ایک غیر ملکی سیاح کا “سفر نامہ لاہور” — قسط: 2 —– عطاء الحق قاسمی

0
  • 15
    Shares

حاضرین کو چھوہارے مارنا
یہاں شادی کے موقع پر ایک رسم یہ بھی ہے کہ نکاح سے فراغت کے بعد دولہا کے کوئی عزیز محفل میں موجود حاضرین کو چھوہارے مارتے ہیں اسے یہاں چھوہارے لٹانا کہا جاتا ہے ایک چھوہارا میری ناک کو بھی لگا جس کے باعث ناک کئی دن تک سو جی رہی۔ چھو ہارے کے بارے میں وضاحت کردوں کہ جب کھجور پڑی پڑی سوکھ جائے تو یہاں کے لوگ اسے چھو ہارا کہنے لگتے ہیں۔ نیز یہ کہ چھوہارے کی شکل صرف چھوہارے سے ملتی ہے۔

پیسوں کی بارش
ایک رسم یہ بھی ہے کہ گھوڑے یا کار میں سوار دولہا کے کوئی عزیز چین سے بھرا ہوا یک بیگ لے کر بار ات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور موقع بہ موقع بیگ میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالتے ہیں اور پھر پوری قوت کے ساتھ اسے دو مارتے ہیں۔ یہ رسم ان بچوں کو خوش کرنے کے لئے نبھائی جاتی ہے جو صرف پیسے لوٹنے کے لیے بارات کے آگے آگے چل رہے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ اگر کسی بارات میں ایسا نہ ہو تو یہ بچے چند قدم ساتھ چلنے کے بعد ’’اوئے اوئے‘‘ کرنا شر وع ہو جاتے ہیں جس کا مطلب یہاں بارا تیوں کی ’’ناک کٹ جانا‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ناک کٹ جا نے کی وضاحت میں نہیں کر سکتا کیونکہ میں خود نہیں سمجھ پا یا کہ بیٹھے بٹھائے ناک کیسے کٹ سکتی ہے۔ حالانکہ ناک کٹنے کے زیادہ چانسنز دھات کے یہ سکے بارا تیوں کے منہ پر مارنے میں پوشیدہ ہیں۔ بہر حال پیسے لٹا نے کی اس رسم سے بچے اور بار اتی سبھی خوش ہوتے ہیں۔ اس فعل کے دوران اگر کسی کو تشویش ہوتی ہے وہ یا تو کسی کار کے مالک کو ہوتی ہے جس کی ونڈ سکر ین ہر بار خطرے میں پڑ جاتی ہے اور یا پھر کار کی عدم مو جو دگی میں خود گھوڑے کو ہوتی ہے جو متعدد بار دھات کے ان سکوں کی زد میں آتا ہے۔ اس صورت میں اس کے قریب کھڑے افراد حفظ ما تقدم کے طور پر خود بخود ایک دولتی کے فاصلے پر ہو جاتے ہیں۔

آئینہ دکھانا
یہاں شادی سے پہلے دولہا دلہن نے چونکہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہوتا لہذا انہیں ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے دلچسپ طریقہ برتا جاتا ہے دولہا کو عور توں کے کمرے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اور وہاں اسے دلہن کے ساتھ بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہاں دونوں اگر چہ ساتھ ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں تا ہم وہ ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھ سکتے کیونکہ دلہن نے ایک تو گھونگھٹ نکالا ہوتا ہے۔ اور دوسرے اُس نے گردن جھکائی ہوتی ہے۔ اس موقع پر ان کے پاؤں میں ایک آئینہ لا کر رکھ دیا جاتا ہے تا کہ وہ کم از کم ایک دوسرے کی شکل دیکھ سکیں، کیونکہ انہوں نے تمام عمر ایک دوسرے کے ساتھ گزارنا ہو تی، چنانچہ وہ اس آئینے میں ایک دوسرے کی شکل دیکھتے ہیں۔ اور پھر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ تمام عمر ایک دوسرے کے ساتھ بسر کریں گے، اس فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ یہ رسم ادا کرنے سے قبل بزر گوں نے ان کا نکاح پڑھا دیا ہوتا ہے۔

عورت پاؤں کی جوتی
میں نے لاہور میں بیشتر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل اور عورت پاؤں کی جوتی ہے تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ میں نے یہاں لوگوں کی کثیر تعداد کو اس جوتی اور میل کے لیے ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ہے۔ یہ میل تو کچھ لوگوں کے ہاتھ آ جاتی ہے مگر بیشتر اس کے لئے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں البتہ شادی کی بدولت جوتی سب کا مقدر بنتی ہے بلکہ کئی سب جب وہ مزید شادیاں کرتے ہیں۔

سالا اور بہنوئی
عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے کے باعث یہاں سالا ایک گھٹیا چیز اور بہنوئی ایک آسمانی چیز سمجھی جاتی ہے تا ہم ہر شخص جو یہاں بہنوئی کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے۔ وہ بیشتر صور توں میں کسی نہ کسی کا سالا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں ہر شخص کی آدھی زند گی بطور بہنوئی اور آدھی زند گی بطور سالے کے گزرتی ہے۔ ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہاں داماد کو تو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ لیکن گھر داماد کے ساتھ بڑا حقارت آمیز سلوک ہوتا ہے۔ واضح رہے داماد وہ ہوتا ہے جو لڑکی کو بیاہ کر لایا ہوتا ہے اور گھر داماد اسے کہتے ہیں جسے لڑکی بیاہ کر لاتی ہے۔

گھر کی رانی
میں نے ابھی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے کا ذکر کیا گیا تھا مگر یہاں یہ وضاحت ضرو ری ہے کہ اس قسم کے خیالات صرف ان پڑ ھ لوگوں میں پائے جاتے ہیں کیونکہ یہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ عورت کے متعلق اس قسم کے خیالات نہیں رکھتا وہ اسے گھر کی رانی سمجھتے ہیں وراسے پوری پوری عزت دیتے ہیں تا ہم اس رانی کے فرائض میں جھاڑو دینا، برتن صاف کرنا کپڑے دھونا کھانا پکا نا، جھاڑ پونچھ کرنا اور شوہر، نیز اس کے ماں باپ، بہن بھائی رشتے دار اور دوستوں کے ناز نخرے اٹھا نا۔ باقی رہے راجہ کے فرائض سو وہ سب کچھ کرتا ہے جو راجے مہاراجے کرتے ہیں۔

موت کی قبل از وقت اطلاع
انسانی زند گی میں خوشیاں اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں، چنانچہ لاہور میں قیام کے دو ران جہاں مجھے شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملا وہاں نے موت وغیرہ کی رسو مات میں بھی شرکت کی اور سچی بات تو یہ ہیکہ پر اسرار مشرق کی باقی چیزوں کی طرح رسومات بھی مجھے ’’تھر یلنگ‘‘ (Thrilling) محسوس ہوئیں۔ مثلاً مغرب والوں کے لئے یہ اطلاع شاید نا قابل یقین ہو کہ یہاں وفات پا نے والے ہر شخص کو اپنی موت کے گفتگو سے ملا۔ ان میں سے ہر ایک یہی بتاتا تھا۔ کہ مرحوم نے مر نے سے چند گھنٹے یا چند روز قبل کچھ ایسی باتیں کہیں جن سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ وہ عنقریب فوت ہو نے والے ہیں، تاہم میری ملاقات یہاں صحت مند نوجوانوں سے بھی ہوئی اور ان کا محبوب مشغلہ بھی صبح کے ناشتہ سے لے کر رات کے کھانے تک موت ہی کے بارے میں گفتگو کرنا تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ زندگی سے تمام تر مایوسی کے باوجود یہ لوگ بہر حال اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر ہی فوت ہوتے ہیں۔ اور موت وغیرہ کے بارے میں ان کی گفتگو محض ٹائم پاس کرنے کے لئے ہوتی ہے۔

بین ڈالنے کی رسم
دیہات کے بیشتر اور شہر کے بعض گھرانوں میں ایک رسم یہ ہے کہ فوتیدگی کی صورت میں برادری کی خواتین اپنے گھر سے مر نے والے کے گھر تک ننگے پاؤں بین کرتی ہوئی جاتی ہیں۔ گھر کے قریب پہنچتے پہنچتے ان کی آہ و زاری بلند سے بلند تر ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ گھر کی دہلیز میں قدم رکھتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی کہرام مچ جاتا ہے۔ اس موقع پر وہ باری باری مرنے والے کے قریبی لواحقین کو جپّھا ڈال کر رو نے جیسی آوازیں نکالتی ہیں۔ وہ اپنی خشک آنکھیں چھپا نے کے لئے لمبا گھونگھٹ نکال لیتی ہیں۔ تا ہم اگر رو نے کر لائے کے دوران ان کی خشک آنکھیں نظر آ جائیں تو بھی یہ کوئی معیوب امر نہیں گرد انا جاتا کیونکہ دو نوں پا رٹیوں کے در میان یہ چیز ’’سٹڈ‘‘ (Understood) ہوتی ہے۔

مرحوم کس طرح فوت ہوئے تھے؟
تعزیت کے لئے والے لوگ مر نے والے کے کسی قریبی عزیز سے پہلے تعزیت کے کلمات کہتے ہیں اور پھر ان میں سے ہر کوئی یہ سوال پو چھتا ہے کہ مرحوم کس طرح فوت ہوئے تھے؟ در اصل یہ سوال تعزیت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے، چنانچہ مرحوم کا وہ عزیز وفات سے تین چار روز قبل کے واقعات خصوصاً مر نے سے چند گھنٹے قبل کے واقعات پوری تفصیل سے سناتا ہے اور کسی ایک خاص مقام پر پہنچ کر دھاڑیں مار نے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کوئی دوسرا شخص تعزیت کے لئے آتا ہے اور پوچھتا ہے ’’مرحوم فوت کس طرح ہوئے تھے؟‘‘ چنانچہ وہ یہ داستان غم ایک بار پھر پو ری تفصیل سے سناتا ہے اور مقررہ وقت پر دھاڑیں مار نے لگتا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جا ری رہتا ہے جب تک تعزیت کرنے والے آتے رہتے ہیں۔ اور پو چھتے رہتے ہیں کہ مرحوم آخر فوت کس طرح ہوئے تھے ؟ حتی کہ مرحوم کا وہ عزیز نڈھال ہو جاتا ہے اور پھر وہ ہر تعزیت کرنے والے آنکھوں ہی آنکھوں میں بتاتا ہے کہ مرحوم دراصل اس طرح فوت ہوئے تھے۔

کندھا دینا
یہاں میت کو ایمبو لینس کی بجائے چار پائی پر ڈال کر قبرستان تک لے جایا جاتا ہے چنانچہ باری باری چار آدمی چار پائی اٹھاتے ہیں اور اسے یہاں ’’کندھا دینا‘‘ کہا جاتا ہے کئی دفعہ اس طرح بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص کندھا دینے کے لئے آگے بڑھتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد وہ منتظر ہوتا ہے کہ کوئی دوسراشخص آگے بڑھے او اسی جگہ کندھا دے مگر اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو تی، چنانچہ اسے ڈگمگاتی ٹانگوں کے ساتھ اس وقت تک یہ سفر طے کرنا پڑتا ہے جب تک کوئی دوسرا شخص اس کی دستگیری کو نہیں پہنچتا۔ یہ سفر اس صورت میں زیادہ طویل محسوس ہو نے لگتا ہے جب مرحوم کی شخصیت زیادہ وزنی ہوا اور کندھا دینے والے کا قد باقی تین کندھا دینے والوں سے ہم آہنگ نہ ہو۔

مردوں کو فرائی کرنا
کسی محفل میں میری ملاقات ایک سو گوار شخص سے ہوئی جس کے وا لد کو فوت ہوئے کچھ عرصہ گزرا تھا۔ وہ اپنے والد کی وفات سے متعلق گفتگو کر رہا تھا۔ ور کہہ رہا تھا ’’پورے نو من گھی خر چ ہوا ہے‘‘ اس سے میں نے اندازہ لگا یا کہ شاید یہاں مردوں کو تل کے دفن کیا جاتا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ میرا یہ اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ متذکرہ شخص کا نو من گھی چہلم کی رسومات کی ادائیگی کے سلسلے میں خر چ ہوا تھا۔

قل اور چہلم کی رسومات
قل اور چہلم کی رسو مات کو یہاں مذہبی اہمیت حا صل ہے۔ قل کی رسم وفات کے تیسرے روز ادا کی جاتی ہے جبکہ چہلم کی تقریب چالیس دن پورے ہو نے کے بعد منائی جاتی ہے اس روز مرحوم کے عزیز و اقارب جمع ہوتے مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کے لئے پلاؤ زردہ اور قورمہ وغیرہ پکا یا جاتا ہے تا کہ غربا و مساکین میں تقسیم کیا جا سکے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ ’’خیرات کا آغاز گھر ہی سے کیا جاتا ہے‘‘۔ یہ محاورہ غالباً یہاں بو لی جا نے وا لی زبان میں بھی موجود ہے کیونکہ یہ پلا ؤ، قورمہ اور زردہ وغیرہ مرحوم کے عزیز و اقارب کھاتے ہیں۔ اور اس روز مرحوم کے گھر میں جشن کی سی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس روز صرف دو تین چہرے سو گوار نظر آتے ہیں۔ جو مرحوم کے قریب ترین عزیزوں میں سے ہوتے ہیں۔

بو ٹی کی تلاش
چہلم کی ایک تقریب میں مجھے بھی جا نے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا کہ لوگ یہاں کھا نے پر جھپٹ رہے تھے۔ ساتھ ساتھ ٹھٹھا مخول بھی جاری تھا۔ کھا نے کے اختتام پر لوگ مختلف ٹو لیوں میں بٹ گئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ ان میں سے ایک گر وہ کے چہروں پر خاصا کھچا ؤ تھا۔ اور وہ راز دارانہ انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔ میں نے ہمراہی سے پو چھا کہ یہ کون لوگ ہیں اور کیا گفتگو کر رہے ہیں۔ اس نے بتا یا کہ یہ کھانے کی گھٹیا کوالٹی پر بڑ بڑا رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ شوربہ پانی کی طرح پتلا تھا ور اس میں بوٹی ڈھونڈنے پہ بھی نہیں ملتی تھی۔ نیز یہ کہ برادری کے لوگ ہیں اور انہیں شریک کہا جاتا ہے۔

تعزیتی وفود
مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کے لئے آنے والے لوگ صرف وفات سے تین چار روز تک ہی نہیں آتے بلکہ یہ سلسلہ پورا سال جا ری رہتا ہے۔ بسا اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ مرحوم کے لواحقین مرحوم کو بھول چکے ہوتے ہیں اور نئے سرے سے زندگی کی خوشیوں میں شر یک ہو گئے ہوتے ہیں۔ کہ کوئی تعزیت کنندہ اچانک کسی روز گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ معذرت کرتا ہے کہ وہ بعض نا گزیر وجوہ کی بنا پر اتنا عرصہ تعزیت کے لئے حاضر نہ ہو سکا اور پھر اس کے بعد وہ مرحوم کے بارے میں رقت آمیز گفتگو شروع کر دیتا ہے۔ اس پر ایک بار پھر کہرام مچ جاتا ہے اور جب آہ بکا کا یہ سلسلہ اپنے عروج پر پہنچنے لگتا ہے تو وہ اجازت طلب کرتا ہے کیونکہ اسے ایک جگہ شادی کی مبارک باد کے لئے بھی جانا ہوتا ہے۔

قیام و طعام کا معقول بندوبست
مرحوم کی تجہیز و تکفین کے سلسلے میں آنے وا لے عزیز و اقارب ان رسومات سے فراغت کے بعد اپنے اپنے گھروں کو نہیں لوٹتے بلکہ ان میں سے کئی ایک مرحوم کے لواحقین کو تسلی وغیرہ دینے کے لئے مہینہ در مہینہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ و ہیں قیام کرتے ہیں اس دوران ان کی پوری پو ری مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ مجھے اہل مشرق کی یہی چیز پسند ہے کہ ایک تو وہ مہمان نواز بہت ہیں اور اس کے لئے موقع محل کی کوئی قید نہیں اور دوسرے میں ان میں با ہمی محبت، غمگساری اور ایک دوسرے کا درد بٹا نے کے جذبات بہت قوی ہیں۔ ان دونوں جذبات کا بھر پور اظہار میں نے موت وغیرہ کے موقع پر بطور خاص دیکھتا ہے۔

بے اعتباری
لاہور میں قیام کے دو ران مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں لوگ بعض صورت میں مرحوم کی میت غائب کرا دیتے ہیں تاہم رفع شک سے بچنے کے لئے اگلے روز اخبار ات میں یہ خبر شائع کر دی جاتی ہے کہ مرحوم کو دفنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ بیشتر لوگ اس الزام سے بچنے کے لئے بطور خاص، خبر کے آخر میں یہ جملہ ضرور شا مل کراتے ہیں کہ ’’مرحوم کو سینکڑوں افراد کی مو جودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا‘‘۔ ’’ممکن ہے خبر میں دفناتے وقت سینکڑوں میں افراد کی موجودگی‘‘ پر زور دینے میں کوئی اور مصلحت پوشیدہ ہوتا ہم دھیان اُس خدشے کی طرف ضر ور جاتا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔

جنازوں کے مہمان خصوصی
موت وغیرہ کے سلسلے میں اخباری خبروں سے مجھے ایک اندازہ یہ بھی ہوا کہ یہاں عام تقریبات کے علاوہ جنازوں میں بھی مہمان خصوصی کا معقول بندوبست کیا جاتا ہے۔ اور یہ چیف گیسٹ مرنے والے کے سٹیٹس کے مطابق ہی ہوتے ہیں چنانچہ خبر میں دیگر تفصیلات بیان کرنے کے بعد آخر میں اس مہمان خصوصی کا بطور خاص ذکر ہوتا ہے۔ کہ جنا زہ میں فلاں وزیر جج یا افسر نے بھی شرکت کی۔ مر نے والا اگر زیادہ بڑا آدمی ہو تو مہمان ایک سے زیادہ ہو جاتے ہیں چنانچہ اس صورت میں خبر میں بتا یا جاتا ہے کہ جنازے میں معز زین شہر کے علا وہ وزرا، ججوں اور افسروں نے شرکت کی۔ مجھے اس نوع کی خبروں میں صرف لفظ علاوہ کچھ عیب سا معلوم ہوا ہے۔

ایک مرحوم کی مقبولیت
یہاں مجھے ایک ایسے جنازے میں شرکت کا اتفاق ہوا جس میں مرحوم کے بیٹے اور دیگر ورثا دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ لوگ انہیں دلا سا دیتے تھے مگر ان کے آنسو تھے کہ تھمنے میں نہیں آتے تھے۔ میں نے زند گی میں بہت سو گوار خاندان دیکھے ہیں، لیکن اس قدر دلدوز آہیں اس سے پہلے کبھی نہیں سنیں۔ حیرت انگیز امر یہ تھا کہ آہ و بکا کرنے والوں میں صرف مرحوم کے ور ثا ہی شا مل نہ تھے۔ بلکہ گرد و نواح کے دکاندار بھی اس ما تم میں برا بر کے شر یک تھے۔ اپنوں اور غیروں میں اس قدر مقبولیت بلکہ محبوبیت کا یہ مظاہرہ یقیناً میرے لئے قا بل رشک تھا تا ہم ایک شخص نے مجھے بتایا کہ دراصل مرحوم بہت مقروض ہو کر فوت ہوئے ہیں۔

کلمہ شہادت
یہاں جنازوں میں ایک رسم یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ کندھا دینے والا ہر شخص زور سے کلمہ شہادت کا نعرہ لگاتا ہے۔ اور ایسا کرتے وقت جواب کی کوئی توقع نہیں رکھتا۔ کندھا دینے کے بعد وہ جنازے کے پیچھے چلنے والے احباب میں دوبارہ شا مل ہو جاتا ہے جسے وہ بیچ ہی میں چھو ڑ کر چلا گیا تھا پھر ان میں سے کوئی دوسرا شخص کندھا دینے کے لئے ’’ایکسکیوز می‘‘ کہہ کر تھوڑی دیر کے لئے احباب سے اجازت چاہتا ہے اور کلمہ شہادت کہہ کر کندھا دینے لگتا ہے۔ ایک جنازے میں لوگ اس طرح مصروف گفتگو تھے۔ ایک پر جوش شخص یک جماعتی حکو مت کی حمایت میں بڑے شد و مد سے گفتگو کر رہا تھا دن پارٹی گورنمنٹ ہمارے تمام مسائل کا حل ہے ہم لوگ جمہوریت افورڈ نہیں کر سکتے اور تم دیکھنا یہاں یک جماعتی حکو مت قائم ہو کر رہے گی۔ اس وقت تم سب وہی کہو گے جو میں کہہ رہا ہووں۔ کلمہ شہادت۔

زندہ درگور
مجھے قبرستان جانے کا اتفاق بھی ہوا اور ان قبرستانوں کی حا لت دیکھ کر مجھے پتہ چلا کہ یہاں لوگ موت سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ تاہم صاحب حیثیت لوگ یہاں بھی اپنے لیے خصوصی بند و بست کر لیتے ہیں چنانچہ میں نے یہاں ایک ایک کنال کے رقبہ میں چھ سات فٹ کی قبریں بھی دیکھی ہیں۔ بعض قبروں میں روشن دان بھی دیکھے اور ان کے ساتھ وسیع و عریض لان بھی پا یا جہاں رنگا رنگ پھول کھلے ہوئے تھے۔ اکثر قبروں پر میں نے مرحوم کے نام کے ساتھ ان کا عہدہ بھی درج پایا یہ سب اہتمام دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے مرحوم فوت نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے کوٹھی تبدیل کر لی ہے۔

جاری ہے—

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: