غیرت مند —- شوکت حسین شورو کا سندھی افسانہ ۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

0
  • 16
    Shares

صبح کا وقت تھا۔ گاؤں کے لوگ جو کھیتوں میں گئے ہوئے تھے، وہ یہ کہتے ہوئے بھاگتے ہوئے آئے کہ سیلاب آ رہا ہے۔ ہر کوئی تھوڑا بہت سامان لے کر گاؤں سے نکلنے کی بھاگ دوڑ میں لگ گیا۔ عارب اور اس کا چھوٹا بھائی قاسم بھی بھاگتے ہوئے گھر آئے۔

’’جلدی کرو، کپڑے لتے، تھوڑا بہت ضروری سامان جو بھی لے سکو، لے کر نکلو۔ سیلاب بس اب آیا کہ تب آیا۔‘‘
قاسم کی بیوی زرینہ پیٹ سے تھی۔ آٹھواں مہینہ چل رہا تھا۔ وہ اٹھی اور ضروری اشیاء سمیٹنے لگی۔
’’صفوراں کہاں ہے؟‘‘، عارب نے پوچھا۔
’’کچھ دیر پہلے باہر گئی ہے۔‘‘ زرینہ نے جواب دیا۔
’’اسے بھی ابھی باہر جانا تھا۔ لوگوں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی اسے باہر جانے کی۔۔۔‘‘ عارب نے غصے سے کہا۔

’’میں دیکھ کر آتا ہوں۔‘‘ کہتا ہوا قاسم جلدی باہر نکل گیا۔ باہر آ کر ارد گرد نظریں دوڑائیں، پر وہ کہیں دکھائی نہیں دی۔ وہ گھوم کر گھر کے پچھواڑے کی طرف گیا۔ کچھ فاصلے پر صفوراں، رمضان کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر قاسم کا پارہ چڑھ گیا۔ اس کی رمضان کے ساتھ ویسے ہی ان بن تھی اور اب جو اسے بھرجائی کے ساتھ اتنی نزدیکی سے بات کرتے دیکھا، تو وہ چراغ پا ہو اٹھا۔ قاسم کلہاڑی لے کر ان کی طرف دہاڑتا ہوا بڑھا۔ رمضان نے اسے دور سے آتے دیکھا، تو وہ سر پٹ بھاگ گیا۔ صفوراں پتھرا سی گئی۔ قاسم نے ایک لمحے کی دیر نہ کی، ’’تم کاری ہو‘‘ کہتے ہوئے کلہاڑی کا زوردار وار اس کی گردن پر کیا۔ وہ دھڑام سے نیچے گری۔ قاسم الٹے قدموں گھر لوٹا، ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ خون سے تربتر کلہاڑی لے کر گھر پہنچتے ہی اپنے بھائی عارب کے سامنے رکھ دی۔ عارب ہکا بکا رہ گیا۔

’’یہ کیا کر آئے؟‘‘ عارب کی چیخ نکل گئی۔
’’بھرجائی کا قتل کر آیا ہوں۔‘‘ قاسم کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کی شکل میں بھی ایک وحشت تھی۔ زرینہ کانپنے لگی، خون سے رنگی کلہاڑی دیکھ اس کا جی متلانے لگا۔ عارب کا چھ سالہ بیٹا اور چار سالہ بیٹی، دونوں خوفزدہ ہو کر باپ اور چچا کو دیکھنے لگے۔

’’کیوں کیا؟‘‘ عارب نے ڈوبتی آواز میں پوچھا۔
’’پچھواڑے میں رمضان کے ساتھ اسے دیکھا۔‘‘ قاسم نے کہا۔
’’ایسا کیا دیکھ لیا۔۔۔؟‘‘ عارب نے پھر سوال کیا۔
’’دونوں ایک دوسرے کے نزدیک کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کر رمضان بھاگ گیا اور بھاوج۔۔‘‘ قاسم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’پھر کچھ پوچھے بغیر تم اسے مار آئے۔‘‘ عارب کی چیخ نکل گئی، ’’وہ میری زال تھی، مجھے بتاتے۔ تمہیں کیا حق تھا اسے قتل کرنے کا؟‘‘ عارب نے غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے کہا۔
بچے جو اب تک خوف سے تھرتھرا رہے تھے، اب ’’اماں اماں‘‘ کہہ کر رونے لگے تھے۔

قاسم نے آگے بڑھ کر زمین پر پڑی کلہاڑی اٹھاتے ہوئے کہا، ’’بھائی میری غیرت جاگ اٹھی تھی۔ ٹھیک ہے، میں تھانے جا کر اپنی گرفتاری دیتا ہوں۔۔‘‘ وہ جانے لگا۔ زرینہ نے گھبرا کر قاسم کی طرف پھر عارب کی طرف دیکھا۔

’’ٹھہرو۔‘‘ عارب نے چلاتے ہوئے کہا،  ’’کلہاڑی مجھے دے دو۔‘‘
اس نے آگے بڑھ کر قاسم کے ہاتھوں سے کلہاڑی چھین لی اور زور سے بہت دور پھینک دی۔
’’تھانے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، چلو میرے ساتھ۔‘‘ عارب نے غصے سے کہا۔
سیلاب کا پانی اب گاؤں تک آ پہنچا تھا۔ عارب نے کندھے پر بیٹے کو بٹھایا اور بیٹی کو گود میں لیا۔
’’جلدی کرو، نکلے نہیں تو ڈوب جائیں گے۔‘‘

بڑھتا ہوا پانی اب ان کی کمروں تک پہنچ گیا تھا۔ بڑھتے پانی کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے وہ پشتے پر آ پہنچے۔ وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔ آس پاس کے دیگر گاؤں گوٹھوں کے لوگ بھی وہاں جمع ہو گئے تھے۔ سبھی اپنی اپنی فکروں اور پریشانیوں کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔

عارب کے گھر والوں نے وہ رات پشتے پر گزاری۔ دوسرے دن انہیں ایک ٹریکٹر ٹرالی میں سوار ہونے کی جگہ مل گئی۔ سیلاب سے متاثرہ دیگر لوگوں کے ساتھ وہ ’’سرور‘‘ آ پہنچے۔ کیمپ میں اُدھم مچا ہوا تھا۔ بچوں اور عورتوں کے ساتھ مردوں کی آوازیں بھی چاروں جانب گونج رہی تھیں۔ عارب بچوں کو اپنے ساتھ چپکا کر بیٹھ گیا۔ زرینہ بھی سامان کوسرکا کر وہاں آ بیٹھی۔ گاؤں سے نکلنے کے بعد عارب بالکل خاموش تھا۔

’’میں دیکھ کر آتا ہوں، کہیں کوئی رہنے کا ٹھکانا مل جائے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے قاسم لوگوں کی بھیڑ میں کھو گیا۔ رات بہت دیر گئے وہ واپس لوٹا۔

’’نام لکھوا آیا ہوں۔ ہمیں بھی ایک خیمہ ملا ہے۔ چلو چلتے ہیں۔۔‘‘ قاسم زرینہ کے ساتھ سامان لے کر آگے بڑھا۔ عارب بچوں کو لے کر خاموشی سے ان کے پیچھے جانے لگا۔ خیمے میں آ کر زرینہ نے سامان کو حفاطت سے رکھا۔ وہ اپنے ساتھ کچھ برتن بھی لے آئی تھی۔ قاسم ان میں سے ایک ہانڈی لے کر باہر چلا گیا۔ بچے دن بھر کی بھوک پیاس سے اب رونے لگے تھے۔ قاسم دلیے سے آدھی بھری ہانڈی لے کر اندر آیا۔

’’یہاں کھانا لینا نہیں پڑتا، بھیک میں مانگنا پڑتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے ہانڈی نیچے رکھ دی۔ زرینہ نے دو پلیٹوں میں دلیا نکال کر دونوں بھائیوں کے سامنے رکھا۔ عارب بچوں کو کھانا کھلانے لگا۔

‘ ‘ادا، بچوں کو میں کھلاتی ہوں، یہ آپ کھا لو۔‘‘ زرینہ نے عارب سے کہا۔

عارب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زرینہ نے قاسم کی طرف ایسے دیکھا، جیسے آنکھوں ہی آنکھوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہہ رہی ہو، ’’دیکھا کیسا قہر ڈھا دیا تم نے۔‘‘

عارب نے بچوں کو کھلا کر، انہیں لٹایا اور خود بھی لیٹ گیا۔ نیند تو کسی کو بھی نہیں آ رہی تھی۔ زرینہ نے سونے کے لئے آنکھیں موندیں، تو اس کے آگے خون سے تر بتر کلہاڑی گھوم گئی۔ صفوراں تھی تو اس کی جیٹھانی، پر وہ اس کی ساس بن کر اس کا دُلار کرتی اور پیار کرتی۔ زرینہ ابھی دس سال کی ہی تھی کہ اس کی ماں مر گئی۔ اس کا باپ کی دوستیاں چور ڈاکوؤں کے ساتھ تھیں۔ وہ کبھی جیل میں ہوتا، تو کبھی باہر۔ زرینہ کبھی نانی کے پاس تو کبھی پرائی چوکھٹوں کی ٹھوکریں کھاتی رہی۔ سات آٹھ سال یوں ہی گزر گئے۔ اس کا باپ ایک دن اپنے بچپن کے دوست عارب کے پاس گیا اور زرینہ کو شادی کے بندھن میں باندھنے کی بات کی، تاکہ وہ اس جوابداری سے آزاد ہو سکے۔ عارب کو بھی اپنے چھوٹے بھائی قاسم کے لئے ایک رشتے کی تلاش تھی۔ زرینہ خوبصورت بھی تھی اور ہنرمند بھی۔ صفوراں نے اسے اپنی چھوٹی بہن کی طرح سمجھا اور مانا تھا۔ زرینہ کا دل اچانک بھر آیا اور اس سسکی بندھ گئی۔ وہ دوپٹہ منہ میں ٹھونس کر رونے لگی۔ قاسم سمجھ گیا کہ وہ رو رہی ہے۔ وہ خود بھی تو اس کے برابر میں بت بنا لیٹا رہا۔ اس کا ذہن بالکل ماؤف تھا۔

پھر نہ جانے کب ان دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ جب وہ صبح اٹھے تو خیمے میں نہ عارب تھا، نہ بچے۔ انہوں نے سوچا شاید عارب بچوں کو باہر لے گیا ہو گا۔ جب کچھ دیر مزید گزری، تو قاسم انہیں تلاش کرنے کے لئے باہر نکلا۔ اس نے سارا کیمپ چھان مارا، پر عارب اور بچے کہیں بھی نہیں ملے۔ آخر کچھ دیر بھٹکنے کے بعد وہ اکیلا ہی خیموں کی جانب میں لوٹ آیا۔ زرینہ انتظار میں بیٹھی تھی، قاسم کو اکیلا آتے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔‘‘ کیا ہوا، ادا عارب نہیں ملے؟‘‘

’’نہیں، سارا کیمپ گھوم آیا ہوں، پر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئے۔‘‘ قاسم نے مایوسی بھرے لہجے میں کہا۔
زرینہ حیرت بھری نگاہوں سے قاسم کی طرف دیکھتی رہی، ’’آخر وہ کہاں گئے ہوں گے؟‘‘
’’لگتا ہے بھیا بچوں کو لے کر کسی دوسری جگہ چلے گئے ہیں۔‘‘ قاسم نے کہا۔
زرینہ کے دل کو دھچکا ساپہنچا۔ وہ سمجھ گئی کہ عارب ان سے جدا ہو کر، بچوں کو لئے کہیں نکل گئے ہیں۔
’’اب تو ہم بالکل اکیلے ہو گئے ہیں۔‘‘ زرینہ جیسے خود سے بڑبڑانے لگی۔ قاسم نے بھی کچھ نہیں کہا۔
’’اب ہم خود بھی کیا کریں گے؟‘‘ زرینہ نے کچھ دیر بعد قاسم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا کریں گے۔ ابھی تو یہاں کیمپ میں بیٹھے ہیں۔۔‘‘ اس نے سائیڈ جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کا پیکٹ نکالا۔ صرف ایک سگریٹ ہی بچا تھا۔ اس نے پیکٹ پھینک کر، سگریٹ سلگایا اور کش لینے لگا۔
’’کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ہانڈی دے دو تو دیکھتا ہوں۔ کھانا لینے کے لئے بھی لمبی قطار۔۔۔‘‘
زرینہ نے خاموشی سے ہانڈی لا کر اسے دی۔ قاسم باہر نکلا۔ وہ جب لوٹا تو اس کی قمیض پھٹی ہوئی تھی۔
’’کھانا لینے کے لئے تو، توبہ۔۔ توبہ۔۔۔ ایک طرف پولیس والوں کی لاٹھیاں، دوسری طرف لوگوں کی دھکم پیل۔۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔
ایک ہفتہ مزید گزرا، تو قاسم باہر سے پریشانی کی حالت میں اندر آیا۔
’’کہہ رہے ہیں کہ کل سے مفت کا کھانا بند ہے۔ ہر ایک اپنا انتظام خود کرے۔‘‘
’’پھر؟‘‘ زرینہ بھی پریشان ہو اٹھی۔
’’میرے پاس توکل ملا کر تین سو روپے ہوں گے۔ تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں؟‘‘ قاسم نے زرینہ سے پوچھا۔
زرینہ خاموشی سے اٹھی، ایک گٹھری میں سے پانچ سو روپے نکال کر قاسم کو دئیے۔
’’بس اتنے‘‘ قاسم نے ان پیسوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’ان سے کتنے دن گزاریں گے۔ یہ ختم ہو گئے تو پھر۔۔۔؟‘‘

’’زچگی میں بھی اب کچھ ہی دن باقی ہیں۔ اس کے لئے بھی چار پیسے پاس ہوں تو اچھا ہو گا۔۔‘‘ زرینہ نے جیسے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔ قاسم کھانا بھول گیا۔ وہ پریشان ہو اٹھا۔

’’بھیا کے پاس کچھ پیسے تھے، مگر وہ ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ قاسم نے شکایتی لہجے میں کہا۔

’’کس منہ سے بھیا پر الزام لگا رہے ہو۔‘‘ زرینہ نے پہلی بار قاسم کے منہ پر سچ کہنے کی حماقت کی۔ قاسم نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، پر خاموش رہا۔

رات کو وہ دیر تک سوچتے رہے، لیکن مسئلے کا کوئی بھی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔
’’دیکھو شہر میں اگر کوئی نوکری مل جائے؟‘‘ زرینہ نے مشورہ دیا۔
’’یہاں کیمپ میں ہزاروں لوگ آئے ہیں، سبھی بھٹک رہے ہیں۔ کیا صرف مجھے ہی نوکری ملے گی؟‘‘ قاسم نے چڑتے ہوئے کہا۔

زرینہ نے خاموش ہونا ہی بہتر سمجھا۔ کچھ دیر بعد وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔ قاسم کو اچانک خالہ بھاگل یاد آ گئی، جو حیدرآباد میں رہتی تھی۔ خالہ کا شوہر ’’جانوں‘‘ جانا مانا ڈکیت تھا۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر اس نے ایک صوبیدار کو بھی مارا تھا، مگر پھر وہ ان ڈکیتوں کی ٹولی سے الگ ہو گیا۔ سستائی کے دنوں میں اس نے خالہ بھاگل سے شادی کی اور حیدرآباد میں قاسم آباد کے علاقے میں ایک جگہ بھی لے لی۔ وہیں پر اس کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔ کسی جان پہچان والے نے اسے قاسم آ باد میں دیکھ لیا اور جا کر پولیس میں مخبری کی۔ ایک رات پولیس کی ٹیم نے اس کے گھر پر دھاوا بول دیا اور اسے گرفتار کر کے لے گئے۔ خالہ بھاگل نے بہت جتن کئے، کورٹ میں کیس بھی چلا، وکیل بھی کئے، پر جانوں کو پھانسی کی سزا سے کوئی نہیں بچا پایا۔ ان دنوں کبھی عارب، تو کبھی قاسم ماں کے ساتھ قاسم آباد جاتے، اس کی مدد کرتے۔ جانوں کو پھانسی ہوئی تو وہ خالہ کے ساتھ جا کر جانوں کی لاش گاؤں دفنانے لے آئے۔

ماں کے گزر جانے کے بعد خالہ کے پاس ان کا آنا جانا کم کیا گیا تھا۔ اب تو برسوں گزر گئے تھے۔ ان کا خالہ کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہ رہا تھا۔ مگرقاسم کو یقین تھا کہ وہ اگر خالہ کے پاس جائے گا، تو وہ ضرور اس کا لحاظ کرے گی۔ قاسم نے سوچا، ’’اور کوئی چارہ بھی نہیں، یہ بچے کچے پیسے بھی ختم ہو جائیں گے، تو کوئی خیرات بھی نہیں دے گا۔‘‘ اسے کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو اس نے خالہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے جیسے اس کے دل سے بھاری بوجھ اتر گیا۔

صبح اٹھتے ہی اس نے یہ بات زرینہ کو بتائی۔ ناشتا کر کے، سامان سمیت وہ کیمپ چھوڑ کر سرورا سٹیشن پر آئے۔ قاسم نے قاسم آباد کے دو ٹکٹ لئے اور گاڑی میں روانہ ہو گئے۔

’’میرے خیال میں تو بھیا عارب بھی بھاگل کے پاس گئے ہوں گے۔‘‘ قاسم نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’پتہ نہیں، وہاں چلیں گے تو معلوم پڑے گا۔‘‘ زرینہ نے جواب دیا۔
’’یہ تو طے ہے وہیں ہوں گے، اور کہاں جانا ہے۔‘‘ قاسم نے کہا۔
قاسم اور زرینہ جب قاسم آباد، خالہ بھاگل کے گھر پہنچے، تب ان کی بہو نسرین نے آ کر دروازہ کھولا۔ قاسم نے اس سے پہلے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’خالہ بھاگل گھر میں ہیں؟‘‘ قاسم نے پوچھا۔
’’کون خالہ بھاگل؟‘‘ نسرین حیرت سے پوچھا۔
قاسم کشمکش میں پڑ گیا، ’’یہ گھر خالہ بھاگل کا ہے نا؟‘‘
’’نہیں، یہ خالہ امینہ کا گھر ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر نسرین دروازہ بند کرنے ہی والی تھی کہ خالہ نے پاس آ کر پوچھا۔ ’’کون ہے؟‘‘
اس کی نظر قاسم پر پڑی، تو خوشی سے چلا اٹھی، ’’قاسم تم؟‘‘
وہ قاسم اور زرینہ کو اندر لے آئی۔
’’شاباش ہے بیٹا۔ خالہ کو تو بالکل ہی بھلا بیٹھے۔ میں ٹی وی پر سیلاب کی خبریں دیکھ کر تشویش میں پڑ گئی کہ میرے یتیم بھانجوں کا نہ جانے کیا حال ہوا ہو گا؟ اچھا کیا آ گئے، پر عارب اور اس کے بچے کہاں ہیں؟‘‘ خالہ نے شکایت کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

’’کیمپ میں تو ساتھ تھے، پھر اچانک بھیا ہمیں بتائے بغیر بچوں کو لے کر نہ جانے کہاں چلے گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید وہ آپ کے پاس آئے ہوں گے۔۔۔‘‘
خالہ نے حیرانی سے قاسم اور زرینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’یہاں تو نہیں آیا۔‘‘
’’خالہ آپ تو خوش ہیں نا؟ ‘ ‘قاسم نے بات کا رخ بدلتے ہوئے پوچھا۔
’’بس بیٹا۔ مالک کی مہربانی ہے، گزر بسر ہو رہا ہے۔ جو جمع پونجی تھی، وہ تمہارے خالو پر خرچ ہو گئی۔ پھر بھی شکر ہے، یہ گھر بچ گیا۔ اپنی چھت کی چھایا ہے۔‘‘

گھر کافی اچھا تھا، تین کمرے تھے، دالان اور باورچی خانہ۔ ایک کمرے میں صدیق، اس کی بیوی اور بچہ رہ رہا تھا۔ دوسرے کمرے میں خالہ بھاگل، جو آج کل خالہ امینہ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ تیسری کمرہ چھوٹا تھا، جس میں گھر کا سامان رکھا ہوا تھا۔ خالہ نے اس کمرے میں قاسم اور زرینہ کو پناہ دے دی۔

دوسرے دن صبح ناشتہ کرتے وقت قاسم نے صدیق سے کہا، ’’بھائی صدیق، تمہیں اگر کوئی کام نظر آئے تو مجھے دِلا دینا۔ کسی نہ کسی روزگار سے لگ جاؤں تو اچھا ہو گا۔‘‘

صدیق ہنسنے لگا، ’’نوکریاں اتنی آسانی سے ملتیں، تو میں کیوں بے روزگار بیٹھا ہوتا۔ میٹرک پاس ہوں، پر چوکیدار کی نوکری بھی نہیں ملتی۔‘‘

’’بیٹا، نوکری ملنی مشکل ہے۔ کہیں اگر مزدوری مل جائے، تو اور بات ہے۔۔‘‘ خالہ امینہ نے کہا۔

صدیق ناشتا کر کے، تیار ہو کر، گھر کے باہر کھڑی نئی موٹر سائیکل پر سوار کہیں چلا گیا۔ قاسم نے سوچا کہ اسے خود ہی کوشش کر کے روزگار کی تلاش پڑے گی۔ اتنا بڑا شہر ہے، کہیں کوئی مزدوری تو ضرور مل جائے گی۔

قاسم کئی دن بھٹکتا رہا۔ دفتروں میں، دکانوں میں، ہوٹلوں میں، جہاں کہیں بھی گیا اسے دو ٹوک جواب ملا۔ اوپر سے زرینہ کی زچگی کے دن بھی قریب آنے لگے۔

خالہ نے زچگی کا سارا بوجھ خود پر لے لیا۔ کہیں سے دایہ کا انتظام کیا۔ زرینہ نے بیٹے کو جنم دیا۔ مبارکبادوں کا تبادلہ ہوا، خوشیاں منائی گئیں۔

ایک دن زرینہ نے بچے کو سلاتے ہوئے کہا، ’’خالہ نے ہم پر بہت مہربانی کی ہے۔ نہیں تو کون کسی کا اتنا خیال رکھتا ہے اور گھر میں بٹھا کر کھلاتا پلاتا ہے، مگر ہم آخر کب تک خالہ پر بوجھ بنے بیٹھے رہیں گے؟‘‘ فکر میں ڈوبی زرینہ نے کہا۔
’’پھر کیا کریں؟‘‘ھھ قاسم بول اٹھا، اسے خود بھی اس بات کا احساس تھا۔
’’تم تھوڑا بہت ہی کما کر لے آؤ، تو ہم بھی سر اٹھانے جیسے ہوں‘‘ زرینہ نے کہا۔
’’تم کیا سمجھتی ہو کہ میں کمانے سے کتراتا ہوں؟ پورا مہینہ بھٹکا ہوں، کہیں مزدوری بھی نہیں ملی۔ بس بھیک مانگنے کا کام بچا ہے، کہو تو وہ بھی کر کے دیکھوں‘‘ قاسم نے چڑتے ہوئے کہا۔ ’’آہستہ بولو، خالہ سن لے گی۔ میں نے کب کہا کہ بھیک مانگنے کا کام کرو۔‘‘ زرینہ نے جواباً چڑتے ہوئے کہا۔

’’تم بات ہی ایسی کرتی ہو۔ اپنی طرف سے میں نے پوری کوشش کی۔‘‘ قاسم نے اس کے کان کے پاس جا کر دھیرے سے کہا، ’’میری بات تو سنو۔‘‘

زرینہ نے سوالیھہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’یہ ہر روز شام ڈھلے خالہ کے گھر نہ جانے کون سی کون سی لڑکیاں سجیھ سنوری ہوئی آ جاتی ہیں۔ یہ ہیں کون؟ خالہ کے گھر میں کیا کرتی ہیں؟‘‘
’’مجھے کیا پتہ کون ہیں؟ میں بھی تمہاری طرح ہی دیکھ رہی ہوں۔۔‘‘   زرینہ نے جواب دیا۔
’’رات ہوتے ہی خالہ کے پاس فون آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ فون پر آہستہ سے بات کرتی ہے اور پھر لڑکیوں کو ساتھ لے کر نکل جاتی ہے۔ یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ قاسم نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ اس کی مرضی، تم کیوں سر درد مول لے رہے ہو۔ ہمیں پناہ دی ہے، تین بار کھانا دیتی ہے۔ ہم پر اس کا یہ احسان کم ہے کہ تم بیٹھے بیٹھے خالہ کی جاسوسی کر رہے ہو۔۔‘‘ زرینہ نے قاسم کو ہلکے سے ڈانٹا۔

’’جاسوسی نہیں کر رہا، سامنے کا منظر دیکھ رہا ہوں، اسی لئے پوچھ لیا۔‘‘
’’چلو اب زیادہ دماغ مت لڑاؤ، خاموشی سے سو۔‘‘ زرینہ نے اس کی طرف پیٹھ کرتے ہوئے کہا۔
ایک دن، رات کے وقت زرینہ خالہ کے پاس بیٹھی تھی کہ ایک فون آیا۔
’’ہاں رئیس۔ میں خوش ہوں، گاؤں سے کب لوٹے؟‘‘ خالہ نے پوچھا اور پھر بات سنتے ہی ہنس کر کہا، ’’آتے ہی اتنی بے تابی۔ اچھا دیکھتی ہوں اگر وہ گھر میں ہے، تو لے کر آتی ہوں۔‘‘
پھر خالہ نے کسی کو فون کر کے کہا، ’’رئیس نے بلایا ہے، تم تیار ہو جاؤ، تو میں رکشے میں تمہیں لینے آتی ہوں۔‘‘
خالہ نے زرینہ کی طرف دیکھا، ’’تم چلو گی گھومنے؟‘‘
’’کہاں خالہ۔۔۔؟‘‘ زرینہ نے پوچھا۔ ویسے بھی وہ کبھی کبھی خالہ کے ساتھ بازار میں گھر کے سودے کے لئے جایا کرتی تھی۔
’’بس یوں ہی چلو، چکر لگا آتے ہیں۔‘‘ خالہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میرا۔۔۔ بچہ۔۔۔۔‘‘

’’نسرین جو بیٹھی ہے۔‘‘ خالہ نے نسرین کو بلا کر زرینہ کے بچے کی دیکھ بھال کرنے کی ہدایت کری۔ نسرین نے مسکرا کر زرینہ کی طرف دیکھا۔ وہ شکل صورت میں معمولی تھی، مگر دل کی اچھی تھی۔ زرینہ کو وہ بہت چاہتی تھی۔ گھر کا تمام بوجھ نسرین پر تھا، لیکن اب زرینہ بھی اس کے کام میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ خالہ امینہ تو فقط حکم چلایا کرتی۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر میں پکار کر نسرین کو چائے بنانے کے لئے کہتی۔ اسے چائے پینے اور سگریٹ پھونکنے کے علاوہ دوسرا کوئی کام نہ تھا۔

’’تو پھر چلیں؟‘‘ خالہ نے زرینہ سے پوچھا۔

زرینہ نے حامی بھری، تو خالہ نے اس کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا، ’’اس حال میں باہر چلو گی کیا؟ کپڑے تو ڈھنگ کے پہن لو۔‘‘

زرینہ نے اندر جا کر کپڑے بدلے اور بال ٹھیک کر کے باہر آئی۔ خالہ نے چاہت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور باہر آ کر ہاتھ کے اشارے سے ایک رکشے کو روکا۔ رکشے والے سے دو جگہوں پر رکنے کے پیسے طے کر کے زرینہ کے ساتھ اندر بیٹھ گئی۔ رکشہ ایک گلی میں کسی مکان کے پاس رکا۔ خالہ نے فون سے ایک مس کال دی۔ فوری طور پر چادر میں لپٹی لڑکی باہر آئی اور رکشے میں بیٹھ گئی۔ سندھی مسلم سوسائٹی میں ایک بنگلے کے باہر آ کر رکشہ رکا، تو خالہ نے اس کا کرایہ چکایا۔ آگے جا کر اس نے گھر کی کال بیل بجائی۔ فوراً نوکر نے آ کر گیٹ کھول دیا۔ خالہ کو دیکھتے ہی مسکرا کریک طرف کھڑا ہو گیا۔ خالہ دونوں لڑکیوں کو لے کر بنگلے کے اندر گئی اور ڈرائینگ روم میں جا کر بیٹھ گئی۔ زرینہ کو محسوس ہوا کہ خالہ کا وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ زرینہ نے زندگی میں پہلی بار اتنے بڑے بنگلے کو دیکھا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ ساتھ آئی لڑکی نے اپنی چادر اتار کر پاس ہی موجود سوفے پر رکھ دی۔ لڑکی نوجوان تھی اور دلکش بھی۔ چند لمحوں بعد رئیس اندر آیا اور اس نے خالہ کی طرف مسکرا کر پوچھا، ’’امینہ کیا حال ہے؟‘‘ پھر اس نے لڑکی اور ساتھ بیٹھی زرینہ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں زرینہ پر ٹھہر گئیں۔ زرینہ کو شرم آنے لگی، اس نے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں۔

’’رئیس یہ میری بھانجی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے یہ لوگ گاؤں سے میرے پاس آئے ہیں۔‘‘ خالہ نے زرینہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا اور پھر دوسری لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’آپ کا فرمائش پر شمائلہ کو لے کر آئی ہوں۔‘‘

رئیس نے مسکراتے ہوئے شمائلہ کی طرف دیکھا، ’’کیسی ہو؟‘‘
’’جی ٹھیک ہوں۔‘‘ شمائلہ نے مسکرا کر جواب دیا۔
رئیس کچھ سوچتے ہوئے اٹھا اور خالہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’امینہ یہاں آؤ تو۔۔۔‘‘ خالہ اٹھ کر اس کے پیچھے دوسرے کمرے میں گئی۔ رئیس بستر پر بیٹھا اور اس نے خالہ کو اپنے ساتھ بٹھایا۔ وہ خالہ کے کندھے پر اپنے بازو رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔

’’کیا دیکھ رہے ہو رئیس؟‘ ‘خالہ ہنسنے لگی، ’’میں تو اب بوڑھی ہو گئی ہوں۔‘‘
’’میں بھی کون سا نوجوان ہوں، امینہ۔ ساٹھ سال کا ہو گیا ہوں۔‘‘
’’نہیں رئیس، مرد اور گھوڑے دونوں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔‘‘ خالہ کی بات سن کر رئیس نے قہقہہ لگایا۔

’’تمہاری یہی باتیں تو مجھے بھلی لگتی ہیں۔‘‘ رئیس نے ہنستے ہوئے کہا۔ پھر پل بھر رک کر بولا، ’’امینہ جوانی میں تم بھی قہر ڈھاتی تھیں، پر تمہاری بھانجی بھی غضب کی ہے۔ میں تو اس پر فدا ہو گیا ہوں۔‘‘

خالہ نے رئیس کی ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتے ہوئے کہا، ’’نہیں رئیس۔ زرینہ میرے بھانجے کی بیوی ہے، میرے پاس مہمان بن کر آئی ہے۔ یہ بات زیب نہیں دیتی۔ تم اس بات کو ذہن سے نکال دو۔ میں تمہیں زرینہ سے زیادہ خوبصورت لڑکی ڈھونڈ کر دوں گی۔‘‘

’’نہیں‘‘ رئیس نے انکار میں گردن ہلائی اور کہا، ’’مجھے تو وہ بھا گئی ہے۔ چاہئے تو بس یہی چاہئے‘‘ اس نے ضد کرنے کی کوشش کی۔

’’رئیس، میری بات سنو اور سمجھو، میں تو اسے یوں ہی گھمانے لے آئی تھی۔ مجھے کیا پتہ کہ اسے دیکھتے ہی اپنے ہوش کھو بیٹھو گے۔۔‘‘ خالہ نے ہنستے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

رئیس نے خالہ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے، ’’دیکھو امینہ تم کچھ بھی کرو، پر یہ کام کر دو۔‘‘

خالہ نے فوراً اٹھ کر رئیس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما، ’’یہ کیا کر رہے ہو رئیس۔ اچھا، کچھ دن صبر کرو، تو میں کوئی حل نکالنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

رئیس نے خالہ کو آغوش میں لے کر اس کا گال چوم لیا، ’’بس اب سب تمہارے ہاتھ میں ہے۔ کچھ کرنا، ورنہ میں مر جاؤں گا۔‘‘

’’اچھا، اچھا اب زیادہ اداکاری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں جانتی ہوں۔‘‘ خالہ جی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

رئیس نے پرس سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکال کر خالہ کو دئیے۔

’’یہ ایک ہزار تمہارا اور ایک ہزار زرینہ کا۔‘‘ اس نے پھر تیسرا نوٹ نکالتے ہوئے کہا، ’’یہ شمائلہ کو دے دینا اور اسے اپنے ساتھ لیتے ہوئے جانا اب میرا من نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں رئیس، یہ بات ٹھیک نہیں۔ تمہارے کہنے پر ہی اسے لے آئی ہوں۔ اب کس طرح کہوں کہ واپس چلو؟‘‘ خالہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔ آئی ہے، تو اس سے دل بہلا لیتا ہوں۔ ورنہ تم بھی برا مان جاؤ گی۔۔۔‘‘ رئیس نے خالہ کی بات مانتے ہوئے کہا۔
دونوں ڈرائنگ روم میں واپس آئے، تو خالہ نے زرینہ کو چلنے کے لئے کہا۔

’’ٹھہرو تمہیں میری گاڑی چھوڑ کر آتی ہے۔‘‘ خالہ کے منع کرنے کے باوجود وہ دونوں رئیس کی گاڑی میں سوارہو کر روانہ ہوئیں۔ گھر سے کچھ فاصلے پر دونوں گاڑی سے اتر کر گھر آئیں۔ زرینہ اپنے کمرے میں گئی، تو دیکھا کہ بچہ سو رہا تھا۔ قاسم ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ اتنے میں خالہ اس کے کمرے میں آئی۔

’’اے ری پگلی۔ رئیس تجھے دیکھ کر پاگل ہو گیا ہے۔۔‘‘ خالہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’خالہ تم مجھے غیر مرد کے پاس کیوں لے کر گئیں؟‘‘ زرینہ نے شکایت بھرے لہجے میں کہا۔
’’اس لئے لے کر گئی کہ تم تھوڑا بہت گھوم پھر آؤ۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ تجھ پر لٹو ہو جائے گا۔‘‘ خالہ نے ہزار کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے کہا، ’’یہ لو رئیس نے تجھے خوشی سے بخشش دی ہے۔‘‘
زرینہ حیرانی سے اس نوٹ کو دیکھتی رہی۔

’’نہیں، خالہ نہیں۔ قاسم پوچھے گا کہ پیسے کہاں سے لائی، تو کیا جواب دوں گی۔ تمہیں معلوم نہیں قاسم کتنا شکی ہے۔‘‘ پھر اس نے صفوراں کے قتل کی ساری داستان خالہ کو بتا دی۔

خالہ کے تو جیسے ہوش اڑ گئے، ’’یہ ظالم تو خونی ہے۔ میں بھی سوچوں کہ عارب چھوٹے بھائی کو چھوڑ کر کیوں چلا گیا ہو گا؟ اچھا، تو یہ بات ہے۔‘‘ اس نے ہزار کا نوٹ اپنے پاس رکھتے ہوئے کہا،  ’’ہاں واقعی وہ پیسے دیکھ کر شک کرے گا۔ تمہارے پیسے میں اپنے پاس امانت کے طور رکھتی ہوں۔‘‘

’’خالہ ویسے بھی تمہارا ہی تو کھا رہے ہیں۔‘‘ زرینہ نے شکر ادا کرتے ہوئے کہا۔

’’نہیں پگلی نہیں۔ ہر ایک اپنے نصیب کا کھاتا ہے۔‘‘ خالہ نے ہنستے ہوئے کہا، ’’تمہیں پتہ ہے گھر کا اتنا خرچ کیسے چلتا ہے۔ صدیق بال بچوں والا ہو گیا ہے، لیکن گھر کی ذمہ داری بالکل پوری نہیں لے پاتا۔ ماں جو کما رہی ہے۔ باپ کے تمام پیسے مقدموں میں خرچ ہو گئے۔ خود تو پھانسی پر چڑھ گیا، پیچھے رہ گئی میں۔ صدیق تب بچہ تھا۔ میرے پاس اپنی جوانی کے سوا کچھ نہ تھا۔‘‘

خالہ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، ’’تمہیں کیا پتہ، اکیلی عورت ذات ہو کر میں نے کس طرح گزارا کیا۔ گنہگار پیٹ کو ٹکڑا تو چاہئے نا۔۔‘‘ خالہ کا گلا بھر آیا۔ وہ رونے لگی۔

’’میں نے یہ کام خوشی سے نہیں کیا۔ مجھے اپنا اور اپنے بچے کا پیٹ پالنا تھا۔ بس، اس دلدل میں اتری تو پھر باہر نہ نکل پائی۔‘‘
خالہ کو روتا دیکھ کر، زرینہ کا دل بھر آیا۔
’’دنیا بڑی ظالم ہے زرینہ۔ کسی نہ کسی طریقے سے اس سے گزرنا تو ہے ہی۔‘‘ خالہ نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
زرینہ خالہ کی باتیں سن کر دنگ رہ گئی۔
ایک رات قاسم نے یوں ہی بات نکالی، ’’اب مجھے خالہ کے پاس رہنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’کیوں؟ کیا ہوا؟‘‘ زرینہ نے حیرانی سے پوچھا۔
’’مجھے خالہ کے آثار اچھے نہیں لگتے۔‘‘ قاسم نے کہا۔
زرینہ سکتے میں آ گئی، ’’تم نے ایسے کیسے سوچ لیا؟‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’صدیق سارا دن موٹر سائیکل پر گھومتا رہتا ہے۔ کوئی کام بھی نہیں کرتا، تو پھر گھر میں اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ خالہ کوئی اچھا کام نہیں کر رہی ہے، اتنا تو میں بھی سمجھ گیا ہوں۔۔‘‘ اس نے گردن ہلا کہا۔

’’پتہ نہیں۔‘‘ زرینہ نے نرم لہجے میں کہا، ’’پھر تمہاری کیا مرضی ہے؟‘‘
’’کوئی بندوبست ہو تو یہاں سے نکل جائیں۔‘‘ قاسم نے کہا۔
’’مرد آدمی ہو، کوئی راستہ ڈھونڈ نکالو۔‘‘
’’صبح سے شام تک روزگار کے پیچھے بھاگتا پھرتا ہوں۔ بس دعا کر۔‘‘ قاسم نے بے بسی سے کہا۔
’’خدا کرے تمہارے روزگار کا کوئی راستہ نکل آئے۔‘‘ زرینہ نے کہا۔

شاید زرینہ کی دعا قبول ہوئی، قاسم کو ایک ہوٹل میں کام مل گیا، لیکن وہ کام اس کے لئے نیا بھی تھا اور مشکل بھی۔ ایک تو اس کے جسم میں پھرتیلا پن نہیں تھا، دوسرے کبھی اس کے ہاتھ سے پلیٹ گر جاتی، تو کبھی گلاس ٹوٹ جاتا۔ گاہکوں کی باتیں سننی پڑتیں اور ساتھ میں ہوٹل کے مالک کی سختی بھی برداشت کرنی پڑتی۔ وہ ایک ہفتہ بھی نہیں ٹک پایا۔ آخر ہوٹل کے مالک نے اسے نوکری سے نکال دیا۔ زرینہ نے سنا، تو اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا ما تھا پیٹ لیا۔

’’تم سے یہ کام بھی نہیں ہو پایا، تو دوسرا کون سا کام کرو گے؟‘‘ اس نے غصے سے کہا۔

’’لوگوں کی باتیں سن کر، سختی سہہ کر بھی کام کر رہا تھا۔ ہوٹل مالک نے خود جواب دیا۔ اس میں میرا کیا قصور؟‘‘ قاسم نے کہا۔

’’آخر آپ کیا کریں گے؟ اگر تم سے کچھ نہیں ہوتا، تو پھر مجھے رہا کرو، تو میں خالہ کے ساتھ باہر نکلوں۔‘‘ زرینہ نے چڑتے ہوئے کہا۔ قاسم نے جھپٹ کر اس کو گردن سے پکڑ لیا۔

’’پھر اگر ایسی بات ہے، تو تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔‘‘ غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ سی گئیں۔

’’بھڑووں کے ساتھ رہ کر تم بھی ان جیسی ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے زرینہ کی گردن پکڑتے ہوئے اسے دھکا دیا۔ زرینہ کمرے کی دیوار سے ٹکرا کر نیچے گر پڑی۔ قاسم تیزی سے باہر نکل گیا۔ شور سن کر خالہ کمرے میں آئی۔ اس نے زرینہ کو گلے لگا کر اسے زمین سے اٹھایا۔ زرینہ خالہ سے لپٹ کر رونے لگی۔

’’ہم بھڑوے ہیں اور خود غیرت مند ہے، تو یہاں کیوں بیٹھا ہے؟‘‘ خالہ بہت غصے میں تھی۔ ’’مجھے تمہارا اور تمہارے بچے کا خیال نہ ہوتا، تو ابھی کا ابھی قاسم کو گھر سے باہر نکال پھینکتی۔ خود کو سمجھتا کیا ہے؟‘‘

اس نے اپنے دوپٹے سے زرینہ کے آنسو پونچھے۔ پھر پانی کا گلاس بھر کر اسے پلایا، ’’یہ پانی پی لے، یہ مرد سبھی کتے ہوتے ہیں۔ جھوٹے، مکار، غیرت مند۔ ان کا بس چلے، تو عورت کا گوشت تو گوشت، ان کی ہڈیاں بھی چبا ڈالیں۔‘‘ خالہ نے غصے بھرے لہجے سے کہا۔

رات کو قاسم دیر سے گھر آیا۔ زرینہ نے خاموشی سے کھانا لا کر اس کے سامنے رکھا اور خود بچے کے پاس لیٹ گئی۔ کھانا کھا کر کچھ دیرقاسم خاموش بیٹھا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ زرینہ سے بات کرے۔ اس نے زرینہ کے بازو پر ہاتھ رکھا، پر زرینہ نے اس کا ہاتھ پرے جھٹک دیا۔ قاسم زمین پر بچھے اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا۔

خالہ اور زرینہ جب سے رئیس کے پاس سے واپس آئی تھیں، شام ہوتے ہی وہ روز خالہ کو دو تین بار فون کرتا۔

’’کیا ہوا؟ میری راتوں کا سکھ چین کھو گیا ہے۔ کب پرندے کو لے کر آ رہی ہو؟‘‘

’’رئیس، زرینہ کوئی گلاب نہیں، جو خوشبو کے ساتھ تمہارے پاس لے آؤں، پر تمہاری وجہ سے میں بھرپور کوشش کروں گی۔‘‘ خالہ رئیس کو امید دیتی اور اپنی جان چھڑوا لیتی۔ جب رئیس کی بیتابی میں حد سے زیادہ اضافہ ہوا، تو خالہ نے اس کے فون پر پوچھا، ’’اچھا یہ تو بتاؤ، زرینہ کو کسی طرح لے بھی آئی تو دو گے کیا؟‘‘

’’جو تم کہو گی۔‘‘ رئیس نے فوراً جواب دیا۔
’’زرینہ تمہارے پاس مہینے میں چار بار آئے گی۔ تم اس کے چالیس ہزار مہینے کے باندھ دو۔‘‘ خالہ نے اپنا پانسا پھینک دیا۔
’’یہ لو امینہ، تم تو پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئیں۔‘‘ رئیس کی جیسے چیخ نکل گئی۔
’’اگر رئیسوں کے ادب آداب اپنانے ہیں تو خرچہ تو کرنا پڑے گا۔‘‘
’’میں ہر ماہ تیس ہزار روپے دوں گا، ایک شرط پر۔۔۔‘‘
’’کیسی شرط؟‘‘ خالہ نے پوچھا۔
’’وہ میرے سوا کسی اور کے پاس نہیں جائے گی۔‘‘ رئیس نے شرط سامنے رکھی۔
’’واہ سائیں، واہ۔ تیس ہزار دے کر پرندے کو پنجرے میں بند کر کے رکھو گے۔ اگر ایسا شوق ہے، تو لاکھ روپے مہینے کے دو، نہیں تو ایسی پابندی قبول نہیں۔۔‘‘ خالہ نے روکھا سا جواب دیا۔
’’ایسی زور زبردستی نہ کرو امینہ۔ تمہیں پتہ ہے میرے اور بھی کئی خرچ ہیں۔‘‘
’’تو پھر ایسی شرط بھی مت رکھو۔‘‘
’’چلو پھر میں نے شرط کو منسوخ کر دیا۔ اب تو مان جاؤ۔۔۔‘‘ رئیس جیسے بے بس ہو گیا تھا۔
’’ٹھیک ہے رئیس، دیکھتی ہوں۔ میں کیا کر سکتی ہوں۔‘‘ خالہ نے کوئی وعدہ نہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ہائے۔ اب بھی دیکھو گی؟ تب تک تومیں مر جاؤں گا۔۔‘‘ رئیس نے بے تاب ہو کر چلاتے ہوئے کہا۔
’’یہ جملہ کسی اور کو سناؤ، مرتا ورتا کوئی نہیں۔‘‘ خالہ نے ہنستے ہوئے کہا، ’’زرینہ کو حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔ مجھے تھوڑا وقت دو، اپنے گھر کو تو باندھ لوں۔‘‘
’’بس امینہ، اب تمہاری مرضی۔ ہم تو اب تیرے بس میں ہیں۔‘‘ رئیس نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے فون بند کر دیا۔
’’خالہ تم نے یہ کیا کیا؟‘‘ زرینہ کے چہرے پر خوف اور پریشانی کے بادل امڈ آئے۔
’’پگلی۔ رئیس کے سائے میں تم بس جاؤ گی۔۔‘‘ خالہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں خالہ نہیں۔۔۔، خوف سے میرا دل کانپ رہا ہے۔ قاسم کو تو تم جانتی ہو۔‘‘ اتنا کہہ کر زرینہ حقیقت میں کانپنے لگی تھی۔
’’اتنا ڈرنے کی بات نہیں۔ میں بھی اس بات کو سمجھتی ہوں۔ بات بنی تو بنی، نہیں بنی، تو خیر ہے۔ میں نے تو ایسے ہی رئیس سے جاننا چاہا کہ وہ دے گا کیا؟‘‘
خالہ نے زرینہ کو دلاسہ دیا۔

کچھ دنوں تک قاسم سے نہ زرینہ نے بات کی، اور نہ ہی خالہ اس کے منہ لگی۔ قاسم کو خالہ کی جانب سے زیادہ فکر تھی۔ اگر خالہ نے گھر سے نکال دیا، تو کہاں جائیں گے؟ اس خیال سے وہ اور زیادہ خوفزدہ ہو جاتا۔ اب گاؤں میں بھی اس کے لئے کچھ نہ بچا تھا۔ ایک بڑا بھائی تھا، اس نے بھی اس سے ناطہ توڑ دیا تھا۔ کیمپوں میں خیرات پر آخر آدمی کب تک پڑا رہے گا۔ ایک دن اس نے زرینہ سے بات کرتے ہوئے التجا کی، ’’اب غصے کو تھوک بھی دو، کیا ساری عمر بات نہیں کرو گی؟‘‘

’’کیا بات کروں۔ بات کرتی ہوں، تو گلا دبا دیتے ہو۔‘‘ زرینہ نے اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
“تم نے بات ہی ایسی کی۔ کیا غصہ نہیں آئے گا؟‘‘
’’یعنی، تمہیں میرا بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ تو پھر بات نہ کروں تو ہی ٹھیک ہے۔‘‘
’’گھر میں دو برتن ہوں گے، تو ضرور ہی ٹکرائیں گے۔ اس میں بڑی بات کون سی ہے؟‘‘
’’بڑا آیا ہے برتن۔۔۔‘‘ زرینہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’غنیمت ہے، تم ہنسی توسہی۔‘‘
’’میری تو خیر ہے، مگر خالہ بہت غصے میں ہے۔‘‘ زرینہ نے قاسم کے اندر خوف کو پھونک دیا۔
’’ہاں، میں بھی دیکھ رہا ہوں، وہ گھاس ہی نہیں ڈال رہی۔ تم اس سے بات کرو، تو شاید اس کی ناراضگی کم ہو۔‘‘
’’خالہ تمہاری ہے اور کہا میرا مانے گی؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ پر۔۔‘‘ کچھ کہتے کہتے قاسم خاموش ہو گیا۔

دوسرے دن شام کو خالہ کے گھر دو لڑکیاں آئیں۔ رات ہوتے ہی خالہ کے پاس فون آنے لگے۔ خالہ دونوں لڑکیوں کو لے کر گھر سے نکلی۔ گلی سے نکل کر روڈ پر آئی، تو ایک کار ان کا انتظار کر رہی تھی۔ کار نے انہیں لے کر ایک بنگلے کے سامنے چھوڑا۔ اندر صاحب اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے سامنے وہسکی کے بھرے گلاس رکھے تھے۔ خالہ اور لڑکیوں کو دیکھ کر دونوں نے ملا جلا نعرہ لگایا ’’خالہ زندہ باد۔۔‘‘ خالہ نے لڑکیوں کو چھوڑ کر لوٹنا چاہا، پر صاحب اور اس کے دوست نے خالہ کو اپنے ساتھ بٹھایا اور وہسکی کا ایک گلاس خالہ کو پیش کیا۔

’’چیئرز‘‘ کہہ کر انہوں نے اپنے گلاس خالہ کے گلاس سے ٹکرائے۔ خالہ بھی دو پیگ پی کر، مد ہوشی کی حالت میں اپنے گھر واپس آئی۔ اس وقت تک زرینہ اور قاسم جاگ رہے تھے۔ خالہ نے زرینہ کو اپنے کمرے میں بلوایا۔

’’دے خبر؟ ، تمہارا مرد راستے پر آیا ہے یا نہیں؟‘‘ خالہ نے زرینہ سے پوچھا۔
’’تھوڑا بہت۔۔ کہتا ہے خالہ کو منالو۔۔‘‘ زرینہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اچھا، جاؤ اسے لے آؤ۔‘‘ خالہ خوشگوار موڈ میں تھی۔
کچھ دیر میں زرینہ لوٹ آئی اور اس کے پیچھے سہما سہما سا قاسم بھی اندر آیا۔
’’بیٹھو میاں قاسم خان۔‘‘ خالہ نے طنز بھرے لہجے میں کہا،  ’’سخت جان ہو۔‘‘
’’نہیں خالہ، تمہارا بچہ ہوں۔‘‘ بیٹھتے ہوئے قاسم نے نرمی سے کہا۔
’’میری جنتی بہن کے بیٹے ہو، اسی لئے میں نے بھی تمہیں اپنا خون سمجھ کر گھر میں رکھا۔ باقی تم مجھے اگر برا سمجھتے ہو، تو دروازہ کھلا پڑا ہے۔ جانا چاہو، تو خوشی سے جا سکتے ہو۔۔‘‘ خالہ نے اس پر سیدھا وار کیا۔
’’نہیں خالہ، آپ بھی میری ماں جیسی ہو۔ تمہیں برا کیوں سمجھوں۔ تمہارے سوا ہمارا ہے ہی کون؟‘‘ قاسم کی آواز میں پشیمانی تھی۔ خالہ نے پرس میں سے پانچ سو والے چار نوٹ نکال کر آگے رکھے۔
’’میری اس کمائی پر سارا خاندان چلتا ہے۔ کچھ چھپا نہیں رہی۔ میرا دھندہ تیرے سامنے ہے، ’’اس نے پانچ سو کا ایک نوٹ قاسم کی طرف بڑھاتے کہا،  ’’ہاں، یہ میری طرف سے جیب خرچ ہے۔‘‘
’’نہیں، نہیں، خالہ، تمہارا دیا کھا رہے ہیں، میرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔‘‘ قاسم نے پیسے لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔
’’اب لے بھی لو، خالہ کا دیا ہوا لوٹا رہے ہو۔‘‘ زرینہ نے زور دیا۔
قاسم نے جیسے بڑی لاچاری سے نوٹ لے کر جیب میں ڈالا۔

’’قاسم، اب میری بات ٹھنڈے دماغ سے سنو، کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ اپنی مرضی والے ہو۔ اگر تمہیں یہ بات اچھی نہ لگے، تو جہاں چاہو اپنا راستہ پکڑ کر چلے جانا۔۔‘‘ خالہ نے غور سے قاسم کی طرف دیکھا۔ قاسم بالکل خاموش تھا۔

’’کیا کہتے ہو؟ بات چلاؤں؟‘‘ خالہ نے کہا۔

’’خالہ۔‘‘ قاسم کے گلے سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی۔

’’تمہاری بیوی اور بچے کا خرچ مجھ پر ہے۔ تم ان سے آزاد ہو۔ تمہیں ہر مہینے پانچ ہزار جیب خرچ ملے گا۔ بس، زرینہ کا ہاتھ میرے حوالے کر دو۔‘‘

قاسم کے چہرے کی نسیں تن گئیں اور اس کا جسم پتھرا گیا۔ خالہ نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔

’’تم بھلے ابھی جواب مت دو۔ ایک دو دن ٹھنڈے دماغ سے سوچ بچار کرو۔ پھر جو تمہاری مرضی۔۔‘‘ خالہ نے نیند میں ڈوبی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’اب جا کر سو جاؤ۔‘‘

قاسم اپنے پتھرائے جسم کو ڈھو کر باہر نکل گیا۔ خالہ نے مسکرا کر زرینہ کو آنکھ ماری اور اسے قاسم کے پیچھے جانے کو کہا۔

قاسم جاتے ہی اپنے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ ہی دو تین دنوں تک خالہ والی بات چھیڑی۔

دو تین دن گزر گئے۔ قاسم دوپہر کا کھانا کھا کر باہر جانے لگا، تو زرینہ نے اس سے کہا، ’’سنو آج شام جلدی گھر آنا، کام ہے۔‘‘
’’کیا کام ہے؟‘‘ قاسم نے حیرت سے پوچھا۔
’’تم آؤ پھر بتاؤں گی۔‘‘

قاسم کچھ سمجھ نہیں پایا۔ بے چین دل میں اٹھتے نہ جانے کتنے سوالوں نے اس کا باہر رہنا محال کر دیا۔ شام ہوتے ہی گھر لوٹ آیا۔ زرینہ کمرے میں نہیں تھی۔ وہ بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد زرینہ کمرے میں اندر آئی، تو قاسم اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس نے اتنی سجی سنوری زرینہ اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پہلی بار زرینہ اسے اتنی خوبصورت لگی۔

’’اب کہو، اجازت دو تو خالہ کے ساتھ جاؤں؟‘‘ قاسم کا جسم ایک بار پھر پتھرا سا گیا۔

ایک لمحے کے لئے رک کر زرینہ نے کہا، ’’کیا کہتے ہو، تمہاری مرضی نہیں ہے، تو میں نہیں جاتی۔‘‘ زرینہ اس کی طرف دیکھتی رہی اور قاسم کی گردن جھک گئی۔ کچھ دیر کے بعد اس نے زرینہ کی طرف دیکھے بغیر ہولے سے کہا، ’’چلی جاؤ۔۔۔۔‘‘

زرینہ نے گردن موڑ لی۔ ایک طنز بھری مسکراہٹ کو ہونٹوں پر سجائے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: