رشتہ جوڑنا اور نبھانا دشوار کیوں؟ —– فارینہ الماس

0
  • 69
    Shares

ہمارے ملک میں شادی بیاہ کا رائج طریقہ –جو قابل تحسین اور بابرکت سمجھا جاتا ہے– دو خاندانوں کی باہمی کاوشوں اور رضامندی سے لڑکے اور لڑکی کو باہم جوڑنے کا بندوبست کرنا ہے، یعنی عرف عام میں ارینج میرج۔ خاندانی نظام میں شادی بیاہ کے اس روایتی طریقہء کار کو قابل تحسین اور پائیدار سمجھا جاتا ہے۔ عموماً رشتے جوڑنے کے اس طریقہء کار میں انتخاب کی شرائط مختلف النوع، کٹھن اور پیچیدہ ہوتی ہیں۔ دونوں خاندانوں کے بزرگوار، نوجوان اور اٹھکیلیاں کرتے نوعمر، سبھی کی رائے اس انتخاب میں اہم سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر جب بات بھابھی کے انتخاب کی ہو تو بڑی بیٹی، بیٹی کا شوہر، چھوٹی بیٹی حتیٰ کہ بارہ پندرہ سال کی سب سے چھوٹی بیٹی بھی جب تک ہونے والی بھابھی پر پسندیدگی کی مہر نہ لگا دے یہ بات ہنسی خوشی طے ہی نہیں ہو پاتی۔ بعض اوقات تو والدین کے سسرالی رشتہ دار بھی اگر اپنی رضامندی کا باقاعدہ اظہار کر چکیں تو ہی بات آگے بڑھتی ہے۔ مطلب والدین کے علاوہ دادا دادی، نانا نانی، پھوپھا، پھوپھی، تایا تائی، چچا چچی سبھی سے ان کی رائے لینا انتہائی اہم قرار پاتا ہے کیونکہ عام طور پر والدین رشتے ناطے طے کرتے ہوئے کسی کی بھی ناراضی کا خطرہ مول لینے کے روا دار نہیں ہوتے۔ اکثر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکے یا لڑکی کے والد کا کوئی ہر دلعزیز دوست یا والدہ کی کوئی قریبی سہیلی یا بہنوں جیسی ہمسائی بھی اس رائے میں اہم بنا دئیے جاتے ہیں۔ اور ان کی رائے کو بہت ہی انہماک سے سنا جاتا ہے جیسے ان سے بڑا جہان بین اور جہاں گرد اس پورے زمانے میں اور کوئی بھی نہیں۔ ایسا نقطہء نظر خاص طور پر لڑکیوں کے انتخاب کے سلسلے میں اپنایا جاتا ہے اور لڑکی کو انتخاب کے اس تکلیف دہ کٹہرے میں بار بار لا کھڑا کیا جاتا ہے۔

اس تمام تر سلسلے میں دونوں گھر والوں کی ترجیحات میں اپنے بچوں کے ذہنی رحجان یا عادات و اطوار، پسند و ناپسند کو جاننے اور سمجھنے کا کوئی ذکر، کوئی فکر کسی بھی مرحلے پر اہم نہیں سمجھی جاتی۔ اب بات کی جائے اس معیار یا سٹینڈرڈ کی جو عموماً رشتہ دیکھنے جانے سے پہلے ہی ہر اک کے ذہن میں طے پا چکا ہوتا ہے تو وہ ہے لڑکی کی عمر، حسن، چال چلن، ظاہری بول چال، گھر بار، جائیداد جو کہ متوقع جہیز کا تخمینہ لگانے کا باعث بنتی ہے۔ اور لڑکے کی نوکری تنخواہ، آمدن، گاڑی، گھر کا رقبہ۔ لڑکی اور لڑکے سے اس کی ترجیحات و خواہشات پوچھنا ایک بڑا جرم سمجھا جاتا ہے، شاید ایسا پوچھنے سے اجتناب کی وجہ وہ خوف بھی ہے جو والدین کو اپنی اولاد کی اس خواہش سے لاحق رہتا ہے جس کا اظہار وہ اپنی زندگی کے متوقع ہمسفر سے ملنے، اسے پرکھنے اور سمجھنے کا موقع پانے کے لئے کر سکتے ہیں۔ ایسی خواہش مکمل طور پر ہمارے روایتی خاندانوں کی عزت و ناموس کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔ سو انہیں مطمئن کردیا جاتا ہے یہ احساس دلوا کر کہ والدین ہی کا فیصلہ ان کے لئے درست اور افضل ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح والدین ہی اس رشتے کے لئے ذمے دار بھی ہوتے ہیں۔ جبھی تو شادی کے بعد جب اس رشتے کا تال میل اکھڑتا دکھائی دے۔ جب لڑکا، لڑکی سے بے زار اور لڑکی لڑکے سے ناخوش ہونے لگیں اور یہ تعلق اک بوجھ بننے لگے تو دونوں ہی خاندانوں کے بزرگ انہیں سختی سے یا نرمی سے، اپنی عزت و ناموس کا واسطہ دے کر، اس رشتے کو جوڑے رکھنے پر مجبور کئے رکھتے ہیں۔ اسے وہ ایک بہت ہی قابل قدر “سمجھوتے” کا نام دیتے ہیں۔ وہ سمجھوتہ جسے اب تاعمر نبھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس طرح جوانی کے اہم مہ و سال سے وابستہ ان کے خوابوں اور تمناؤں کو ان کے بزرگوں کے غلط فیصلے دیمک بن کر چاٹ جاتے ہیں۔

کہا یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں ارینج میرج کی کامیابی کی شرح77 فیصد ہے جب کہ محبت کی شادیوں کی کامیابی کی شرح محض 60 فیصد ہے۔ اس کی شاید اہم وجہ یہی ہے کہ خاندانوں کے جوڑے ہوئے رشتے کی لاج رکھنے والے اپنی خوشیاں اور آرزوئیں ایک مہان و مقدس “سمجھوتے” کو دان کر دیتے ہیں۔ ایسی شادیوں میں ذیادہ تر والدین لڑکے سے عمر اور تعلیم میں کم تر لیکن سگھڑ اور دلکش لڑکیاں ہی پسند کرتے ہیں۔ ایک تو ملازمت پیشہ لڑکی عموماً انہیں عیار، چالاک اور چال چلن کی کم تر دکھائی دیتی ہے۔ اور دوسرا وہ ایسی لڑکی کا انتخاب اسے سسرال کے دباؤ میں رکھنے کو کرتے ہیں۔ اب ایک معمولی پڑھی لکھی لڑکی جو معاشی طور پر خود انحصار بھی نہیں، اور اگر اس کے والدین بھی معاشی طور پر مضبوط نہیں تو لڑکی کے لئے نباہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ وہ ایسے نباہ پر مجبور ہوتی ہے خواہ وہ نباہ اس کے گلے کا طوق ہی کیوں نا بن جائے۔ ایسے جوڑے گئے رشتوں کے کچھ نقائص یہ بھی ہیں کہ ان میں والدین کا رشتے کرانے والوں کے ہتھے چڑھ جانے کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ جو عموماً ستر سے اسی فیصد جھوٹ ہی بول کر رشتوں کی سودے بازی کرواتے ہیں وہ جھوٹ جو بعد ازاں بھیانک طور پر سامنے آتے ہیں۔ ارینج میرج میں والدین رشتے جوڑتے ہوئے اپنے خاندان اور برادری کو فضیلت دیتے ہوئے اپنے بچوں سے عموماً نا انصافی برت جاتے ہیں۔ جو پڑھی لکھی لڑکی کو کم تعلیم یافتہ یا انپڑھ لڑکے سے یا اپنی عمر سے خاصے بڑے مرد سے زبردستی نباہ کرتے ہوئے بھگتنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات اس ناانصافی کا شکار خود لڑکے بھی ہوجاتے ہیں۔ جنہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ایک جاہل اور جھگڑالو بیوی سے خاندان کے دباؤ کی وجہ سے نباہ کرنا پڑتا ہے یا پھر اپنے خاندان کا وٹہ سٹہ نبھاتے ہوئے اپنی بہن کی خاطر قربانی دینا پڑتی ہے۔ ارینج میرج سے جوڑے گئے تعلق کے لئے مقرر کردہ اصول و قوائد اور ترجیحات کی ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کی کثیر تعداد اس معیار پر پورا اترنے سے رہ جاتی ہے اور گھروں میں بیٹھ کر رشتوں کا انتظار کرنے والی یہ خواتین اسی انتظار میں بوڑھی ہوجاتی ہیں۔

اب ذکر کرتے ہیں محض ساٹھ فیصد کامیاب رہنے والی شادیوں کا گو کہ یہ شرح ارینج میرج سے نسبتاً کم ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کی شادیوں کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ باہمی طور پر مزاج کو جاننے کا دعویٰ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے دونوں ہی نے شادی سے پہلے اپنے بارے میں بہت کچھ چھپایا ہو لیکن اس کے باوجود دونوں کا مزاج کسی نہ کسی نقطے پر باہمی اتصال کا حامل ضرور ہوتا ہے۔ ان کی سوچ و فکر کا معیار بھی کئی پہلوؤں پر یکساں ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات کہ وہ اک دوسرے کی کچھ خامیوں کے واقف کار بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اس تعلق اور پسند کے ذمے دار بھی ٹھہرائے جاتے ہیں اس لئے ان پر اس رشتے کو نبھانے کی ذمے داری بھی دوگنی ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ کہاں جنم لیتا ہے؟ ہمارے روایتی معاشرے میں یہ مسئلہ قبولیت کا ہے جو اس رشتے کو نا تو مجموعی طور پر معاشرے سے میسر آتی ہے اور نا ہی لڑکا اور لڑکی کے خود اپنے گھر والوں سے۔ اگر یکسر ان پڑھ، جاہلانہ روایات کے حامل غریب گھرانوں کے لڑکا لڑکی اس بندھن میں جڑ جائیں تو اس شادی کا نتیجہ سوائے موت کے کچھ نہیں۔ گویا ایسی صورت میں پلنے والے رشتے جلد ہی موت کی گہری کھائی میں دھکیل دئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے سالانہ پانچ ہزار قتل میں اکثریت پسند کی شادی کے کیسوں کی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے اکیسویں صدی کے پاکستان میں پڑھے لکھے لوگ بھی عموماً اپنے بچوں کی پسند کی شادی میں رکاوٹیں حائل کرتے ہیں اور اگر ایسی شادیاں انجام دینا ان کی مجبوری بن بھی جائے تو بعد ازاں ہر مقام پر ان دونوں کو بار بار اس فیصلے کی غلطی کا احساس دلایا جاتا ہے۔ ان کے ابتدائی مسائل کے حل میں ان کے مددگار بننے کی بجائے ان مسائل کو ان کی شدت تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس رشتے کے خاتمے کے فیصلے پر انہیں سمجھانے بجھانے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے یہ رشتہ سرے سے ہی بے جوڑ یا خدانخواستہ مکروہ تھا۔ بعض اوقات تو اس رشتے کو کمزور کرنے کے لئے گھریلو سازشوں کا جال بھی بچھایا جاتا ہے۔ لڑکی کو اس کی کسی نا کسی کمتری کا بار بار احساس دلا کر اسے مشتعل کیا جاتا ہے جو میاں بیوی کے باہمی جھگڑے کا سبب بن جاتا ہے۔ پسند کی شادیوں میں کیونکہ زیادہ تر لڑکا اور لڑکی کی تعلیم، جذبات و اطوار اورکبھی کبھی تو زریعہء معاش بھی یکساں ہوتے ہیں مطلب وہ ہم جماعت رہ چکے ہوتے ہیں یا ایک ہی جگہ ملازمت کر رہے ہوتے ہیں اس لئے ان کی انائیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جو انہیں اس متبرک سمجھوتے سے باز کئے رکھتی ہیں۔ شاید اسی لئے پسند کی شادیوں میں طلاق کی شرح ارینج میرج کی نسبت ذیادہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک حوصلہ افزا تبدیلی سیمی ارینج میرج کے طور پر سامنے آرہی ہے جو ان پہلی دونوں اقسام کی شادیوں کے نقائص سے نپٹنے کے لئے ایک بہترین متبادل ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کامیاب رہنے والی شادیوں میں ایسی شادیوں کی شرح 89فیصد ہے۔ یہ رحجان ہمارے پڑھے لکھے متوسط طبقے میں ابھر رہا ہے جہاں والدین اب سماج کی فرسودہ روایات کی پرواہ کئے بغیراپنے تعلیم یافتہ بچوں کو اپنی پسند اور ذہنی رحجان کے مطابق اپنا ہم سفر منتخب کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ وہ نا صرف اپنے بچوں کے کئے گئے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں بلکہ ان فیصلوں پر انہیں پر اعتماد اور ثابت قدم رہنے کی بھی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو ان کی خانگی زندگی میں آنے والی کٹھنائیوں میں اک دوسرے سے کنارہ کشی کرلینے کی راہ اپنانے کی بجائے، ان مسائل کو حل کرنے اور رشتوں کو احسن طریقے سے نبھانے کا سبق دیتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:  پاکستانی سماج اورعورت: کیا پسند کی شادی گناہ ہے؟ نجیبہ عارف

 

شادی ارینج ہو یا محبت کی یا پھر سیمی ارینج اس کی کامیابی کا انحصار فردکے خود اپنے آپ سے تعلق پر ہے۔ وہ تعلق یا relationship جو انسان کا اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اگر فرد اپنی ذات سے محبت کرتا ہے، اسے اپنی عزت نفس اور اپنی ذات کا خیال ہے تو وہ خود سے وابستہ اس دوسرے فرد کی بھی عزت نفس اور احترام نفس کا پورا خیال رکھے گا۔ اگر ہم اپنے خاندان، اپنے معاشرے، اپنے کلچر کے سکھائے ہوئے کے مطابق یہ سوچیں گے کہ شادی کا بندھن ٹوٹنا خود ہمارا ٹوٹ جانا، اس کی ناکامی خود ہماری زندگی کی ناکامی ہے تو ہم اس بندھن میں کبھی بھی خوبصورتی اور کشش پیدا نہ کر پائیں گے۔ یہ ہمارے لئے اک بوجھ اور دکھ بن کر رہ جائے گا اور ہم خود کو اس بوجھ اور کرب میں ہی مبتلا کئے اپنی عمر بیتا دینے پر مجبور رہیں گے۔ یا پھر جلد از جلد اس بوجھ سے چھٹکارہ پانے کے حیلے بہانے کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ 2005 سے 2008ءتک محض لاہور ہی میں طلاق کے 75000کیس رجسٹر ہوئے۔ ہر سال فیملی کیسز میں دس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ 2016 میں صرف پنجاب میں خلع کے 18 ہزار 901 مقدمات درج ہوئے۔

شادی سے پہلے کی پرکھ کبھی بھی سو فیصد معیار نہیں لے کر آئے گی۔ خواہ وہ لڑکا، لڑکی کی باہمی پرکھ ہو یا ان کے خاندان و والدین کی۔ اس کی سوفیصد پرکھ اس کے بعد کے حالات اور واقعات سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دونوں ہی طرف سے کچھ نا کچھ خواب ضرور ٹوٹتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ تمنائیں ضرور تشنہ رہ جاتی ہیں۔ بہت سی توقعات کا بھرم بھی چکنا چور ہوتا ہے۔ لیکن ایک حقیقت پسند انسان خود کو پہلے سے ہی اس سب کے لئے تیار رکھتا ہے۔ وہ یہ بات سمجھتا ہے کہ اگر ا س کی خواہشیں سو فیصد پوری نا ہوسکی ہیں تو لازماً اس کے لائف پارٹنر کے بھی کچھ خواب ٹوٹے ہوں گے۔ یہی سوچ انسان کو افہام و تفہیم کی طرف لاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا جاتا ہے ہم ایک دوسرے کی خامیوں کی بجائے اس کی خوبیوں پر شکر کرنے کی خو اپنا لیتے ہیں۔ ناکامی کا قصوروار نا تو ارینج میرج کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی محبت کی شادی کو۔ فیصلے تو دونوں صورت غلط ثابت ہوسکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اپنے فیصلے کا بوجھ فوراً اتاردینا ممکن ہے والدین کے غلط فیصلوں کو تقدیر کا لکھا مان کر سہارنا پڑ جاتا ہے۔ اگر بچے اپنا یہ فیصلہ خود لینے لگیں تو بڑوں کو ان کے اس فیصلے کی بھی قدر کرنی چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ آ ج کے پڑھے لکھے نوجوان پہلے سے کہیں ذیادہ حقیقت پسند اور ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ اب تعلیم ذیادہ ہے اور کم عمری کی شادیوں کی مثالیں کم۔ اس لئے شادی کے وقت لڑکا یا لڑکی ذہنی طور پر میچیور اور حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ والدین کی اخلاقی مدد یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کے فیصلوں میں کمزور نہ پڑنے دیں۔ انہیں ان کے فیصلے کی لاج نبھانے کا درس دیں۔ انہیں ہر طرح کے حالات سے نپٹنے کا حوصلہ اور ہمت دیتے ہوئے اس سمجھوتے کو خوبصورتی سے نبھانے پر راضی رکھیں۔ کیونکہ اس رشتے کے کمزور پڑجانے کے کہیں نا کہیں قصوروار والدین یا ان کی دی گئی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اس لئے چھوٹی چھوٹی باتوں پر یہ رشتے توڑنا بھی رشتوں کی بے حرمتی ہے اور خدا کی عدالت میں میاں بیوی کے علاوہ ہر وہ شخص جواب دہ ہو گا جو اس رشتے میں دراڑ کا باعث بنتا ہے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: