کیا سیکولرائزیشن واحد، فطری راستہ ہے —- اطہر وقار

0
  • 63
    Shares

بچپن میں، جب ہم کارٹون دیکھتے تھے، تو اس میں انسانی زندگی کو بہت Linear اور Black and White انداز سے، سادہ دکھایا جاتا تھا۔ جس میں ایک ہی قسم کے مناظر کو بیک گرائونڈ میں دھرایا جاتا تھا۔ اس طرح کمرشل فلموں میں بھی، انسانی زندگی سے جڑے واقعات میں، چنیدہ مکالمات اور مناظر کے ذریعے کہانی کو ایک خاص رُخ پر دکھایا جاتا ہے۔ بیشتر فلموں میں ایک ہی ہیرو ہوتا ، ایک اس کا دوست، جو کبھی اس کا غم گسار ہوتا اور کبھی روحانی استاد mentor کی طرح سرگرم ہوتا۔ اس طرح ایک ولن ہوتا جس کی شخصیت میں تمام یا بیشتر انسانی برائیوں کو جمع کیا جاتا، تا کہ فلم کے آخر میں اس کے بُرے انجام کو Justify کیا جا سکے۔ لگتا ہے کہ ہمارے لبرل اور سیکولرز طبقے، اہل مذہب اور فی نفسہ مذہب (بالمفہوم دین) کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔

ایسا ہی رویے کا حامل، ایک آرٹیکل محترم مجاہد حسین خٹک صاحب کا پڑھنے کا موقع ملا۔ جس میں مذہبی اور دینی روایت کی سیکولرائزیشن کے حوالے سے ایک رائے عجلت میں اختیار کی گئی۔ اُن کے خیال میں، مغربی انسان ایسے دور سے گزرا ہے، جب اہل مذہب چرچ کے ادارے کو پادریوں اور پوپ کے ذریعے استعمال کر کے، انسانوں پر ظلم و ستم ڈھاتے تھے، حتیٰ کہ ان کے عقلی افکار و اعمال اور سائنسی مشاہدات اور تجربات پر قدغنیں لگایا کرتے تھے۔ لیکن پھر انسان جب بالغ فکر ہوا، تو اس نے مذہبی اصلاحی، اور سیاسی تحریکوں کے ذریعے مذہبی اتھارٹی کا دائرہ کار سمیٹا اور عام انسان کو ترجیح اول بناتے ہوئے سیکولرلائز کیا، زیادہ Empower کیا اور بااختیار بنایا۔ سیاست اور سیاسی طاقت کو مذہب اور مذہبی اداروں سے علیحدہ کر کے سیکولرائز کیا گیا۔ یوں عوامی زندگی میں مذہب کا کردار محدود تر، متعین اور غیر متعلق ہوتا چلا گیا۔

لیکن کیا واقعتاً مغربی انسان اس انداز سے سیکولرائز ہوا ہے؟ کیا مغربی انسانی معاشرے سیکولرائزیشن کی تاریخ اس قدر سادہ ہے؟ کیا مغربی انسان کی سیکولرائزیشن کوئی فطری راستہ ہے، جس پر چلنا لامحالہ دیگر مذاہب کے پیروکار اور معاشروں میں بسنے والے انسانوں کے لئے ضروری کر دیا گیا ہو؟ اور سب سے بڑھ کر کیا، واقعتاً، مغربی انسان کے پاس نشاۃ ثانیہ کے آغاز میں، سیکولرلائز ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ (Take) موجود نہیں تھا جس میں، وہ سیکولرائزیشن یا ہیومینزم سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کرتا؟

یہ ایسے اہم سوالات ہیں جس میں پوسٹ ماڈرنٹی عہد کے مغربی ماہرین سماجیات گزشتہ کئی سالوں سے غور کر رہے ہیں اور انیسویں صدی کے ماڈرن ازم کے پرستار ماہرین سماجیات (آگسٹ کوسٹے اور ڈومائم) کے وضع کردہ مفروضات سے بالکل الگ رائے اور راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر سیکولر حضرات انیسویں صدی کی Linearity اور فلموں اور کارٹونوں جیسی سادگی پر ایمان لاتے ہوئے، تاریخی نمو اور بلوغت کے مفروضوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے سیکولرائزڈ خوابوں کا جہاں ابھی بھی آباد ہے۔ جسے خود مغرب 1960 کی دہائی میں اپنے پائوں تلے روند آیا ہے اور اب پوسٹ ماڈرن عہد کے سماجی مفکرین زبردست طریقے سے انیسویں صدی کے سماجی اور سیکولر تصورات پر تنقید کر رہے ہیں، اور سیکولرلائزیشن کی سرگرمی کی سادہ اور cherry picking تفہیم اور تاریخی تناظر کو مسترد کر رہے ہیں، جسے ہمارے لبرلز تعویذ کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں۔

محترم مصنف کا دعوٰی ہے کہ پاکستان میں مذہب بمفہوم سیاسی اسلام یا دین، کمزور پڑ رہا ہے… لیکن، اس بدلتے تناظر میں، یہ جانتا اہم ہے کہ وہ کونسا تصور مذہب ہے جو کمزور ہو رہا ہے۔ مدہم اور معدوم ہو رہا ہے؟ بلاشبہ، سیاسی اسلام یا مذہب کا سیاسی تصور، جدید شہری معاشرت سے Relevant نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں اہل مذہب اثر پذیر تو ضرور ہیں، لیکن متعلقہ یا Relevant نہیں رہے۔ اس کے برعکس سیکولرز غیر مئوثر ہونے کے باوجود بھی، سیکولر اقدار کو لمبے عرصے تک تعلیمی نظام اور ثقافتی مظاہر کو فروغ دینے کی وجہ سے Relevant بھی ہیں اور با اختیار بھی۔ …. لیکن ان سب مسائل کے باوجود بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانی معاشرہ، مغربی طرز کے سیکولرازم کی طرف بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس طرح سادگی کے ساتھ سوچنا اور سمجھنا، ازکار رفتہ اور انیسویں صدی کے سماجی ماہرین کی فرسودہ Reduction Stories پر یقین رکھنے اور انہیں تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو کارٹون اور کمرشل فلموں جیسی سادگی پر مبنی ہیں، جس کے تحت، یہ مفروضہ قائم کیا گیا ہے کہ کوئی بھی انسانی معاشرہ فطری طور پر مذہب سے سیکولرائزیشن کی طرف بڑھتا ہے، اور کوئی آپشن نہیں ہے….

پاکستانی معاشرے کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک بہت بڑے Transformation میں سےگزر رہا ہے۔ جس میں ہر معاشرتی گروہ، چاہے مذہبی ہو یا لبرل، اپنے اپنے تصورات، معیارات اور نظریات کو خود احتسابی کے لیے پیش کرنے کے لیے طوعاً و کرہاً مجبور کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے، اہل مذہب میں سے سنجیدہ طبقے سوال اٹھانے لگے ہیں کہ بیسویں صدی میں استوار کی گئی دین اسلام کی محض سیاسی تعبیر، ہماری دینی روایت کی جامعیت اور تہذیبی تناظر کے تسلسل کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ پس ہمیں اسلامی تصور جہاں کے مطابق، ایسے جدید علم الکلام کی ضرورت ہے۔ جو علم کے تمام معتبر شعبہ جات میں مغربیت کی طرف سے عائد کردہ فکری و علمی چیلنجز کا جواب دے سکے۔ یہ ایک طرح سے سیاسی اسلام سے، دینی روایت اور تہذیبی تناظر پر مبنی تصور دین کی طرف سفر ہے۔ اس میں اگر لمحہ موجود میں کوئی عارضی پڑاؤ، خود احتسابی کے حوالے سے آتا بھی ہے تو اسے مذہبی تصور جہاں کا زوال نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے برعکس مذہبی تصورات لامحدود وسعتوں میں، اپنے پیغام کے مفہوم کے لحاظ سے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ اب پاکستان کے مذہبی طبقات بتدریج محسوس کر رہے ہیں کہ تفہیم مغرب اور سیکولر سٹڈیز، دین اسلام کو دور حاضر میں Present کرنے کے لیے ناگزیر ضرورت ہیں۔ اب اس قدر انقلابی اور فکری تبدیلیوں کے جلو میں، روایتی سیاسی اسلام کی کوئی تاویل یا تعبیر کمزور پڑتی بھی ہے تو کیا غم ہے!!

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سیکولرزم کی مقدس و بے نیاز گائے: سلمان آصف

 

محترم مجاہد صاحب کی یہ بات پڑھ کر بہت حیرت ہوئی اور لطف بھی آیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سعادت صرف سیکولر طبقے کو نصیب ہو رہی ہے، کہ پاکستان میں جہاں بھی ظلم ہوتا ہے، اس کے خلاف یہی لوگ آواز اٹھاتے ہیں۔ کاش یہ بات حقیقت ہوتی، کاش پاکستان میں کوئی ایک لبرل ارون دھتی رائے جیسا ہوتا، جو اقلیتوں کے ساتھ ساتھ، عافیہ صدیقی کے لیے بھی آواز بلند کرتا، کاش ہود بھائی کو اتنی توفیق نصیب ہوتی کہ وہ قبائلی ڈرون حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے لیے بھی اظہار افسوس کرتے اور مذمت کرتے، کاش ماروی سرمد کو لال مسجد بحران کو برُے طریقے سے ہینڈل ہونے پر، مذمت کرنے کی توفیق ملتی۔ کاش کوئی لبرل حلقوں میں، کوئی ایک قاضی حسین احمد جیسا بھی ہوتا، جنہوں نے بُرے وقت میں سیکولر اخبار فرنیٹئر ٹائمز کے مدیر کو سہارا اور پناہ دی تھی، جب اُن کے اپنے سیکولر دوست بھی، اُن کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ لہٰذا اتنا بڑا دعویٰ ثبوتوں کا متقاضی ہے۔ ورنہ حق تو یہ ہے کہ پاکستان کے لبرل اور سیکولر حلقوں نے صرف اُس وقت مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی ہے جب اس سے سیکولر ایجنڈے کو تقویت ملتی ہو یا مالی امداد کی کوئی صورت نکلتی ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: