جنگ آزادی: مرادآباد کے ہیرو – مولانا کافی شہید ——- لالہ صحرائی

0
  • 39
    Shares

برصغیر کے باشندے مرکزیت کے فقدان کے باعث ستاون کی جنگ آزادی بیشک ہار گئے تھے مگر اپنے دعووں اور وعدوں سے جابجا انحراف کرنے اور غداروں سے کام نکال کے فتح کا سرنامہ اپنے نام کرنے والے فرنگیوں کے مقابلے میں اخلاقی جنگ کی فتح بہرحال قیامت تک کیلئے اپنے ہی نام لکھوا کے گئے ہیں۔

فیض صاحب کیا خوبصورت بات کہہ گئے ہیں:
؎ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے۔

اس میدان جنگ میں رائے احمد خان کھرل نے کہا تھا میں اپنے امام سیدنا حسینؑ کی طرح سر کٹا دوں گا لیکن جیتے جی پنجاب نہیں دوں گا، پھر گوگیرہ کی سرزمین نے دیکھا کہ نمازِ ظہر کے دوران انہیں گولی لگی اور رابرٹ منٹگمری کے فوجی اپنے افسروں کو یقین دلانے کیلئے ان کا سر اپنے ساتھ لے گئے۔

جنرل ہوش محمد شیدی نے کہا تھا، مر ویسوں مر ویسوں سندھ نہ ڈیسوں، پھر دوبے کی جنگ میں جنرل چارلس نیپئر نے اپنی سپاہ کی بے بسی کے واقعات شمار کرکے سندھ گزیٹئیر میں اقرار کرلیا کہ اس کالے بہادر جرنیل کے جیتے جی سندھ فتح کرنا ممکن نہ تھا، چارلس نے بھی ہوشو کی تدفین فوجی سلامی دے کر اپنی نگرانی میں کرائی تھی تاکہ اس کے مرنے کا یقین رہے۔

جہاں وطن پر مرمٹنے کا جذبہ رکھنے والوں کی بہتات ہو، دشمن کثرت میں اور حالات کٹھن ہوں وہاں شہادت تو نصیب ہو جاتی ہے مگر ایسی سرفرازی ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی جو شہید کا نام تاریخ کے سربرآوردہ لوگوں میں شمار کرا دے، یہ سعادت صرف ان شخصیات کا مقدر بنتی ہے جو جاتے جاتے کوئی انوکھا احساس دلا جائیں، یہاں ایسے شہید بھی ہیں جن کا اس فانی دنیا میں آخری فعل تختہء دار پر کھڑے ہو کے مسکرانا ٹھہرا اور بہت سے وہ بھی ہیں جو حق کا نعرہ لگا کے جھول گئے۔

ان سب مایہ ناز سپوتوں کے درمیان مولانا سید کفایت علی کافیؔ شہید ایک ایسا نام ہے جس نے مرادآباد سے انگریزی راج کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، گرفتاری کے بعد جب ان کیلئے پھانسی کا فیصلہ ہوا تو اسیری کے دوران اپنی لکھی ہوئی ایک تازہ نعت شریف باآواز بلند پڑھتے ہوئے تختہء دار کی طرف گئے جسے کلامِ مستطاب، پاکیزہ کلام، کا نام دیا گیا ہے۔

کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حَسن رہ جائے گا

مفتی سید کفایت علی کافیؔ موضع نگینہ ضلع بجنور انڈیا کے ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن تحصیل علم کے بعد آپ نے مراد آباد کو اپنا مسکن بنایا، پیشے کے اعتبار سے حکیم حاذق اور مدرس و مبلغ تھے، محراب و منبر کی دنیا میں اپنے علم و تصانیف اور فن تقریر کے حوالے سے ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔

حضرتؒ نے حدیث پاک کی تعلیم شاہ عبدالعزیزؒ محدث دہلوی کے شاگرد، شاہ ابوسعیدؒ مجددی، سے حاصل کی اور شاعری میں فنِ سخن کے استاد شیخ مہدی علی خان ذکیؔ مراد آبادی کے چار مشہور تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، ان چار میں معروف محدث نعیم الدین مراد آبادی صاحبؒ کے والد مولانا معین الدین نزہتؔ، مولوی محمد حسین تمناؔ، مولوی شبیر علی تنہاؔ اور مولانا سید کفایت علی کافیؔ شامل ہیں۔

حضرت کافی شہیدؒ کی تمام تر تصانیف منظوم ہیں، ان میں نعتیہ کلاموں پر مبنی دیوانِ کافیؔ، مثنوی خیابانِ فردوس، نسیمِ جنت، مولودِ بہار، حلیہ شریف، جذبۂ عشق، مجموعہ چہل حدیث، شمائل ترمذی کا ترجمہ بہارِ خلد، اور 1841 میں حجاز مقدس سے واپسی پر لکھا گیا سفرنامہ تجملِ دربارِ نبی کریم ﷺ شامل ہے، اب ان میں سے بیشتر کتب نایاب ہیں یا کسی قدیم لائبریری میں مل سکتی ہیں، دیوان کافی اور مولودِ بہار البتہ آرکائیو پر بھی دستیاب ہیں۔

زیر نظر مضمون حضرتؒ کافیؔ کی داستان حریت سے متعلق ہے لیکن اصل میں وہ ایک فوجی نہیں بلکہ ایک منفرد عاشق رسول ﷺ اور دینی شخصیت تھے، ان کا سارا کلام نعت شریف پر مبنی ہے اسلئے برمحل ہے کہ ان کی نعت گوئی پر اہل علم کی کچھ آراء بھی پیش کرتا چلوں۔

عبد الغفور نساخؔ نے، تذکرہ سخنِ شعرا میں لکھا ہے کہ مولوی کفایت علی مراد آبادی ایک صاحبِ علم و فضل اور زہد و تقویٰ رکھنے والے نعتیہ شاعر ہیں، حکیم غلام قطب الدین باطنؔ اکبر آبادی نے گلشنِ بے خزاں، اور عبد الحئی صفاؔ بدایونی نے تذکرہ شمیمِ سُخن میں حضرت کافیؔ کا ذکر بہت گرانقدر الفاظ میں کیا ہے۔

ایک نعت کے چند اشعار:

بدن تھا آپ کا کانِ تجلی
عیاں چہرے پہ تھی شانِ تجلی

رسول اللہ کی نُورِ جبیں کو
بجا ہے گر کہیں جانِ تجلی

تَصوُّر کس کی صورت کا بندھا ہے
کہ چھایا دل پہ سامانِ تجلی

پروفیسر سید یونس شا ہ کے تذکرہ نعت گویانِ اردو، ہمارے لیلپور کے مایہ ناز استاد و شاعر پروفیسر ریاض مجید صاحب کے پی ایچ ڈی کے مقالہ اردو میں نعت گوئی، ماہنامہ نقوش لاہور کے رسولﷺ نمبر، راجہ رشید محمود صاحب کے انتخاب نعت کائنات اور شفیق بریلوی صاحب کے انتخاب ارمغانِ نعت میں حضرت کافیؔ کا منتخب کلام اور ان کیلئے داد و تحسین کا ہدیہ بھی موجود ہے۔

بالخصوص راجہ رشید محمود صاحب نے بہت اچھا کیا کہ اپنی ادارت میں چھپنے والے “ماہنامہ نعت” کا ایک خصوصی ایڈیشن حضرت کافیؔ کے منتخب کلاموں پر شائع کیا ہے اور مولانا احمد رضا خان صاحبؒ کہتے ہیں:

مضمون کی بندش تو میسر ہے رضاؔ
کافیؔ کا دردِ دل کہاں سے لاؤں

اعلیٰحضرت نے حضرت کافیؔ کے مختلف کلاموں کی زمین میں بہت سا کام کیا ہے، ان کا مشہور کلام ، یا الٰہی ہر جگہ تیری عطاکا ساتھ ہو، یہ بھی حضرت کافیؔ کے درج ذیل کلام پر ان کی تظمین ہے۔

یا الٰہی حشر میں خیر الوریٰ ﷺ کا ساتھ ہو
رحمتِ عالم محمد مصطفیٰ ﷺ کا ساتھ ہو

واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں:
ہندوستان میں جب آزادی کی لہر چلی تو مرادآباد کے ایک وفد نے روہیل کھنڈ میں جنرل بخت خان روہیلہ کیساتھ ایک ملاقات کی جس میں مراد آباد کی طرف بغاوت کے خدوخال وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا، قاضی عصمت اللہ فاروقی صاحب کی اولاد میں نواب مجدالدین عرف نواب مجو خان ، نواب شبیر علی خان، نواب دوندے خان کے پوتے نواب عباس علیخان اور نواب اسد علیخان، مولانا وہاج الدین منو صاحب، مولانا کفایت علی کافیؔ اور وہاں کے مشہور پہلوان چوہدری عبدالقادر عرب اس وقت مرادآباد کے سرکردہ لوگوں میں شامل تھے، مزکورہ نوابین اس علاقے کی سیاست کے اہم کرداروں کی اولادیں تھے۔

نواب مجو خان ایک وسیع جاگیر رکھنے والے رئیس تھے، ان کے ہاں ہر ہفتے پرتکلف دعوت پر عمائدینِ مرادآباد کا اجتماع ہوتا تھا، یہاں تک کہ مرزا غالب جب مرادآباد آئے تو انہیں کے ہاں قیام کیا تھا۔

نواب رامپور یوسف علی خان بہادر صاحب انگریزوں کے سخت حامی تھے، انہیں انگریزوں سے متعدد خطاب بھی ملے تھے لیکن باشندگان رامپور کافی حد تک انگریزوں سے متنفر تھے تاہم رامپور میں کوئی انقلابی جدوجہد موجود نہیں تھی اسلئے رامپور کے کم و بیش 200 افراد کا ایک گروہ بھی مرادآباد میں اٹھنے والی انقلابی قیادت کیساتھ آملا تھا۔

حالات كے پيشِ نظر ايك انقلابی کمیٹی ترتیب دی گئی جس کے ذمے جنگی وسائل دستیاب کرنے کے علاوہ عوامی رابطہ اور آگاہی مہم بھی شامل تھی، اس میں نواب مجو خان حاکم مرادآباد، نواب شبیر علی خان فوج کے جرنیل، اسد علی خان افسر توپخانہ اور مولانا کافیؔ امیر شریعت مقرر ہوئے۔

حضرت کافیؔ ایک طرف نماز جمعہ و دیگر عوامی اجتماعات سے خطابات کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے فتویٰ جہاد پر مبنی پمفلٹ چھپوا کے ضلع بھر میں تقسیم کرواتے تھے، اس سلسے میں انہوں نے آنولہ اور بریلی کے اسفار بھی کئے اور وہاں مقیم بھی رہے جس کی بدولت مراد آباد سے آنولہ اور بریلی تک عوام میں شدید انقلابی جذبات اور ایک مضبوط فوجی قوت پیدا ہوگئی تھی۔

ڈسٹرک گزیٹئر مرادآباد کے مطابق:

“مسلمانوں نے من حیث القوم ضلع بھر میں برٹش گورنمنٹ سے اپنی مخالفت کو نہایت صاف اور صریح طور پر ظاہر کیا ہے، روہیل کھنڈ کے دوسرے اضلاع کی طرح مرادآباد میں بھی مذہبی غیرت اور انگریزوں کی ہر بات سے نفرت کے جذبات نے مسلمانوں کو بغاوتِ عام پر آمادہ کر دیا تھا”۔

ہندوستان میں انگریز کیخلاف بغاوت کے آثار مارچ سے نمایاں ہونے شروع ہوئے تھے جس میں پہلی بغاوت منگل پانڈے کی طرف سے چربی والے کارتوس استعمال کرنے پر ہوئی، بعض دوسری چھاؤنیوں میں کچھ سپاہیوں نے انگریزی کنٹوپ پہنے سے بھی انکار کیا تھا، اس بغاوت کو مہمیز دینے والوں میں اودھ کی بیگم حضرت محل اور جھانسی کی رانی سر فہرست ہیں لیکن باقائدہ غدر کا آغاز مئی ستاون میں میرٹھ کی بغاوت سے ہوا جو ستاون کی جنگِ آزادی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔

میرٹھ چھاؤنی میں مقیم تھرڈ لائیٹ کیولری کے تقریباً پینتیس جوانوں نے جب گائے اور سؤر کی چربی والے کارتوس استعمال کرانے پر حکومتِ انگلشیہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے برسرعام اپنی وردیاں اتار کے پھینک دیں تو انہیں گرفتار کرکے بیڑیاں پہنا دی گئیں اور مختصر ٹرائل کے بعد نو مئی کو انہیں دس دس سال قید بامشقت بھی سنا دی گئی۔

اس واقعہ سے مشتعل ہوکے پلٹن نمبر 18پیادگان، پلٹن 68 پیادگان اور پلٹن نمبر 8 سواران کے ستر کے قریب سپاہیوں نے بمعہ دو توپوں کے دس مئی کو سینٹ جان چرچ پر حملہ کر دیا جہاں اتوار کے دن عبادت جاری تھی، اس میں بہت سے انگریز افسران مارے گئے، جو انگریز اپنی یونٹوں میں سپاہیوں کو سمجھانے بجھانے گئے وہ بھی مارے گئے، بعض کو ان کے گھروں میں اردلیوں نے قتل کر دیا اور ان کے سپہ سالار جنرل سپالڈ کو ایک سوار نے مار ڈالا۔

زیرِ زمین موجود انقلابی مجاہدین جب فوجیوں کی مدد کیلئے سامنے آگئے تو اس بغاوت نے پورے میرٹھ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یعنی چھاؤنی کے ساتھ ساتھ سرکاری دفتروں اور کچہری کے انگریز اہلکاروں کو بھی مارنا شروع کر دیا، شہر پر مکمل قبضے کے بعد یہ انقلابی لشکر چالیس میل کا فاصلہ طے کرکے اگلے ہی دن دہلی پہنچ گیا، مجاہدین نے سولہ مئی تک لال قلعے پر قبضہ کرلیا اور بہادر شاہ ظفر سے جنگ کی کمان سنبھالنے کی درخواست کی مگر بیاسی سال کی عمر میں وہ اس قابل نہ تھے کہ بے سروسامانی کے عالم میں ایک منظم دشمن کیخلاف ایک غیر منظم فوج کی مؤثر فوجی حکمت عملی کیساتھ کمان کرسکتے۔

بہادر شاہ ظفر کی حیثیت ایک علامتی بادشاہ کی سی تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے انتظام میں گھرا ہوا تھا، ہندوستان پر عملاً کمپنی کا راج تھا جو بادشاہ سلامت کی گزربسر کیلئے انہیں ایک لاکھ روپیہ ماہانہ رائلٹی دیتی تھی۔

باغی رہنماؤں کے اصرار پر ان کے پانچویں شہزادے مرزا مغل نے باغی عوام کی کمان سنبھال لی، جلدی ہی یہ تحریک دہلی کے پڑوسی اضلاع بلند شہر اور سہارنپور تک پھیل گئی، پھر بریلی، رامپور، مرادآباد، امروہہ، بجنور، بدایوں، شاہجہاں پور اور فرخ آباد بھی اس کی لیپٹ میں آگئے، تیس مئی تک یہ تحریک اترپردیش کے علاوہ بہار ، اودھ، جھانسی اور لکھنؤ کے تمام اضلاع تک بھی پہنچ چکی تھی۔

انگریزوں کے اسلحے خانوں پر قبضہ کرکے مجاہدین بہت مضبوط ہو چکے تھے لیکن ایک مربوط جنگی حکمت عملی، جنگ کے عملی قوائد سے ناآشنائی اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے فقدان نے انہیں جلد یا بدیر ایک کے بعد دوسری جگہ سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

انگریز نے جنرل ہنری برنارڈ کی قیادت میں دس جون کو دہلی کا محاصرہ کیا تو جنرل بخت خان روہیلہ ایک بڑی طاقت کیساتھ دہلی واگزار کرانے کیلئے بڑھے، دو جولائی کو کامیاب آپریشن کے بعد بخت خان نے دہلی کا کنٹرول اور مرکزی کمان مرزا مغل سے اپنے ہاتھ میں لے لی لیکن بہادر شاہ ظفر اور ان کے کرتا دھرتا احباب معاملہ فہمی سے قطعاً معذور تھے اسلئے بعض درباری امیروں کے بہکاوے میں آکے بخت خان سے لاتعلقی کا اظہار کرکے بادشاہ سلامت لال قلعہ چھوڑ کے مقبرہ ہمایوں میں منتقل ہوگئے۔

پروفیشنل جرنیل ہونے اور اپنی ایک منظم فوج رکھنے کے باعث یہ واحد آدمی تھا جو نہ صرف جنگی حکمت عملی اور مرکزیت کی کمی کو پورا کرسکتا تھا بلکہ انگریز کے باجگزار نوابوں کو بھی ایک ایک کرکے سمیٹنے کی مکمل اہلیت رکھتا تھا، مگر وائے حسرت کہ تماتر قربانیوں کے باوجود اس جنگ میں افسوس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

بعض تزکرہ نگار یوں بیان کرتے ہیں کہ مولانا کافیؔ ایک جنگی کمانڈر کی حیثیت سے مختلف اوقات میں بریلی، الہ آباد اور مرادآباد میں انگریزوں کیساتھ بخت خان کی بھرپور معرکہ آرائیوں میں شریک رہے، اس میں سے بخت خان کو ہٹا دیا جائے تو باقی کی گفتگو بالکل درست ہے کیونکہ بخت خان نے ان علاقوں میں انگریز یا اس کے منتظمین کیساتھ کوئی لڑائی نہیں لڑی البتہ مولانا کافیؔ کی درخواست پر وہ مرادآباد سے والیٔ رامپور کا دخل چکانے ضرور گئے تھے۔

تزکرہ علمائے ہند کیمطابق نواب رامپور یوسف علی خان نے انگریز سے پورا روہیل کھنڈ فتح کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن انہیں صرف مرادآباد واگزار کرانے کی اجازت ملی ، اخبار الصنادید کیمطابق نواب یوسف خان بہادر امن و آشتی کے دلدادہ تھے اسلئے مرادآباد میں امن قائم کرنا چاہتے تھے۔

نواب صاحب کے افسران مرادآباد گئے اور باغیوں کو سمجھا بجھا کے اس بات پر راضی کرلیا کہ ضلعیِ نظام چلنے دیا جائے، دوسری طرف جو سرکاری اہلکار مجاہدین کے خوف سے کارِ سرکار چھوڑ بیٹھے تھے انہیں بھی اعتماد دلا کر واپس کام پر لانے میں مصروف تھے، جو افسران مارے گئے تھے ان کی جگہ رامپور کے افسران مقرر کر دئے گئے، نواب صاحب نے سرکاری مشینری کی حسب ضرورت معاونت اور تحفظ کیلئے اپنے بندے یا مسلح دستے بھی وہاں تعینات کر دئے تھے۔

مئی کی بغاوت جب چہار سو پھیل گئی تو جنرل بخت خان نے روہیل کھنڈ کا انتظام نواب بہادر خان کے سپرد کر دیا تھا تاکہ وہ مقامی ذمہ داریوں سے بری ہو کر ملکی منظر نامے کو ایک کامیاب انقلاب میں بدل سکیں، اس دوران نواب بہادر خان کو حضرت کافیؔ کا ایک خط موصول ہوا جس میں نواب رامپور کی سرگرمیوں کا تفصیل سے ذکر تھا کہ کس طرح وہ مرادآباد میں پیدا کئے گئے جذبے اور افرادی قوت کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہیں۔

خان بہادر نے بخت خان کے مشورے سے اپنے رسالدار محمد شفیع کو معہ رسالہ مرادآباد بھیج دیا جہاں اس نے مغلپورہ میں واقع ایک کالج میں پڑاؤ ڈالا اور ہر قسم کے حالات اور مداخلت کو سنبھالنے کیلئے مجاہدین کی فوجی تربیت شروع کر دی، میرٹھ کی تھرڈ لائیٹ کیولری کی طرح مراد آباد چھاؤنی میں مقیم پلٹن 29 نے بھی بغاوت کی تھی جس کی معاونت سے ہی مرادآباد پر مجاہدین کا قبضہ ہوا تھا، بخت خان کا رسالہ پہنچنے کے بعد یہ پلٹن بھی رسالدار محمد شفیع کے ساتھ جاملی اور شہر پر مجاہدین کا کنٹرول مضبوط ہوگیا البتہ رامپور کی حمایت سے جیل خانہ، عدالت اور دیگر دفاتر میں بحالی کا کام ابھی بھی جاری تھا۔

اگلی گفتگو سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ اخبارالصنادید کو تاریخِ رامپور ہی کہنا چاہئے اسلئے کہ یہ ریاست رامپور کے نوابوں کا ایک جامع تزکرہ ہے، دیگر حوالوں سے بھی دیکھا جائے تو رامپور ایک پرامن، علم و فضل، وضعداری اور عوامی بہبود میں یکتا ریاست تھی لیکن انگریز کی طرفداری کرنے پر اپنی عوام اور قرب جوار میں ناپسندیدہ ٹھہری تھی، علاوہ ازیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو عامۃ الناس کو ان سے برگشتہ کرتی۔

البتہ بہادر خان کیلئے نواب رامپور کی یہ مداخلت ناقابل برداشت تھی کیونکہ روہیل کھنڈ اور ریاست رامپور کے درمیان پرانی دشمنی تھی جس میں انہوں نے رامپور کو کئی بار سخت نقصان بھی پہنچایا تھا۔

خان بہادر نے بخت خان کو راضی کرلیا کہ وہ دہلی جاتے ہوئے مرادآباد سے ہوتے ہوئے جائیں، نواب رامپور میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ بخت خان سے لڑ سکتے لہذا ان کے پہنچنے سے قبل ہی نواب رامپور نے مرادآباد سے اپنا انتظام اٹھوا لیا اور اپنے افسروں اور فوجی دستوں کو واپس بلوا کے میدان خالی کر دیا لیکن 17 جون کو بخت خان کی دہلی روانگی کے بعد رامپور نے مرادآباد میں دوبارہ اصلاحات شروع کر دیں۔

اس بار نواب رامپور بذات خود مرادآباد آئے جہاں عمائدین سے ملاقاتیں کیں اور نواب مجو کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ سنبھل کی مکمل بااختیار حاکمیت معہ ریوینیو قبول کرلیں اور مرادآباد شہر کے علامتی ناظم کی حیثیت سے رہیں جبکہ مرادآباد کی ضلعی حکومت کا مکمل اختیار ان کے چچا عبدالعلی خان کے سپرد کر دیں۔

نواب مجو نے شائد یہ محسوس کرلیا تھا کہ رامپور کے پاس معہ توپخانہ ایک اچھی فوج ہے جس کا مقابلہ مجاہدین نہیں کرسکتے، ضلع مرادآباد پہ مکمل حاکمیت صرف اس وقت ممکن ہے جب انہیں بخت خان کی فوجی حمایت حاصل ہو لیکن بخت خان کے پیش نظر اولین ترجیح اس وقت جنرل ہنری برنارڈ کے قبضے سے دہلی کو واگزار کرانا تھا لہذا نواب مجو نے چار و ناچار یہ پیشکش قبول کرلی۔

مجاہدین کو اس انتظام پہ راضی کرنے کیلئے انہیں نواب صاحب کی قیام گاہ کے پاس ایک میدان میں جمع کیا گیا جہاں نواب صاحب نے اپنے ہاتھ سے انہیں تحفے تحائف دئے اور یوں مرادآباد میں امن قائم ہوگیا۔

امن کی اس کوشش سے مراد شائد یہ ہے کہ دفتری اہلکار اور افسروں کو ان کے کام پہ واپس آنے دیا جائے تاکہ ضلع کچہری، جیل خانہ، عدالت اور دیگر سول سروسز کا نظام بحال ہو سکے۔

چند ماہ بعد 22 اپریل 58 کو شہزادہ فیروزشاہ اپنے لشکر کیساتھ مرادآباد کی طرف آنکلا اور عید گاہ جنگل میں قیام پزیر ہوا، رامپوری حاکمین نے ان سے ملاقات کرکے وجہ نزول دریافت کی تو شہزادے نے کہا میرا مراد آباد پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، میں روزے دار مسافر ہوں، رستہ بھول کے اس طرف آنکلا، شام تک کی مہلت درکار ہے، افطاری کے بعد یہاں سے چلا جاؤں گا، لیکن کسی جگہ ضلعی انتظامیہ نے فیروزشاہ کے ایک دستے پر حملہ کردیا جس کے بعد فیروزشاہی فوج نے رات تک شہر پر قبضہ کرلیا اور مجاہدین کو اس اقدام سے دوبارہ تقویت مل گئی۔

مجاہدین کو امید تھی کہ فیروزشاہ کی پشت پناہی سے نواب مجو خان دوبارہ مرادآباد کے حاکم بن جائیں گے، اچانک درپیش آنے والے ان حالات کے تحت فیروزشاہ بھی اس بات پر آمادہ نظر آرہا تھا لیکن دو دن بعد نواب رامپور نے یہ قبضہ چھڑانے کیلئے ایک بھاری لشکر روانہ کر دیا۔

لشکر تو بھاری تھا مگر رجھیڑے کے پل تک پہنچتے پہنچتے یہ لشکر تقریباً آدھا رہ گیا، رامپور کی سپاہ مجاہدین سے لڑنا چاہتی نہ فیروزشاہ سے اسلئے سپاہی اپنی بندوق کا کندھا درخت کے تنے پر اس زور سے مارتے کہ اس کے ٹکڑے اڑ جاتے پھر ٹوٹی ہوئی بندوق وہیں پھینک کے واپس رامپو رکی طرف ہو لیتے۔

رامپور کی باقی ماندہ فوج نے پلٹ جھپٹ کے فیروز شاہ کیساتھ کئی جھڑپیں لیں لیکن ہر بار بہت سے سپاہیوں اور سرداروں کی قربانی دے کر میدان چھوڑنا پڑا جب یہ سپاہ مزید مختصر ہوگئی تو فیروز شاہ نے ان کے ساتھ مزاکرات کرنا چاہے، اس موقع پر اس نے انگریزوں کی کرتوتیں گنوا کر جہاد کی ضرورت پر زور دیا اور یہ چاہا کہ رامپوری فوج ان کیساتھ مل جائے مگر رامپوری لشکر نے موقع تاک کے ایک بار پھر حملہ کردیا۔

فیروزشاہ اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن اس کا جاسوسی کا نظام بہت تیز تھا، جب اسے اطلاع ملی کہ جنرل جانسن تازہ دم فوج کیساتھ حملہ آور ہونے والا ہے تو اس نے اپنی اور انگریز کی افرادی قوت کا محتاط تقابلی جائزہ لیکر اپنے بندے ضائع کرانے کی بجائے میدان خالی کر دیا۔

ایک سال سے بھی کم عرصے میں انگریزوں نے اپنی کھوئی پوزیشنیں بحال کرلی تھیں، وہ منصوبہ بندی کیساتھ ایک کے بعد ایک علاقہ بازیاب کراتے جا رہے تھے، جنرل جانسن نجیب آباد سے ایک بھاری انگریزی جمیعت کیساتھ 24 اپریل 58 کو مرادآباد پہنچا، رامپوری حکام ضلعی انتظام انگریز کے حوالے کرکے 25 اپریل کو واپس چلے گئے اور 26 اپریل سے حسب سابق مرادآباد پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔

کرنل کُک نے شہر کی ناکہ بندی کردی تاکہ کوئی شہر سے باہر نہ جا سکے، اس کے بعد انگریزی تہذیب کا وہ ننگا ناچ شروع ہوا جسے تاریخ عالم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

پہلے مرحلے میں مجاہدین کی طویل لسٹیں تیار کی گئیں، پھر یہ اعلان کیا کہ جو کسی مجاہد کو گرفتار کرائے گا اسے اس مجاہد کی جائیداد کا بڑا حصہ تحفے میں دے دیا جائے گا، پھر ایک طرف اسلحے کی تلاش میں خانہ تلاشی شروع ہوئی اور دوسری طرف انعام کے لالچی غداروں کی نشاندہی پر گرفتاریاں شروع ہوئیں، اس آپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی مجاہد بھی گرفتاری سے بچ نہ سکا، پھر کسی کو گولی سے اور کسی کو توپوں سے اڑا دیا گیا، کسی کو پھانسی اور کسی کو کالے پانی بھیج دیا گیا، بقول شخصے:

؎ جسے دیکھا حکم وقت نے، کہا یہ بھی قابل دار ہے

خانہ تلاشی کے دوران سات فوجی نواب مجو خان کی حویلی پر آئے تو نواب صاحب نے چھت پر سے ان پر فائرنگ کردی، یہ مقابلہ تا دیر جاری رہا لیکن کمک آنے کے بعد کچھ لوگ چھت پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئے ان میں سے کچھ کو نواب صاحب نے تہہ تیغ بھی کیا لیکن ایک سپاہی کی گولی لگنے سے زخمی یا شہید ہوگئے۔

مصنف علمائے ہند کیمطابق انگریزی قبضے کے بعد بھی چوہدری عبدالقادر عرب اپنے محلہ اصالت پورہ میں کھلے بندوں رہتے تھے، جب انگریز انہیں گرفتار کرنے آیا تو گرفتاری دے دی اور نواب مجو خان جو ان دنوں اپنی حویلی کے تہہ خانے میں مقیم تھے، چوہدری صاحب نے انہیں بھی پیغام بھیجا کہ اب چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس تحریک میں اب جان نہیں پڑ سکتی اور بھاگنا مجاہد کے شان شایان نہیں لہذا نواب صاحب نے بھی گرفتاری دے دی، انگریز نے انہیں سزائے موت اور ان کی املاک و جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔

نواب صاحب کے متعلق تین رائے ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے مکان کی چھت پہ لڑتے ہوئے شہید ہوئے، دوسری یہ کہ گرفتار ہوگئے تھے بعد ازاں انہیں چونے کی بھٹی میں جلا دیا گیا اور تیسری یہ کہ انہیں ہاتھی کے پاؤں کیساتھ باندھ کے کچلوا دیا گیا تھا، مصنف علمائے ہند کیمطابق آخری روایت ہی درست لگتی ہے کہ مراد آباد میں یہی بات مشہور ہے۔

ایک نمک حرام نوکر نے انعام کے لالچ میں مولانا وہاج الدین منو صاحب کی گرفتاری کیئے ان کے گھر چھاپہ ڈلوایا تھا، حالات کے پیش نظر مولانا سخت احتیاط کرتے تھے لیکن باہر سے جب ان کے نوکر کی آواز آئی تو ملازم نے دروازہ کھول دیا گیا، نوکر کے پیچھے ہی انگریزی پلٹن بھی داخل ہوگئی، اس بداطواری پر اس ملازم نے مزاحمت کی تو اسے وہیں گولی مار دی گئی، مولانا نے اپنے قریب رکھی ہوئی بندوق سیدھی کرلی تو انہیں بھی گولیاں مار دی گئیں، مولانا نے کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور اس جہاں سے چلے گئے، انگریز ان دونوں کی میتیں اپنے ساتھ لے گئے اور اپنی کاروائی پوری کرکے انہیں دفن کر دیا، ان دونوں کا مدفن کچہری روڈ پر نعل بندوں کی مسجد کے قریب واقع ہے۔

انعام کے ایک لالچی غدار فخرالدین کلالؔ نے مولانا کافیؔ کی جائے پناہ کی مخبری اس شرط پر کی کہ اسے مولانا کی پوری جائداد انعام میں دے دی جائے، اس کی نشاندہی پر انگریز نے 30 اپریل 58 کو مولانا کافیؔ کو بھی گرفتار کرلیا اور جائداد اس لالچی مخبر کو دے دی۔

گرفتاری کے بعد مولانا کو سلسلۂ حریت اور اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے انگریزوں نے ہر حربہ استعمال کیا، ان کے جسم پر گرم استری پھیری گئی، انہیں زخم لگا کے ان پر نمک مرچ چھڑکی گئی مگر جب ان کی بے پایاں استقامت دیکھ کر مایوس ہو گئے تو 4 مئی کو باقائدہ مقدمہ قائم کیا اور محض دو دن میں عدالتی کاروائی مکمل کرکے 6 مئی کو سزائے موت سنا دی اور اسی دن پھانسی بھی دے دی۔

مسٹرجان انگلسن مجسٹریٹ مرادآباد نے جب پھانسی کا حکم سنایا تو مولانا کافیؔ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اس کے بعد وہ جتنے پل بھی جئے اس میں بہت ہی مسرور اور وارفتہ رہے، پھر جب انہیں مقتل کی طرف لیجایا گیا تو شہادت سے قبل نہایت خوش کلامی اور بلند آواز سے انہوں نے اپنا یہ آخری کلام پڑھا تھا جو دورانِ اسیری ہی موزوں کیا تھا۔

کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حَسن رہ جائے گا

نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں
حشر تک نام و نشانِ پنجتن رہ جائے گا

جو پڑھے گا صاحبِ لولاک ﷺ کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا

اطلس و کمخواب کی پوشاک پہ نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا

ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی، سُونا چمن رہ جائے گا

سب فنا ہو جائیں گے کافیؔ، و لیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا زبانوں پر سُخن رہ جائے گا

(ہم صفیرـ ہم عصر پرندے)

یوں بروز جمعرات 22 رمضان المبارک 1274ھ بمطابق 6 مئی 1858ء کو مراد آباد جیل کے سامنے مجمع عام کے روبرو انہیں پھانسی دے دی اور رات کی تاریکی میں اسی جیل کے قرب و جوار میں دفن کر کے زمین ہموار کر دی گئی تاکہ نام و نشان باقی نہ رہے۔

معروف مفسرِ قرآن مولانا نعیم الدینؒ مرادآبادی کے صاحبزادے مولانا عمر نعیمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے 35 سال بعد اس علاقے سے ایک سڑک نکالی جا رہی تھی کہ ایک مزدور کے کدال سے حضرت کافیؔ شہید کی قبر کھل گئی۔

یہ خبر جب شہر میں پھیلی تو لوگ جوق درجوق زیارت کیلئے آنے لگے، شہر کے بزرگ لوگوں نے چہرہ مبارک دیکھ کر شناخت کرلیا، اس دوران پراجیکٹ انجینئر بھی موقع پر پہنچ گیا اور شہید کی صحیح سلامت میت دیکھ کر اتنا مرعوب ہوا کہ قبر پر تختے لگوا کے اسے باقائدہ مرقد کی شکل دے دی اور سڑک کا رخ وہاں سے تبدیل کردیا، ان کی مرقد مبارک موجودہ آبادی کے حساب سے سرائے مویشی خانہ کے قریب واقع ہے، آخر میں حضرتؒ کافیؔ کی ایک فارسی نعت شریف سے چند اشعار اہل ذوق کی نذر کرتا ہوں:

اے طفیلِ خاکِ پایت رونقِ باغِ جہاں
گلشنِ ایجاد برگے از بہارستانِ تو

حبذا صلِ علیٰ اے گیسوئے خیرالوری ﷺ
مشکِ اذفر نفحہء از جنبشِ دامانِ تو

باغِ عالم از بہارِ حُسنِ تو باشد گلے
آسماں لوحِ منقش از نگارستانِ تو

اے نگاہت جوہرِ آئینہ نورِ یقیں
دیدہ ء اہلِ بصیرت ہر زماں قربانِ تو

اے وجودت آفتابِ آسمانِ معرفت
صد جہانِ اہلِ عرفاں روشن از عرفانِ تو

رحم کن رحمے نما یا رحمت للعلمین
اے کلیدِ رحمتِ حق در کفِ احسانِ تو

صد جہاں عاصی بہ میدانِ شفاعت روزِ حشر
کم ز کوئے درمیانِ عرصہء جولانِ تو

می کند ابلاغ تسلیم و سلامِ بے شمار
بندہء کافی بروحِ پُرفتوحِ جانِ تو
—–

ماخذات و مراجعات:

بالمشافہ حوالہ جات:
علماء ہند کا شاندار ماضی از سید محمد میاں صاحب
اخبار الصنادید از حکیم نجم الغنی رامپوری
تذکرہ علمائے اہل سنت از محمود احمد کانپوری۔
ماہنامہ نعت کا شمارا “کافی کی نعت گوئی” از راجہ رشید محمود صاحب
دی لاسٹ مغل بائی ولیم ڈالریمپل، برٹش ہسٹورین

بالواسطہ حوالہ جات:
چند ممتاز علمائے انقلاب۔
ماہ نامہ ترجمانِ اہلِ سنت کراچی، جنگ آزادی نمبر، جولائی 1975۔
مرادآباد: تاریخ جدوجہد آزادی، سید محبوب حسین سبزواری۔
علما و قائدین جنگِ آزادی از یٰس اختر مصباحی۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: