رانی کھیت —- ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 59
    Shares

ڈھوک سیال کی سیدو کبھی جلتا ہوا انگارہ تھی اور اب بجھی ہوئی راکھ۔ مٹی کے چولہے میں پڑی ہوئی راکھ جو صرف برتن ہی کالے کرتی ہے۔ لوہے کے پائپ سے جتنی پھونکیں مار لو لکڑی سوکھ گئی تو سلگ نہیں سکتی لیکن وہ گیلی لکڑی تھی، جو آگ نہ بھی پکڑے مگر اس کا دھواں سامنے والے کی آنکھیں دکھانے لگتا ہے۔ سیدو جیسی گیلی لکڑی بالن نہیں بنتی اور صحن میں پڑی اپنے سوکھنے کا انتظار کرتی ہے۔ جوانی کی بیوگی بھی اس کے ماتھے پر راکھ مل چکی تھی اور اب اس کے پاس ریاضو کو یاد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ صحن میں بچھی چارپائیوں میں سے ایک چارپائی کم ہو گئی اب سیدو اپنا بستر برگد کے قریب لگانے لگی تھی۔ اسے اتنے قد آور درخت کے سامنے منہ کر کے سونے سے حوصلہ ہونے لگاتھا۔ برگد سے لٹکتی لمبی لمبی چھالیں ریاضو کے بازؤوں میں بدل جاتیں اور سیدو ان کے ساتھ جھولتے ہوئے ککلی ڈالتی۔ اسے بیوہ ہوئے ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے لیکن لگتا تھا تین صدیاں گزر گئی ہوں۔ مٹی سے اٹا ہوا کمرہ، پلنگ سے نیچے گری ہوئی میلی چادر اور کرسیوں پر پڑے ہوئے کپڑوں کا انبار اس کی بے سروسامانی کا پتہ دے رہے تھے۔ جب تک ریاضو زندہ تھا، سیدو کے لیے وہ صحن میں لگی رسی بنا رہا جو صرف گیلے کپڑے سکھاتی ہے، رسی ٹوٹنے کے بعد اسے پتہ چلا کہ زمین پر اس کا کھونٹا ہی نہیں رہا۔

سیدو بھرے پرے گھرمیں غٹرغوں کرتی رہتی۔ وہ بھی ڈربے میں بند مرغی بن چکی تھی، اپنے پروں میں تینوں بچوں کو لیے بس صحن میں دانہ چگنے آتی اور اندھیرا ہوتے ہی کمرے کی تنہائی اس کا مقدر بن جاتی۔ گھرمیں مسٹنڈے دیور گھومتے پھرتے اور ان کے کمروں سے جھانکتی پیلی پیلی روشنی بجھتے ہی سیدو کا دل ڈولنے لگتا۔ نیند میں کسمساتے بچے اسے زہر لگتے اور وہ ان کی ٹانگوں پر چٹکیاں کاٹ کر انھیں سلانے کی کوشش کرتی۔ کمرہ قبر بن جاتا اور وہ اندھیروں میں اتری ہوئی روح کا روپ دھار لیتی۔

پھر ایک دن گھر میں خوب تماشا ہوا، مردوں سے بھرا صحن اکھاڑہ بن گیا۔ کسی معمولی بات پر جھگڑتے ہوئے اس کے دونوں دیور گتھم گتھا ہو کر چارپائی پر ڈھے گئے۔ وہ فائر بریگیڈ کی طرح آگ بجھانے کے لیے آگے بڑھی۔ گاتھو کے کسرتی پنڈے کو پیچھے سے دھکیلتی ہوئی وہ رسہ کشی کرنے لگی۔ ریاض کے مرنے کے سال بعد اس کے ہاتھ کسی مرد کے جسم سے ٹکرائے تھے۔ ’’ چھڈ بھرجائی۔‘‘ گاتھو رال اڑاتا اس سے اپنی کمر چھڑوانے لگا۔ سیدو کنک کے خالی بھڑولے کی طرح اسے منہ کھولے دیکھنے لگی۔ اس کے اندر سے ہڑک اٹھی۔ ’’یہ بیوہ رہنا بھی کتنا مشکل کام ہے۔‘‘ سیدو کے پاؤں کے تلوے جلنے لگے۔ گاتھو کو دھکیلتے ہوئے اس کی انگلیوں کی پوریں بھاری ہونے لگیں۔ وہ بھاری بوری کے نیچے دبے مزدور کی طرح بڑے بڑے سانس لینے لگی۔ اس کی پشت پر لدی بوری میں جوانی کی بیوگی بھری پڑی تھی لیکن ایسا کوئی نہیں تھا جو اس کی پشت سے پشت ملا کر یہ بوری لدوا لیتا۔

سیدو کا سانولا سلونا رنگ پکے ہوئے اخروٹ کی طرح ہونے لگا تھا۔ اسے اپنے سینے پر رکھی اینٹ جیسی خاموشی بوجھ محسوس ہونے لگی تھی لیکن اس تبدیلی کو گھر کے دو مردوں نے محسوس کیا۔ دنیا تو اس سے جینے کا حق چھین چکی تھی، جوان بیوہ شکر قندی کی طرح ابل کر پلیٹ میں ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ گھر کے مردوں کی بڑی بڑی زبانیں باہر کو نکلی ہوئی تھیں اور وہ صحن میں مرغی بن کر گھومنے لگی۔ بھوکے بلے اس پر لپکنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ریاضو کا باپ مونچھوں کو تاؤ دیتا اس کے پلنگ پر گرتے ہی سو جاتا۔ بچے اس کی ٹانگیں دبانے لگتے اور وہ خراٹے لیتے ہوئے کسی جن زاد کی طرح بڑی بھیانک آوازیں نکالتا۔ سیدو شروع میں تو اس دخل اندازی پر سٹپٹا جاتی تھی پھر وہ عادی ہونے لگی۔

پانی ماردا چھلاں مکھ میرے تے مڑ آ وطناں نوں
پینڈے مک گئے چنا ہن تیرے تے مڑ آ وطناں نوں

بوڑھا جوگی پلنگ پر لیٹے لیٹے گانے لگتا اور سیدو برگد کی چھال سے لٹک جاتی۔ جوانی کی بیوگی سنبھالنا آندھی میں دیا جلانے کے برابر ہے۔ سیدو کی بیوگی کا دیا بھی آندھیوں کے ہاتھ میں تھا اور وہ اپنی ہتھیلیوں کی اوٹ سے اس کی لو جلائے رکھنے پر مجبور تھی۔ ڈھوک سیال کی سیدو کا دوسرا امتحان اس کا شدائی دیور تھا جس کے لیے وہ اگربتی بن چکی تھی جو شعلہ دیکھتے ہی بھڑک اٹھتی ہے۔ سانس کی ایک آنچ اس شعلے کو بجھا کر ٹھنڈا کردیتی ہے اور اگر بتی ہولے ہولے سانس لیتی ہے۔ آہستہ آہستہ بھینی بھینی اٹھنے والی خوشبو سے کمرہ معطر ہونے لگتاہے۔ اگربتی کا مسالہ گرتا رہتا ہے زیادہ سانس کھینچ لو تو اس کا دھواں دماغ کو چڑھ جاتاہے۔ سیدو بھی اگربتی کی طرح اس کے دماغ کو چڑھنے لگی تھی۔ دھواں بن کر اڑنے والا اس کا مسالہ فضا میں عجیب و غریب مرغولے بنا رہا تھا۔ سیدو گھرکے مرکزی دروازے کی اوٹ میں پھنسی مکینوں کے مساموں سے اندر حلول کر رہی تھی۔

چهوٹا شدائی روز اسے چارپائی پر بازو پهیلائے ٹکرٹکر دیکھتا تھا. وہ دشمن کی چوکی کے باہر کهڑی تھی۔ اس کے کانوں میں سائرن کی کوں کی آواز گونجتی اور جیسے چاروں طرف سے روشنیاں اسے اپنے وجود پر گرتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ اسے اپنے چاروں طرف ٹینک ہی ٹینک بڑھتے ہوئے محسوس ہوتے اور وہ نہتی بازو پھیلائے سرینڈر کر دیتی. ٹینکوں کے جلتے بجھتے بلب دم توڑ دیتے اور توپیں نوے کا زاویہ بناتے ہوئے فضا میں لہرا جاتیں. بارود سے بھری ہوئی نالیاں بھاری بھرکم گولے پهینکتیں اور سیدو کا جسم چھلنی ہو جاتا۔ اس کی روح کے پرزے ہوا میں اڑنے لگتے اور ٹینکوں کے وزنی پہیے اسے روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتے۔

اس نے زندگی میں پہلی بار عورت دیکھی تھی۔ اسے کیا پتہ پلاسٹک کے گڈے، کانچ کی گڑیا اور عورت میں کیا فرق ہے۔ کپڑوں کے تھان کی طرح سلیقے سے ریک پر رکھی ہوئی عورت گز کی لپیٹ میں آجائے تو اس کا انچ انچ ناپا جاتاہے۔ اب تو پورے کا پورا تھان اس کا تھا۔ پھر اس نے اپنی مرضی سے قینچی چلائی اور وہ کٹتی چلی گئی۔ بازو الگ، آستین علیحدہ، قینچی اسے ٹکروں میں کاٹ رہی تھی۔ سلائی مشین کی سوئی نے اسے ادھیڑ کر سی دیا۔ سیدو کی ساس کی بوڑھی آنکھیں روز یہ تماشا دیکھتیں، وہ ڈربے سے مرغیوں کو نکالتے ہوئے آ آ آ کرتی غرانے لگتی۔ سیدو چنگیرمیں رکھی روٹیوں کی طرح تھی۔ کملے شدائی نے اس کی ترتیب خراب کر دی۔ اپنے حصے کی پہلی روٹی اٹھانے کے بجائے آخری روٹی اٹھا کر سب اوپر نیچے کر دیا۔ دونوں ہاتھوں میں پکڑی روٹی کو وہ بے دردی سے پھاڑتا، بڑے بڑے دانتوں میں رکھ کر کچلتا اور وہ اس کے لعاب میں تر ہوتی حلق سے نیچے اتر جاتی۔

کافی دنوں سے اس کی ساس محسوس کر رہی تھی کہ سیدو صحن میں جھاڑو لگاتے ہانپنے لگتی ہے۔ مرغیوں کو ٹاپے میں بند کرتے ہوئے بھی وہ زیادہ جھکتی نہیں۔ وہ جوں جوں اس کی نبض دیکھتی اس کا جی گھٹنے لگتا۔ سیدئیے۔ ۔ ۔ توں مر کیوں نا گئی۔ رات کے ملگجے اندھیرے میں دونوں سر جوڑ کر روتی رہیں۔ جاڑا شروع ہونے والا تھا اور صبح کی دھوپ جسموں کو تمازت بخشنے لگی تھی۔ سیدو کی ساس نے جلدی سے کچھ پڑیاں اس کی ہتھیلی میں تھمائیں اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ ا ب وہ اس کے کمرے میں ہی سوتی تھی، آخری دنوں کی گنتی کرتے دونوں کی پوریں تھکنے لگی تھیں۔ کملا شدائی کھڑکی کی اوٹ سے ماں کو اندر لیٹا ہوا دیکھ کر تھوکتے ہوئے باہر نکل جاتا۔ تین دن سے سیدو کو کمرکے شدید درد نے ادھ موا کر رکھا تھا۔ چوتھے دن وہ وہیڑے میں نلکے کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زور لگانے لگی اور ایک گوشت کا لوتھڑا پھسل کر کھرے میں جا گرا۔ سیدو کی ساس نے بڑا سا سانس لیا اور اسے چارپائی پر لٹا کر ٹانگیں دبانے لگی۔ نی سیدئیے۔ ۔ ۔ انول کدھر اے۔ بیوگی کی چادر میں لپٹی سیدو کا بخار میں تپتا جسم مزید گرم ہونے لگا۔ ٹونے ٹوٹکے کیے جانے لگے، صحن کی چھت پر دو سائے ادھر سے ادھر پھرتے رہتے۔ نیل کی ڈبی منہ سے لگاتے ہی سیدو غٹا غٹ چڑھا گئی۔ زندگی بھی تو نیل کی اس ڈبیا کی طرح ہی تھی جس کی نیلاہٹ اب اس کی رگ رگ میں بھر چکی تھی۔ جب بھی اس کے بچے تختی لکھنے بیٹھتے سیدو کا جی چاہتا وہ ان کے قلم کو اپنے جسم کی نیلاہٹ سے گیلا کر کے دیتی چلی جائے اور وہ تختیاں لکھتے رہیں۔ ساس نے جونہی ڈربے میں سے مرغیوں کو نکالا اور آ آ آ کر کے دانہ ڈالنے لگی تو صحن میں پکار پڑ گئی۔ وے کرمیا، ، ، وے پڑیاں لیا شوہدیا، کڑکڑیاں نوں رانی کھیت ہو گئی اے۔

سیدو وہیڑے کے نلکے کے نیچے دو زانوں بیٹھی تھی کہ رسی کی طرح لپٹی لپٹائی نیلی انول پھسل کر نیچے آ گری۔ جوان جسم پہلے ہی بنجر تھا اب ہل کی مشقت سہہ کر مزید ڈھے گیا۔ یہ جوانی کی بیوگی کاٹنا بھی کتنا مشکل کام ہے۔ سیدو نے ماتھے پر سے پسینہ پونچھتے ہوئے سوچا اور اس کا لاغر جسم چارپائی کے پائے پر گر گیا۔ صحن میں دو مرغیاں پڑئی تھیں جن کی گردنیں ڈھلک چکی تھیں اور ان کے منہ سے لیس بھرا دانے دار پانی ابل رہا تھا۔ سیدو کی ساس مرغیوں کی گردنوں کو چھڑی سے چھیڑتے ہوئے انھیں جگانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ بھورا بلا ڈربے کے پاس اپنے پنجے کوتیزی سے مونچھوں پر پھیرتے ہوئے غرانے لگا۔ گھر میں اب تین مرغیوں کو رانی کھیت ہو چکی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: