سیکولرازم اور ریاست: ایک متبادل بیانیہ —– ذیشان ہاشم

1
  • 25
    Shares

میرےخیال میں ہمارے لیے اول یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاست کیا ہے اور ہم اسےکیوں قائم کرتے ہیں؟

ہمارے سماج کی بنیادی اکائی فرد ہے جو اپنی ذات میں ایک مکمل اور تنہا شناخت رکھتا ہے۔ فرد کی فطرت آزادی پر قائم ہے جب فرد سےاسکی آزادی چھینی جاتی ہے تو وہ انحراف کرتا ہے یوں سماج منتشر ہو جاتا ہے۔ فرد اپنی زات میں مکمل ہے مگر اپنی ضروریات کی تکمیل کےلیے اسے دوسرے انسانوں کےساتھ تعاون و تبادلہ کی اساس پر ایک منصفانہ اشتراک قائم کرنا ہوتا ہے۔ یہ منصفانہ اشتراک ریاست کی تشکیل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

دراصل شہریوں سے معاشرہ وجود میں آتا ہے جبکہ ریاست ایک مادی تصور ہے اس کا قیام بھی مادی ہے اس سےمنسوب آرزوئیں اور خواہشات بھی مادی ہیں اور اس کا انتظام بھی، یہ کسی بھی سبب سے مذہب کا نہ بنیادی موضوع ہو سکتی ہے اور نہ مقصد۔ ریاستی انتظام اور اسے چلانےکا مقصد بنیادی طور پر شہریوں کی مادی خوشحالی کے لیے بہتر امکانات کی جستجو اور اس کےلیے مادی سہولیات بہم پہنچانا ہے اور اس اصول پر یقین رکھتا ہے کہ آئینی طور پر تمام شہری مذہب اور عقائد کی تفریق سے ماورا برابر کےشہری ہیں۔

دوسری جانب اگر ایسی ریاست قائم ہوجائے جو شہریت کی تعریف اور قانون سازی کےلیے کسی دینیاتی اصولوں کی محتاج ہوگی تو درج زیل مسائل سامنے آسکتے ہیں۔

1۔ شہریت کی تعریف کفر و ایمان کی تعریف سے منسوب ہو گی۔۔۔۔ یا دوسری صورت میں درجہ اول اور درجہ دوم کی شہریت کی تقسیم پائی جائیگی۔ مثال کےطور پر زمی۔ ریاست کےمذہب سے جُڑے لوگ نہ صرف قانونی طور پر اول درجےکےشہری ہونگے بلکہ ریاست انھی کی نمائندنگی کرےگی۔ جبکہ اقلیتیں دوسرے درجے کےشہری سمجھی جائیں گے۔

2۔ کسی خاص مسلک کےشارحین کی شرح ہی قانون سازی میں اول معیار بنے گی۔ اگر ان میں اختلاف ہوتا ہے تو اس کو حل کرنے کا کوئی باقاعدہ ضابطہ موجود نہ ہو گا۔ دینیاتی یا مذہبی ریاست اپنے اصول دینیات یا مذہب کےایک خاص متن سے اخذ کرتی ہے۔ متن کی تشریح میں اختلاف پہلے دن سے چلا آرہا ہے اور اس کے پُرامن حل کی ابھی تک کوئی صورت نہیں جب تک کہ اختلاف کو ریاست اپنی طاقت سے دبا نہ دے۔ اس چیز کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ ایک دینیاتی ریاست کے مخصوص تصور کی پابند ریاست میں قانون کی تشکیل و تشریح میں دینیات کے شارحین اور پارلیمان میں ایک مستقل نزاع پائی جائے گی اور یوں ریاست اپنے بنیادی مقاصد یعنی عوام کی منفعت اور مسرت سے ہٹ کر متن کےمعانی اور مفہوم کو سلجھانے اور اس کے نفاذ کے بعد اس کےاچھے اور برے نتیجے میں تسلسل کی ضد میں جکڑی رہے گی۔ کیونکہ ایک دینیاتی ریاست دین کے ایک مخصوص تصور اور دائرے سے باہر نہیں جا سکتی، اب یہ تصور اور دائرہ متن کے شارحین کی شرح ہی متعین کرے گی۔

3۔ ایک دینیاتی ریاست میں لوگوں کو ان اصولوں کی اتباع میں جبر برتا جاتا ہے جن اصولوں کی بنیاد پر وہ ریاست قائم ہوئی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ آزاد فطرت پسند واقع ہوئے ہیں جب ان کی ضروریات و خواہشات اس مخصوص نظام میں ممکن نہ ہونگی تو پھر وہ انحراف کریں گے جس کےنتیجے میں ریاست اپنے مذہبی اصولوں کی پاسداری کروانے کی کوشش میں عملی اور نظریاتی آمریت قائم کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد
اور یہ بھی سیکولر ریاست: غیر جانبداری کا سراب — نور الوہاب

 

مگر سیکولر کسی دینیاتی اصول کا پابند نہیں اس کا مقصد شہریت کی بنیاد پر مساوات قائم کرنا شہریوں کی مسرت اور خوشحالی کے لیے فکری اور عملی آزادی کے ساتھ مواقع کی تلاش میں مدد کرنا اور انہیں بہتر نتیجےکی بنیاد و ضمانت پر لاگو کرنا ہے۔ اگر کوئی پالیسی عوام کو فائدہ نہیں دے رہی تو سیکولر ریاست بغیر کسی شش و پنج یا حلال و حرام کی بحث کے،اسے ممنوع قرار دے کر شہریوں کی فلاح کے لئے نئے امکانات تلاش کرتی ہے،انہیں نافذ کرتی ہے اور یوں سماج کا روشن سفر جاری رہتا ہے۔

سیکولر ریاست میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے اور ریاستی انتظام و انصرام تمام مذہب کے ماننے والوں کی نہ صرف برابر حفاظت کرتا ہے بلکہ ان کے حق تبلیغ کی بھی حمایت کرتا ہے۔

جمہوریت کا تصور ہی شہریت کی مساوات اور شہریوں کی خواہش کی اولیت سے متعلق ہے، تمام شہری برابر ہیں، اور ان میں سے کسی کو بھی رنگ،نسل،مذہب یا نظریہ کی بنیاد پر امتیاز کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔۔۔۔اگر ہم پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر ظلم و بربریت سے چھٹکارا چاھتے ہیں،تو ہمارے پاس سیکولر ازم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ چونکہ تمام شہری برابر ہیں اس لئے تمام شہریوں کو سرکاری سہولیات سے مستفید ہونے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتیاز قابل قبول نہیں۔

سیکولر ازم الحاد نہیں، بلکہ یہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ان کے ماننے والوں کو سماج میں باوقار اور پرامن رہنے کا انتظام کرتا ہے، یہ ایک فریم ورک ہے جو سیاست، تعلیم، قانون نیز ہر شعبہ میں مساوات کو یقینی بناتا ہے۔

سیکولر ازم اختلاف رائے کو کفر یا بغاوت نہیں سمجھتا، بلکہ یہ مکالمہ اور آزادی اظہار رائے کو بہتر مستقبل کے بہترین امکانات کی تلاش اور ان کو پانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، اس لئے ان کی قدر کرتا ہے، اسے سہولیات بہم پہنچاتا ہے تاکہ خیالات میں افزائش اور ان میں باہم مقابلہ پیدا ہو اور بہتر ین چیز ابھر کر سامنے آئے۔۔۔۔اس کا ماننا ہے کہ حقوق لوگوں کے ہوتے ہیں، نظریات کے نہیں۔

(مصنف کی کتاب “غربت اور غلامی ۔۔خاتمہ کیسے ہو” سے انتخاب)

یہ بھی ملاحظہ کریں:

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. مغرب جب بیداری کے دور میں داخل ہوا اور لوگ ثقافتی و انسانی ضروریات کی تکمیل اور خواہشات نفسانی کے حصول میں آگے بڑھے تو سیکولرزم کا لفظ انسانی مسائل کے ارتقا کے تناظر میں استعمال ہونا شروع ہوا – جدید تاریخ کے دوران یہ رجحان آہستہ آہستہ پروان چڑھا اور پھر یہ دین مخالف رجحان کے طور پر پہچانا جانے لگا – سیکولرزم کا مطلب لادینیت یا دنیویت ہے – ایسی چیز جس کا دین سے تعلق نہ ہو یا دین سے متضادتعلق ہو وہ دنیوی کہلاتی ہے – انسائکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق سیکولرزم ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے رت کی بجائے صرف دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے – اسی طرح ویبسٹر ڈکشنری میں سیکولرزم کی تشریح دنیوی جذبہ یا دنیوی رجحان کے طور پر کی گئی ہے اور اگر آکسفورڈ ڈکشنری کی بات کریں تو وہ سیکولرزم کی وضاحت کچھ یوں کرتی ہے، دنیوی یا مادی چیز جو دینی یا روحانی نہ ہو یا وہ رائے اور فکر جو اس بات کی قائل ہو کہ دین کو اخلاق و تربیت کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے – عام اسلامی کتابوں میں سیکولرزم سے مراد فصل الدین عن دولۃ ہے یعنی دین و سیاست کی علیحدگی –

    سیکولرزم کی مختلف تعریفات و تشریحات کے بعد سیکولرزم کا صحیح مفہوم کچھ یوں ہے کہ زندگی کو دین سے ہٹ کر قائم کیا جائے – چاہے یہ قوم کی سطح پر ہو یا فرد کی – اسلام میں نہ تو معتدل سیکولرزم کی گنجائش ہے جیسے لبرل ڈیموکریٹک سوسائٹی اور نہ ہی انتہاپسند سیکولرزم کی جس کی مثال کیمونسٹ معاشرے ہیں – دین اسلام ان دونوں اقسام کو رد کرتا ہے –

Leave A Reply

%d bloggers like this: