ایک غیر ملکی سیاح کا “سفر نامہ لاہور” — قسط: 1 —– عطاء الحق قاسمی

0
  • 28
    Shares

نامور مزاح نگار عطا الحق قاسمی کی کلاسیک کے درجہ کی یہ تحریر پانچ حصوں میں دانش کے قارئین کے لیئے آج سے پیش کی جارہی ہے۔ ایسی تحریروں کا ذایقہ عمر بھر زبان پر اور خوشگوار اثر اعصاب پر رہتا ہے۔


ان دنوں جو پاکستانی ادیب بھی بیرون ملک جاتا ہے وہ واپسی پر سفر نامہ ضرور لکھتا ہے۔ اس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ جو غیر ملکی پاکستان آتے ہوں گے واپسی پر وہ بھی یقیناً ایک عدد سفرنامہ ضرور قلمبند کرتے ہوں گے۔ جس طرح ہمارے ہاں کے بعض سیاح کسی غیر ملک میں گزارے ہوئے چند گھنٹوں ہی سے اس کی تہذیب اور تمدن کا کچا چٹھا کھول کر ہمارے سا منے رکھ دیتے ہیں اسی طرح ممکن ہے بعض غیر ملکی سیاح بھی سپر ایکسپریس پر پاکستان کا ایک چکر کاٹنے کے بعد اپنے قارئین کو پاکستانی عوام اور یہاں کی معاشرت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات دے ڈالتے ہوں، سو ہم نے چشم تصور میں ایک ایسے غیر ملکی سیاح کا سفرنامہ ملاحظہ کیا ہے جس نے چند روز لاہور میں قیام کیا اور پھر اپنے تاثرات ایک کتابی صورت میں پیش کر دیے۔ اس ’’سفر نامے‘‘ کے کچھ حصے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

ایک حیرت انگیز رسم :
میرے لیے یہ امر باعثِ حیرت تھا کہ پاکستان میں عور توں اور مردوں سے کہیں زیادہ مردوں اور مردوں کو اختلاط کی آزادی حاصل ہے۔ کیونکہ میں نے بے شمار نوجوانوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں چلے جا رہے تھے اسی طرح میں نے مردوں کو عورتوں سے زیادہ ’’سیکسی‘‘ لباس میں ملبوس پایا۔ انہوں نے سکرٹ قسم کی کوئی چیز پہنی تھی جسے وہ اتنا اوپر اٹھا کر چلتے تھے کہ وہ منی سکرٹ بلکہ مائیکرو منی سکرٹ میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ میں نے لوگوں کو برسر عام کسی ایسی دیوار کی طرف منہ کر کے جس پر کسی گدھے کی تصویر بنی ہوئی تھی، دھواں ’’دھار‘‘ حرکت کرتے ہوئے بھی پایا۔ کئی ایک لوگوں کو اس کام سے فراغت کے بعد اپنے محرک ہاتھ کے ساتھ اِدھر اُدھر ٹہلتے بھی دیکھا۔ اگلے روز میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی ’’شارع عام پر فحش حرکات کرتے ہوئے گرفتار…..‘‘۔ یقیناً وہ یہی لوگ ہوں گے۔

شادی کی رسوم
مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ پاکستان میں شادی کے لئے لڑکے اور لڑ کی کا راضی ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کے والد ین کا راضی ہونا ہے‘ تاہم وہ اس سلسلے میں اولاد کی مرضی ضرور دریافت کرتے ہیں۔ اگر لڑکا لڑکی ’’ہاں‘‘ کر دیں تو یہ شادی ہو جاتی ہے اور اگر ’نہ‘ کہیں ……. تو بھی ہو جاتی ہے۔ مجھے یہاں ایک شادی میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ بارات میں بے شمار لوگ تھے جو پیدل چل رہے تھے اور دولہا گھوڑے پر بیٹھا تھا۔ دولہے کو گھوڑے پر بٹھانے کی رسم میرے لیے ناقابل فہم تھی ممکن ہے اس کا تعلق گھوڑے کی ذہنی سطح یا ’’ہارس پاور‘‘ وغیرہ سے ہو۔ بارات میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے سر پر کچھ صندوق اٹھائے ہوئے تھے۔ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ اس میں دلہن وغیرہ کے لیے قیمتی پارچہ جات ہیں جو دلہن والوں کو دکھا کر دولہا واپس اپنے گھر لے جائے گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ان کپڑوں کو ’’وری‘‘ کے کپڑے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ’’وری‘‘ سن کر بہت چونکا کیونکہ ہمارے ہاں بھی یہ لفظ موجودہ اور انہی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں وری (worry) کا مطلب ’’پریشانی‘‘ ہے۔ اور جن کپڑوں کو یہاں ’’وری‘‘ کہا جاتا ہے وہ بھی پریشانی ہی کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ انہیں بلا وجہ اٹھا کر دلہن کے گھر لے جانا پڑتا ہے جبکہ بالآخر انہیں واپس دلہا کے گھر آنا ہوتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے قد یم ذرائع
مجھے لاہور اس لحاظ سے بھی اچھا لگا کہ یہاں کے لوگ اپنی بے پناہ خوشحالی اور حد درجہ ماڈرن ہونے کے باوجود بعض قدیم روایات کو بھی عزیز رکھتے ہیں۔ اس میں سر فہرست ٹرانسپورٹ کے ذرائع آتے ہیں جن میں زمانہ قدیم سے ابھی تک سرمو تبدیلی نہیں کی گئی، چنانچہ مجھے یہاں ایک ایسی سواری پر بیٹھنے کا اتفاق ہوا جس کے تین پہیے تھے۔ اگلی نشست پر صرف ڈرائیور بیٹھتا تھا اور پچھلی نشست دو مسافروں کے لیے تھی۔ اسے رکشہ کہا جاتا ہے، اس میں سفر کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگلی نشست صرف ڈرائیور ہی کے لئے کیوں مخصوص کی گئی ہے۔ اس تیز رفتار اور ہجوم میں ’’زگ زیگ‘‘ (Zigzag) بناتی ہوئی سواری کی اگلی نشست پر دراصل بیٹھ بھی وہی سکتا ہے جو کسی سرکس کا انتہائی ماہر فنکار ہو۔ شیر کے منہ میں گردن ڈال سکتا ہو۔ اسی طرح ایک لاہور دوست مجھے ایک پنجا بی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ دکھا نے کے لئے اپنے ہمراہ لے گیا۔ اس کے ایک سین میں ہیر کو اس کا چچا مارتا ہے جس کے باعث ہیر کے ماتھے سے خون بہنے لگتا ہے۔ اس پر اسے فوراً ایک لکڑی کی بنائی ڈولی میں بٹھا دیا جاتا جسے چار افراد کاندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ یقیناً اسے ہسپتال لے گئے ہوں گے۔ میرے لیے یہ ایمبو لینس بہت (Fascinating) تھی۔ ہم یورپ والے اپنی قد یم روایات کو بالکل ترک کرتے جارہے ہیں۔ جو کوئی اچھی بات نہیں۔

انگریز کا بچہ
لاہور کے عوام کو انگریز قوم کے ساتھ شدید محبت ہے اور وہ آج بھی انہیں یاد کیا کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ بات خاصی باعث حیرت تھی کیونکہ انگریزوں نے ڈیڑھ سو برس تک یہاں کے لوگوں کو غلام بنائے رکھا ہے اور اس دور ان ان پر سخت مظالم روا رکھے لیکن اس کے با و جود لوگ انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ انگریز کا جو اب نہیں تھا۔ ایک روز گلی میں سے گزرتے ہوئے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے بچے کو گود میں لیے ہلکارے دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ منہ سے کچھ بو لے بھی جاتا تھا میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ اپنے بچوں کو بہلا نے کے لئے ان کے ساتھ کس قسم کی گفتگو کرتے ہیں، چنانچہ میں نے اپنے ہمراہی سے پو چھا کہ یہ شخص کیا کررہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ شخص اپنے بچے کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ ’’آ ہا۔ میرا بیٹا تو کسی انگریز کا بیٹا لگتا ہے‘‘۔

ایک حکیم سے ملاقات
میرے معدے میں خاصی گڑبڑ تھی، چنانچہ میں نے راستے میں ایک حکیم کی دکان دیکھی تو اندر داخل ہوگیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے ایک مریض نے بتا یا کہ حکیم صاحب ملک کے بہت بڑے طبیب ہیں۔ میں علاج کے لیے کسی ڈاکٹر کی دکان پر بھی جا سکتا تھا لیکن میں نے طب مشرق کے کمالات کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، چنانچہ میں نے خود کو یہاں پا کر بہت تھرل (Thrill) محسوس کی۔ حکیم صا حب کے کمرے میں چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھی۔ اور وہ درمیان عینک چہرے پر چڑھائے ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری نبض دیکھی ور اس دوران آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے۔ ان کے چہرے پر غور و فکر کی گہری لکیریں تھی۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا ہاتھ نبض پر سے اٹھایا۔ آنکھیں کھولیں اور پوچھا: ’’عربوں کی طرف سے تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کا آپ کی معیشت پر کیا اثر پڑا ہے؟‘‘ میں اس سو ال پر بہت سٹپٹایا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ میری مرض کے بارے میں مجھ سے پوچھیں گے جب میں نے دانستہ طور پر اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تو انہوں نے دوسرا ہاتھ دکھانے کو کہا اور ایک بار پھر کچھ دیر کے لئے گہرے غور و فکر میں مبتلا ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ہاتھ اٹھایا۔ عینک اٹھا کر میز پر رکھی اور میری طرف دیکھ کر پوچھنے لگے: ’’کیا انگولا کی صورت حال میں تبدیلی کا کوئی امکان ہے؟‘‘ اس بار میں سخت جھنجھلایا اور میں نے بالکل چپ سادھ لی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ روایات کے مطابق دراصل طب مشرق سے وابستہ افراد صرف طبیب ہی نہیں ہوتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاستدان، سماجی کارکن، شاعر اور ادیب بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکیم صاحب کے ہاں جو ہزاروں کتا بیں نظر آرہی تھی ان میں سے چند ایک طب کے موضوع پر بھی تھیں باقی کتابیں دیگر فنون سے متعلق تھیں۔ ایک نازک سا فرق یہ بھی معلوم ہوا کہ ان اطباء کےنا مور آباؤ اجداد اپنے پیشے میں مکمل مہارت اور تمام تر دلچسپی کے پیرو کار زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم حصہ لینے کے بعد اگر کچھ وقت بچتا ہے تو وہ طبابت پر صرف کرتے ہیں۔

وچولے
جس طرح جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے ہمارے ہاں مختلف ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ اسی طرح مشرق میں باقاعدہ ایسے ادارے بھی مو جود ہیں جو جائیداد کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ شادی کے لئے مناسب رشتوں کے ضمن میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ان ’’وچولوں‘‘ کے پاس معاشرے کے تمام طبقوں سے متعلق لوگوں کے نام پتے اور ان کی تصویریں موجود ہوتی ہیں چنانچہ یہ گاہکوں کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرنے کے بعد انہیں لڑکے اور لڑکی کے بارے میں مکمل کوائف مہیا کرتے ہیں اور بوقت ضرورت تصویر بھی مہیا کر دیتے ہیں ہمارے ہاں بھی کچھ ایسے ادارے مو جود ہیں مگر واضح رہے وہ شادی بیاہ سے متعلق نہیں ہیں۔

اخباروں میں اشتہارات
اس کے علا وہ کئی لڑ کیوں کے وا لدین ذاتی طور پر بھی اخبار میں اشتہار دیتے ہیں جس میں دیگر کوائف کے علاوہ لڑکی کی ذاتی جائیداد کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہوتی ہے اس طرح لڑکے کے والدین کی طرف سے جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں ان میں ذات پات اور عقیدہ کے تعین کے علا وہ اس امر پر بھی زور دیا گیا ہوتا ہے، کہ لڑ کا اعلیٰ تعلیم کے لئے باہر جانا چاہتا ہے یا یہ کہ وہ کاروبار کا متمنی ہے۔ چنانچہ صرف ایسے حضرات رجوع کریں جو اس سلسلے میں اس کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔

سلامی
مجھے یہاں ایک شادی میں شرکت کا اتفاق ہو ا۔ بڑی پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا تا ہم میں نے دیکھا کہ کھانے سے قبل لوگ ایک ایک کرکے دولہا کے پاس جاتے تھے اور اسے کچھ روپے پیش کرتے تھے۔ دولہا کے ساتھ ایک شخص بیٹھا تھا جو یہ رقم گنتا اور ایک کاپی میں درج کرتا چلا جاتا۔ مجھے یہ رسم بہت اچھی لگی کہ ہر کوئی اپنے کھا نے کا بل خود ادا کرتا ہے ہمارے ہاں اسے ’’ ڈچ سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے جب کے یہاں کے لوگ اسے سلامی کہتے ہیں۔

بارات پر سنگ زنی
جسر سم کا میں ذکر کرنے لگا ہون مجھے وہ کود دیکھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا البتہ ایک پاکستانی دوست نے مجھے بتا یا کہ یہاں بعض دیہات میں جب لڑکے والے بار ات لے کر دلہن کے گھر پہنچتے ہیں تو دلہن کے رشتے دار عورتیں مکان کی چھت پر سے انہیں خوب اور ہر طرح کی گالیاں دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں پتھر بھی مارتی ہیں۔ لیکن دولہا اور باراتی اس کا برا نہیں مانتے۔ مجھے یہ رسم اچھی نہیں لگی۔ ہمارے ہوں بعض لوگ شادی کے ’’انسٹی ٹیو شن‘‘ کے خلاف ہیں اور وہ اس امر کو ایک غیر فطری فعل سمجھتے ہیں کہ ایک عورت اپنی تمام عمر ایک مرد کے ساتھ اور ایک مرد اپنی تمام عمر ایک عورت کے ساتھ صرف کردے تاہم وہ شادی کے ’’انسٹی ٹیو شن‘‘ کے خلاف اپنا نکتہ نظر اس جارحانہ انداز میں پیش نہیں کرتے جس طرح پنجاب کے ان دیہات میں کیا جاتا ہے۔

دولہا کے ساتھ ہنسی مذاق
لاہور میں جس شادی میں شرکت کا مجھے اتفاق ہوا تھا۔ اس میں ایک رسم میں نے یہ بھی دیکھی کہ شادی کے اگلے روز جب دولہا اپنی دلہن کو اس کے وا لدین کے گھر لے جاتا ہے تو دولہا کی سالیاں اس کے ساتھ بہت ہی مذاق کرتی ہیں۔ مثلاً وہ بغیر فوم کے پلنگ پر صرف چادر بچھا کر دولہا کو اس پر بیٹھنے کے لئے کہتی ہیں۔ اور دولہا لا علمی کی بنا پر اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ میرے دوست کے ساتھ بھی یہی مذاق کیا گیا تھا اور کل مجھے اس کا خط موصول ہوا ہے جس میں اس نے بتایا کہ وہ ابھی تک ہسپتال ہی میں ہے۔

جوتی چرانے کی رسم
اس موقع پر دولہا کی سالیاں اپنے برادر اِن لا کو جوتیاں اتار کر بیٹھنے پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ وہ جوتیاں اتارتا ہے تو موقع پا کر سالیاں جوتی غائب کر دیتی ہیں، بعد میں اس جوتی کی وا پسی کے لئے دولہا کو منہ مانگی رقم ادا کرنی پڑتی ہے مجھے بتایا گیا کہ جوتی چرانے کی رسم شادی بیاہ کے علا وہ ہر جمعہ کو مسجدوں کے باہر بھی ادا کی جاتی ہے اور یہ رسم سالیاں ادا نہیں کرتیں ممکن ہے یہ رسم سالے ادا کرتے ہوں تاہم میں نے اس ضمن میں کوئی تحقیق نہیں کی۔

جاری ہے، دوسرا حصہ کل ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: