چمڑی داؤ پر (Skin in the Game) ایک تعارف —- عاطف حسین

0
  • 52
    Shares

چمڑی داؤ پر (Skin in the Game) لبنانی نژاد امریکی مصنف نسیم طالب کی کتاب ہے جو ان کتابوں کے اس سلسلے کا حصہ ہے جسے انہوں نے ‘انسرٹو’ (Incerto) کا نام دے رکھا ہے۔ نسیم طالب اور انسرٹو کا تعارف کچھ عرصہ قبل ‘دانش’ پر پیش کیا جاچکا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی دو کتابوں یعنی فریب خوردہ حوادث (Fooled by Randomness) اور سیاہ راج ہنس (The Black Swan) میں نسیم طالب نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی دنیا نہایت پیچیدہ، بڑی حد تک ناقابلِ فہم اور خطرناک ہے اور  دنیا میں ہونے والے اکثر واقعات میں بڑا حصہ منصوبہ بندی اور قابل تعین اسباب کی بجائے حادثات و اتفاقات کا ہوتا ہے۔ مزید برآں، چند صرف چند غیر متوقع واقعات بے شمار متوقع واقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں ۔لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر دنیا ناقابل فہم ہے اور اہم واقعات غیر متوقع ہی ہوتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا بس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہا جائے کہ ہم یہ تو جان ہی نہیں سکتے کہ آگے کیا ہونے جارہا؟ اس سوال کا جواب نسیم طالب نے پہلے ‘ضد نازک’ میں دیا کہ ہم یہ تو نہیں جان سکتے کہ آگے کیا ہونے جارہا ہے لیکن ہم غیر متوقع واقعات سے نمٹنے کی تیاری کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم دنیا کو سمجھنے کے وہم سے نکل آئیں اور ایک ‘غیر پیش گوئیانہ‘ (Non-predictive) اور نامداخلت کارانہ (Non-interventionist) رویہ اپنائیں۔ ان کے مطابق جب ہمیں یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کیسے چلتی ہے تو پھر ہم مستقبل کی پیش گوئیاں کرنا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق بنانے کیلئے مداخلت کاری کرنا شروع کردیتے ہیں لیکن دنیا چونکہ ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں مداخلت کاری سے ٖغیر متوقع واقعات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جو خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

چمڑی داؤ پر دراصل ایسی ہی غیر ذمہ دارانہ مداخلت کاری کو روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ نسیم طالب کے مطابق دنیا میں اب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے جن کی اپنی چمڑی داؤ پر نہیں ہوتی۔ یعنی انہیں اپنے مشوروں اور بنائی ہوئی پالیسیوں کے برے نتائج نہیں بھگتنا پڑتے ۔ وہ صرف اچھے نتائج سمیٹتے ہیں جبکہ ان کے فیصلوں کے برے نتائج دوسرے لوگوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اسے نسیم طالب نے ‘باب روبن ٹریڈ’  کا نام دیا ہے۔ باب روبن نے سٹی بینک کے لیے کام کرتے ہوئے ایک سو بیس ملین ڈالر کمائے لیکن جب اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بینک کا دیوالیہ نکلا تو اسے کچھ بھی  واپس نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ اس کی غلطیوں کی قیمت ٹیکس دینے والے عام لوگوں کو چکانی پڑی جن کے پیسے سے بینک کو بچایا گیا جبکہ وہ اب بھی مشورہ کاری کے کام میں مصروف ہے۔ اس کی دوسری مثال ٹامس فرائیڈمین ہے جس نے عراق پر حملے کی راہ ہموار کی۔ اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں لوگ جان سے گئے، ہتھیار نہیں ملے اور کوئی بہتری پیدا نہیں ہوئی بلکہ عراق تباہ و برباد ہو کررہ گیا لیکن فرائیڈمین کو اس کی کوئی قیمت نہیں چکانی پڑی۔

ٹامس فرائیڈ مین جیسے لوگوں کیلئے نسیم طالب نے دانشمندانِ حماقت پیشہ (Intellectual Yet Idiot) کی اصطلاح وضع کی ہے۔ ان کے مطابق خود کو دانشور سمجھنے والے یہ لوگ جن کی اپنی چمڑی داؤ پر نہیں لگی ہوتی اس خبط میں مبتلا ہیں کہ یہ دنیا کو اور لوگوں کا برا بھلا ان سے زیادہ سمجھتے ہیں اور لوگوں کو ان کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی گزارنی چاہیے درآنحالیکہ یہ لوگ حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں۔ نسیم طالب کے مطابق یہ لوگ دور جدید کی پیداوار ہیں اور معاشرے کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ہمیں اپنے نظام کچھ اس طرح سے مرتب کرنے چاہیں کہ کسی بھی شخص کی چمڑی داؤ پر لگنے سے محفوظ نہ رہ سکے اور ہر کسی کو اپنے غلط فیصلوں کے نتائج خود ہی بھگتنا پڑیں۔ صرف اسی طریقے سے غیر ذمہ دار اور نااہل افراد سسٹم سے نکل سکتے ہیں۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: