جو نظریات کام نہیں کرتے ——- چوہدری بابر عباس

0
  • 55
    Shares

کانگو 1483 میں جہاز ران ڈیاگو کاو DIAGO CAO کے وہاں پہلی بار وارد ہونے کے بعد قریبی رابطے میں آیا۔ اس وقت کانگو افریقی معیارات کے مطابق ایک انتہائی مرکز مائل ریاست تھی جسکے دارالحکومت مبانز کی آبادی ساٹھ ہزار تھی۔ اور اس طرح یہ پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے تقریبا برابر اور لندن سے بڑا شہر بن چکا تھا۔ اسکی آبادی 1500ء میں پچاس ہزار کے قریب تھی۔

نزنگا نکوہ NZINGA NKUWA اس وقت کانگو کا حکمران تھا۔ پرتگیزیوں کی ہی وجہ سے کانگو کے تاحال ایک تاریک اور جنگلی قبائل کی زندگی گزارنے والے باشندوں نے ہل اور پہیے کے بارے میں جانا۔ جسکی پزیرائی کی حوصلہ افزائی پرتگیزیوں نے کانگو میں مزید زرعی منصوبوں کے زریعے کی۔ مگر یہ تمام کاوشیں ناکام ہو گئیں اور آج تک کانگو کے باشندوں کی جدید علوم سے دوری ختم نہ ہو سکی اور نہ ہی انکو آج کے ترقی یافتہ صنعتی علوم کو سیکھنے اور جدت طرازیوں کو اختیار کرنے کے لیے کوئی دراصل عنقا محرک مجبور کرسکا۔

کس بات نے کانگو کے باشندوں کو جدت اور صنعتی علوم کو اختیار نہ کرنے دیا؟
اس سوال کا واحد معقول جواب جدید علوم سیکھنے اور جدت طرازی سے نفرت اور دوری کے گڑھے کو پاٹنے کے لیے کسی محرک کا موجود نہ ہونا تھا۔ انہیں اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ انکی تمام پیداوار کو کلی اختیار کے مالک بادشاہ کی طرف سے غصب کرلیا جائے گا یا اس پر بھاری ٹیکس عائد کر دییے جائیں گے۔ درحقیقت انکی جائیداد ہی غیر محفوظ نہ تھی۔ انکی زندگی بھی غلامی کے گلوکش سے لٹکی ہوئی تھی اور بہانے بہانے سے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جاتیں جنہیں پھر غلام بنا کر مغرب کو بیچ دیا جاتا، یہ بمشکل ہی صنعتی علوم کے حصول کی خواہش، طویل مدتی پیداور بڑھا نے اور سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے لیے کوئی سازگار ماحول تھا۔ اور نہ ہی بادشاہ کے ہاں کوئی ایسے محرکات وجود رکھتے تھے کہ وہ بڑے پیمانے پر ہل کو اختیار کرتا اور زرعی پیداوار کی بڑھوتری کو اپنی اصل ترجیح بناتا۔ غلاموں کی بر آمد اس سے کہیں زیادہ نفع بخش کاروبار تھا.

وسائل کی تقسیم اور اس سے استفادے کے ضمن میں ہم ایک غیر مساوی دنیا میں رہ رہے ہیں اور اس عدم توازن میں حیران کن بُعد اس قدر ہے کہ ایک مختصر الحجم خلیجی ریاست قطر کی فی کس آمدن ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر کے مقابلے میں کانگو کا مفلوک الحال شہری محض چار سو ستر ڈالر فی کس سالانہ کی آمدن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس عدم مساوات کے کیا محرکات ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ماہرین نے جو عام مقبول نظریات پیش کیے ہیں وہ، بعض کے نزدیک جغرافیہ، بعض کے نزدیک مذہب و ثقافت اور کچھ کے خیال میں مگر کمزور حد تک ایک معقول نظریہ جہالت ہے۔

ڈیرن اسیم اوگلو مگر اپنی کتاب “قومیں کیوں ناکام ہوتیں ہیں” میں ان مفروضات کو ماننے سے کچھ اسطرح سے انکاری ہے۔

جغرافیہ کا نظریہ:
جیسا کہ عالمی عدم مساوات کا ایک وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ نظریہ ملکوں کا جغرافیہ مانا جاتا ہے۔ جس کی تائید میں اٹھارویں صدی میں فرانسیسی سیاسی فلسفی مانٹیسکیو نے غربت اور خوشحالی کی مرکوزیت کی توجیہ اس استدلال میں کی کہ گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگ سست تھے اور ان میں تجسس کی کمی تھی، وہ نہ صرف کم کوش تھے بلکہ جدت طرازی سے بھی بیزار تھے۔ مانٹیسکیو نے یہ بھی قیاس کیا کہ گرم محل وقوع کے سکلان مزاج باسی مستبد محکومیت کا رجحان رکھتے تھے۔ مزید اس طرف اشارہ کیا کہ منطقہء حارہ نہ صرف غربت کی توجیہہ پیش کرتا ہے بلکہ کچھ ایسے سیاسی مظہر کی بھی نشاندہی کرتاہے جو معاشی ناکامی کے ساتھ منسلک ہیں جیسا کہ ملوکیت اور آمریت، جنکے آج واضح اثرات ان ممالک پر نظر آتے ہیں۔

مگر واقع حقیقت میں آب وہوا، گرم خطوں کی وبائیں یا جغرافیائی مفروضے کے کسی بھی استدلال سے ہم عالمی عدم مساوات کی کوئی بھی توجیہ پیش نہیں کرسکتے۔

اگر جغرافیہ کا مفروضہ شمالی اور جنوبی نوگیلز، شمالی اور جنوبی کوریا یا مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان برلن دیوار کے گرنے سے پہلے کے فرقوں کو سند نہیں بخشتا تو کیا یہ اب شمالی سرد اور جنوب کے گرم امریکہ کے درمیان فرق کو قائم کرنے میں مفید ثابت ہو سکتا ہے؟معتدل طول بلد پر واقع یورپ اور گرم صحرائی افریقہ کے درمیان یا زیادہ موثر یکساں آب ہوا کے مالک ایشیائی اور مشرق وسطی کی ریاستوں کے مابین فرق کو۔۔۔۔؟ یکسر نہیں۔
اگر ہم نوگیلز کی ہی مثال لیں تو جو کچھ ان دونوں حصوں کو علیحدہ کرتا ہے وہ نہ تو آب و ہوا ہے، نہ جغرافیہ اور نہ ہی بیماری کا ماحول، بلکہ “خط امتیاز” امریکہ میکسیکو سرحد ہے۔

ثقافت کا نظریہ:
دوسرا وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ مفروضہ “ثقافت” ہے جسے خوشحالی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اگرچہ ہمارے ہاں کا رجائیت پسند طبقہ اس پر کچھ اور بنیادوں پر جزبز نظر آتا ہے۔ یہ مفروضہ بھی عین جغرافیے کی طرح ایک نمایاں سسلہ نسب رکھتا ہے جسکی ایک مثال ماضی کے عظیم جرمن ماہر عمرانیات میکس ویبر تک پہنچتا ہے۔ ویبر استدلال کرتا ہے کہ

“پروٹسٹنٹ اصلاحی تحریک اور اس پروٹسٹنٹ اخلاقیات نے جس کو اس نے تحریک دی مغربی یورپ میں جدید صنعتی معاشرے کے ابھار کو سہل بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا، ثقافت کا مفروضہ اگرچہ اب کلی طور پر مذہب پر انحصار نہیں کرتا بلکہ دوسری قسم کے عقائد اور اخلاقیات پر بھی زور دیتا ہے”۔

تاہم بادئ النظر میں اس ثقافت کی دلیل کا رد ہو سکتا ہے مشکل ہو مگر ایک بار پھر باڑ کے اطراف کے دونوں نوگیلزوں پر نظر ڈالیں تو پہلے لمحے ہی اس عام مقبول مفروضے کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔ امریکیوں اور میکسیکنز کے بیچ اگر بطور حجت بھی کوئ فرق تلاش کریں تو ہمیں کچھ ایسے ہی کڈھب اختلافات ملیں گے کہ، مثال کے طور پر میکسیکنز مخصوص انداز میں کہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں پر کم بھروسہ کرتے ہیں بہ نسبت امریکیوں کے۔ یا لاطینی امریکی کبھی خوشحال نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کے لوگ جبلی طور پر عیاش اور مفلس ہیں اور ایک قسم کی “آئیبرین” یا “منانا” (لیت و لعل) کی ثقافت کا شکار ہیں۔ جبکہ امریکی زیادہ عملیت پسند اور نتائج کے قائل ہیں۔ مگر یہ اختلاف کیسے حیران کن ہوں گے جب انکی حکومت منشیات فروش گرہوں کو ختم نہیں کر سکتی؟

کچھ ایسا ہی منظر شمالی اور جنوبی کوریا کا ہے۔ تقسیم سے پہلے ان کے ہاں زبان، نسل اور ثقافت کے لحاظ سے بے مثال ہم جنسیت پائی جاتی تھی۔ مگر بعین نوگیلز کی طرح جو چیز اہم ہے وہ سرحد ہے نہ کہ ثقافت۔ یہ یقین کہ چینی ثقافت اور کنفوشس اقدار معاشی ترقی کی راہ پر باہم متصادم نظر آتی ہیں، کام کی اخلاقیات کا بطور ترقی کے محرک کے اپنانا، جسکا آج چین، ہانگ کانگ اور سنگا پور میں نتیجہ خیز ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اصل محرک ہے نہ کہ ثقافت۔

جہالت کا نظریہ:
آخری اور انتہائی مقبول عام نظریہ کہ کچھ اقوام امیر اور کچھ غریب کیوں ہیں، جہالت کا مفروضہ ہے۔
کیا جہالت کا مفروضہ عالمی عدم مساوات کی کلی توجیہ کر سکتا ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ افریقی ممالک، وسطی امریکہ، لاطینی یا جنوبی ایشیا کے غریب ممالک باقی دنیا سے اس وجہ سے غریب ہیں کہ انکے رہنما ان ممالک کو چلانے کے حوالے سے وہی غلط نظریات رکھتے ہیں جو غربت کی طرف رہنمائ کرتے ہیں جبکہ مغربی یورپ، کینڈا، امریکہ اور دنیا کے دوسرے امیر ممالک بہتر معلومت اور بہتر مشاورت رکھتے ہیں جو انکی برتری پر دلیل کرتی ہے؟

اگرچہ رہنماوں کی تباہ کن معاشی پالیسیاں اپنانے کی، کیونکہ وہ ان پالیسیوں کے نتائج سے لاعلم تھے کی مشہور مثالیں بھی موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی جہالت کا مفروضہ موضوع کے ایک چھوٹے سے حصے کی ہی توجيہ پیش کر سکتا ہے۔

جسکی ایک مثال کہ ظاہری طور پر وہ طویل معاشی زوال جو برطانیہ سے آزادی کے فوری بعد گھانا میں وارد ہوا جہالت کی وجہ سے ہوا۔ دنیا کی کامیاب ترین معیشت برطانیہ کے معیشت دان ٹونی کیلک نے جو اس وقت کے غاصب حکمران کوامے نکرومہ کی حکومت کے مشیر کے طور پر کام کر رہا تھا بہت سے مسائل کو بہت تفصیلا ریکارڈ کیا ہے۔ نکرومہ کی پالیسیوں کا محور ریاستی صنعت کو ترقی دینا تھا جو بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

مثلاً کلیک نے بیان کیا کہ،
جوتوں کے ایک بڑےکارخانے کے لیے شمال سے حاصل ہونے والی کھالوں کو جنوب میں پانچ سو میل سے اوپر کے فاصلے پر ایک چمڑا رنگنے والے کارخانے سے ملایا گیا۔ پھر چمڑے کو کماسی میں جوتوں کے کارخانے تک واپس پہنچایا جانا تھا جو کہ ملک کے وسط میں اور چمڑا رنگنے والے کارخانے سے دو سو میل شمال میں واقع تھا۔ مستزاد یہ کہ چونکہ جوتوں کی بڑی منڈی دارالحکومت عکرہ کے علاقے میں تھی، لہذا جوتوں کو مزید دو سو میل پیچھے جنوب کی طرف منتقل کیا جانا ہوتا تھا۔

کیلک کے مطابق غلط جگہوں کے انتخاب نے اس بڑے منصوبے کی حیات پذیری کو تباہ کر دیا۔
ایسی بے تکی معاشی پیشرفتوں کے اس غیر مختتم سلسلے کا سبب یہ نہیں کہ نکرومہ اور اس کے مشیر صحیح معاشی پالیسیوں سے بے خبر تھےجبکہ ان کو کلیک اور نوبل انعام یافتہ معیشت دان سر آرتھر لیوس کی مشاورت بھی حاصل تھی، جو یہ جانتے تھے کہ یہ پالیسیاں اچھی نہیں تھیں۔ جس چیز نے ایسی معاشی حکمت عملیوں کو متشکل کیا، یہ دراصل وہ حقیقت تھی جنکی ضرورت نکرومہ کو سیاسی حمایت حاصل کرنے اور اپنی غیر جمہوری حکومت قائم رکھنے کے لیے تھی نہ کہ جہالت۔

یہاں بھی ایک بار پھر اگر امریکہ اور میکسیو کے مخلتف راستوں پر نظر ڈالیں تو یہ امریکہ صدور ٹیڈی روزویلٹ یا ووڈ روولسن اور پرفائیریوڈیاز کے درمیان علم کا فرق نہیں تھا جس نے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں میکسیکو کو ایسے معاشی ادارے چننے پر مجبور کیا جو باقی ماندہ معاشرے کی قیمت پر اونچے طبقے کو امیر بنائیں جبکہ روز ویلٹ اور ووڈروولسن نے اسکے برعکس کیا اور بل گیٹس جیسے لوگ پیدا ہوئے جبکہ میکسیکو میں کارلوس سلیم جیسے کاروباری لوگوں کو ترقی ملی۔ اسی طرح چین کی ناکام اشتراکی معیشت آج عالمی معیشت محض اس وجہ سے نہیں بن گئ کہ چینی کیمونسٹ پارٹی آخر کار جان گئ تھی کہ زرعی زمین اور صنعتوں کی اجتماعی ملکیت خوفناک معاشی محرکات کو جنم دیتی ہے۔ بلکہ ڈینگ زیاو پنگ اور اسکے اتحادی جو مخالفین سے کم بے لوث نہیں تھے، ان کے کیمونسٹوں کے بر عکس سیاسی مقاصد کچھ اور تھے۔ کیمونسٹوں کو شکست دی اور سیاسی انقلاب کا ہر اول دستہ بن گئے جسکے نتیجے میں زراعت میں منڈی کے محرکات پیدا کیے جو بعد میں صنعتی ترقی کی صورت میں اسی سیاسی انقلاب سے ابھرے، نہ کہ کیمونسٹوں کے متاخر ادراک سے۔

آج کے جہموری نظام ہائے حکومت میں البتہ سیاسی طور پر خواندہ جمہور قابل نمائندوں کا انتخاب کر کے اپنے حالات بدلنے میں اپنی مدد ضرور کر سکتے ہیں۔

افراد کا مجموعہ ہی قوم کہلاتی ہے اور افراد کی ترقی اور صلاحیت ہی اقوام کی ترقی ہے۔ اگر بالا تمام علتیں درست نہیں تو پھر وہ کونسے محرکات ہیں جو اولاً افراد کی اور نتیجتاً اور اقوام کی خوشحالی اور ترقی کا سبب بنتے ہیں؟

ایک بار پھر امریکہ میکسیو سرحد کے اطراف کے افراد کی مثال اگر لیں تو، 2010 سے 2013 کے دوران دنیا کا امیر ترین اور 2018 کی عالمی درجہ بندی میں سترویں اور میکسیو کی سب سے امیر ترین اجارہ دار کاروباری شخصیت کارلوس سلیم، ایک لبنانی نژاد میکسیکنز ہے۔ جبکہ عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر عام معروف امریکی مائیکروسوفٹ کمپنی کا مالک بل گیٹس ہے۔

کارلوس سلیم اور بل گیٹس کے کاروباری ترقی کاموازنہ کریں تو ہمیں پس پردہ نہ صرف ان محرکات کا پتہ چلے گا جو دراصل ان قوتوں کی وضاحت کرتے ہیں جو اس کے پیچھے کام کر رہی ہیں بلکہ یہ بالا مفروضات کے رد کا جواب بھی ہیں۔
اگر آپ ایک میکسکین کاروباری ہیں تو داخلے کی رکاوٹیں، مہنگے اجازت ناموں کا حصول اور رشوت ستانی، دفتری پیچیدگیاں، سرکاری عہدہ دار اور سیاستدان جو آپکے راستے میں کھڑے ہونگے، کسی مالیاتی ادارے سے فنڈز کے حصول میں کٹھن مشکلات، اور سرکاری ملازمین کا سامنا جو مخالفین سے ملی بھگت بھی کر لیتے ہیں، کو آپکو بھگتنا ہو گا۔ یہ رکاوٹیں یا تو ناقابل عبور ہونگی جو آپکو منافع بخش گوشوں سے دور رکھیں گی، یا آپکی دوست ہونگی جو آپکے مقابلہ کاروں کو آپ سے دور رکھیں گی۔ کارلوس سلیم اپنے سیاسی تعلقات اور اس کی بنیاد پر اجارہ دارنہ طریقہء کاروبار کے فلکرم سے اس میدان کا ماہر ثابت ہوا اور کامیاب رہا۔

دوسری طرف جیسا کہ انفرادی قابلیت معاشرے کی ہر سطح پر اہمیت رکھتی ہے، جسے ایک مثبت قوت میں تبدیل کرنے کے لیے افرادی صلاحیت سے آگے کے کچھ لوازمات درکار ہوتے ہیں۔ پال ایلن، سٹیو بالمر، لیری پیج اور سٹیو جابز جیسے کامیاب اور نامور افراد کی طرح بل گیٹس بھی اپنے شعبے انفارمیشن ٹکنالوجی میں غیر معمولی صلاحیت کا حامل تھا جسے وہ تمام محرکات جن میں ریاست ہائے متحدہ کا تعلیمی نظام جس نے اس کی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں مدد دی، معاشی ادارے بجائے کوئ رکاوٹ پیدا کرنے کے اسکے منصوبوں میں معاون بنے، محنت کی مارکیٹوں نے اسے سند یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے قابل بنایا اور نسبتا مقابلے والی فضا نے انہیں اپنی کمپنیوں کو وسیع، معیاری اور مارکیٹ میں لانے کے قابل بنایا، میسر تھے۔ یہ سب کیونکر ممکن ہوا ؟ کیونکہ انہیں اعتماد تھا کہ انکے منصوبے روبہ عمل ہو سکتے ہیں اس کو ان اداروں اور انکی پیدا کردہ قانون کی حکمرانی پر بھروسہ تھا، اپنی جائیدادوں اور حقوق کے تحفظ کا یقین تھا۔ آخری بات یہ کہ قومی سیاسی اداروں نے استحکام اور تسلسل کی ضمانت دی۔

مگر قابل تعریف اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مائیکروسوفٹ کمپنی کے بانی اور دنیا کے امیر ترین آدمی اسی بل گیٹس کو ان ہی اداروں کی گرفت سے کوئ نہیں بچا سکا جب آٹھ مئ 1998 کو مائیکروسوفٹ نے اجارہ داری کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے ویب براوسر انٹرنٹ ایکسپلورر کو اپنے ونڈوز چلانے والے نظام کے ساتھ منسلک کر دیا۔ جسکے کے نتیجے میں اسکو امریکی محکمہء انصاف میں دیوانی مقدمات کاسامنا کرنا پڑا اور ہرجانہ ادا کرنا پڑا۔
یہی وجہ ہے کہ جب سیاسی تعلقات اور اجارہ داری کے منہ زور فلکرم کی بنیاد پر بننے والے کارلوس سلیم نے اسی سوچ کے ساتھ امریکہ میں کوشش کی تو کامیاب نہ ہوا۔

کس بات نے کانگو کے با شندوں کو نئے علوم اور جدت پسندی سے دور رکھا ؟، سامراج سے آزادی کے بعد گھانا معاشی آزادی بھی کیوں نہ حاصل کر سکا؟ایک مذہب، ثقافت اور یکساں آب وہوا رکھنے والی مضبوط معیشتوں کی مالک مشرق وسطی کی ریاستوں کے بیچ یمن کا شہری کیوں خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہا ہے؟خوشحال خلیجی طوائف الملوکیت کے پڑوس میں ماضی میں ایک بہتر انفراسٹرکچر رکھنے والا مصر آج کیوں بد حال ہے؟ نوگیلز ایروزونا (امریکہ)اور نوگیلز سونورا (میکسیو) کی سرحدی تقسیم کے بعد کن حالات نے اطراف کے حالات میں اتنا بڑا فرق پیدا کیا؟ایک تاریخ میں آزاد ہونے والے پاکستان اور بھارت کی معیشت میں یہ فرق کیوں؟ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کا تباہ حال جاپان اور آج کا جاپان۔ ۔ ۔ ۔ ؟ نوے کی دہائ تک محض ایک نصف صدی میں جنوبی کوریا کی ترقی اور شمالی کوریا کا جمود اس کبھی ایک متحدہ ملک کے دو نصفوں کے درمیان دس گنا کے فرق پر منتج ہوا۔ شمالی کوریا کی معاشی تباہی جو لاکھوں لوگوں کی فاقہ زدگی پر منتج ہوئ، کو جب شمالی کوریا کی معاشی کامیابی کے مقابل رکھا جائے تو یہ بہت چونکا دینے والی صورت حال ہے، کیونکر پیدا ہوتی ہے؟

“نہ ثقافت نہ جغرافیہ نہ ہی لاعلمی اور نہ ہی جنگی تباہ کاریاں، دونوں طرف کے نوگیلزوں، دیوار برلن کے گرنے سے پہلے مشرقی اور مغربی جرمنی کے فرق اور شمالی اور جنوبی کوریا کے مختلف راستوں کی توجیہ کر سکتے ہیں۔ جواب کے لیے ہمیں کل دو اطراف کے نظام ہائے حکومت اور ادارہ جاتی ترقی اور انکی بلاتمیز اور بے رحم فعالیت پر ایک نگاہ ڈالنی ہو گی”۔

بصورت دیگر اس سے کوئ فرق نہ پڑے گا ہم چاہے کتنے ہی پروفیشنل اور معیشت دان پیدا کر لیں اگر ہم، گھانا کے بادشاہ کی طرح بردہ فروش آمر، سندھ سے پیدا ہونے والے کوئلے سے ساہیوال میں لگائے گئے کول پاور پلانٹ سے بلوچوں کو بجلی دینے کے دعوے کرنے والے اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کا دفاع کر نے والے کوامے نکروموں اور روز افزوں ترقی کرتے غبن، منی لانڈرنگ، ملکی خزانے پر نقب زنی اور ذاتی دولت کے ابنار لگاتے وائٹ کالر منصوبوں کے ماہر، اجارہ داری، دولت کے ارتکاز اور ککس بیک ایسے منافع بخش کاروباروں کے مالک کارلوس سلیم ایسے کرداروں کی تلفی نہ کر سکے۔

خان صاحب قوم آپ سے کم سے کم معاوضوں میں اضافے کا تقاضا نہیں کر رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہی وہ ام الامرض علت ہے جو ناسور بن چکی ہے اور جسکے نا گزیر تدارک کی توقع آپ سے کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: