گا کہ بچے اور بیگم صاحبہ اگر موبائلز میں مصروف ہیں تو یہ سارے ناسا میں کام نہیں کرتے بس آپ ان کی زندگیوں سے کسی چاند کی طرح غائب ہیں، فورا نظر آئیں اس سے پہلے کہ گھر والے اماوس کی راتوں کے عادی ہو جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: