احساسِ کمتری —– لالہ صحرائی کا انشائیہ

0
  • 146
    Shares

احساس کمتری اک ایسا مرض ہے جو خودبخود کسی کو لاحق نہیں ہوتا بلکہ یہ سماج کی انتھک کوششوں سے وارد ہوتا ہے، عموماً یہ ان حضرات کی عطا ہوتا ہے جو پہلے خود کہیں سے یہ مرض لگوا بیٹھتے ہیں پھر اس عارضے کی ترسیل کو اپنا اہم فریضہ ہی سمجھ لیتے ہیں۔

احساس کمتری کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک زاویہ نظر ہے جو خارجی عوامل سے پیدا ہوتا ہے، جب کوئی بندہ آپ کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جائے کہ وہ آپ سے کافی حد تک بہتر ہے تو آپ کے ردعمل کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں، اول یہ کہ اپنے ساتھ موازنہ کئے بغیر اس کی فضیلت کو عارضی طور پر تسلیم کر لیں اور پھر پہلی فرصت میں اس بات کو بھول جائیں، دوسری صورت یہ ہے کہ آپ حقیقتاً متاثر ہو کے اسے افضل اور خود کو اس سے کمتر سمجھنے لگیں۔

یہ بات بلکل طے ہے کہ احساس کمتری پیدا کرنے والے عوامل اور عناصر عموماً آپ کے قریبی ہوتے ہیں، دور دراز کی چیزیں ان سے زیادہ زورآور ہوتے ہوئے بھی آپ کو اتنا مرعوب نہیں کر سکتیں جتنا قریبی چیزیں متاثر کرتی ہیں، مثلاً اگر کوئی بادشاہ ہے تو اس کا نام سن کر آپ کو کوئی احساس کمتری لاحق نہیں ہوتا، کوئی آپ کو شہزادے، شہزادیوں کی لاکھ سچی کہانیاں سناتا رہے، آپ ان کے مرتبے اور عیش و عشرت کی زندگی سے کبھی حسد کرتے ہیں نہ رشک اور نہ ہی مرعوب ہوتے ہیں نہ کسی قسم کا احساس کمتری محسوس کرتے ہیں کیونکہ آپ کا اور ان کا تعلق دُور پرے کا ہے لیکن جیسے ہی آپ ان عناصر سے ملیں گے، ان سے رشتے داری یا دوستی کر بیٹھیں گے تو لازمی آپ کو اپنے اور انکے درجے میں ایک واضع فرق محسوس ہوگا، یہی احساس کمتری کا نقطۂ آغاز ہے، اس موقع پر آپ نے اپنے آپ کو اگر سنبھال لیا تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ورنہ آپ پھسلتے ہی چلے جائیں گے۔

کسی معتبر وجودِ مسعود سے ایک آدھ ملاقات میں احساس کمتری بلکل عارضی نوعیت کا ہوتا ہے اور کچھ وقت میں رفع دفع بھی ہو جاتا ہے لیکن جب آپ نے ان سے دوستی کر لی تو گویا اپنے لئے احساس کمتری کی خندق کھود لی، اب آپ انہیں روزانہ دیکھیں گے اور ہر روز ان کی اور اپنی حیثیت کا فرق بھی محسوس کرتے رہیں گے، پھر جب ان کی سبقت انگیز کہانیاں مستقل بنیادوں پر سنیں گے تو دراصل اپنے احساس کمتری کی پرورش کرنے لگیں گے۔

کسی معتبر وجودِ مسعود سے ایک آدھ ملاقات میں احساس کمتری بلکل عارضی نوعیت کا ہوتا ہے اور کچھ وقت میں رفع دفع بھی ہو جاتا ہے لیکن جب آپ نے ان سے دوستی کر لی تو گویا اپنے لئے احساس کمتری کی خندق کھود لی

ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں جو کسی ایسے فرد کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں وہ مرعوب کر سکیں، آپ کے سامنے جب کوئی بندہ اپنی کوئی بڑائی بیان کر رہا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ آپ کو ڈرِپ لگ گئی ہے، اب آپ جتنی دیر اسے سنتے رہیں گے اتنی دیر تک یہ ڈوز چڑھتی رہے گی۔

علم نفسیات کی رُو سے احساس برتری کے پُختہ مریضوں میں احساس کمتری بھی اسی مقدار میں موجود ہوتا ہے، یعنی اپنے فضائل سے دوسروں کو متاثر کرنیوالے بذاتِ خود بھی کسی نہ کسی طرح کے احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں جو اپنے اس احساس کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اپنی کسی فضیلت کا سہارا لے کر احساس برتری کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ایک نئے بندے کو بھی اسی زحمت سے دوچار کر جاتے ہیں۔

ان حالات میں یوں سمجھ لیجئے کہ احساس کمتری ایک طرح سے چُھوت کی بیماری ہے جو ایک فرد سے دوسرے کو لگتی ہے، اس وبا کے سامنے حفاظتی اقدامات کرنا نہائیت ضروری بلکہ یہ آپ کے اوپر اتنا ہی واجب ہے جتنا کسی بِھڑ یا مچھر کے کاٹنے سے اپنا بچاؤ فرض ہے۔

حفاظتی اقدامات میں یہ ہوسکتا ہے کہ جب کوئی بندہ اپنی فوقیت جتائے تو ایسی صورتحال میں آپ پر لازم ہے کہ اس کی بات ختم ہونے کے ساتھ ہی آپ بھی اپنی کوئی ملتی جلتی فضیلت اس کے متھے مار دیں تاکہ مرعوبیت کا توازن برابر ہو جائے۔

جب کوئی اپنی برتری جتا رہا ہو تو اس دوران، اس کی بات سننے سے زیادہ، آپ بھی اپنی کسی ہم پلہ خوبی کو یاد کرلیں اور پھر اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کریں یا کہیں بیچ میں سے خود بھی شروع ہو جائیں کہ ہاں میرے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی صورتحال مرتب ہوتی ہے۔

بالفرض، اگر آپ کے پاس واقعی کوئی قابلیت موجود نہیں تو کسی دوسرے سے سنا ہوا کوئی فضیلت بھرا واقعہ اپنا کہہ کر ایسے نامراد کو سنانا اپنے اوپر فرض سمجھ لیں، اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس کی بڑائی سن کے آپ لازمی احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں گے۔

مثال کے طور پہ اگر آپ کا رنگ کالا ہے اور کوئی گوری رنگت والا آپ کو اس بات کا احساس دلا رہا ہے تو رتی بھر بھی احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے آپ کو یوں کہنا چاہئے کہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میرا حساب ٹنٹڈ گلاس جیسا ہے جس کے اندر والا تو باہر کا ماحول دیکھ سکتا ہے لیکن باہر والا اس کے اندر کا ماحول نہیں دیکھ سکتا، پھر اس گورے کو مثال دیکر سمجھائیں کہ اس کے ہاتھ، منہ، گلے اور بازو کی شریانیں صاف نظر آرہی ہیں جبکہ میرا ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا کیونکہ باہر کھڑا بندہ ٹنٹڈ گلاس کے اِس طرف نہیں دیکھ سکتا۔

یہاں ایک دوسرا کلیہ بتانا بھی دلچسپی سے مبراء نہ ہوگا کہ اگر آپ کی رنگت سانولی ہے تو کسی بھی مجلس میں احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے آپ اپنی رنگت کو آف۔براؤن کا بہترین شیڈ قرار دے کر کسی بھی رنگ۔کاٹ بِھڑ کو باآسانی مات کر سکتے ہیں۔

اگر کسی کو آپ کے چپٹے ناک پہ اعتراض ہے، کوئی آپ کے چھوٹے قد، بڑے ہاتھ یا آپ کے موٹے پتلے وجود پر حرف آراء ہے تو احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے فوراً جوابی کاروائی کرکے اسے یہ سمجھا دیں کہ وہ خود کونسا سیون۔الیون کا مالک یا وائٹ ہاؤس کا سپوکس۔مین ہے بلکہ وہ بھی آپ ہی کی طرح ایک ہولُو سے باس کے ہاتھوں یکساں طور پر ذلیل ہونے والا ہمرکاب ہی ہے لہذا ہمیں ایسے “ذاتی اختلافات” کو پس پشت ڈال کے ان بنیادوں پر سوچنا چاہئے جو ہمارے اور تمہارے درمیان قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں یعنی تنخواہ تمھاری بھی بمشکل بیس پچیس تاریخ تک ہی چلتی ہے اور بیوی بھی شروع کے چھ ماہ تک ہی شیریں کلام تھی۔

احساس کمتری کی بیشمار اقسام ہیں جن میں پانچ ارب قسمیں زیادہ مشہور ہیں، پانچ ارب اس لئے کہ فی الحال روئے زمین پر انسانوں کی آبادی تقریباً اتنی ہی ہے اور تقریباً ہر بندہ ہی اپنی طرز کے ایک انوکھے احساس کمتری میں مبتلا ہے، گویا کہ جتنے انسان یہاں بستے ہیں لگ بھگ اتنی ہی اقسام کے احساس کمتری بھی یہاں موجود ہیں تاہم چند ایک فلیور ان سب میں مشترک ہیں۔

  • پہلی طرز کا احساس کمتری وہی ہے جو اوپر بیان کیا ہے یعنی اسٹیٹس یا شخصی خوبیوں کے تقابل سے پیدا ہونے والا احساس۔
  • دوسرا احساس کمتری ناکامیوں سے پیدا ہوتا ہے، یعنی جب ایک بندہ وہی کچھ باآسانی کئے جا رہا ہو جو آپ بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کو موقع نہیں ملتا، ڈھنگ نہیں آتا یا نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو دوسروں کو حاصل ہو جاتا ہے۔
  • تیسرا احساس کمتری عدم پزیرائی سے پیدا ہوتا ہے، یعنی آپ سماجی طور پر دوسروں کے ہم پلہ یا ان سے ممتاز ہیں، قابلیت بھی رکھتے ہیں اور اس کا کامیاب مظاہرہ بھی کرتے ہیں، پھر بھی آپ کو خاطرخواہ پزیرائی نہیں ملتی جبکہ اسی کام پہ دوسروں کو زیادہ پزیرائی ملتی ہے۔

ان تینوں مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ آپ سب مل جل کر اس گھمبیر مسئلے کا کوئی پائدار حل تلاش کرلیں اور جب کوئی معقول سا حل دستیاب ہوجائے تو مجھے بھی ضرور مطلع کیجئے گا۔

اس سلسلے میں میری تلاش کا جو نتیجہ ملا، وہ یہ ہے کہ احساس کمتری مٹانے کے بہت سے طریقے ہیں جو بہت گہری تحقیقات کے بعد لوگوں نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں کہ کس طرح سے نوع انسان اس نحوست سے جان چھڑا سکتی ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جنہوں نے یہ کتابیں لکھیں وہ لوگ بذات خود بھی احساس کمتری کا شکار ہوگئے کہ ان کی کتب کے مقابلے میں ہیری پوٹر اور جاسوسی ناولوں جیسی کتابیں کیوں زیادہ بِک رہی ہیں حالانکہ ان کے قارئین میں احساسِ کمتری یا احساس برتری پیدا کرنے والے عناصر میں ان کہانیوں کے مرکزی کرداروں کی سپرنیچرل صلاحیتوں کا بھی بھرپور دخل شاملِ حال ہے۔

ان مصنفین میں کچھ ایسے ماہرین بھی ہیں جن کی کتابیں تو ریکارڈ سیل ہوئیں مگر انہیں خاطرخواہ مالی فائدہ نہ ملا یا ہیری پوٹر کے مقابلے میں بہت ہی کم ملا، پھر مریضوں کو بھی کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، اس بات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سب کتابیں اب ری۔سیل میں فٹ پاتھ وینڈرز کے پاس ایک چھوتھائی قیمتوں پر بھی دستیاب ہیں۔

آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ ان ماہرین کے کتابی نسخوں پر عمل کی کوشش کرنا بھی کئی طرز کے نئے احساساتِ کمتری پیدا کر دیتا ہے، مثلاً یہ کہ کسی مفکر نے فلسفے اور نفسیات کی رو سے جو جو علاج سمجھائے ہیں وہ ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتے؟ یا پھر یہ کہ بات تو سمجھ میں آ گئی لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے، نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جن کا اس کتاب کے دیباچے میں ذکر ہے کہ انہیں بہت فائدہ ہوا، نہ جانے وہ اسے کیسے سمجھ لیتے ہیں یا ان پر کیسے عمل کر لیتے ہیں؟ نہ جانے میں اس قابل کیوں نہیں؟

احساس کمتری کے علاج کیلئے اگر آپ کسی ماہر نفسیات کے پاس جائیں گے تو پہلا روگ جائے نہ جائے لیکن ایک نیا احساس کمتری ضرور جنم لے گا کہ مکمل علاج تک اس ڈاکٹر کی فیس کہاں سے دوں؟ نہ جانے کون لوگ ہیں جو ان ڈاکٹروں کی مہنگی فیسیں افورڈ کر لیتے ہیں؟

اگر آپ افورڈ کر سکنے والوں میں شامل ہیں تو پھر افاقہ نہ ہونے کا غم مزید احساس کمتری پیدا کرے گا کہ نجانے کن لوگوں کی مراد پوری ہو جاتی ہے؟ نہ جانے کون لوگ ہیں جنہیں شفا مل جاتی ہے؟

فلسفے کی مشہور کتاب “الاحساس و المحسوسات” کے مصنف، میرے دوست، پروفیسر ککو لکھتے ہیں کہ احساس کمتری سے نمٹنے کا واحد آسان اور باعزت طریقہ صرف جوابی کاروائی ہے، اگر آپ کو بروقت جوابی کاروائی کرنا آتی ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بِھڑ آپ کے احساس پہ کمتری کی سوزش پیدا کر سکے بلکہ جوابی فائرنگ کا کلیہ اپنا کر آپ یکمشت سو بِھڑوں کا مقابلہ بھی باآسانی کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، اگر آپ سائیکل پر ہیں اور کسی کی گاڑی سے مرعوب ہونے لگیں تو اس کے مالک سے اس کی گاڑی کی تعریف کرکے اس سے یہ سوال ضرور کریں کہ کیا آپ ہاتھ چھوڑ کے سائیکل چلا سکتے ہیں؟ یا سائیکل کے ٹائر پر پاؤں رگڑ کے بریک لگا سکتے ہیں؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگا تو آپ کی فضیلت اس پر فوقیت لے جائے گی لہذا احساس کمتری کو آپ کے پاس جگہ نہیں ملے گی، اسی طرح ہر موقع پر جب تک آپ اپنے فضائل کا ادراک کرکے ہر کاٹنے والی بھڑ کو کاؤنٹر نہیں کریں گے آپ اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتے۔

پروفیسر کُکو کی کتاب کا بھی دوسرا ایڈیشن کبھی نہ چھپ سکا اسلئے کہیں سے ملے گی بھی نہیں البتہ اس کتاب میں جو واحد کام کی بات ہے وہ میں یہاں بیان کر دیتا ہوں تاکہ آپ کتاب ڈھونڈنے کی زحمت سے بچ جائیں۔

پروفیسر کا کہنا ہے کہ؛
میں اپنے سے پیچھے کھڑے لوگوں کو کیوں نہ دیکھوں تاکہ میں خود کو ان کے مقابلے میں پہلے درجے کا فرد سمجھ سکوں، اس کی بجائے میں خود سے آگے کھڑے لوگوں کو دیکھ کے اپنے آپ کو ہی دوسرے درجے کا فرد سمجھنے لگتا ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہوں حالانکہ وہ سامنے والے بھی اپنے سے آگے والوں کے مقابلے میں دوسرے ہی درجے کے لوگ ہیں جنہیں میں صرف اپنے سے آگے ہونے کی بنا پر پہلے درجے کے افراد سمجھتا ہوں۔

یقیناً کوئی بھی انسان دوسرے درجے کا آدمی نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے دائرے میں رہے، مجھے اپنا موازنہ وزیروں کے ساتھ نہیں کرنا چاہئے، ان کا دائرہ مختلف ہے اور میرا دائرۂ زندگی کچھ اور ہے، کوئی بھی انسان اپنے دائرے کے اندر کسی دوسرے فرد سے کمتر نہیں، اگر بعض صلاحیتوں میں کچھ لوگ آپ سے آگے ہوں گے تو وہی لوگ بعض دوسری صلاحیتوں میں آپ سے پیچھے بھی ہوں گے، یہ قانون قدرت ہے، تو پھر احساس کمتری کس چیز کا؟

فی الحقیقت انسان میں کمتری ہوتی ہی نہیں بلکہ ہر انسان دوسرے سے کچھ مشترک اور کچھ مختلف فضائل رکھتا ہے تاکہ زندگی میں تنوع رہے اور لوگ ایکدوسرے کے فضائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے آپس میں جڑے رہیں لہذا دوسروں کے مقابلے میں اپنی کسی کمی کو محسوس کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ اپنی وہ صلاحیتیں شمار کرے جو دوسروں میں نہیں، پھر ہر فرد اپنی اپنی صلاحیتوں کو دوسروں پر رعب جمانے کی بجائے انہیں شئیرنگ پر رکھ دے تاکہ ایکدوسرے کی صلاحیتوں سے اپنی اپنی ضروریات پوری کرلی جائیں، اس طرح سے کسی ایک میں بھی دوسروں کو جتانے کیلئے نہ کوئی احساس برتری ظاہر ہوگا اور نہ ہی اس کے کاٹنے سے دوسروں میں احساس کمتری کا عارضہ پیدا ہوگا۔

ساتھیو شرطِ سفر کب ہے کہ ہر کانٹے کو
آبلہ پائی کے احساس سے دیکھا جائے

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: