نئے چراغ، فارس مغل، سیمیں کرن ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 102
    Shares

ادب میں ہمیشہ نئے لکھاری آتے رہتے ہیں۔ انہی نئے مصنفین اور شعراء سے ادب کا چمن گلزار بنتا ہے۔ فارس مغل بھی ایسا ہی ایک روشن چراغ ہے۔ جس کا پہلا ناول ’’ہمجان‘‘ ایک انوکھے موضوع پر بے مثال تخلیق ہے۔ دوسو چوبیس صفحات کا ناول ماورائے صوری و معنوی حسن سے آراستہ شائع کیا ہے۔ عمدہ کاغذ پر بہترین پرنٹنگ کے ساتھ شائع شدہ ناول کی قیمت چھ سو روپے بھی مناسب ہے۔

مشہور شاعر اور ناول کے پبلشر خالد شریف کہتے ہیں کہ ’’فارس مغل کا قلم معجزے تخلیق کرتا ہے۔ وہ نثر میں شاعری کرتا ہے، وہ ایک خوابناک ماحول تعمیر کرتا ہے اور اُس میں زندگی کرنے راہیں نکالتا ہے۔ ہمجان ایک غنائیہ ہے، ایک تاثر، ایک رپور تاژ، ایک نظم یا پھر ایک نغمہ ہے جسے فارس مغل نے دھنک کے رنگوں سے سجایا ہے۔ ’ہمجان ‘کا ڈکشن فارس مغل کی ایجاد ہے جو اس سے پہلے ناول کی صنف میں نہیں برتی گئی۔ ’ہمجان ‘کو پڑھتے ہوئے ایک خوش کن فرحت کا احساس ہوتا ہے جیسے ٹیولپ کے کھیت سے ہوا کی لہریں گنگناتی ہوئی گزر رہی ہوں۔ ’ہمجان‘ کو پڑھنا ایک مختلف تجربہ ہے عام نثری روایت سے بالکل مختلف یہ مستقبل کا ناول ہے جسے آج لکھ دیا گیا ہے۔‘‘

محمود ظفر اقبال ہاشمی نے ناول کے بارے میں لکھا ہے کہ ’ہمجان‘ درد اور محبت کے رسم الخط میں دنیا کے سب سے خاص لوگوں پر لکھا ہوا ایسا مسحور کن ڈسکورس ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ادراک ہوتا ہے کہ اسے کسی ناول نگار نے نہیں بلکہ ایک سخنور نے نثری بیانیہ کے جلو میں قُرب اور کرب پر لکھی پُر اثر نظم کی چھوٹی بڑی سطروں کو طلوع کرتے ہوئے تخلیق کیا ہے یا پھر کسی طبیب یا ماہر ِنفسیات نے برسوں پر محیط تحقیق و مشاہدے کے بعد یہ گیان پانے کے بعد تخلیق کیا ہے کہ محرومِ وفا لوگ کیا اور کیسے سوچتے ہیں۔ ناول کے مطالعے کا تجربہ کسی ایسی سپر ہٹ فلم کی طرح لگتا ہے جسے پلکیں جھپکائے بغیر دیکھا جاتا ہے۔ ناول کی بُنت جتنی بل دار اور گنجلک ہے اتنی ہی دلچسپ ہے۔ فارس مغل سخن وری، افسانہ نگاری اور تنقید نگاری سے صدیوں پہلے ایک ناول نگار تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہمجان پڑھئے اور سر دھنئے۔ اس کے مطالعہ کے بعد اردو ادب کے فلک پر تیزی کے ساتھ ہلال سے چودھویں کے چاند میں ڈھلتے فارس مغل کا بھر پور استقبال کیا جائے گا کہ اردو ادب میں معیاری اور کلاسیکل ناول نگاری کی جو تعریف و توضیح ہے وہ یہی ہے۔‘‘

مشہور اور منفرد ناول و افسانہ نگار آغا گل ’فارس مغل اکیسویں صدی کا ابھرتا ہوا ناول نگار‘ کے نام سے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ فارس کا ناول ’ہمجان‘ ایک نہایت ہی مشکل تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ جسے نبھانا خاصہ دشوار تھا جس طرح اساتذہ شعوری طور پر سنگلاخ زمینوں میں غزلیں کہہ کے لوہا منواتے ہیں بعینٰہ فارس مغل نے بے حد مشکل ڈکشن اور تھیم میں نہایت ہی فلسفیانہ انداز میں محبت اور لطیف جذبوں کی ماہیئت بیان کرتے ہوئے کہانی کو آگے بڑھایا ہے تا ہم نہایت چابکدستی سے ناول کو رومانس سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ناول میں اردھانگنی کا ہندی فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد عورت کو باہم جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ یونانی فلسفہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ مرد عورت کو کاٹ کر الگ الگ پھینک دیا گیا جونہی وہ سامنے آتے ہیں جڑت کو بیتاب ہو جاتے ہیں۔ ناول کے دونوں ہیروز ارمان اور غفران تصوف کی اصطلاح میں فنا سے گزر جاتے ہیں ’تومن شدی‘ والا فلسفہ چل نکلتا ہے۔ اسکے تخیل اور کرداروں میں ایک طاقتور دیوی سامنے آتی ہے۔ یہ معذوری کی دیوی ہے۔ ‘‘

ادب وفن کے ان مستند استادوں آراء سے یہ واضح ہے کہ فارس مغل اردو ادب کا نیا روشن چراغ ہے۔ جس کی روشنی نے اگلے کئی عشروں تک ادب کی راہگذر کو چراغاں کرنا ہے۔ انہوں نے ابتدا ہی ایسے منفرد اور انوکھے موضوع پر قلم اٹھا کر اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ جبکہ ان کا دوسرا ناول ’سو سال وفا‘ بھی بلوچستان کے مسئلے پر لکھا گیا بہترین ناول ہے۔ فارس مغل جسمانی معذوری کو معذوری نہیں سمجھتے اور اپنے کرداروں کے ذریعے یہی پیغام عام کرتے ہیں۔ ’سو سال وفا‘ کی ہیروئن بینائی سے محروم ہو کر بھی حوصلہ مند ہے۔ جبکہ ہمجان کامرکزی کردار ویرا قوت سماعت سے محروم اور لپ ریڈنگ کی ماہر ہے۔ غفران کی پہلی محبت نرمین بھی ایک معذور لڑکی ہے۔ جس کی جدائی پر غفران خود بھی اسی قسم کی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کرداروں کے سنگم سے فارس مغل نے ایک ایسا مونتاج تشکیل دیا ہے جو قاری کو مسحور کر دیتا ہے اور سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ حقیقت اور خواب کے امتزاج سے تشکیل شدہ بیانیہ ایک ایسے تحیر کو جنم دیتا ہے کہ ناول ختم کرنے کے بعد بھی قاری اس کے سحر سے نکل نہیں پاتا۔ کہانی اور اس کے کرداروں کے بارے میں نت نئے نظریے قائم کرتے رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔

ناول کا پہلا باب ’محبت کے رخسار پر لکھی کہانی‘ اس کا مجموعی تاثر ڈیڑھ صفحات میں پیش کر دیتی ہے۔ ’’صبح کی تازہ ہوا میں پھولوں کی مہکار شامل تھی۔ ایک خوبصورت پنک گلاب دینا، نابینا نوجوان نے پھول والے سے کہا۔ دکاندار کے پاس پنک گلاب نہیں تھے۔ اس نے نابینا گاہک کو سرخ گلاب پنک کہہ کر تھما دیا۔ بس اسٹاپ پر نوجوان نے حسین لڑکی کو سرخ گلاب یہ کہہ کرپیش کیا ’اب تم اپنے اس پنک لباس کے ساتھ یہ پنک گلاب اپنی زلفوں میں لگاؤ گی تومجھے یقین ہے کہ مزید خوبصورت دکھائی دو گی۔ لڑکی کو پھول دیکھ کر حیرت ہوئی۔ وہ سمجھ گئی کہ پھول والے نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ وہ غصے کو پی گئی اور بولی یہ تو بے انتہا خوبصورت پھول ہے۔ بالکل میرے لباس جیسا۔ آئی لو یو۔‘‘

اس سارے واقعے میں بہت کچھ کہی ان کہی کہہ دی گئی۔ لوگوں کی دھوکہ بازی، پیار کرنے والوں کے جذبے کی حوصلہ افزائی۔ ویرا کو یہ کہانی بہت پسند تھی۔ ناول کے چار مرکزی کردار ہیں۔ ویرا، اس کی بہن شیزا، ارمان اور غفران جبکہ ذیلی کرداروں پروفیسر، ماجد، ڈاکٹر قدرت علی اور نرمین کہانی کو آگے بڑھانے کا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ تصویروں کی ایک نمائش میں پروفیسر سے ویرا کی ملاقات ہوتی ہے۔ جو اسے بتاتا ہے کہ ہرشخص کی طرح تمہارا بھی ہمجان ہے۔ جو تمہیں جلد ملے گا۔ وہ اس کی چند نشانیاں بھی ویرا کو بتاتا ہے۔ لیکن ان نشانیوں کے مطابق ملنے والا ہمجان اس کی نظرں کے سامنے حادثے کو شکار ہو کر مر جاتا ہے۔ یہیں سے حقیقت اور خواب کی ایک انوکھی داستان شروع ہوتی ہے۔ سماعت سے محروم ویرا کی سب کچھ اس کی بڑی بہن شیزا ہے۔ جو اس پر بہت اعتماد کرتی ہے۔ محبت کی پہلی دستک ماجد ایک تقریب میں ویرا کے دل پر دیتا ہے۔ ویرا اس کے نام اپنی پوری زندگی کرنے کو تیار ہے۔ لیکن بہت جلد اسے یہ علم ہو جاتا ہے کہ وہ محبت نہیں ہوس کا پجاری ہے۔ ناول کا دوسرا باب یہیں پر ختم ہو جاتا ہے۔

’عشق کی پہلی بارش‘ ناول کا تیسرا باب ہے۔ جو دو سال سے نا معلوم بیماری میں مبتلا معذور غفران اور نو ماہ سے اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر قدرت علی کی بات چیت سے شروع ہوتا ہے۔ ڈاکٹر غفران سے اس کی معذوری کی وجہ جاننا چاہتا ہے۔ جس کے لیے اسے اموشنل بلیک میل بھی کرتا ہے۔ اور غفران ایک فائل ڈاکٹر کے حوالے کرتا ہے۔ جس میں وہ لکھا ہے جو وہ زبانی نہیں بتا سکتا۔ یہ غفران اور نرمین کی ایک انوکھی پریم کتھا تھی۔ نرمین ایک معذور امیر لڑکی تھی جو غفران کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ جو اپنوں کے ستم کا شکار ہے اور کسی کے پیار کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن غفران کا سچا پیار نرمین کو اپنی کہانی سنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ پندرہ سال کی عمر تک نارمل تھی۔ لیکن عضلات کی موروثی بیماری سے رفتہ رفتہ وہیل چیئر پر آ گئی۔ جسمانی معذوری کا شکار فردکے احساسات کا کیا دلدوز اظہار ہے۔

’’پچھلے سال کی بات ہے کچھ لوگ میری چھوٹی بہن ثانیہ کے رشتے کے سلسلے میں ہمارے گھر آئے ہوئے تھے۔ ڈرائنگ روم میں سب لوگ بہت خوشگوار موڈ میں باتیں کر رہے تھے لیکن صرف اس وقت تک جب تک میں اپنی وہیل چیئر پر رینگتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل نہیں ہوئی تھی مجھے دیکھتے ہی تمام مہمانوں پر جیسے موت کا سناٹا چھا گیا۔ اس روز شام کو ان لوگوں نے ایک بڑا ہی قیامت خیز عذر پیش کر کے رشتے سے انکار کر دیا۔ وہ عذر تھا کہ آپ کیا گارنٹی دیتے ہیں کہ شادی کے بعد ثانیہ کے ہاں معذور بچہ نہیں ہو گا۔‘‘

نرمین نے بتایا کہ میرے زمیندار سگے باپ کو اس بات پر غصہ تھا کہ میں ڈرائنگ روم میں کیوں آئی؟ میرے باپ نے ماں سے کہا کہ میں اپنی معذوری اس کے پیٹ سے لیکر آئی ہوں میں بڑی اولاد ہونے کے ناطے باقی بہن بھائیوں کے لیے رکاوٹ بن رہی ہوں۔ مجھے شکر کرنا چاہیے کہ میں پرآسائش گھر میں رہتی ہوں دوسرے معذوروں کی طرح سڑکوں پر بھیک نہیں مانگتی پھرتی۔ نرمین سے غفران کی اسپتال میں آخری ملاقات اور نرمین کی موت کا بیان پتھر دل کو بھی آنسو بہانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

نرمین کی المناک موت کے دکھ نے غفران کو معذوری کا شکار بنا دیا۔ ڈاکٹر قدرت علی حقیقت جان کو اسے دوبارہ نارمل انسان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس منفرد لو اسٹوری کے اگلے دو باب بھی کسی لمحے قاری کی توجہ ہٹنے نہیں دیتے۔ اور ناول ختم ہونے کے بعد بھی پڑھنے والا اس کے سحرسے آزاد نہیں ہو پاتا۔ آخر میں فارس مغل کے چند یادگار جملے جو اقوال ِ زریں سے کم نہیں۔ اور حساس انسان کے دل پر دستک دیتے ہیں۔

ہمدردی انسان کو انسان سے ہو تو قابلِ تحسین لیکن وہ ہمدردی جو انسان سے اس کی محرومی دیکھ کر کی جائے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔

انسان کے پاس تو اتنا سا بھی اختیار نہیں کہ وہ کسی لمحے، کسی ناقابلِ برداشت تکلیف، کسی کرب انگیز یاد کو اپنی مرضی سے فراموش کر سکے۔

انسان نے نسلِ انسانی کی ہلاکت کا سامان کرنے میں جتنی محنت کی اگر اس سے آدھی محنت انسانی زندگی پر کرتا تو آج نت نئی بیماریاں جنم نہ لیتیں۔

زندگی ان کو مبارک جنہیں زندگی کی نعمتیں عطا ہوں لیکن جو لوگ جیتے جی مر جائیں ان پر خود کشی کیسے حرام ہو سکتی ہے؟

کبھی ہم جنہیں مایوس سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ درحقیقت مجبور ہوتے ہیں بے انتہا بے بسی کے عالم میں گرفتار ہوتے ہیں۔

ہر ایک معذور جسم میں دھڑکنے والا اور محبت کو محسوس کرنے والا دل ہوتا ہے جو ہزاروں غم و الم برداشت کرنے کے باوجود رویوں کی ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔

معذور لوگ وقت سے پہلے صرف اور صرف عدم محبت کا شکار ہو کر مرتے ہیں۔ یہ دنیا بڑی بے وفا جگہ ہے یہاں ہر کسی کو تنہا جینا سیکھنا چاہیے، رشتوں پر اعتبار کرنا چاہیے انحصار نہیں۔

سیمیں کرن قدرے نئی اور بے حدعمدہ افسانہ نگار ہیں۔ ایک دوست نے فیس بک پر مستقبل کے دس افسانہ نگاروں کا نام لکھنے کو کہا تو سیمیں کرن کا نام میرے انتخاب میں شامل تھا۔ اور ان کے افسانوی مجموعے ’’بات کہی نہیں گئی‘‘ نے میرے اس انتخاب کو درست ثابت کر دیا۔ اردو افسانے کی اس نو وارد اور توانا آواز پر بات ہونا چاہیے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شجر ممنوعہ کے تین پتے‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ ’بات کہی نہیں گئی‘ مثال پبلشرز بہت عمدہ کاغذ پر خوبصورتی سے شائع کیا ہے۔ دو سو چالیس صفحات کی کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔

اردو کے بے مثال افسانہ نگار ممتاز مفتی کا پہلا مجموعہ ’’ان کہی‘‘ کے نام سے منظرعام پر آیا تھا۔ طویل عرصے بعد ممتاز مفتی نے ’’کہی نا جائے‘‘ لکھ کر اعتراف کر لیا کہ ان کہی کبھی کہی نا جائے۔ سیمیں کرن نے مفتی جی کے اسی خیال سے اتفاق کرتے ہوئے ’بات کہی نہیں گئی ‘کے نام سے پیش کیا۔

مستنصر حسین تارڑ جیسے نامور ناول و افسانہ نگار نے سیمیں کرن کے فن کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’ادب کی دنیا ایک وہ ہوتی ہے جس میں بڑے شہروں کے حادثاتی ادیب اپنی عظمت کی ڈفلیاں بجاتے، غل غپاڑہ کرتے، اپنے آپ کو زبردستی نمایاں کرتے ہیں اور ان شہروں سے دور گم نام بستیوں میں کچھ ایسے لکھنے والے بھی ہوتے ہیں جن کا چرچہ نہیں ہوتا لیکن وہ ان بڑے ادیبوں کی عظمت کو اپنی تحریروں سے راکھ کر دیتے ہیں اور یہ ادب میں روشنی کی کرن۔ سیمیں ان میں سے ایک ہے۔ سیمیں ایسی کہانیاں لکھتی ہے جو آپ کو بے آرام کرتی ہیں ان میں لطف اندوزی نہیں، اذیت کے سامان ہیں اور ادب کیا ہے جو آپ کو بے آرام کرے، سوچنے پر مجبور کرے، اذیت دے کر معاشرے کی ناہمواریوں اور ظلم کے خلاف کمر بستہ کر دے۔ اس کی کہانیاں حیرت انگیز اور عجب خوابوں میں مبتلا ایسی ہیں کہ وہ یک دم بڑے نثر نگاروں میں شامل ہو گئی ہے۔‘‘

معروف افسانہ نگار حمید شاہد نے سیمیں کرن کے بارے میں کچھ یوں اظہارِ خیال کیا ہے۔ ’’سیمیں کرن کو زندگی کی الجھنوں کا ادراک ہے اور ان الجھنوں کے مکڑی کے جال سے نکلنے کے جتن کرنے والے کردار ان کی نظر میں ہیں۔ ان کے ہاں موضوعات کی کمی نہیں اور لطف یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب موضوعات کو بیان کرنے کا کوئی نہ کوئی قرینہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔ ’شجر ممنوعہ کے تین پتے‘ کے بعد انہوں نے ایسے افسانے دیے ہیں جو لائق توجہ ہیں۔‘‘

بھارت کے مشہور ناول و افسانہ نگار مشرف عالم ذوقی کا کہنا ہے کہ ’’مشہور شاعرہ ادا جعفری نے لکھا کہ برصغیر میں مرد کا پندار برتری نے عورت کو علم و آگہی کے قابل ہی نہیں سمجھا۔ مدتوں عورت احساس محرومی سے بھی محروم رہی۔ احساسِ محرومی سے بھی محروم رہنے والی یہی عورت سیمیں کرن کے افسانوی سفر میں تلاش و دریافت اور تحقیق کا اصل موضوع ہے۔ سیمیں کرن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اپنے افسانوی سفر میں وہ پختہ اور بالغ سیاسی شعور کی انگلیاں تھام کر بڑی ہوئی ہے۔ وہ سماجی اور سیاسی موضوعات پر کالم بھی لکھتی ہیں اور جب زیادہ مضطرب ہوتی ہیں تو وادی پرخار یعنی افسانوں کو وسیلہ بنا لیتی ہیں۔‘‘

سیمیں کرن کے افسانوں میں بھرپور بیانیہ موجود ہے۔ ان کا اسلوب زندگی آموز اور زندگی آمیز روانی سے مزین اور زبان و بیان بہت پختہ ہے۔ وہ اردو افسانے کی ایک توانا آواز بن کر سامنے آئی ہیں۔ ’بات کہی نہیں گئی‘ کے ابتدائیہ میں سیمیں کرن کہتی ہیں۔ ’’حرف تو خود اِک خود نمائی ہے، دعوت دید و نظارہ ہے، اسے کسی سہارے یا مزید خود نمائی کی ضرورت کیوں درکار ہوتی ہے؟ مگر میرے محترم دوستوں اور اساتذہ کا اصرار تھا کہ اس کو لکھا جائے! پھر سوچا یہ جاننا میرے قارئین کا حق ہے کہ میرے نزدیک اور میرے لیے ادب کے کیا معنی ہیں، اس کی اہمیت کیا ہے اور میرا سلسلہء ادب کیا اور کیوں ہے؟ بس آپ کے اسی حق نے مجھے مائل کیا کہ میں یہ چند سطریں آپ کوبراہِ راست مخاطب کر کے لکھوں، میرے لیے ادب زندگی کے حبس اور گھٹن میں اک تازہ ہَواکا جھونکا ہے۔ اک ایسی کھڑکی ہے جو اندر، باہر کھلتی ہے! میری یہ کھڑکی اک طرف باطن کی سیڑھیوں کی طرف جا کھلتی ہے، میرے وجدان پہ مقدس آیات کی طرح حروف جیسے نازل ہوتے ہیں، یہ مقدس حروف خود اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ پرواز کریں، خود کو قلمبند کروائیں!‘‘

’بات کہی نہیں گئی‘ میںمختلف موضوعات پر اٹھائیس افسانے ہیں۔ ہر افساے سے سیمیں کرن کی بے پناہ قوتِ اظہار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کا نام پہلے افسانے پر رکھا گیا ہے۔ جو ایک ٹی وی اینکر کے این جی او سے انٹرویو اور اس سے متعلق امور کے بارے میں ہے۔ ثنا بخاری کے کردار میں ہمارے نیوزچینلز کے رپورٹرز اور اینکرز کی اس ذہنیت کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح خبر کے لیے اپنی حدود کراس کر جاتے ہیں۔ ڈاکٹرسعادت کے روپ میں بہت سی ان کہی کہنے کی کوشش بھی ہے۔پھرثنابخاری جب ڈاکٹرسعادت کی حقیقت جاننے کے لیے اس کی بیماربیوی ساراسے ملنے اس کے گھرجاتی ہے۔ تو سارا کا ایک جملہ ’’فرشتے بھی کہاں مکمل ہوتے ہیں جو ہر بوجھ ڈھو سکیں۔‘‘ میں بہت سا ان کہا کہہ دیا گیا۔ لیکن ثنا کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات، سارا کے اس راز سے ڈاکٹر سعادت کس حد تک واقف ہیں، وہ واقف ہو پائیں گے یا نہیں، وہ جاننے کی آرزو لیے کبھی پھر آ سکے گی اور جان بھی گئی تو کیا ڈاکٹر سعادت کو بتا پائے گی یا نہیں؟ ڈاکٹر سعادت اگر پہلے سے بہت کچھ جانتے ہیں وہ ان کی زندگی پہ کون سے ان دیکھے پردے گرے ہیں یا پھر سعادت کسی ان سنے ان جانے راز کو لے کر قبر میں اتر جائے گا۔
دل میں اترجانے والے افسانے کا بیانیہ کمال کا ہے۔ افسانہ ’حرف اک منظر‘ حقیقت اور سراب کا شاندار امتزاج پیش کرتا ہے۔ نفیسہ درانی ایک مشاعرے میں لہک لہک کر اشعار پڑھتی خوبصورت شاعرہ جو اپنے اشعار سے زیادہ ناز و ادا سے متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے کو دیکھتی ہے۔ پھر محفل میلاد میں خواتین کے قیمتی ملبوسات اور نفیس میک اپ کا مشاہدہ کرتے ہوئے فلمی گیت کی دھن پر نعت خوان کی آواز پر سر دھنتے مجمع کو دیکھتی ہے۔ پھر ایک شادی کی تقریب میں نئی رقاصہ کے انتہائی فحش بھارتی گانے پر تڑپتا اور بھڑکتا ڈانس دیکھتی ہے تو یکدم اس کے ذہن کی گتھی سلجھ گئی۔ اسے لگا کہ وہ ’دعوتِ نظارہ دیتی شاعرہ، وہ گانے کا شوق پورا کرتا نعت خواں اور یہ طوائف تینوں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ تینوں اپنے فن ، اپنے شوق، اپنی تخلیق کو پسِ پشت ڈال کر خود کو نظارہ بناتے تھے۔‘

بے مثال انداز میں سیمیں کرن نے ہماری مصنوعی زندگیوں کو پیش کیا ہے۔ جہاں ہر شخص اپنے شعبے میں کمال کے بجائے نقلی ذرائع سے کامیابی کے حصول میں کوشاں ہے۔ ’پانچ تعبیریں‘ کتاب کے بہترین افسانوں میں شامل ہے۔ جس میں ہمارے شہری معاشرے کی دیہاتی زندگی کے بارے میں منفی تاثرات کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔ جس طرح گھر کا ڈرائیور اگر حنیف ہو تو بچہ ہر ڈرائیور کو حنیف ہی سمجھتا ہے ۔ ڈسپنسر صفدر ہو تو اس کی نظر میں ہر ڈسپنسر صفدر ہوتا ہے۔ اسی طرح شہری معاشرہ ہر دیہاتی کو جاہل اور اجڈ ہی سمجھتا ہے۔ افسانے کی راوی دیہاتی پھپھا حبیب کے رنگ میں ڈھل جانے والی پھپھی رضیہ کی موت پر جب اس کی تدفین میں شرکت کرتی ہے تو دیکھتی ہے کہ پھوپھی کی بیٹیاں مہمانوں کے حساب کتاب سے ان کے ساتھ خود کوڈھال لیتیں، دیہاتی اجڈ مہمانوں کو انہی کی زبان میں جواب دیتیں، اسی رنگ میں رنگی، جب وہ شہری رشتہ داروں کے پاس آ کر بیٹھیں تو کچھ اور حیرتیں راوی کی منتظر تھیں۔ بڑی بیٹی نے انتہائی سلیقے سے کچھ بات اردو اور کچھ انگلش میں کی تو اسے پتہ چلا کہ ڈبل ایم اے اور بی ایڈ کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہے، دوسری نے ایم ایس سی کیا ہے اور تیسری بی ایس سی میں، ایک میڈیکل کالج میں ہے۔ تین بیاہی ہوئی تھیں، اپنے گھروں، خاوندوں کو بڑے اعتماد سے سنبھالے دیہاتی ماحول اور اس کی مشکلات سے کامیابی سے لڑتیں اور تعلیم کے زیور سے آراستہ دیہاتی جنگجوئی بھی ان کے خون میں تیرتی تھی۔ یہ پانچ تعبیریں یہ واضح کرتی ہیں۔ شہری اور تعلیم یافتہ ہونے کے زعم بالکل بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔

افسانے ’لذت کی پلیٹ کا آخری لقمہ‘ ایک دلدوز کہانی ہے۔ جس میں دوسری شادی سے پیدا شدہ گھریلو مسائل انتہائی اختصار سے پیش کیے گئے ہیں۔ جس کے ساتھ غربت اور محرومی کی زندگی گزارنے والے فرد کے لیے ایک لقمہ کی لذت بھی کیا اہمیت رکھتی ہے۔ جس سے محروم ہونے پر وہ ایسی کیفیت کا شکار ہو کر موت سے بھی ہمکنار ہو سکتا ہے۔
افسانہ ’خسارہ‘ میں سیمیں کرن نے مذہبی انتہا پسندی کے حساس موضوع کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہودی ماں اور مسلمان باپ کا بیٹا سلمان داؤدی کس طرح اس انتہا پسندی کے باعث اسلام سے دور ہو جاتا ہے۔ پھر ریسٹ روم میں شراب کی چسکیاں لگاتا سیٹھ خالد عیسائی لوگوں کی دعا پر غصہ میں بھرا سوچتا ہے ’’یہ شودروں کی نسل، یہ چوڑے یہ عیسائی، ہماری برابری میں گھر میں دعا کروانے لگے، یہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہنے والے مشرک کبھی نہیں بخشے جائیں گے۔ میں شراب پیتا ہوں لاکھ گناہ گار سہی، مگر ہوں تو کلمہ گو، اُمتی ہوں ہر سال حج کر کے آتا ہوں اس کا میرا کیا مقابلہ۔‘‘

پارسائی کا اس زعم نے امتِ مسلمہ کا جو حال کیا ہے۔ وہ ان کہا ہی قاری پر آشکار ہو جاتا ہے۔ کتاب کے تمام افسانے قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہر ایک پر تبصرہ ممکن نہیں۔ لیکن چند افسانوں کا ذکر ضروری ہے۔ جن میں ’شناختی کارڈ‘ ، ’یہ کون لوگ ہیں‘ ، ’ست رنگی آگ‘ ، ’کمبل‘ ، ’پاک گلی‘ ، ’یہ تیری مزدور بندیاں‘ اور ’کلموہی کہیں کی‘ سے سیمیں کرن کی انفرادیت اور ان کے بیانیہ کی قوت کا اظہار ہوتا ہے۔ بات کہی نہیں گئی پڑھنے کے بعد ان کے مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: