کوئی تو ہو۔۔۔۔ ایک خود کلامی —- سحرش عثمان

0
  • 51
    Shares

ہم پاکستانی بھی نا ویسے عجیب ہی قوم ہیں، ایک مہینہ سردی آتی ہے اور تین پیٹیاں ماؤں نے رضایئوں کی بھر رکھی ہوتی ہیں۔ باقی کے گیارہ مہینے انہیں دھوپ اور چھاؤں لگوانے میں ہی لگے رہتے ہیں۔ اس بھی عجیب سنیے، دس دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور ہر کمرے میں اے سی لگوا رکھاہوتا ہے ہم نے چلیں یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دس بارہ گھنٹے آبھی جاتی ہےبجلی۔ لیکن___ پورا گھر فلی کارپٹڈ ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارہ چودہ چارپائیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ دختر نیک اختر کو سلائی کے نام پر سوئی میں دھاگہ سیدھا ڈالنا نہیں آتا۔ ساری عمر درزی سے میچ ڈالتے گزرتی ہے اور جہیز میں چھ فنکشنز والی سلائی مشین دی جاتی ہے۔

سادگی پر چھ گھنٹے طویل لیکچر دینے کے بعد امیاں دعوت پر چھ سات آٹھ کھانے بنانے کا حکم نامہ جاری کرتی ہیں۔
جہیز ایک لعنت ہے پر طویل مضمون لکھنے کے بعد کہتے ہیں جو دیں گے اپنی بیٹی کو دیں گے۔
اور نصیب اچھے ہونے کی دعاوں میں رب پر “توکل” کے پرچار کےساتھ بڑا سا حق مہر بھی لکھوا لیتے ہیں۔ ۔ ۔ اجی کل کلاں کو کچھ ہو گیا تو کوئی تو ڈر خوف ہو۔

کرپشن ختم ہو سب کا احتساب ہو ہر چور ڈاکو کرپٹ غنڈہ سزا پائے بس مجھے قطار میں نہ لگنا پڑے۔ ۔ میں دن میں بلا ضرورت چراغاں کیے رکھوں، موٹر چلا کے پانی اور کمپریسر چلا کے گیس ضائع کروں تو کیا بل بھی تو آتا ہے۔
میرے گھر کے سامنے کوڑا مجھے اچھا نہیں۔ لگےگا البتہ گلی کی نکر پر ڈھیر جمع ہوتا رہے میری بلا سے۔

یہ بھی پڑھئے: سچے رشتوں کی جھوٹی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

 

مجھے اور میری جنس کو برابر کا حق دو کم تر ہو نہ حاوی ہو عورت کا حق مساوی ہو___ پر بس میں مجھے دیکھ کہ کھڑے ہوں لوگ۔ ۔ مجھ سے پبلک پلیسز پر انکوائریز نہ کی جائیں۔
بھئی جنس مخالف میں کشش فطری ہے لہذا میرا سب کو گھورنا ہر قسم کے تعلقات بنانا جائز ہے پر خاتون اس معاملہ میں چاند ہو اور یہ کشش کشش ثقل۔
اور افسوس میری بھولی قوم نے دوہرے معیاروں والا کیا دوغلا مزاج پایا ہے۔ جو پابندی ہے وہ اوروں کے لیے اور جو سہولت یے وہ میرے لیے مختص کردی جائے تو بات بنے۔

ہم۔ چاہتے ہیں زندگی سجی سجائی بنی بنائی پلیٹ میں رکھ کے کوئی پیش کر دے اور ہم شکرییے کے ساتھ بلکہ شکرییے کہ بغیر ہی قبول کر کے ساری جنتا پہ احسان عظیم کر دیں۔
میرے سارے حق تو پورے کیے جائیں پر کسی فرض کی زنجیر سے ہم نہ جکڑے جا-یں۔

تو ایسا ہے کہ مجموعہ عجائب ہی ہم۔
اور المیہ یہ کہ احساس بھی نہیں۔
ویسے اگر کبھی المیوں کی فہرست مرتب کی گئی تو سب سے بڑا اور پہلا المیہ یہ ہی ہوگا کہ ہمارا احساس زیاں کھو گیا ہے۔
تہذیب کھونے کا زیاں۔
انسانیت گم ہوجانے کا نقصان۔
رشتے توڑنے کا ان کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا نقصان۔
اعتبار یقین کھونے کا۔
عزت جانے کا نقصان۔
اور ان سب نقصانات پر احساس زیاں نہ ہونے کا المیہ۔

جب جب سماج کی بات کرتی ہوں تو ایسا نہیں ہے عقل و شعور کے کسی عظیم سنگھاسن پر براجمان ہوکر کسی دانشور و فلسفی کی طرح نشاندہی کرتی ہوں۔ میں ہمیشہ اس سماج کا حصہ بن کر لکھتی ہوں اس کی خوبیاں اور خامیاں خود میں تلاش کر کے کہ تنقید کرتی ہوں کہ میں خود بھی اسی قوم اسی سماج کا حصہ ہوں۔ اور بہت عجیب بھی۔

لیکن کچھ دنوں سے بڑی شدت سے احساس ہورہا ہے کہ میں کچھ زیادہ عجیب ہوں اور یہ صرف میں نہیں ہوں میرے جیسے کئی دوست ہیں جو بہت عجیب ہیں۔ سوشل میڈیا کی زباں میں کہوں تو جن کا کوئی “نظریہ” ہی نہیں ہے۔ جو نہ تو کسی کے مرنے پہ خوشیاں مناتے ہیں نہ جنت اور جہنم کے ٹکٹس تقسیم کرتے ہیں۔ جن کو عاصمہ جہانگیر کا جنازہ بھی جنازہ لگتا ہے اور ایدھی کا بھی۔ جو بعد از مرگ نہ لاشوں کے ایمانوں کے فیصلے کرتے ہیں نہ قبروں سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔
ہم اتنے عجیب ہیں کہ بعد از مرگ جناح کے ایمان و عقیدہ اور ڈگری کی جانچ پڑتال کرنے والے گروہوں سے یکساں بیزار ہیں۔
اتنے عجیب کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ کے سٹیٹ فینرل کی تحریک چلاتے ہیں اور مولانا سمیع الحق کے جنازے پر رب کی امانت اسے لٹانے کے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ہم اتنے عجیب ہیں کہ شوال کے مدرسے کے بچوں اور اے پی ایس کے بچوں میں تقسیم تفریق ہی نہیں کرتے۔ دونوں جگہوں پر مارنے والے کو قاتل جہان فانی۔ سے کوچ کر جانے والوں کو شہید معصوم اور بے جرم مارے جانے والے سمجھتے ہیں۔ چاہے قاتل کا کھرا کہیں بھی نکلتا ہو ہم نہ صرف اسے قاتل سمجھتے ہیں بلکہ برملا کہتے بھی ہیں۔
اتنے عجیب کے جب کوئی مر جائے تو ہمارے اندر کا گدھ نہی جاگتا۔

عجیب پن کی کوئی حد ہوتی تو شائد ہم پر ختم ہوتی۔ کہ میں کسی بھی شخص کو روتا ہوا دیکھ کر خوش نہیں ہوسکتی۔ چاہے وہ کیسا ہی مجرم کیوں نہ ہو۔ میرے دل میں ایک بار ہمدردی جاگتی ہے۔
میں لوگوں کو کینسر و ایڈز ہونے پر شادیانے نہیں بجاتی ڈر جاتی ہوں بری گھڑی بڑے وقت کے آجانے پر۔ بجائے خوشیاں منانے عافیت کی طلبگار ہوجاتی ہوں۔
کوئی شخص کیسا ہی مجرم کیوں نہ ہو جب وہ روتا ہوا سامنے آجائے میں اپنی حد تک اس کے جرائم کا تذکرہ ختم کر دیتی ہوں۔ کیونکہ وقت کے پھیر میں آئے ہوئے شخص کو مزید کٹہرے میں کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ مجرم کو سزا دینے کی قآئل نہیں۔ لیکن جب کوئی پہلے سے سزا بھگت رہا ہو تو کیا ہم اپنی ججمنٹس ہولڈ نہیں کرسکتے؟
حتی کہ جب کوئی رب کے دین پر اپنی زبان دراز کرتا ہے تب بھی تب بھی اس کے قتل پر جی آمادہ نہیں ہوتا۔ مجھے وہ لازوال الفاظ یاد آجاتے ہیں
جو لہولہان قدموں والی بات نے اپنے ہی لہو کو زمیں پر گرتے دیکھتے ہوئے کہے تھے۔
کہ “شائد ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں سے کوئی اسلام قبول کرلے اور رب کے دین کا کام کرے۔”
جب کوئی لائین کراس کر نے لگتا ہے تو میرا جی چاہتا ہے کوئی ہو۔ ۔ ۔ جو آگے بڑھ کہ ہاتھ تھام لے اس کا گلے لگا لے کہ اس عارضی دنیا کے مسائل اور نا انصافیاں رب کا اصول و منشا نہیں۔ آؤ اس کی طرف لوٹ چلتے ہیں۔ آؤ اس کی مدد سے اس کی رضا سے نصرت طلب کرتے ہیں۔ ناانصافی کے خلاف لڑتے ہیں۔
لیکن ایسا ہوتا نہیں____کیونکہ ایک عجیب شخص کے خیالات دیوانے کی بڑ تو ہوسکتے ہیں حقیقت نہیں۔

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں
میرا یہ بھی جی چاہتا ہے کوئی جو رب کے حبیب صلی علیہ وسلم کی ناموس پر سوال اٹھائے اس سے بات کرے کوئی کوئی تو ہو جو جا کہ اس شخص کو وحشی کی وحشت اور فاتح کی معافی دکھائے۔ کوئی تو ہو جو ہندہ کے کلیجہ چبانے سے معاف ہوجانے کے درمیان جا ٹہرائے ایسے شخص کو۔
کوئی تو ہو جو میری جنس کو یہ بتائے اس معاشرے کی مردانہ تشریحات میرے رب کا دیں نہیں۔ اس کو بتائے رب کے لیے تم ادنی مخلوق نہیں۔ کوئی ان واقعات کی تشریح بھی کرے جب جب رب نے زمیں پر محبت اتاری محبت کی تشریح کی محبت کا حوالہ دیا سکون اتارا تو مثال ہماری دی۔ ہم زمیں پر رب کی۔ محبت کا حوالہ ہیں ایسا مقام کمتر کو تو نہیں ملا کرتا۔ کوئی امام زماں ہی ہو جو رب سے ناراض برسر پیکار یا الجھے ہوئے لوگوں کو بتائے اللہ ہے بس پیار ہی پیار پیار کے اس کا نہیں شمار۔
کوئی تو انہیں بتائے اس سے لڑ کے دیکھا ہے اس لڑائی کا انجام نہیں ملتا نہ سرا۔
اس لڑائی میں ہار جیت بھی نہیں ہوتی۔ بس بے سکونی ہوتی ہے مسلسل بے سکونی۔ دنیا کے معیارات پہ پورا اترنے کی مسلسل دھن اور اس دھن کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اسی کے فرمان سچے فرمان کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔ کہ ہوس کا منہ صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔
ہوس چاہے کسی کی ہوں پیسے کی شہرت کی اس کے بندوں کو نیچا دکھانے کی یا خودنمائی کی۔

الجھی سی اس خود کلامی کا کوئی انجام نہیں۔
میرے اندر کا امید پرست جاتے جاتے ایک نظم سنانا چاہتا ہے۔ خواہش نما نظم

اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے

کوئی تو آۓ خزاں میں پتے اُگانے والا
گلوں میں خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے

کوئی تو آۓ نئی رتوں کا پیام لے کر
میری نگاہوں سے بات کرنا کوئی تو سیکھے

کوئی تو آۓ اندھیریوں میں چراغ بن کر
اندھیری راتوں میں چاند بننا کوئی تو سیکھے

کوئی پیمبر، کوئی امامِ زماں ہی آۓ
اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: