موت سے پہلے ہی مرجانے والے لوگ —– فارینہ الماس

0
  • 38
    Shares

یہ بات درست ہے کہ زندگی کی حقیقی قدر و قیمت تو موت کے دھانے پر کھڑے انسان سے ہی پوچھی جاسکتی ہے۔ جب وہ زندگی کے در کا سوالی بنا چند سانسوں کی بھیک مانگتا ہے۔ یا جب وہ وقت کے گہرے سمندر کی بے کراں و بے رحم موجوں پر ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے خود کو ڈوبنے سے بچانے کی جستجو کرتا ہے، لیکن موت کے بھنور اس کے پیروں کو کھینچتے ہی چلے جاتے ہیں۔ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا افواہوں اور جھوٹی کہانیوں کو پھیلانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے لیکن یہ کہانی زندگی کی سچی کہانی ہے۔ یہ امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی لڑکی فاطمہ کی کہانی ہے۔ جس کی کچھ ہی عرصہ پہلے کی تصویریں جن میں وہ خوب ہنستی مسکراتی اور زندگی سے لطف اندوز ہوتی دکھائی دیتی ہے اور پھر اچانک سامنے آنے والی وہ تصویریں جن میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ تو ہے لیکن آنکھوں میں اک گہری اداسی بہت عیاں ہے۔ اس کا انداز زندگی بظاہر مطمئن اور پر امید دکھائی دیتا ہے لیکن وہ اپنے چہرے پر لکھے ہوئے موت کے خوف اور ڈر کی تحریر کو مٹا نہیں پائی۔ اسے کہا گیا ہے کہ وہ مرنے والی ہے۔ یعنی وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی موت کے خوفناک اور بھیانک انتظار میں مبتلا کر دی گئی ہے۔ کچھ ہی دن پہلے بہت بڑے بڑے خواب تھے اس کے۔ جو لوگ زندگی کو جینا چاہتے ہیں ان کے خواب تو بڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی نمبر ون شیف بننا چاہتی تھی۔ اس کی محنت و لگن اسے اس کے مقصد میں کامیاب کرنے لگی۔ اس نے امریکہ کے culinary institute سے ڈگری حاصل کی۔ اس نے فوڈ نیٹ ورک ٹی وی شو اور براوو ٹی وی کے پروگرام ٹاپ شیف میں اپنے پکائے کھانوں کی دھوم مچائی۔ اس نے نیویارک کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی کام کیا۔ 2017 میں عالمی مقابلہ جیت کر وہ دنیا کی نمبر ون شیف کا اعزاز پاگئی۔

لیکن پھر اچانک اک دن ڈاکٹر نے اس ہنستی مسکراتی اور خواب بنتی فاطمہ سے کہا کہ وہ زندگی کی شاہراہ کے جس موڑ پہ آکھڑی ہے اس کے پیچھے رستہ اپنی بساط لپیٹ چکا ہے اور آگے ایک قدم کے فاصلے پر فقط موت کی گہری کھائی ہے اب یہ کھائی ہی اس کی منزل کا اختتام ہے جس سے مفر ممکن ہی نہیں۔ موت زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے لیکن وہ تو ابھی خوابوں کے پہلے پڑاؤ کو ہی عبور کر پائی تھی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی موت کا کوئی شائبہ نہ تھا کہ اچانک اسے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اب اس کے پاس زندہ رہنے کے لئے صرف ایک سال ہے۔ وہ کینسر کی ایک قسم ””ewing sarcoma کے اس آخری مرحلے میں مبتلا ہے جس سے لڑنے یا جسے شکست دینے کی کوئی بھی تدبیر کارگر نہ ہوپائے گی۔ لیکن اس نے رنج و حزن کی تصویر بننے کی بجائے زندگی کے اس آخری سال کو بھرپور طور پر جینے اور اپنی تمام تشنہ کام حسرتوں کو پورا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ باقی ماندہ دنوں میں اپنی سبھی آسودہ خواہشوں اور تمناؤں کی اونچی چوٹی سر کر کے اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑ سکے۔ اسے اس کی خواہش پوری کرنے اور پوری دنیا گھومنے کے لئے ایک بڑے چینل کے ٹاک شو کی میزبان کے ذریعے اتنی رقم بھی فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کو جی سکے۔ وہ موت کو شکست تو شاید نہ دے پائے لیکن اس کا زندگی کی طرف یہ مثبت رویہ، زندگی کی توقیر و تحریم کا گواہ ضرور بن جائے گا۔

دنیا میں نجانے کتنے ہی لوگوں کو ہر سال ڈاکٹر یہ کہتے ہوں گے کہ ” آپ کے پاس اب صرف چند ماہ کا وقت باقی بچا ہے۔ اس بچ رہنے والے مختصر وقت کو بیتانے کے آپ کے پاس دو راستے ہیں کہ یا تو آپ ہسپتال میں ہی رہ کر اپنا علاج جاری رکھیں جس کا کوئی فائدہ نہیں یا پھر آپ باقی بچا ہوا وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ بیتائیں اور اپنی موت کو آسان بنا لیں۔” موت سے پہلے موت کا انکشاف بہت ہی جاں گداز اور رقت آور احساس ہے۔ انسان کے لئے زندگی میں اس سے بڑا کوئی اور صدمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی لئے اکثر لوگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ موت کے معینہ وقت سے قبل ہی مر جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ باقی کا وقت جینا چاہتے ہیں۔ وہ کمال ہمت اور حوصلے سے خود کو آنے والے وقت کے لئے تیار کرتے ہیں۔ زندگی کے دروازے پر کھڑی موت کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ معینہ وقت سے قبل انہیں اپنے خونی پنجوں میں دبوچ سکے۔

ان کے زندگی کی طرف یہ مثبت رویے پیچھے رہ جانے والوں کی بھی ڈھارس کا بندوبست کر جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی شکر گزاری کی ایسی راہ اپناتے ہیں کہ جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لئے قابل تقلید بن جائے۔

یہاں مجھے neuroendocrine کے جان لیوا مرض میں مبتلا، نامور فلم اداکار عرفان خان کا زندگی کی بے ثباتی کی حقیقت کو جا لینے کے بعد اپنے غمگین و دل گداز لفظوں سے پرویا گیا وہ خط اور اس کے کچھ حصے یاد آرہے ہیں۔

“میں ایک تیز رفتار ٹرین کا مسافر بنا بھاگتا چلا جارہا تھا۔ میرے ساتھ میرے خواب تھے، میری آرزوئیں اور میری تمنائیں تھیں۔ میں پورے طور سے انہیں مکمل کرنے کی جستجو میں مگن تھاکہ یکدم کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ دھر دیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ٹی سی تھا “آپ کی منزل آنے والی ہے آپ کو اترنا ہوگا۔”

اس سمے مجھے احساس ہوا کہ انسان کی حقیقت تو بس بے کراں سمندر کی لہروں پہ بہنے والے کارک سی ہے۔ اس وقت مین نے فیصلہ کیا کہ اس سنگین اور کٹھن صورتحال میں مایوسی و نا امیدی کا شکار ہونے کی بجائے میں اس سے چھٹکارہ پاؤں گا”. ہسپتال کے کمرے کی کھڑکی سے باہر کھیل کے اسٹیڈیم کو جھانکتے ہوئے عرفان کو جس حقیقت کا ادراک ہوا وہ دنیا کی بے وقعتی و بے حقیقتی کا احساس تھا۔ لیکن اس ادراک کا حاصل سبق یہ تھا کہ انسان کو اس کی طاقت کو پہچانتے ہوئے اپنا کھیل پوری محنت اور لگن سے پیش کرنا چاہئے۔ ۔ زندگی کی حقیقت اور اس کا سچ یہی ہے۔ یہی ادراک انسان کو اس کے کٹھن وقت سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔

کائنات و حیات کی بے ثباتی کا احساس تو ہر ذی روح کے اندرون اپنا گہرا درد چھپائے ہی رہتا ہے۔ اور یہ ادراک تو ہم سب کو ہی ہے کہ ایک نا ایک دن ہماری زندگی اپنے اختتام کو پانے ہی والی ہے۔ لیکن پھر بھی زندگی کو جینے کی بجائے ہم اسے درد کی تصویر بنا لیتے ہیں۔ اپنی آدھی زندگی حسرتوں میں اور باقی ماندہ زندگی موت کے خوف میں مبتلا رہ کر گزار دیتے ہیں۔ ایک حساس انسان اس درد کو تھوڑا تھوڑا پی کر تخلیقیت میں اس کے زہر کا اثر بجھاتا ہے۔ اگر وہ تخلیقیت کی راہ نا بھی اپنا پائے تو وہ کائنات کی ہر شے کو قابل توجہ بنا کر زندگی کا حق ادا کرتا ہے۔

زندگی میں زندہ رہنا بھی ایک آرٹ ہے۔ اسے جینے کے لئے اس سے محبت کرنا اور اپنی اس محبوبہ کے ہر دکھ، غم، درد کو بھی سینے سے لگانا ہی جینے کا آسان گر ہے۔ دکھ، رنج اور تکلیف جیسی کیفیات سے زندگی میں بار بار ہمارا سامنا رہتا ہے لیکن ہم ان کیفیات سے ملاقات کے بعد آگے بڑھنے کی بجائے ان میں مبتلا رہ کر زندگی کا حسن اور جواز دونوں ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت قنوطیت پسند لوگوں کی ہے۔ یہ کیفیت جو کہ ناپختگی کی دلیل ہے، زندگی اور زندگی میں ملنے والے مواقع دونوں ہی کو ضائع کردیتی ہے۔ اس کا شکار لوگ خوشیوں کا وقت بھی اپنی محرومیوں اور ادھورے رہ جانے والے خوابوں کی تڑپ میں گھلتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ ہمیشہ چھن جانے کا خوف لاحق رہتا ہے۔ جو عطا ہونے والی عنایات کا شکر گزار ہونے ہی نہیں دیتا۔

زندگی میں زندہ رہنے کے لئے مثبت انرجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثبت انرجی کا حامل انسان پر جوش، پر امید، خوش باش و شائستہ اور تحمل مزاج انسان ہوتا ہے۔ وہ جذباتی طور پر پر سکون، مطمئن اور با ضمیر ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں تجربات کرنا چاہتا ہے لیکن خود کو ان تجربات کے ہر طرح کے نتائج کے لئے تیار رکھتا ہے۔ ہارنا اس کی شکست نہیں اور جیتنا نقطہء ٹھہراؤ نہیں۔ ارادوں کی پختگی اور جیت کا کامل یقین اسے مثبت انرجی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس کی زندگی میں منفی قوتیں اس کا پیچھا نہیں کرتیں۔ لیکن وہ منفی قوتوں کا مقابلہ مثبت قوت پر اپنا مکمل دھیان جتا کر کرتا ہے۔

ہمیں زندگی میں زندہ رہنے کا ہنر سیکھنا چاہئے۔ اسے مثبت رویوں سے ہی زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ ان مثبت رویوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنا کچھ وقت فطرت کے ساتھ گزاریں۔ کہیں دور نہ بھی جاسکیں تو فطرت تو ہمارے اردگرد بھی موجود ہے۔ پودوں، پھولوں اوردرختوں کی صورت۔ ان کی قربت ہمارے ذہنی دباؤ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ رحمدلی، مہربانی اور شفقت جیسی خوبیوں کے چھوٹے چھوٹے افعال کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ دوسروں کے لئے اچھا سوچیں۔ منفی سوچ خواہ کسی دشمن کے لئے بھی رکھی جائے وہ ہمیں منفی انرجی کی طرف دھکیلتی ہے۔ اپنی عزت نفس اور احترام نفس کا خیال رکھنا چاہئے۔ کسی بھی قیمت پر اپنے ضمیر کو جھکنے نہ دیں۔ شکر گزاری کا رویہ اپنائیں۔ اللہ کی شکر گزاری کے بعد اساتذہ، والدین، بہن بھائیوں اور ہر اس شخص کی شکر گزاری جس کا وجود کسی نا کسی طور پر آپ کے لئے احسان و خدمت کا باعث بنا خواہ وہ آپ کا ملازم ہی کیوں نہ ہو۔ تھکن انسان کی مثبت انرجی کی قاتل ہے۔ اس لئے اپنے دماغ کو وقفہ دینا ضروری ہے۔

کچھ وقت کے لئے سب کام کاج اور لوگوں سے جدا ہو کر خود اپنی ذات کو بھی اپنا وقت دیں۔ کوشش کریں کہ مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کی محفل میں بیٹھیں، خواہ اپنا حلقہء احباب مختصر ہی کیوں نہ رکھنا پڑے۔ منفی سوچ کے حامل لوگ جانے انجانے میں آپ کی بھی مثبت انرجی کو نچوڑ لیں گے۔ زندگی کی ناکامیوں کو مسلسل یاد نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ اپنے حافظے کے اس حصے کو نظر انداز ہی رکھیں۔ ناکامیوں سے سبق سیکھنے کے لئے انہیں یاد رکھنا ایک مثبت سوچ ہے۔ سیر اور یوگا یہ دونوں ہی انسان کی سوچ اور رویے کو مثبت بناتے ہیں انہیں روٹین میں رکھنے والے لوگ زندگی سے محبت کا رویہ اپناتے ہیں۔ چائنہ میں اسی اور نوے سال کے بوڑھے بھی اسی عمل کی وجہ سے خوش باش زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنی روحانیت کے لئے کچھ نا کچھ تخلیقی کام ضرور کریں۔ یہ بھی انسان کو زندہ رہنے اور موت کے خوف پر قابو پانے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ دیکھا جائے تو زندگی گزارنے کا یہ وہی طریقہ و فلسفہ ہے جو فاطمہ جیسے مضبوط لوگ موت کے احساس کو شکست دینے کے لئے اپناتے ہیں۔ یہ ضروری تو نہیں کہ اپنی زندگی کو یہ خراج پیش کرنے کے لئے موت کا نکارہ بجنے کا انتظار کیا جائے

فنا کہتے ہیں کس کو موت سے پہلے ہی مر جانا
بقا ہے نام کس کا اپنی ہستی سے گزر جانا
مہراج سرکشن پر شاد شاد

یہ بھی دیکھئے: فلسفئہ ناکامی —— محمد یحییٰ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: