اقبال اور پاکستان: درست تناظر —— عامر منیر

0
  • 91
    Shares

اقبال کا تعلق پاکستان سے یہ صرف یہ نہیں کہ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ 1930 کا خطبہ الہٰ آباد کوئی سیاستدان بھی پیش کر سکتا تھا، یاد رہے کہ یہ خطبہ اقبال نے بھی ایک سیاسی جماعت کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ اس دور میں مسلمانان برصغیر کے سیاسی مستقبل پر بہت سے سیاسی اور غیر سیاسی اذہان تفکر میں مشغول تھے اور ان کے لئے ایک الگ مملکت کا قیام اس مستقبل کے ممکنہ منظرناموں میں سے ایک کے طور پر اس تفکر کا حصہ تھا۔ پاکستان سے ان کا تعلق محض یہ بھی نہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے لہو کو گرما دینے والی کچھ نظمیں لکھ دی تھیں جنہیں پڑھ کر مسلمانان ہند کے دل میں عظمت رفتہ اور شوکت آئندہ کے آدرش جاگ اٹھتے تھے اور ان آدرشوں کی تحصیل کا ولولہ پیدا ہوتا تھا اور یہ ولولہ تحریک پاکستان کو انسانی توانائی کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھا۔ ایسی لہو کو گرما دینے والی نظمیں لکھنے والے اور بھی تھے اور ان کی نظمیں بھی لاکھوں دلوں کو مرتعش کرتی تھیں، لیکن آج کے پاکستان میں وہ ماضی کا ایک حوالہ ہیں، اقبال کی مانند حال کا حصہ نہیں۔ پاکستان سے اقبال کا تعلق یہ بھی نہیں کہ انہوں نے کچھ ایسے فلسفیانہ مسائل پر غور و فکر کیا جو نئی بننے والی اسلامی مملکت کے نظام اور سمت کا تعین کرنے کی بحث میں اہم حیثیت کے حامل تھے اور پاکستان بنانے والی سیاسی قیادت نے ان مسائل کے باب میں اقبال کی رائے کو ان کی عوامی مقبولیت کے سبب تقدم بخشا۔ یہ سب امور اقبال اور پاکستان کے باہمی تعلق کی مختلف جہتوں کا تعین تو کرتے ہیں، لیکن یہ اس تعلق کی بنیاد، اس کا defining factor نہیں ہیں۔

تو پھر اقبال اور پاکستان کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ آخر وہ کونسا امر ہے کہ آج کے دور میں جب پڑھنے والوں کو روزمرہ اردو سے بھی دشواری کی شکایت عام ہوتی جا رہی ہے، دقیق اور عسیرالفہم فارسی ترکیبوں سے بھری شاعری لکھنے والا اقبال پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر دو طبقہ کے دلوں پر یکساں راج کرتا ہے؟ کیا سبب ہے کہ “مسجد قرطبہ” کے چند اشعار کی بھی تفہیم سے قاصر پاکستانی سے لے کر علوم شرق و غرب پر دسترس رکھنے والے پاکستانی تک سب اقبال سے مسحور ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی نظریاتی سمت، اس کے ماضی، اس کے مستقبل پر مباحث میں موقع بے موقع اقبال یوں در آتا ہے جیسے دن کی بات کرتے ہوئے آفتاب یا رات کی بات کرتے ہوئے ماہتاب گفتگو میں در آئے۔

ديا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
يہ اک مرد تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آيا

ایک نسبتاً زیادہ واضح انداز میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا آج کے پاکستانی سے سوز کا رشتہ ہے، درد دل کا اور اضطراب کا رشتہ ہے۔ ہر وہ دردمند دل جو مضطرب ہو کر پوچھتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم کس سمت میں جا رہے ہیں، اس کی دھڑکن کا آہنگ کسی نہ کسی طور ان دھڑکنوں سے جا ملتا ہے جو کلیات اقبال میں لفظوں کی صورت مسطور ہیں۔ گفتگو کرتے کرتے جب کوئی پوچھتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا تو اس سوال کا ارتعاش اپنے آپ لگ بھگ ایک صدی پہلے پوچھے گئے اس سوال کے ارتعاش سے جا ملتا ہے کہ ہندی مسلمانوں کا کیا بنے گا۔ لیکن اقبال کا دل اپنی قوم کا درد رکھنے والا واحد دل تو نہ تھا، وہ یہ سوال پوچھنے والے واحد فرد تو نہ تھے، بلکہ عطیہ فیضی کے نام ایک خط میں وہ اپنے سماج اور اس کے درمیان اپنی زندگی سے جس قدر بیزار و رنجیدہ معلوم ہوتے ہیں، اس کے پیش نظر بالکل متضاد تاثر بھی آسانی سے لیا جا سکتا ہے، پھر ان کی کیا خصوصیت بچتی ہے؟

عام پاکستانی کا اقبال وہی رہتا ہے جو بہت بڑا تو ہے لیکن فوق البشر نہیں، ماورائیت کے کسی پردے پیچھے مستور نہیں، کوئی سماواتی اوتار نہیں بلکہ زمینی فرد ہے، اِس کے اور اُس کے دل کی دھڑکنوں کا آہنگ ایک ہے، جس سے شخصی اور ذاتی نوعیت کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے اور یہی شخصی اور ذاتی نوعیت کا عام تعلق ہے جو اقبال کو خاص بنا دیتا ہے۔

یہ وہ سوال ہے جس کے جواب میں پاکستان کا خواب دیکھنے والا، مسلمانوں کے لہو کو گرما دینے والا، قادرالکلام شاعر، نہایت مشکل فلسفیانہ سوالوں سے نبرد آزما، اپنی قوم کا درد رکھنے اور اس کے مستقبل کے بارے میں فکرمند لاہور کا رہائشی سیالکوٹی وکیل اپنی تمام تر حیثیتیوں میں مجتمع ہو جاتا ہے اور ان تمام حیثیتوں، تمام اوصاف کے مجموعے کے طور پر ایک ایسی کلیت whole کی صورت میں ابھرتا ہے جو اپنے constituent اجزاء سے وسیع تر، ایک ایسی الگ جداگانہ حیثیت رکھتی ہے جسے علامہ، فلسفی، شاعر، حکیم الامت وغیرہ کہنے سے اس کا حق ادا نہیں ہوتا۔ یہ القاب اگر اس کلیت whole کے ایک پہلو کو نمایاں کرتے ہیں تو دیگر کسی پہلو کو یوں نظر سے اوجھل کر دیتے ہیں کہ تناسب بگڑ جاتا ہے اور یہ کلیت ہمیں کڈھب سی، deformed سی لگنے لگتی ہے۔ اقبال کے معترضین کو دیکھئے تو ان کے بیشتر اعتراضات اسی پیچیدگی کے سبب ہیں، کسی کو “علامہ” اقبال کے بارے میں یہ یاددہانی کرانے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ “عالم دین نہیں تھا” اور “اس نے داڑھی نہیں رکھی تھی”، تو کسی کو “حکیم الامت” اقبال فرسودہ سوچوں اور مشرق کی نرگسیت کا نمائندہ لگتا ہے، کسی کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ مذہب اور خدا پر گفتگو کرنے والا قبال فلسفی نہیں متکلم تھا تو کسی کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ شاہین جیسے خونخوار پرندے کو آئیڈیلائز کرنے والے فلسفی کی آج کل کے “پرامن” زمانے میں کوئی گنجائش نہیں، وغیرہ وغیرہ، یہ سب کسی ایک لقب سے ملقب اقبال کو پکڑتے ہیں اور دکھانا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو یہ اقبال کیسا کڈھب اور غیرمتناسب ہے۔ اس کلیت، اس whole کی ترجمانی کا حق صرف ایک ہی لفظ ادا کرتا ہے اور وہ لفظ خود “اقبال” ہے۔ اقبال شاعر تھا، فلسفی تھا، سیاستدان تھا، لیکن یہ القاب ان کی تمام حیثیتوں کی ترجمانی نہیں کرتے، تھک ہار کر ہمیں یہی کہنا پڑتا ہے کہ اقبال، اقبال تھا اور یہی لفظ ہے جو اس کُل whole کی ترجمانی کا حق ادا کرتا ہے۔ محمد اقبال نام کے بہت سے فرد تھے، ہیں اور ہوں گے لیکن یہ اقبال ایک ہی تھا اور اس کی کلیت کا تعین، کسی خارجی external حوالے سے نہیں، کسی لقب یا کسی ایک حیثیت سے نہیں بلکہ خود اس کی اپنی ذات کے حوالے سے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فکر اِقبال کی عصری معنویت —– محمد حمید شاہد

 

یہی وہ حیثیت ہے جس سے عام پاکستانی اقبال سے relate کرتا ہے، ان سے متعلق ہے، کسی فلسفی سے نہیں، کسی شاعر سے نہیں، کسی سیاستدان سے نہیں بلکہ ایک ہندی مسلمان سے، اپنے جیسے ایک فرد سے جس کا نام اقبال تھا اور جس کی ذات میں یہ سب حیثیتں مجمتع تھیں۔ جو ایک بدلتے زمانے میں اپنی شناخت کے متلاشی ہندی مسلمان کے سوالوں کو شاید تمام جواب نہیں مہیا کر سکا، درد دل کا درماں نہیں دے سکا لیکن ان مشکل سوالوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر ان کے لئے سوال پوچھنا آسان ضرور کر گیا، ان کی جستجو کو ایک جہت ضرور دے گیا، اس درد کو یوں زباں دے گیا کہ یہ فریاد کل بھی اس کی ترجمانی کرتی تھی، آج بھی اس کی ترجمانی کرتی ہے۔

شراب کہن پھر پلا ساقيا
وہی جام گردش ميں لا ساقيا!
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
مری خاک جگنو بنا کر اڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پيروں کا استاد کر
ہری شاخ ملت ترے نم سے ہے
نفس اس بدن ميں ترے دم سے ہے
تڑپنے پھٹرکنے کی توفيق دے
دل مرتضی، سوز صديق دے
جگر سے وہی تير پھر پار کر
تمنا کو سينوں ميں بيدار کر
ترے آسمانوں کے تاروں کی خير
زمينوں کے شب زندہ داروں کی خير
جوانوں کو سوز جگر بخش دے
مرا عشق، ميری نظر بخش دے
مری ناؤ گرداب سے پار کر
يہ ثابت ہے تو اس کو سيار کر
بتا مجھ کو اسرار مرگ و حيات
کہ تيری نگاہوں ميں ہے کائنات

اس تعلق میں عقیدت کا عنصر یقیناً ہے اور بہت زیادہ ہے، لیکن یہ محض عقیدت کا تعلق نہیں۔ ایک پاکستانی اقبال کو تصور میں دیکھتا ہے تو اسے علم اور حکمت کا ایک بہت بڑا، عظیم الشان پیکر نظر آتا ہے جس کے سامنے اسے اپنا آپ بہت چھوٹا اور کوتاہ محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ عظمت اقبال کو اس کے لئے اجنبی نہیں بنا دیتی۔ اقبال اس کے لئے بدھا کے دیوہیکل مجسموں جیسا بت نہیں جس کے سامنے صرف بھجن گائے جا سکتے ہیں اور اس پر چڑھاوے چڑھائے جا سکتے ہیں۔ اسے ایک ایسے بہت بڑے علامہ اور مولانا نہیں دکھائی دیتے جن کی کسی رائے سے اختلاف کرنے میں کفر کا احتمال ہو اور جن کی شبیہہ کو دل کے کسی دوردراز گوشے میں رکھ کر عقیدت کے چراغ جلائے رکھنا اور “دنیاوی کاموں” میں مشغولیت کے دوران اس شبیہہ کے آگے احتراماً پردہ لٹکا دینا ثواب اور اخروی کامیابی کا ضامن ہو۔ خود اقبال کے کچھ کوتاہ اندیش شارحین اور پرستار انہیں ایک ایسے بت کی حیثیت دلانے یا ان کی شبیہہ ایسے علامہ مولانا رحمتہ اللہ علیہ کے طور پر اجاگر کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، اس گمان میں کہ وہ اقبال اور فکر اقبال کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن یہ اقبال اور پاکستان دونوں کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ عام پاکستانی کا اقبال وہی رہتا ہے جو بہت بڑا تو ہے لیکن فوق البشر نہیں، ماورائیت کے کسی پردے پیچھے مستور نہیں، کوئی سماواتی اوتار نہیں بلکہ زمینی فرد ہے، اِس کے اور اُس کے دل کی دھڑکنوں کا آہنگ ایک ہے، جس سے شخصی اور ذاتی نوعیت کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے اور یہی شخصی اور ذاتی نوعیت کا عام تعلق ہے جو اقبال کو خاص بنا دیتا ہے۔ اقبال کا فکری تجربہ experience مسلم ہندوستان کے اجتماعی شعور میں، ان کے شخصی واردات برصغیر کے مسلم سماج کے اجتماعی تجربے میں یوں مدغم ہو جاتے ہیں، اورمسلم برصغیر کا اضطراب، ان کے درد دل میں یوں ضم ہو جاتا ہے کہ جزو اور کل میں امتیاز مٹ جاتا ہے۔ تحریک پاکستان اور پھر پاکستان کی شکل میں جب مسلم برصغیر نے ایک نئی سیاسی سمت اختیار کی، تو اقبال بحیثیت مسلم ہندی سماج کے ترجمان اور بطور تصور پاکستان کے موید، اس وقت کے سیاسی، سماجی اور تاریخی عوامل میں یوں ضم ہو گیا کہ اس تحریک اور اس کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی مملکت کے ہر فرد سے اس کا ایک ذاتی شخصی رشتہ قائم ہو گیا، ایک ایسا رشتہ جو پاکستانی ہونے سے خاص ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی خدانخواستہ ہرگز نہیں کہ اقبال exclusively پاکستانیوں کے ہو گئے ہیں اور افغانیوں، ایرانیوں یا ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق relevant نہیں رہتے۔ ایسا سمجھنا خود “چمن زادیم و از یک شاخساریم” کہنے والے اقبال سے زیادتی ہو گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: