دانش ‘کیا کرے؟ خورشید ندیم‘

0
  • 3
    Shares

’ دانش‘ سے میری توقعات کیا ہیں؟اس سوال کے جلو میں چند اور سوالات بھی چلے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر معاشرتی ارتقا میں ذرائع ابلاغ کا کردار کیا ہے؟ یا ذرائع ابلاغ کے وظائف میں، کیا ایک وظیفہ معاشرتی تعلیم بھی ہے؟ میرا جواب ان سب سوالات کو بیک وقت مخاطب بناتا ہے۔
تعلیم کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سماج کی ساخت کو سامنے رکھتے ہوئے، ایسی شخصیات تیار کرے جو اس سماج کے نظام ِاقدار کی محافظ ہوں۔ ہر سماج ایک نظام ِاقدار پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی بقا کے لیے لازم ہے کہ وہ اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی رہیں، تاہم یہ کام ’نظر بندی‘ کے ساتھ نہیں، کھلی آنکھوں سے ہونا چاہیے۔ اس سے ایک سماج، روایت سے وابستہ رہتے ہوئے بھی ارتقائی مراحل طے کرتا رہتا ہے۔بالفاظِ دیگر،جدید تقاضوں کو روایت کا حصہ بنادیتاہے۔ تعلیم کا دوسرا وظیفہ ماہرین کی تیاری ہے۔ ہر معاشرے کو زندگی کا تسلسل برقرا ررکھنے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے طبیب، جیسے تاجر، جیسے انجینئر۔ تعلیم اس کا اہتمام کرتی ہے کہ معاشرے کی یہ ضرورت پوری ہوتی رہے۔ اسے ہر دور میں اتنے ڈاکٹر ضرور میسر ہوں جو معاشرے کی صحت کے لیے ضمانت بن سکیں۔ یہ بات البتہ طے ہے کہ یہ ڈاکٹر ہو یا انجینئر اسے بہر حال ایک اچھا شہری ضرور بننا چاہیے۔ اچھا شہری وہی ہوتا ہے جو نظام اقدار سے وابستہ ہو۔
اچھے شہری میں دو خصوصیات لازم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عقلی منہج ِفکر(Rational thinking) رکھتا ہو۔ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عقل سے نوازا ہے تو یہ بے مصرف نہیں ہے۔اللہ کادین تو غیر عاقل کو معزور سمجھتا اوراسے اپنامخاطب قرارنہیں دیتا۔ یہ عقل کا استعمال ہی ہے جو تسخیر کائنات کے دروازے کھولتا اور مادی ارتقا ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ اچھے شہری کی دوسری خصوصیت اس کا جمالیاتی ذوق(Aesthetics) ہے۔ جمالیاتی حس اس کے وجود کی لطافت کو برقرا رکھتی اور اس کو جلا بخشتی ہے۔ یہی اس میں اخلاقی پاکیزگی بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ مزاج کی لطافت ہے جو محبت جیسے لطیف جذبے کی تحسین کرتی ہے۔ اس سے رشتوں میں مٹھاس اور انسانوں کے مابین تعلقات میں لطف وکرم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جمالیاتی ذوق کی آبیاری فنون لطیفہ سے ہوتی ہے۔ شاعری، موسیقی، مصوری، یہ سب انسان کے جمالیاتی وجود کو زندہ رکھتے ہیں۔ جس معاشرے میں انسانوں کا جمالیاتی وجود کمزور پڑ جائے، اس معاشرے میں رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ انسان دوسروں کے دکھ کو محسوس نہیں کر سکتا۔ مزید یہ کہ وہ جان ومال اور عزت و آبرو کی حرمت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے اور جنگل کا فرق مٹ جاتا ہے۔
عقلی منہج ِفکر فلسفے کی تعلیم سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ فلسفہ ہے جو انسانوں کو منطق اور استدلال کے ساتھ کسی بات کو ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور اسی بنیاد پرکسی خیال اور فکر کو رد کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ فلسفے کی تعلیم کے بغیر ایک عقلی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح فنون لطیفہ کی تعلیم کے بغیر جمالیاتی ذوق کی آب یاری ممکن نہیں۔ میرے علم میں اس کے علاوہ کوئی ایسی صورت ممکن نہیں جس سے انسان کے جمالیاتی وجود کی بقا یا ارتقاء کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان کا نظامِ تعلیم اس وقت فلسفے کی تعلیم دے رہا ہے نہ فنون لطیفہ کی۔ دینی تعلیم ہو یا دنیاوی ، مقلد پیدا کیے جاتے ہیں یا مشین کے پرزے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم بحیثیت مجموعی جذباتی فیصلے کرتی ہے یا پھر افراد ذاتی سو و زیاں کو معیار بنا لیتے ہیں۔اجتماعی مفاد بالعموم کسی کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو ایک جذباتی تفہیم کے ساتھ ، جس کا نتیجہ اجتماعی تخریب کے سوا کچھ نہیںہوتا۔
معاشرے کو آج وہ تعلیم چاہیے جو اس میں عقلی منہج ِفکر پیدا کرے اور ساتھ ہی اس کے جمالیاتی ذوق کی آب یاری کرے۔ معاشرے کی تعلیم کا یہ کام رسمی طور پر تعلیمی ادارے کرتے ہیں اور غیر رسمی سطح پر سماجی ادارے۔ سماجی ادارے دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو قدیم اور روایتی ہیں۔ جیسے خاندان، مکتب۔ اور دوسرے جدید ہیں، جن میں سر فہرست میڈیا ہے۔
ذرائع ابلاغ معاشرتی ترقی اور ارتقا، دوسرے لفظوں میں معاشرے کی تعلیم میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لوگ اکثر ذکر کرتے ہیں کہ بچے میڈیا سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ اس بات میں بڑی حد تک صداقت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی حیثیت سماجی اساتذہ کی ہے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے
تو ’ دانش‘ بھی ایک استاد ہے۔ اس کا معاشرتی وظیفہ یہ ہے کہ وہ سماج میں عقلی اندازِ فکر پیدا کرے اور ساتھ ہی لوگوں کے لیے جمالیاتی ذوق کو بہتر بنائے۔ میری ’دانش ‘ سے یہی توقع ہے۔
یہ کیسے ہو گا؟ اس کا ذکر پھر کبھی۔۔۔۔۔یار زندہ صحبت باقی!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: