امن, محبّت اور درگزر —– عبدالکریم رضی 

0
  • 53
    Shares

امن محبت اور درگزر کسی بھی معاشرے کے افراد کی انفرادی اور اجتمائی پہچان ہے یہ صفات معاشرے کا مثبت پہلو ہیں اور صد افسوس کہ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ فقدان ان ہی صفات کا ہے عدم برداشت کا بڑھتا ہو رحجان ہر آنے والے دن کے ساتھ تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے افسوس کہ ممبر و محراب، سیاسی راہنما، اساتذہ اور والدین معاشرے کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا نہ کر سکے۔

اسلامی نظریاتی معاشرے کی پہچان امن، محبت، درگزر اور بھائی چارے کا پیغام جو کہ سرور کونین حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص وصف تھا۔ آپؐ کے امن درگزر اور برداشت کے اس پیغام کی وجہ سے اس دنیا میں اسلامی انقلاب برپا ہوا۔

آپؐ نے لوگوں کو سلامتی کا درس دیا۔ لوگوں کو ان کے حقوق کے ساتھ ان کے فرائض سے بھی روشناس کروایا۔ آپؐؐ کا سب سے خاص وصف لوگوں کو ان کی زیادتی کے باوجود معاف کر دینا تھا۔ آپؐؐ کی زندگی کا اگر احاطہ کیا جائےتو دو سب سے نمایاں خوبیاں، ایک آپؐ کی امانت داری اور دوسری عفو درگزر ہیں۔ ان دونوں خوبیوں کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ آپؐ ؑ اخلاقیات کے اعلی ترین درجے پر فائز تھے۔اخلاقیات کا تعلق تعلیم شعور اور احساسات سے ہے۔ آپؐ ؑ کے اخلاق اور معاف کر دینے کی خوبی کی وجہ سے لوگ جوک در جوک دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ آپؐ ؑ نے لوگوں کو معاشرت سکھائی اور ان کو جینے کا سلیقہ سکھایا۔

درگزر کا یہ عالم تھا کہ آپؐ پر کوڑا پھینکنے والی خاتون جب بیمار ہوتی ہے تو اس کی تیمار داری کے لئے اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں اس سے زیادہ صبر اور درگزر کا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

آپؐ کی زندگی کا یہ واقعہ انتہائی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے آپؐ کے اس حسن اخلاق نے عرب کے لوگوں میں ایثار قربانی اور محبّت کا جذبہ پیدا کیا۔ اور نفرت کے بُت کو پاش پاش کر دیا۔

ذرا غور کریں کہ ہم پر اگر کوئی غلطی سے بھی کوڑا یا غلاظت پھینک دے تو ہمارا اس وقت رد عمل کیا ہو گا ہمارے جذبات اور احساسات کیا ہوں گے اور اگر کوئی جان بوجھ کر یہ عمل کرے تو اس وقت ہماری کیفیت کیا ہو گی۔ بڑھتے ہوے عدم برداشت کے رجحان میں اس طرح کا کوئی بھی واقعہ قتل و غارت کا باعث بن سکتا ہے۔ گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا تو ہمارے معاشرے میں معمول بن چکا ہے۔ ہم فرقہ پرستی ذات برادری مسلک اور مذہب کی بنیاد پر کسی دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں۔

معاشرے کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ پاکستان کے لوگوں کی اکثریت دوسرے لوگوں کے بارے میں حتیٰ کہ اپنے قریبی دوستوں اور عزیز و اقارب کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہم دو یا دو سے زیادہ لوگ محو گفتگو ہوں تو کسی تیسرے دوست یا جاننے والے کو موضو ع بحث بنائیں گے اس کی خامیاں تلاش کی جائیں گی اور اس کی گھریلو اور نجی زندگی کو اچھالا جائے گا۔

غیبت چغلی اور بہتان بازی کر ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ دوسروں کی برائیاں بیان کرنا عیب تلاش کرنا اور اپنے آپؐ کو متقی اور پرہیز گار ثابت کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔ جس معاشرے میں گالی گلوچ تکیہ کلام بن جائے تو وہ تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتا۔ ہر ایک مذہب معاشرے کو تہزیب سکھاتا ہے انسانیت کا درس دیتا ہے۔ انسانیت کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ہر مذہب کی بنیادی تعلیمات کا ایک باب ہے۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں ہمارا سب سے بڑا کردار یہ ہے کہ ہم خود اپنے اندر تبدیلی لائیں۔ اگر ہمیں تہذیب یافتہ بننا ہے تو تعلیم و تربیت اور اسلامی افکار کو اپنی زندگی پر نافذ کرنا ہو گا۔ اسلام کی اعلی اخلاقی اقدار کو اپنانا ہو گا نوجوانوں کی ذہنی و فکری اصلاح اور تربیت کی ضرورت ہے۔

عدم برداشت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک اہم کردار ہمارے علماء اور مولوی حضرات کا بھی ہے۔ ان علماء کرام کا ہمارے معاشرے میں بہت اہم مقام ہے اور وہ تمام قابل تکریم ہیں لیکن بہت ہی ادب اور معذرت کے ساتھ ان علماء کرام نے عوام کو ایسے مسائل میں الجھا دیا ہے جس سے معاشرے میں عدم برداشت نفرت اور نا پسندیدگی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

اس سے مراد ایسے فرقہ وارانہ موضوعات سے ہے جن کو بنیاد بنا کر ہم ایک دوسرے کو کافر، مشرک، گستاخ اور منافق جیسے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ مساجد میں اسی فیصد سے زیادہ انہی فرقہ وارانہ موضوعات پر خطبے دئیے جاتے ہیں اور تقاریر کی جاتی ہیں۔ کسی ایک فرقے سے تعلق رکھنے والا عالم کسی ایک موضوع کو لے کر کسی دوسرے فرقے کو جھوٹا ثابت کر رہا ہوتا ہے اور اپنے فرقے کو ہی صرف دین اور اسلام کے مطابق سمجھتا ہے اور سب علماء حضرات اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ

آپؐ نے فرمایا کے قرب قیامت تک اسلام میں بہتّر فرقے بن جائیں گے حالانکہ آپؐ نے اس کی صرف پشین گوئی کی ہے یہ نہیں فرمایا کہ تفرقے میں پڑو، بلکہ اس عمل کو نا پسند فرمایا ہے۔

ہمارے ہاں امام مسجد کو بہت اہم مقام حاصل ہے لوگ علماء مولوی حضرات اور ذاکرین کی بات کو حرف آخر سمجتھے ہیں ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں ان کی کی ہوئی باتیں اور دوسرے مسلک یا فرقے کے خلاف دئیے ہوے فتوے عوام کے دل و دماغ میں سرایت کر جاتے ہیں اور ہم کسی بھی غیر فرقے سے تعلق رکھنے والے انسان کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور ان کو جہنمی جب کہ صرف اپنے آپؐ کو ہی جنت کا حقدار سمجھتے ہیں

قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کہ اور تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

اگر ہم غور کریں کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی حکم عدولی نہیں کر رہے ؟

اور نبی اکرمؐ نے فرقہ واریت کو نا پسند فرمایا، تو کیا ہم نبی اکرمؐ کی پسند اور نا پسند کا خیال کر رہے ہیں یا ہم اپنی انا اور تفرقہ پرستی کی ضد پر قائم ہیں۔ ذرا سوچیے کہ کیا ہم اپنی انا کی تسکین کر رہے ہیں یا اللہ رب العزت کے حکم پر عمل کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی بھی دوسرے کلمہ گو بھائی کو کافر یا مشرک قرار دینا ہمارا اختیار ہے ہی نہیں۔ یہ تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ وہی دلوں کے بھید جانتا ہے۔ وہی معاف کرنے والا اور بہت بڑا مہربان ہے۔ وہی خوب پہچاننے والا ہے۔

ہم اپنے اعمال پر اتراتے ہیں ہم سب اپنے عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر ہمیشہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنت کا حقدار صرف میں اور میرے ہم خیال لوگ ہیں۔ دوسرے کسی بھی مکتب فکر کے ماننے والے جہنمی ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اور یہ سب ہمارے مولوی حضرات کا سکھایا ہوا وہ سبق ہے جو ہمارے دل و دماغ میں سرایت کر چکا ہے تو گویا اپنی اور دوسروں کی بخشش کا فیصلہ ہم ہی کریں گے۔

ہمارے دیہی علاقوں کی مساجد حتیٰ کہ بڑے شہروں میں بھی امام صاحبان صرف اور صرف ان ہی مضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جن سے عوام میں ایک دوسرے کیلئے نفرت کو ہوا ملتی ہے۔ لوگوں کی ایسی ذہن سازی کی جا چکی ہے کہ دو مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سگے بھائی بھی ایک دوسرے کو مسلمان تصور نہیں کرتے۔

تو ان حالات میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہماری سمت کیا ہے۔ ممبر و محراب کی ذماداری ملّت کو یکجا رکھنا تھا لیکن ان میں ایسی خلیج پیدا ہو چکی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

یاد رکھیں بروز قیامت ہم سے سوال نماز روزہ اور حقوق العباد کے بارے میں کیے جائیں گے۔ اور ہر انسان صرف اپنے اعمال کا جواب دے ہو گا کسی دوسرے کی زندگی اور اعمال کا حساب ہم نے نہیں دینا اس لئے کسی کی جنت اور جہنم کی بجائے اپنی جنت اور جہنم کی فکر کریں۔ کون کافر مشرک یا گستاخ ہو گیا ہے یہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑ دیں یہ صرف اسی کا اختیار ہے وہی بہتر جاننے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

حضورؐ نے ایک دعا امت کے لئے سنبھال رکھی ہے ہمارا ایمان ہے کہ حضورؐ دعا کریں اور کوئی کلمہ گو بخشا نہ جائے ایسا ناممکن ہے۔

ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانا ہو گی۔ نفرت اور عدم برداشت کے اس بت کو پاش پاش کرنا ہو گا۔ اپنے لہجے میں نرمی پیدا کرنی ہو گی۔ تکبر اور رعونت کو چھوڑنا ہو گا۔ اپنے اندر درگزر اور معاف کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہو گی۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ بنانا ہو گا۔ ہمیں درودیوار پر امن کا پیغام لکھنا ہو گا۔ بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کی سنت کو اپنانا ہو گا۔ ہمیں دلوں سے کدورتوں کو نکالنا ہو گا۔ امن اور درگزر کا دریا بہانہ ہو گا، نہیں تو نفرت اور عدم برداشت کا یہ دریا ہمیں بہا لے جائے گا۔

میری دست بدستہ علماء کرام اور معاشرے کے ہر فرد سے درخواست ہے کہ اللہ کی رسی کی طرف لوٹ آئیں۔ اپنے اندر تحمل اور برداشت پیدا کریں اور اپنے علم اور عمل سے معاشرے کی اصلاح کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: